وائل بن حجر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی، تو دیکھا کہ جب آپ نماز شروع کرتے تو رفع یدین کرتے، اور جب رکوع کرتے، اور سمع اللہ لمن حمده کہتے تو بھی اسی طرح کرتے۔ قیس بن سلیم (راوی حدیث) نے دونوں کانوں تک اشارہ کر کے دکھایا۔
Alqamah bin Wail said: "My father told me: I prayed behind the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and I saw him raise his hands when he started to pray, and when he bowed, and when he said: Sami Allahu liman hamidah (Allah hears the one who praises Him)" like this". And (one of the narrators) Qais pointed towards his ears.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1055
مالک بن حویرث ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ رکوع کرتے، اور رکوع سے سر اٹھاتے، تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے کانوں کی لو کے برابر کرلیتے۔
It was narrated from Malik bin Al-Huwairith (RA) that: He saw the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) raise his hands when he bowed, and when he raised his head from bowing, until they were in level with the highest part of his ears.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1056
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٨٨١، (تحفة الأشراف: ١١١٨٤) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز شروع کرتے تو اپنے ہاتھ اپنے کندھوں کے بالمقابل اٹھاتے، اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی اسی طرح کرتے، اور جب سمع اللہ لمن حمده کہتے تو ربنا لک الحمد کہتے، اور دونوں سجدوں کے درمیان اپنے ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے۔
It was narrated from Salim, from his father, that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to raise his hands until they were in level with his shoulders when he started to pray, and when he raised his head from bowing he did likewise, and when he said: Sami Allahu liman hamidah (Allah hears the one who praises Him)" he said: "Rabbana wa lakal-hamd (Our Lord, to You be praise)" and he did not raise his hands between the two prostrations.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1057
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ کیا میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کی نماز نہ پڑھاؤں؟ چناچہ انہوں نے ہمیں نماز پڑھائی، تو انہوں نے صرف ایک بار رفع یدین کیا۔
It was narrated from Abdullah that he said: "Shall I not show you how the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) prayed"? So he prayed, and he only raised his hands once.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1058
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے کندھوں کے بالمقابل اٹھاتے، اور جب رکوع کے لیے اللہ اکبر کہتے، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تب بھی اسی طرح اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے، اور سمع اللہ لمن حمده ربنا ولک الحمد کہتے، اور سجدے میں رفع یدین نہیں کرتے تھے۔
It was narrated from Ibn Umar (RA) that: When the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) started to pray, he raised his hands until they were in level with his shoulders, and when he said the takbir before bowing, and when he raised his head from bowing he raised (his hands) likewise, and said: "Sami Allahu liman hamidah Rabbana wa lakal-hamd (Allah hears the one who praises Him; Our Lord, and to You be praise)", and he did not do that when prostrating.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1059
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو اللہم ربنا ولک الحمد کہتے۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "When the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) raised his head from bowing, he said: Allahumma Rabbana wa lakal-hamd (O Allah, our Lord and to You be the praise)".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1060
انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ گھوڑے سے اپنے داہنے پہلو پر گرپڑے، تو لوگ آپ کی عیادت کرنے آپ کے پاس آئے کہ (اسی دوران) نماز کا وقت ہوگیا، (تو آپ نے انہیں نماز پڑھائی) جب آپ نے نماز پوری کرلی تو فرمایا: امام بنایا ہی اس لیے گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، تو جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، اور جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ، اور جب وہ سمع اللہ لمن حمده کہے، تو تم ربنا ولک الحمد کہو ١ ؎۔
