ابوہریرہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کی نماز قریب تر کر کے دکھاؤں گا، چناچہ ابوہریرہ ؓ سمع اللہ لمن حمده کہنے کے بعد ظہر کی آخری رکعت میں اور عشاء میں، اور فجر میں دعائے قنوت پڑھتے، تو مومنوں کے لیے دعا کرتے اور کافروں پر لعنت بھیجتے تھے۔
It was narrated from Abu Salamah, that Abu Hurairah (RA) said: "I shall explain to you the prayer of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم)". He said: "Abu Hurairah used to say the Qunut in the last rakah of the Zuhr prayer, and the later Isha prayer, and the Subh, after saying Sami Allahu liman hamidah. He would pray for the believers and curse the disbelievers".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1075
براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ فجر میں اور مغرب میں دعائے قنوت پڑھتے تھے۔ عبیداللہ بن سعید کی روایت میں أن النبي صلى اللہ عليه وسلم کے بجائے أن رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم ہے۔
It was narrated from Al-Bara bin Azib that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) used to say the Qunut in Subh and Maghrib. (One of the narrators) Ubaidullah said: "Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وسلم) used to".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1076
انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مہینہ تک دعائے قنوت پڑھی۔ شعبہ کی روایت میں ہے آپ نے چند لوگوں پر لعنت بھیجی، اور ہشام کی روایت میں ہے کہ آپ ﷺ عرب کے کچھ قبیلوں پر رکوع کے بعد بد دعا فرماتے تھے، پھر آپ نے اسے چھوڑ دیا، یہ قول ہشام کا ہے، اور شعبہ قتادہ سے اور قتادہ انس ؓ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک مہینہ تک قنوت پڑھی، آپ رعل، ذکوان اور لحیان قبائل پر لعنت بھیج رہے تھے۔
It was narrated from Anas (RA): "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said the Qunut for a month".- (One of the narrators) Shubah said: "He cursed some men". Hisham said: "He supplicated against some of the tribes of Arabs". "Then he stopped doing that after bowing". This is what Hisham said. Shubah said, narrating from Qatadah, from Anas that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said the Qunut for a month, cursing Ril, Dhawkan and Lihyan.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1077
Takhrij · تخریج
حدیث شعبة عن قتادة عن أنس أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد ٥٤ (٦٧٧)، مسند احمد ٣/٢١٦، ٢٥٩، ٢٧٨، (تحفة الأشراف: ١٢٧٣)، وحدیث ہشام عن قتادة عن أنس أخرجہ: صحیح البخاری/المغازي ٢٨ (٤٠٨٩)، صحیح مسلم/المساجد ٥٤ (٦٧٧)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٤٥ (١٢٤٣)، مسند احمد ٣/١١٥، ١٨٠، ٢١٧، ٢٤٩، ٢٦١، (تحفة الأشراف: ١٣٥٤) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو جس وقت آپ نے فجر کی نماز میں آخری رکعت سے اپنا سر اٹھایا کچھ منافقوں پر لعنت بھیجتے ہوئے سنا، آپ کہہ رہے تھے: اللہم العن فلانا وفلانا اے اللہ! تو فلاں فلاں کو رسوا کر ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ليس لک من الأمر شىء أو يتوب عليهم أو يعذبهم فإنهم ظالمون اے محمد! آپ کے اختیار میں کچھ نہیں، اللہ چاہے تو ان کی توبہ قبول کرے یا عذاب دے، کیونکہ وہ ظالم ہیں (آل عمران: ١٢٨ ) ۔
It was narrated from Salim, from his father, that: He heard the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), when he raised his head in the last rakah of the subh prayer, say: "O Allah, curse so-and-so and so-and-so", supplicating against some of the hypocrites. Then Allah revealed the words: "Not for you is the decision; whether He turns in mercy to (pardon) them or punishes them; verily, they are the wrongdoers".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1078
انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مہینہ تک دعائے قنوت پڑھی، آپ عرب کے ایک قبیلے پر بد دعا کر رہے تھے، پھر آپ نے اسے ترک کردیا۔
It was narrated from Anas (RA) that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said the Qunut for one month, supplicating against one of the Arab tribes, then he stopped doing that".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1079
