نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث

Sunan An Nasai · Chapter 11 · 492 hadiths · Page 9 of 25

1036Sunan An Nasai

دوران رکوع دونوں گھٹنوں کو پکڑنا

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، قال: قالعُمَرُ: إِنَّمَا السُّنَّةُ الْأَخْذُ بِالرُّكَبِ.

ابوعبدالرحمٰن سلمی کہتے ہیں کہ عمر ؓ نے کہا: سنت تو گھٹنوں کو پکڑنا ہی ہے۔

It was narrated that Abdur-Rahman As-Sulami said: " Umar said: The Sunnah is to hold the knees".

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1035
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٠٣٥ (صحیح الإسناد )
1037Sunan An Nasai

دوران رکوع دونوں ہتھیلیاں کس جگہ رکھے؟

أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ فِي حَدِيثِهِ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَالِمٍ، قال: أَتَيْنَا أَبَا مَسْعُودٍفَقُلْنَا لَهُ: حَدِّثْنَا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَفَقَامَ بَيْنَ أَيْدِينَا وَكَبَّرَ فَلَمَّا رَكَعَ وَضَعَ رَاحَتَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَجَعَلَ أَصَابِعَهُ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ وَجَافَى بِمِرْفَقَيْهِ حَتَّى اسْتَوَى كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ، ثُمَّ قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقَامَ حَتَّى اسْتَوَى كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ.

سالم البراد کہتے ہیں کہ ہم ابومسعود (عقبہ بن عمرو) کے پاس آئے تو ہم نے ان سے کہا: آپ ہم سے رسول اللہ ﷺ کی نماز کے بارے میں بیان کیجئے تو وہ ہمارے سامنے کھڑے ہوئے، اور اللہ اکبر کہا، اور جب انہوں نے رکوع کیا تو اپنی ہتھیلیوں کو اپنے دونوں گھٹنوں پہ رکھا، اور انگلیوں کو اس سے نیچے، اور اپنی دونوں کہنیوں کو پہلو سے جدا رکھا یہاں تک کہ ان کی ہر چیز سیدھی ہوگئی، پھر انہوں نے سمع اللہ لمن حمدہ کہا، اور کھڑے ہوگئے یہاں تک کہ ان کی ہر چیز سیدھی ہوگئی۔

It was narrated that Salim said: "We came to Abu Masud and said to him: Tell us about the prayer of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم). He stood in front of us and said the takbir, then when he bowed he placed his palms on his knees and put his fingers lower than that, and he held his elbows out from his sides until every part of him had settled. Then he said: Sami Allahu liman hamidah, Rabbana wa lakal-hamd (Allah hears those who praise Him, our Lord, and to You be the praise), then he stood up until every part of him had settled".

صحيح إلا جملة الأصابعصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1036
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ١٤٨ (٨٦٣) مطولاً، (تحفة الأشراف: ٩٩٨٥)، مسند احمد ٤/١١٩، ١٢٠ و ٥/٢٧٤، سنن الدارمی/الصلاة ٦٨ (١٣٤٣) (صحیح) (متابعات اور شواہد سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے، مگر ” انگلیوں والا “ ٹکڑا صحیح نہیں ہے، کیوں کہ اس کے راوی ” عطاء بن السائب “ مختلط راوی ہیں، اور ” ابو الاحوص “ یا زائدہ یا ابن علیہ (جو اگلی روایتوں میں ان کے راوی ہیں) ان سے اختلاط کے بعد روایت کرنے والے ہیں، اور انگلیوں والے ٹکڑے میں ان کا کوئی متابع نہیں پایا جاتا )
1038Sunan An Nasai

دوران رکوع دونوں ہاتھ کی انگلیاں کس جگہ رہیں؟

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّهَاوِيُّ، قال: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو، قال: أَلَا أُصَلِّي لَكُمْ كَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، فَقُلْنَا: بَلَىفَقَامَ فَلَمَّا رَكَعَ وَضَعَ رَاحَتَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَجَعَلَ أَصَابِعَهُ مِنْ وَرَاءِ رُكْبَتَيْهِ وَجَافَى إِبْطَيْهِ حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَامَ حَتَّى اسْتَوَى كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ، ثُمَّ سَجَدَ فَجَافَى إِبْطَيْهِ حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ، ثُمَّ قَعَدَ حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ، ثُمَّ سَجَدَ حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ، ثُمَّ صَنَعَ كَذَلِكَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَهَكَذَا كَانَ يُصَلِّي بِنَا.