It was narrated from Anas (RA) that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) fell from a horse onto his right side, and they entered upon him to visit him. The time for prayer came, and when he had finished praying he said: "The Imam is appointed to be followed, so when he bows, then bow, and when he stands up, then stand up, and when he says: Sami Allahu liman hamidah (Allah hears the one who praises Him) then say: Rabbana wa lakal-hamd (Our Lord, and to You be the praise)".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1061
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں اس بات کی دلیل نہیں کہ مقتدی اور امام دونوں سمع اللہ لمن حمدہ نہ کہیں جیسا کہ اس میں اس بات کی دلیل نہیں کہ امام اور مقتدی دونوں سمع اللہ لمن حمدہ کہیں کیونکہ یہ حدیث اس بات کے بیان کے لیے نہیں آئی ہے کہ اس موقع پر امام یا مقتدی کیا کہیں بلکہ اس حدیث کا مقصد صرف یہ بتانا ہے کہ مقتدی ربنا لک الحمد امام کی سمع اللہ لمن حمدہ کے بعد پڑھے، اس بات کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ نبی اکرم ﷺ امام ہونے کے باوجود ربنا لک الحمد کہتے تھے، اسی طرح آپ ﷺ کی حدیث صلّوا کما رأیتمونی اصلي کا عموم بھی اس بات کا متقاضی ہے کہ مقتدی بھی امام کی طرح سمع اللہ لمن حمدہ کہے۔
رفاعہ بن رافع ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن ہم رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے، جب آپ نے رکوع سے اپنا سر اٹھایا تو سمع اللہ لمن حمده کہا، تو آپ کے پیچھے ایک شخص نے ربنا ولک الحمد حمدا کثيرا طيبا مبارکا فيه اللہ کے لیے بہت زیادہ تعریفیں ہیں جو پاکیزہ و بابرکت ہیں کہا، جب رسول اللہ ﷺ نے سلام پھیرا تو آپ ﷺ نے پوچھا: ابھی ابھی (نماز میں) کون بول رہا تھا؟ تو اس شخص نے عرض کیا: میں تھا اللہ کے رسول! تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نے تیس سے زائد فرشتوں کو دیکھا ان میں سے ہر ایک سبقت لے جانے کی کوشش کر رہا تھا کہ اسے کون پہلے لکھے ۔
It was narrated that Rifaah bin Rafi said: "We were praying behind the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) one day and when he raised his head from bowing he said: Sami Allahu liman hamidah (Allah hears the one who praises Him). A man behind him said: Rabbana wa lakal-hamd, hamdan kathiran tayyiban mubarakan fih. (O our Lord, and to You be praise, much blessed and pure praise.) When the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) had finished, he said: "Who is the one who spoke just now"? The man said: I did, O Messenger of Allah. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: I saw thirty-some angels rushing to see which of them would write it down first".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1062
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب امام سمع اللہ لمن حمده کہے، تو تم ربنا ولک الحمد کہو کیونکہ جس کا کہنا فرشتوں کے کہنے کے موافق ہوگا، اس کے پچھلے تمام گناہ بخش دیئے جائیں گے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "When the Imam says: Sami Allahu liman hamidah (Allah hears the one who praises Him), then say: Rabbana wa lakal-hamd, (Our Lord, and to You be the praise). Whoever says that and it coincides with the angels saying it, his previous sins will be forgiven".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1063
ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ہمیں خطبہ دیا، اور ہمیں ہمارے طریقے بتائے، اور ہماری نماز سکھائی، آپ ﷺ نے فرمایا: جب تم نماز پڑھو تو اپنی صفیں سیدھی کرو، پھر تم میں سے کوئی ایک امامت کرے، اور جب امام اللہ اکبر کہے تو تم بھی اللہ اکبر کہو، اور جب وہ غير المغضوب عليهم ولا الضالين کہے، تو تم آمین کہو، اللہ تمہاری دعا قبول کرے گا، اور جب وہ اللہ اکبر کہے، اور رکوع کرے تو تم بھی اللہ اکبر کہو اور رکوع کرو، امام تم سے پہلے رکوع کرے گا، اور تم سے پہلے رکوع سے سر بھی اٹھائے گا، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تو ادھر کی کمی ادھر پوری ہوجائے گی ، اور جب وہ سمع اللہ لمن حمده کہے، تو تم اللہم ربنا ولک الحمد کہو، اللہ تعالیٰ تمہاری پکار سن لے گا ؛ کیونکہ اللہ نے اپنے بنی کی زبان سے فرمایا ہے: اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی حمد بیان کی، تو جب وہ اللہ اکبر کہے اور سجدہ کرے تو تم بھی اللہ اکبر کہو اور سجدہ کرو، امام تم سے پہلے سجدہ کرے گا، اور تم سے پہلے سجدہ سے سر بھی اٹھائے گا، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: تو ادھر کی کمی ادھر پوری ہوجائے گی، جب وہ قعدے میں ہو تو تم میں سے ہر ایک کی پہلی دعا یہ ہو:التحيات الطيبات الصلوات لله سلام عليك أيها النبي ورحمة اللہ وبرکاته سلام علينا وعلى عباد اللہ الصالحين أشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله آداب بندگیاں، پاکیزہ خیراتیں، اور صلاتیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اے رسول! آپ پر سلام اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں، اور سلام ہو ہم پر اور اللہ کے تمام نیک و صالح بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں یہ سات کلمے ١ ؎ ہیں اور یہ نماز کا سلام ہے ۔