ابو مالک اشجعی (سعد) اپنے والد (طارق بن اشیم) سے کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی تو آپ نے دعائے قنوت نہیں پڑھی، ابوبکر ؓ کے پیچھے نماز پڑھی تو انہوں نے بھی دعائے قنوت نہیں پڑھی، عمر ؓ کے پیچھے نماز پڑھی تو انہوں نے بھی دعائے قنوت نہیں پڑھی، عثمان ؓ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی تو انہوں نے بھی دعائے قنوت نہیں پڑھی، اور علی ؓ کے پیچھے نماز پڑھی تو انہوں نے بھی دعائے قنوت نہیں پڑھی، پھر انہوں نے کہا: میرے بیٹے! یہ (یعنی: مداومت) بدعت ہے ١ ؎۔
It was narrated from Abu Malik Al-Ashjai that his father said: "I prayed behind the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and he did not say the Qunut, and I prayed behind Abu Bakr and he did not say the Qunut, and I prayed behind Umar and he did not say the Qunut, and I prayed behind Uthman and he did not say the Qunut, and I prayed behind Ali and he did not say the Qunut". Then he said: "O my son, this is an innovation".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1080
Notes · وضاحت
١ ؎: قنوت نازلہ فجر میں بوقت ضرورت پڑھی گئی تھی، پھر چھوڑ دی گئی، اس لیے مداومت (ہمیشہ پڑھنے) کو انہوں نے بدعت کہا، ضرورت پڑنے پر اب بھی پڑھی جاسکتی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ١٧٩ (٤٠٢)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٤٥ (١٢٤١)، (تحفة الأشراف: ٤٩٧٦)، مسند احمد ٣/٤٧٢، و ٦/٣٩٤ (صحیح )
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم ظہر کی نماز رسول اللہ ﷺ کے ساتھ پڑھتے تھے، میں نماز میں ہی ایک مٹھی کنکری اپنے ہاتھ میں لے لیتا، اسے ٹھنڈا کرتا، پھر اسے دوسرے ہاتھ میں پلٹ دیتا، تو جب سجدہ کرتا تو اسے اپنی پیشانی کے نیچے رکھ لیتا۔
It was narrated that Jabir bin Abdullah (RA) said: "We used to pray Zuhr with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and I would take a handful of pebbles in my hand to cool them down, then I would pass them from one hand to the other, and when I prostrated I would put them down to lay my forehead on them".
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1081
مطرف کہتے ہیں کہ میں نے اور عمران بن حصین ؓ دونوں نے علی بن ابی طالب ؓ کے پیچھے نماز پڑھی، جب وہ سجدہ کرتے تو اللہ اکبر کہتے، اور جب سجدہ سے اپنا سر اٹھاتے تو اللہ اکبر کہتے، اور جب دو رکعتیں پڑھ کر اٹھتے تو اللہ اکبر کہتے، جب وہ نماز پڑھ چکے تو عمران ؓ نے میرا ہاتھ پکڑا اور کہا: انہوں نے مجھے محمد ﷺ کی نماز یاد دلا دی۔
It was narrated that Mutarrif said: "Imran bin Husain and I prayed behind Ali bin Abi Talib. When he prostrated he said the Takbir, and when he raised his head from prostration he said the takbir, and when he stood up following two rakahs he said the takbir, and when he had finished praying, Imran took my hand and said: This reminded me of- he said a word meaning- the prayer of Muhammad (صلی اللہ علیہ وسلم)".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1082
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہر جھکنے اور اٹھنے میں اللہ اکبر کہتے تھے ١ ؎، اور آپ اپنے دائیں اور بائیں دونوں طرف سلام پھیرتے، ابوبکر و عمر ؓ بھی ایسا ہی کرتے تھے۔
It was narrated that Abdullah bin Masud said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to say the takbir every time he went down and came up, and he would say the Salam to his right and his left. And Abu Bakr and Umar used to do likewise".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1083
Notes · وضاحت
١ ؎: مراد یہ ہے کہ اکثر جھکتے اور اٹھتے وقت اللہ اکبر کہتے، ورنہ رکوع سے اٹھتے وقت اللہ اکبر نہیں کہتے تھے، بلکہ اس کے بجائے سمع اللہ لمن حمدہ کہتے۔
حکیم ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس بات پر بیعت کی کہ میں کھڑے کھڑے ہی سجدے میں گروں گا ١ ؎۔
It was narrated that Abu Bushr said: "I heard Yusuf-meaning Ibn Mahak- narrating that Hakim said: I gave my pledge of allegiance to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), pledging that I would go down (in prostration) only after standing up from bowing".