ابوعبداللہ سالم بن البرد سے روایت ہے کہ عقبہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ کیا میں تمہارے سامنے ایسی نماز نہ پڑھوں جیسی میں نے رسول اللہ ﷺ کو پڑھتے دیکھا ہے؟ تو ہم نے کہا: کیوں نہیں! ضرور پڑھیئے، تو وہ کھڑے ہوئے، جب انہوں نے رکوع کیا تو اپنی ہتھیلیوں کو اپنے دونوں گھٹنوں پہ، اور اپنی انگلیوں کو گھٹنوں کے نیچے رکھا، اور اپنے بغلوں کو جدا رکھا یہاں تک کہ ان کی ہر چیز اپنی جگہ پر آگئی، پھر انہوں نے اپنا سر اٹھایا اور کھڑے ہوگئے، پھر سجدہ کیا اور اپنے بغلوں کو جدا رکھا یہاں تک ان کی ہر چیز اپنی جگہ جم گئی، پھر وہ بیٹھے یہاں تک کہ جسم کا ہر عضو اپنی جگہ پر آگیا، پھر انہوں نے سجدہ کیا یہاں تک کہ جسم کا ہر ہر عضو اپنی جگہ پر آگیا، چاروں رکعتیں اسی طرح ادا کیں، پھر انہوں نے کہا: میں نے اسی طرح رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھتے دیکھا ہے، اور آپ ہمیں اسی طرح پڑھاتے بھی تھے۔

It was narrated that Uqbah bin Amir said: "Shall I not show you how I saw the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) pray"? We said: "Yes". So he stood up and when he bowed, he placed his palms on his knees and put his fingers behind his knees, and held his arms out from his sides, until every part of him settled. Then he raised his head and stood up until every part of him settled. Then he prostrated and held his arms out from his sides, until every part of him settled. Then he sat up until every part of him settled. Then he prostrated again until every part of him settled. Then he did four rakahs like that. Then he said: "This is how I saw the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) pray, and this is how he used to lead us in prayer".

صحيح إلا جملة الأصابعصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1037
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح) (مگر انگلیوں والا ٹکڑا صحیح نہیں ہے )
1039Sunan An Nasai

دوران رکوع بغلوں کو کشادہ رکھنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَالِمٍ الْبَرَّادِ، قال: قال أَبُو مَسْعُودٍ: أَلَا أُرِيكُمْ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قُلْنَا: بَلَىفَقَامَ فَكَبَّرَ فَلَمَّا رَكَعَ جَافَى بَيْنَ إِبْطَيْهِ حَتَّى لَمَّا اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ رَفَعَ رَأْسَهُ فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ هَكَذَا وَقَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي.

ابوعبداللہ سالم براد کہتے ہیں کہ ابومسعود (عقبہ بن عمرو) ؓ کہنے لگے کہ کیا میں تمہیں نہ دکھاؤں کہ رسول اللہ ﷺ کیسے نماز پڑھتے تھے؟ تو ہم نے کہا: کیوں نہیں، ضرور دکھایئے، چناچہ وہ کھڑے ہوئے، اور اللہ اکبر کہا، اور جب رکوع کیا تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں بغلوں سے جدا رکھا، یہاں تک کہ جب ان کی ہر چیز اپنی جگہ پر آگئی تو انہوں نے اپنا سر اٹھایا، اسی طرح انہوں نے چار رکعتیں پڑھیں، اور کہا: میں نے اسی طرح رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھتے دیکھا ہے۔

It was narrated that Salim Al- Barrad said: "Abu Musad said: Shall I not show you how the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) prayed? We said: Yes. So he stood up and said the takbir, and when he bowed, he held his arms out from his sides until, when every part of him settled, he raised his head. He prayed four rakahs like that, and said: This is how I saw the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) praying".

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1038
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٠٣٧ (صحیح لغیرہ )
1040Sunan An Nasai

بحالت رکوع اعتدال اختیار کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، قال: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، قال: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَكَعَ اعْتَدَلَ فَلَمْ يَنْصِبْ رَأْسَهُ وَلَمْ يُقْنِعْهُ وَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ.