It was narrated from Hittan bin Abdullah that: He heard Abu Musa say: "The Prophet of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) addressed us and taught us our Sunnah and our prayer. He said: When you pray, make your rows straight and let one of you lead you in prayer. When the Imam says the takbir, then say the takbir. When he recites Not (the way) of those who earned Your anger, nor those who went astray then say: "Amin" and Allah will answer you. When he says the takbir and bows, then say the takbir and bow. The Imam bows before you do and stands up before you do. The Prophet (صلی اللہ علیProphet of وسلم) said: This makes up for that. And when he says" Sami Allahu liman hamidah (Allah hears the one who praises Him), then say: "Allahumma Rabbana wa lakal-hamd (O Allah, our Lord, and to You be the praise), "Allah will hear you, for Allah has said on the lips of His Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم): "Allah hears the one who praises Him". And when he (the Imam) says the takbir and prostrates, then say the takbir and prostrate. The Imam prostrates before you do and sits up before you do. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) of Allah (صلیProphet of es up for that. And when he is sitting, let the first thing that any one of you says be: At-tahiyaatut-tayyibatus-salawatuLillah, salamun alayka ayyuhanabiyyu wa rahmatullahi wa barakatuhu, salamun alayna wa ala ibadillahis-salihin, ashhadu an la ilaha ill-Allah wa ashhadu anna Muhammadan abduhu wa rasuluh (All compliments, good words and prayers are due to Allah, peace be upon you O Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), and the mercy of Allah and His blessings. Peace be upon us and upon the righteous slaves of Allah. I bear witness that there is none worthy of worship except Allah and I bear witness that Muhammad is His slave and Messenger)- seven phrases which are the greeting of the prayer".
صحيح م دون قوله سبعصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1064
Notes · وضاحت
١ ؎: پہلا التحیات ہے، دوسرا الطیبات، تیسرا الصلوات، چوتھا سلام علیک، پانچواں سلام علینا، چھٹا أشہد أن لا إلہ إلا اللہ، اور ساتواں أشہد أن محمداً عبدہ ورسولہ ہے۔
براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا رکوع کرنا، اور رکوع سے سر اٹھانا اور سجدہ کرنا، اور دونوں سجدوں کے درمیان ٹھہرنا، تقریباً برابر برابر ہوتا تھا ١ ؎۔
It was narrated from Al-Bara (RA) bin Azib that: The bowing of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), and when he raised his head from bowing, and his prostration, and the time between the two prostration, were almost equal in length.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1065
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان ارکان کو نبی اکرم ﷺ کامل اعتدال (اطمینان) کے ساتھ ادا کیا کرتے تھے، صحیحین کی انس ؓ کی روایت میں تو یہاں تک ہے کہ نبی اکرم ﷺ رکوع کے بعد یا دونوں سجدوں کے درمیان اتنا ٹھہرتے کہ کہنے والا یہ تک کہتا (یعنی سوچتا) کہ شاید آپ اگلے رکن میں جانا بھول گئے ہیں۔
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب سمع اللہ لمن حمده کہتے، تو اللہم ربنا لک الحمد ملء السموات وملء الأرض وملء ما شئت من شىء بعد اے اللہ! تیری تعریف ہے، آسمانوں بھر، زمین بھر اور اس کے بعد تو جس چیز بھر چاہے کہتے۔
It was narrated from Ibn Abbas (RA) that: When the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Sami Allahu liman hamidah (Allah hears the one who praises Him), he said: "Allahumma Rabbana wa lakal-hamd, milas-samawati wa milal-ardi wa milama shita min shaiin bad ( O Allah, our Lord, to You be the Praise, filling the heavens, filling the Earth, and filling whatever else You will")".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1066
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب رکوع کے بعد سجدے کا ارادہ کرتے تو اللہم ربنا ولک الحمد ملء السموات وملء الأرض وملء ما شئت من شىء بعد اے ہمارے رب! تیری تعریف ہے، تیرا شکر ہے آسمان و زمین بھر اور اس کے بعد تو جس چیز بھر چاہے کہتے۔
It was narrated from Ibn Abbas (RA) that: When the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) wanted to prostrate after bowing, he would say: "Allahumma, Rabbana wa lakal-hamd, milas-samawati wa milal-ardi wa milama shita min shaiin bad ( O Allah, our Lord, to You be the Praise, filling the heavens, filling the Earth, and filling whatever else You will").
