Sunan An Nasai 1152

نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث

1152Sunan An Nasai

جس وقت دونوں سجدوں سے فارغ ہو کر اٹھنے لگے تو پہلے سیدھا کھڑا ہو کر بیٹھ جاتے پھر اٹھتے

أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قال: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، قال: جَاءَنَا أَبُو سُلَيْمَانَ مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ إِلَى مَسْجِدِنَا فَقَالَ: أُرِيدُ أَنْ أُرِيَكُمْ كَيْفَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَالَ: فَقَعَدَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى حِينَ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَةِ الْآخِرَةِ.

ابوقلابہ کہتے ہیں کہ ابوسلیمان مالک بن حویرث ؓ ہماری مسجد میں آئے اور کہنے لگے: میں تمہیں دکھانا چاہتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کیسے نماز پڑھتے دیکھا ہے، تو وہ پہلی رکعت میں آخری سجدہ سے اپنا سر اٹھاتے وقت بیٹھے (جلسہ استراحت کرتے) ١ ؎۔

It was narrated that Abi Qibalah said: "Abu Sulaiman Malik bin Al-Huwairith came to our masjid and said: "I want to show you how I saw the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) pray". He said: "He sat during the first Rakah when he raised his head from the second prostration".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1151
Notes · وضاحت
١ ؎: اس بیٹھک کو جلسہ استراحت کہتے ہیں، کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ مسنون نہیں، اور اس روایت کا جواب یہ دیتے ہیں کہ آپ اسے بالقصد نہیں کرتے تھے بلکہ اخیر عمر میں کبر سنی کی وجہ سے ایسا کرتے تھے، لیکن یہ صحیح نہیں کیونکہ صحیحین کی روایت میں اس کے کرنے کا حکم آیا ہے، اور جو روایتیں اس کے خلاف آئی ہیں وہ ضعیف اور ناقابل اعتبار ہیں، اور اگر نبی اکرم ﷺ اور بعض صحابہ کرام ؓ سے اس کا ترک تسلیم بھی کرلیا جائے تو یہ اس کے مسنون ہونے کے منافی نہیں، کیونکہ جو چیز واجب نہ ہو اسے کبھی کبھی ترک کرنا جائز ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٤٥ (٦٧٧)، ١٢٧ (٨٠٢)، ١٤٠ (٨١٨)، سنن ابی داود/الصلاة ١٤٢ (٨٤٢، ٨٤٣)، (تحفة الأشراف: ١١١٨٥)، مسند احمد ٣/٤٣٦، ٥/٥٣ (صحیح )