ابو حمید ساعدی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب رکوع کرتے تو پیٹھ اور سر کو برابر رکھتے، نہ تو سر کو بہت اونچا رکھتے اور نہ اسے جھکا کر رکھتے، اور اپنے ہاتھوں کو اپنے دونوں گھٹنوں پہ رکھتے۔

It was narrated that Abu Humaid As-Saidi said: "When the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) bowed he was balanced, he did not make his head higher or lower than his back, and he put his hands on his knees".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1039
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٤٥ (٨٢٨) مطولاً، سنن ابی داود/الصلاة ١١٧ (٧٣٠، ٧٣١، ٧٣٢)، ١٨١ (٩٦٣، ٩٦٤، ٩٦٥)، سنن الترمذی/الصلاة ١١١ (٣٠٤، ٣٠٥) مطولاً، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٥ (٨٦٢)، ٧٢ (١٠٦١) مطولاً، (تحفة الأشراف: ١١٨٩٧)، مسند احمد ٥/٤٢٤، سنن الدارمی/الصلاة ٧٠ (١٣٤٦)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: ١١٠٢، ١١٨٢، ١٢٦٣ (صحیح )
1041Sunan An Nasai

بحالت رکوع تلاوت قرآن کا ممنوع ہونا

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قال: نَهَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْقَسِّيِّ وَالْحَرِيرِ وَخَاتَمِ الذَّهَبِ وَأَنْ أَقْرَأَ وَأَنَا رَاكِعٌ وَقَالَ مَرَّةً أُخْرَى: وَأَنْ أَقْرَأَ رَاكِعًا.

علی ؓ کہتے ہیں کہ مجھے نبی اکرم ﷺ نے قسی ١ ؎ اور حریر ٢ ؎ اور سونے کی انگوٹھی پہننے سے روکا ہے، اور اس بات سے بھی کہ میں رکوع کی حالت میں قرآن پڑھوں۔ دوسری بار راوی نے أن أقرأ وأنا راکع کے بجائے أن أقرأ راکعا کہا۔

It was narrated that Ali (RA) said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade me from wearing A-Qassi and silk, and gold rings, and from reciting Quran when bowing".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1040
Notes · وضاحت
١ ؎: ایک ریشمی کپڑا ہے قس کی طرف منسوب ہے جو ایک جگہ کا نام ہے۔ ٢ ؎: خالص ریشمی کپڑا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٠٢٣٨، ١٩٠٠١)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: ٥١٨٦، ٥١٨٧، ٥١٨٨ (صحیح )
1042Sunan An Nasai

بحالت رکوع تلاوت قرآن کا ممنوع ہونا

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قال: نَهَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ وَعَنِ الْقِرَاءَةِ رَاكِعًا وَعَنِ الْقَسِّيِّ وَالْمُعَصْفَرِ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے مجھے سونے کی انگوٹھی پہننے سے، رکوع کی حالت میں قرآن پڑھنے سے، قسی کے بنے ہوئے ریشمی کپڑے اور کسم میں رنگے ہوئے کپڑے پہننے سے منع فرمایا ہے۔

It was narrated that Ali (RA) said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade me from wearing gold rings, from reciting the Quran when bowing, and from wearing Al-Qassi, and clothes dyed with safflower".

حسن صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1041
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٤١ (٤٨٠)، (تحفة الأشراف: ١٠١٩٤)، مسند احمد ١/٨١، ١٢٣، ویأتي عند المؤلف بأرقام: ١٠٤٣، ١١١٩، ٥١٧٥، ٥١٧٦، ٥٢٦٩ (حسن، صحیح الإسناد )
1043Sunan An Nasai

بحالت رکوع تلاوت قرآن کا ممنوع ہونا

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ دَاوُدَ الْمُنْكَدِرِيُّ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قال: نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا أَقُولُ نَهَاكُمْ عَنْ تَخَتُّمِ الذَّهَبِ وَعَنْ لُبْسِ الْقَسِّيِّ وَعَنْ لُبْسِ الْمُفَدَّمِ وَالْمُعَصْفَرِ وَعَنِ الْقِرَاءَةِ فِي الرُّكُوعِ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے سونے کی انگوٹھی پہننے سے، قسی کے بنے ہوئے ریشمی کپڑے پہننے سے، انتہائی سرخ کپڑے اور کسم میں رنگے ہوئے کپڑے پہننے سے، اور رکوع میں قرآن پڑھنے سے منع کیا ہے، میں یہ نہیں کہتا کہ تمہیں منع کیا ہے۔

It was narrated that Ali (RA) said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade me, but I do not say he forbade you- from wearing gold rings, Al-Qassi, and from wearing Al-Mufaddam, and from wearing clothes dyed with safflower and from reciting Quran when bowing".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1042
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
1044Sunan An Nasai