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1067
ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب سمع اللہ لمن حمده کہتے، تو ربنا لک الحمد ملء السموات وملء الأرض وملء ما شئت من شىء بعد أهل الثناء والمجد خير ما قال العبد وکلنا لک عبد لا مانع لما أعطيت ولا ينفع ذا الجد منک الجد اے اللہ، ہمارے رب! تیرا شکر ہے آسمان و زمین بھر، اور اس کے بعد تو جس چیز بھر چاہے، اے لائق تعریف و لائق مجد و شرف! بہتر ہے جو بندے نے کہا، اور ہم سب تیرے بندے ہیں، کوئی روکنے والا نہیں جسے تو دیدے، تیرے مقابلے میں مالداروں کی مالداری کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچائے گی کہتے۔
It was narrated from Abu Saeed (RA) that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to say: "Sami Allahu liman hamidah, Rabbana wa lakal-hamd, milas-samawati wa milal-ardi wa milama shita min shaiin bad. Athlath-thanaI wal-majdi khairu ma qalal-abdu wa kulluna laka abdun la mania lima ataita wa la yanfau dhal-jaddi minkal-jadd (Allah hears the one who praises Him; Our Lord, to You be the Praise, filling the heavens, filling the Earth, and filling whatever else You will, Lord of Glory and Majesty, the truest thing a slave had said, and we are all slaves to You. None can withhold what You grant, nor can the possession of an owner benefit him before You").
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1068
حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک رات انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، جب آپ نے تکبیر کہی تو انہوں نے آپ کو کہتے سنا:اللہ أكبر ذا الجبروت والملکوت والکبرياء والعظمة اللہ سب سے بڑا صاحب قدرت و سطوت اور صاحب بزرگی و عظمت ہے ، اور آپ رکوع میں سبحان ربي العظيم کہتے، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو: لربي الحمد لربي الحمد، شکر میرے رب کے لیے، شکر میرے رب کے لیے کہتے، اور سجدے میں سبحان ربي الأعلى کہتے، اور دونوں سجدوں کے درمیان رب اغفر لي رب اغفر لي اے میرے رب! میری مغفرت فرما، اے میرے رب! میری مغفرت فرما کہتے، اور آپ کا قیام کرنا، رکوع کرنا، اور رکوع سے سر اٹھانا، اور آپ کا سجدہ کرنا، اور دونوں سجدوں کے درمیان ٹھہرنا، تقریباً سب برابر برابر ہوتا۔
It was narrated from Hudhaifah that: He prayed with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) one night and he heard him say when he said the takbir: "Allahu Akbara dhal-jabaruti wal-malakuti wal-kibriyaI wal-azamah (Allah is Most Great, the One Who has all power, sovereignty, magnificence and might.)" When bowing he would say: "Subhana Rabbial-Azim (Glory be to my Lord Almighty)". When he raised his head from bowing he would say: "Lirabbil-hamd, Lirabbil-hamd (To my Lord be praise, to my Lord be praise)". And when he prostrated (he said): "Subhana Rabbial-Ala (Glory be to my Lord Most High)". And between the two prostrations (he said): "Rabbighfirli, Rabbighfirli (Lord forgive me, Lord forgive me)." His standing, his bowing, when he raised his head from bowing, his prostration and the time between the two prostrations, were almost the same.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1069
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ١٥١ (٨٧٤)، سنن الترمذی/الشمائل ٣٩ (٢٦٠)، (تحفة الأشراف: ٣٣٩٥)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الإقامة ٢٣ (٨٩٧)، من قولہ: ” کان یقول بین السجدتین “ ویأتی عند المؤلف برقم: ١١٤٦ (صحیح) (سند میں ” رجل “ جو مبہم راوی ہے بقول شعبہ ” صلہ بن زفر “ ہے، نیز کئی اس کے متابعات بھی ہیں )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مہینے تک رکوع کے بعد دعائے قنوت پڑھی، آپ اس میں رعل، ذکوان اور عصیہ نامی قبائل ١ ؎ پر جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی تھی، بد دعا کرتے رہے۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) prayed (saying the) Qunut after bowing for a month, supplicating against Ril, Dhakwan and Usayyah who had disobeyed Allah and His Messenger". (Sahih).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1070