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1084
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی رکوع سے واپس قیام میں جاؤں گا، اور سیدھا کھڑا ہوجانے کے بعد سجدہ کے لیے جھکوں گا۔ (دونوں سجدوں کے درمیان رفع یدین کے ذکر کے بغیر یہ حدیث رقم: ٨٨١ میں گزر چکی ہے )
مالک بن حویرث ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو نماز میں جب آپ رکوع کرتے، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے، اور جب سجدہ کرتے، اور جب سجدہ سے اپنا سر اٹھاتے ١ ؎ رفع یدین کرتے دیکھا، یہاں تک کہ آپ اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں کانوں کی لو کے بالمقابل کرلیتے ٢ ؎۔
It was narrated from Malik bin Al-Huwairith (RA) that: He saw the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) raise his hands when praying, when he bowed, when he raised his head from bowing, when he prostrated and when he raised his head from prostrating, until they were in level with the top part of his ears.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1085
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ کبھی کبھار سجدہ میں جاتے اور سجدہ سے سر اٹھاتے وقت بھی رفع یدین کرتے تھے۔ ٢ ؎: گرچہ بعض علماء نے دونوں سجدوں میں جاتے اور ان سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین والے اس ٹکڑے کی تصحیح کی ہے، مگر اکثر علماء اور رفع یدین کے قائل ائمہ نے اس ٹکڑے کی تضعیف کی ہے، اس کے راوی قتادہ مدلس ہیں، اور انہوں نے اسے عنعنہ سے روایت کیا ہے اس باب میں دیگر روایات بھی کلام سے خالی نہیں ہیں، جب کہ سجدہ میں رفع یدین کرنے والی ابن عمر ؓ کی روایت صحیحین کی ہے۔
مالک بن حویرث ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب نماز میں داخل ہوجاتے .... پھر آگے انہوں نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی، اس میں انہوں نے یہ اضافہ کیا ہے کہ جب آپ ﷺ رکوع کرتے تو بھی ایسا ہی کرتے، اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی، اور جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو بھی ۔
It was narrated from Malik bin Al-Huwairith that: He saw the Prophet of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) raise his hands when he started to pray, and he narrated a similar report and added: "When he bowed he did likewise, and when he raised his head from bowing he did likewise, and when he raised his head from prostration he did likewise".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1087
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز شروع کرتے، اور جب رکوع کرتے، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے، تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے اور سجدہ کرنے میں ایسا نہیں کرتے تھے۔
It was narrated that Ibn Umar (RA) said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to raise his hands when he started to pray, and when he bowed, and when he stood up, but he did not do that when he prostrated".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1088
وائل بن حجر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ جب آپ سجدہ کرتے تو اپنے ہاتھوں سے پہلے اپنے گھٹنے رکھتے، اور جب اٹھتے تو اپنے گھٹنوں سے پہلے اپنے ہاتھ اٹھاتے۔
It was narrated that Wail bin Hujr said: "I saw the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) when he prostrated, he lowered his knees before his hands, and when he came up he raised his hands before his knees".