بحالت رکوع تلاوت قرآن کا ممنوع ہونا

أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ زُغْبَةُ، عَنِ اللَّيْثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ إِبْرَاهِيمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ حَدَّثَهُ، أَنَّأَبَاهُ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيًّا، يَقُولُ: نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ وَعَنْ لَبُوسِ الْقَسِّيِّ وَالْمُعَصْفَرِ وَقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ وَأَنَا رَاكِعٌ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے سونے کی انگوٹھی سے اور قسی کے بنے ریشمی کپڑے، کسم میں رنگے کپڑے پہننے سے، اور رکوع کی حالت میں قرآن پڑھنے سے منع کیا ہے۔

It was narrated that Ali (RA) said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade me from wearing gold rings, and Al-Qassi, and clothes dyed with safflower, and reciting Quran while I am bowing".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1043
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٤١ (٤٨٠)، اللباس ٤ (٢٠٧٨)، سنن ابی داود/اللباس ١١ (٤٠٤٤، ٤٠٤٥، ٤٠٤٦)، سنن الترمذی/الصلاة ٨٠ (٢٦٤)، اللباس ٥ (١٧٢٥)، ١٣ (١٧٣٧)، سنن ابن ماجہ/اللباس ٢١ (٣٦٠٢)، ٤٠ (٣٦٤٢)، موطا امام مالک/الصلاة ٦ (٢٨)، مسند احمد ١/٩٢، ١١٤، ١٢٦، ١٣٢، (تحفة الأشراف: ١٠١٧٩)، ویأتي عند المؤلف بالأرقام: ١٠٤٥، ١١٢٠، ٥١٧٧، ٥١٧٨، ٥١٨٠، ٥١٨١، ٥١٨٢، ٥١٨٣، ٥١٨٤، ٥١٨٥، ٥٢٧٠، ٥٢٧١، ٥٢٧٢، ٥٢٧٣، ٥٢٧٤، ٥٣٢٠ (صحیح )
1045Sunan An Nasai

بحالت رکوع تلاوت قرآن کا ممنوع ہونا

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ، قال: نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُبْسِ الْقَسِّيِّ وَالْمُعَصْفَرِ وَعَنْ تَخَتُّمِ الذَّهَبِ وَعَنِ الْقِرَاءَةِ فِي الرُّكُوعِ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے قسی کے بنے ریشمی کپڑے، اور کسم میں رنگے کپڑے پہننے سے، اور سونے کی انگوٹھی پہننے سے، اور رکوع میں قرآن پڑھنے سے منع کیا ہے۔

It was narrated that Ali (RA)said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade me from wearing Al-Qassi, and clothes dyed from safflower, and from wearing gold rings, and from reciting Quran while bowing".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1044
Takhrij · تخریج
أنظر ما قبلہ (صحیح )
1046Sunan An Nasai

دوران رکوع پروردگار کی عظمت کرنا

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ سُحَيْمٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: كَشَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السِّتَارَةَ وَالنَّاسُ صُفُوفٌ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنْ مُبَشِّرَاتِ النُّبُوَّةِ إِلَّا الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْمُسْلِمُ أَوْ تُرَى لَهُ، ثُمَّ قَالَ أَلَا إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ رَاكِعًا أَوْ سَاجِدًا فَأَمَّا الرُّكُوعُ فَعَظِّمُوا فِيهِ الرَّبَّ وَأَمَّا السُّجُودُ فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ قَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنے حجرے کا پردہ اٹھایا، اور لوگ ابوبکر ؓ کے پیچھے صف باندھے کھڑے تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: لوگو! نبوت کی خوشخبری سنانے والی چیزوں میں سے کوئی چیز باقی نہیں بچی ہے سوائے سچے خواب کے جسے مسلمان دیکھے یا اس کے لیے کسی اور کو دکھایا جائے ، پھر فرمایا: سنو! مجھے رکوع و سجود میں قرآن پڑھنے سے روکا گیا ہے، رہا رکوع تو اس میں اپنے رب کی بڑائی بیان کرو، اور رہا سجدہ تو اس میں دعا کی کوشش کرو کیونکہ اس میں تمہاری دعا قبول کئے جانے کے لائق ہے ۔