Notes · وضاحت
١ ؎: رعل، ذکوان اور عصیّہ تینوں قبائل کے نام ہیں، جنہوں نے نبی اکرم ﷺ کے قراء کو دھوکہ سے قتل کردیا تھا، آپ نے ان پر ایک ماہ تک قنوت نازلہ پڑھی تھی، جو رکوع کے بعد پڑھی جاتی ہے، یہ وتر والی قنوت نہیں تھی، وتر والی قنوت میں تو افضل یہ ہے کہ رکوع سے پہلے پڑھی جائے، جائز رکوع کے بعد بھی ہے۔
ابن سیرین سے روایت ہے کہ انس بن مالک ؓ سے پوچھا گیا، کیا رسول اللہ ﷺ نے نماز فجر میں قنوت پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! (پڑھی ہے) پھر ان سے پوچھا گیا، رکوع سے پہلے یا رکوع کے بعد؟ رکوع کے بعد ١ ؎۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) was asked: "Did the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say the Qunut in Subh prayer"? He said: "Yes". He was asked: "Was that before bowing or after"? He said: "After bowing".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1071
Notes · وضاحت
١ ؎: اور رکوع سے پہلے کی بھی روایت موجود ہے جیسا کہ ابن ماجہ (حدیث رقم: ١١٨٣ ) میں نقنت قبل الرکوع وبعدہ کے الفاظ آئے ہیں اور اس کی سند قوی ہے۔ گویا دونوں طرح جائز ہے۔
ابن سیرین کہتے ہیں کہ مجھ سے ایک ایسے شخص نے جس نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز فجر پڑھی تھی، بیان کیا کہ جب آپ ﷺ نے دوسری رکعت میں سمع اللہ لمن حمده کہا تو آپ تھوڑی دیر کھڑے رہے۔
It was narrated that Ibn Sirin said: "Some of those who prayed the Subh prayer with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) narrated to me that when he said: SamiAllahu liman hamidah (Allah hears those who praise Him) in the second rakah, he stood for a while".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1072
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے فجر میں دوسری رکعت سے اپنا سر اٹھایا تو آپ نے دعا کی: اے اللہ! ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابی ربیعہ اور مکہ کے کمزور لوگوں کو دشمنوں کے چنگل سے نجات دے، اے اللہ! قبیلہ مضر پر اپنی پکڑ سخت کر دے، اور ان کے اوپر یوسف (علیہ السلام) (کی قوم) جیسا سا قحط مسلط کر دے ۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "When the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) raised his head in the second rakah of the subh prayer, he said: O Allah, save Al-Walid bin Al-Walid and Salamah bin Hisham and Ayyshah bin Abi Rabiah and those who are weak and oppressed in Makkah. O Allah, intensify Your punishment in Mudar and give them years (of famine) like the years of Yusuf".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1073
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز میں جس وقت سمع اللہ لمن حمده ربنا ولک الحمد کہتے تو دعا کرتے، سجدہ میں جانے سے پہلے کھڑے ہو کر، کہتے: اللہم أنج الوليد بن الوليد وسلمة بن هشام وعياش بن أبي ربيعة والمستضعفين من المؤمنين اللہم اشدد وطأتک على مضر واجعلها عليهم كسني يوسف اے اللہ! ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابی ربیعہ اور کمزور مسلمانوں کو دشمنوں کے چنگل سے نجات دے، اے اللہ! قبیلہ مضر پر اپنی پکڑ سخت کر دے، اور ان پر یوسف سا قحط مسلط کر دے ، پھر آپ اللہ اکبر کہتے اور سجدہ کرتے، ان دنوں قبیلہ مضر رسول اللہ ﷺ کا مخالف تھا۔
Abu Hurairah narrated that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to supplicate in prayer when he said: "Sami Allahu liman hamidah, Rabbana wa lakal-hamd (Allah hears those who praise Him; O our Lord, and to You be praise),"then he said while standing, before he prostrated: "O Allah, save Al-Walid bin Al-Walid and Salamah bin Hisham and Ayyshah bin Abi Rabiah and those who are weak and oppressed in Makkah. O Allah, intensify Your punishment in Mudar and give them years (of famine) like the years of Yusuf". Then he would say: "Allah is Most Great" and then he prostrated. The people of Mudar and their environs were opposed to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) at the time.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1074