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1089
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ١٤١ (٨٣٨)، سنن الترمذی/الصلاة ٨٤ (٢٦٨)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٩ (٨٨٢)، (تحفة الأشراف: ١١٧٨٠)، ویأتی عند المؤلف برقم: ١١٥٥ (ضعیف) (شریک القاضی جب کسی روایت میں منفرد ہوں تو ان کی روایت قبول نہیں کی جاتی، اور وہ یہاں اس روایت میں منفرد ہیں )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تم میں سے کوئی اپنی نماز کا قصد کرتا ہے تو وہ بیٹھتا ہے جیسے اونٹ بیٹھتا ہے؟ ١ ؎۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Is there any one of you who kneel as a camel kneels when praying"?
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1090
Notes · وضاحت
١ ؎: آپ ﷺ کا یہ ارشاد استفھام انکاری ہے، یعنی ایسا نہیں کرنا چاہیئے، یعنی اونٹ کے بیٹھنے کی طرح نماز میں نہیں بیٹھنا چاہیئے، اور یہ واضح رہے کہ چوپایوں کے گھٹنے ان کے اگلے دونوں پاؤں میں ہوتے ہیں، اونٹ پہلے اپنے اگلے پاؤں رکھتا ہے یعنی گھٹنے پہلے رکھتا ہے، اور انسان کو نماز میں اونٹ کی طرح بیٹھنے سے منع کیا گیا ہے، اس لیے انسان اونٹ کی مخالفت کرتے ہوئے پہلے اپنے ہاتھ رکھے پھر گھٹنے۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی سجدہ کرے تو اپنے گھٹنوں سے پہلے اپنا ہاتھ زمین پر رکھے، اور وہ اونٹ کے بیٹھنے کی طرح نہ بیٹھے ۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: When one of you prostrates, let him put his hands down before his knees, and not kneel like a camel".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1091
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دونوں ہاتھ سجدہ کرتے ہیں جس طرح چہرہ سجدہ کرتا ہے، لہٰذا جب تم میں کا کوئی اپنا چہرہ زمین پر رکھے تو اپنے دونوں ہاتھ بھی رکھے، اور جب اسے اٹھائے تو ان دونوں کو بھی اٹھائے ۔
It was narrated from Ibn Umar in a Marfu report that: The hands prostrate as the face prostrates, so when one of you puts his face down he should put his hands down, and when he raises (the face) he should raise (the hands) too.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1092
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کو حکم دیا گیا کہ آپ سات اعضاء ١ ؎ پر سجدہ کریں، اور اپنے بال اور کپڑے نہ سمیٹیں ٢ ؎۔
It was narrated that Ibn Abbas (RA) said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) was commanded to prostrate on seven parts of his body and not to tuck up his hair or his garment".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1093
Notes · وضاحت
١ ؎: سات اعضاء سے مراد پیشانی ناک کے ساتھ، دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں ہیں، جیسا کہ اگلی حدیث میں اس کی تفسیر آرہی ہے۔ ٢ ؎: بالوں کو سمیٹنا یہ ہے کہ سب کو اکٹھا کر کے جوڑا باندھ لے، یا دستار میں رکھ لے، اور کپڑوں کا سمیٹنا یہ ہے کہ سجدے یا رکوع میں جاتے وقت کپڑوں کو اس خیال سے سمیٹے کہ کپڑوں میں گرد نہ لگے۔
عباس بن عبدالمطلب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب بندہ سجدہ کرتا ہے تو اس کے ساتوں اعضاء: اس کا چہرہ، اس کے دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے، اور دونوں پیر بھی سجدہ کرتے ہیں ١ ؎۔
It was narrated from Al Abbas (RA) bin Abdul-Muttalib that: He heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: "When a person prostrates, seven parts of his body prostrate: his face, his two palms, his two knees and his two feet".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1094
Notes · وضاحت
١ ؎: ناک چہرہ کا ایک جزء ہے اس لیے پیشانی اور ناک دونوں سے سجدہ کرنا ضروری ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٤٤ (٤٩١)، سنن ابی داود/الصلاة ١٥٥ (٨٩١)، سنن الترمذی/الصلاة ٨٨ (٢٧٢)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٩ (٨٨٥)، (تحفة الأشراف: ٥١٢٦)، مسند احمد ١/٢٠٦، ٢٠٨، ویأتی عند المؤلف في باب ٤٦ (برقم: ١١٠٠) (صحیح )