It was narrated that Ibn Abbas (RA) said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) drew back the curtain when the people were in rows behind Abu Bakr, may Allah be pleased with him, and said: O people, there is nothing left of the features of Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم)hood except a good dream that a Muslim sees or is seen by others for him. Then he said: Verily, I have been forbidden from reciting the Quran when bowing or prostrating. As for bowing, glorify the Lord therein, and as for prostration, strive hard in supplication for it is more deserving of a response".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1045
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٤١ (٤٧٩)، سنن ابی داود/فیہ ١٥٢ (٨٧٦)، سنن ابن ماجہ/الرؤیا ١ (٣٨٩٩)، (تحفة الأشراف: ٥٨١٢)، مسند احمد ١/٢١٩، سنن الدارمی/الصلاة ٧٧ (١٣٦٤، ١٣٦٥)، ویأتی عند المؤلف في باب ٦٢ (برقم: ١١٢١) (صحیح )
1047Sunan An Nasai

بوقت رکوع کیا پڑھنا چاہئے؟

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الْأَحْنَفِ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قال: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَكَعَ فَقَالَ فِي رُكُوعِهِ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ وَفِي سُجُودِهِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى.

حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، آپ نے رکوع کیا تو اپنے رکوع میں سبحان ربي العظيم اور سجدے میں سبحان ربي الأعلى کہا۔

It was narrated that Hudhaifah (RA) said: "I prayed with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), and he bowed and said when bowing: Subhana Rabbial-azim (Glory be to my Lord Almighty). And when prostrating: Subhana Rabbial-Ala (Glory be to my Lord Most High)".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1046
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٠٠٩ (صحیح )
1048Sunan An Nasai

رکوع میں دوسرا کلمہ پڑھنا

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، وَيَزِيدُ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْمَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ قالت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ: سُبْحَانَكَ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں رسول اللہ ﷺ رکوع اور سجدے میں سبحانک ربنا وبحمدک اللہم اغفر لي اے ہمارے رب تیری ذات پاک ہے، اور تیری حمد کے ساتھ ہم تیری تسبیح بیان کرتے ہیں، اے اللہ تو مجھے بخش دے کثرت سے پڑھتے تھے۔

It was narrated that Aishah (RA) said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) often used to say when bowing and prostrating: Subhanaka Rabbana wa bi Hamdika, Allahumm aghfirli (Glorfy and praise be to You, our Lord. O Allah, forgive me.)".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1047
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٢٣ (٧٩٤)، ١٣٩ (٨١٧)، المغازي ٥١ (٤٢٩٣)، تفسیر سورة النصر ١ (٤٩٦٧)، ٢ (٤٩٦٨)، صحیح مسلم/الصلاة ٤٢ (٤٨٤)، سنن ابی داود/فیہ ١٥٢ (٨٧٧)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٢٠ (٨٨٩)، (تحفة الأشراف: ١٧٦٣٥)، مسند احمد ٦/٤٣، ٤٩، ١٠٠، ١٩٠، ٢٣٠، ٢٥٣، ویأتی عند المؤلف بأرقام: ١١٢٣، ١١٢٤ (صحیح )
1049Sunan An Nasai

رکوع میں تیسرا کلمہ کہنا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قال: أَنْبَأَنِي قَتَادَةُ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَائِشَةَقالت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ: سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رکوع میں سبوح قدوس رب الملائكة والروح فرشتوں اور جبرائیل امین کا رب ہر نقص و عیب سے پاک اور تمام آلائشوں سے منزہ ہے ، پڑھتے تھے۔

It was narrated that Aishah (RA) said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to say when bowing: Subbuhun Quddusun Rabbul-malaikati war-ruh (Perfect, Most Holy, is the Lord of the angels and the spirit)".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1048
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٤٢ (٤٨٧)، سنن ابی داود/الصلاة ١٥١ (٨٧٢)، (تحفة الأشراف: ١٧٦٦٤)، مسند احمد ٦/٣٤، ٩٤، ١١٥، ١٤٨، ١٤٩، ١٧٦، ١٩٣، ٢٠٠، ٢٤٤، ٢٦٥، ویأتی عند المؤلف في باب ٧٥ (برقم: ١١٣٥) (صحیح )
1050Sunan An Nasai

رکوع کے درمیان چوتھا کلمہ پڑھنا

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ يَعْنِي النَّسَائِيَّ، قال: حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ قَيْسٍ الْكِنْدِيِّ وَهُوَ عَمْرُو بْنُ قَيْسٍ، قال: سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ حُمَيْدٍ قال: سَمِعْتُ عَوْفَ بْنَ مَالِكٍيَقُولُ: قُمْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً فَلَمَّا رَكَعَ مَكَثَ قَدْرَ سُورَةِ الْبَقَرَةِ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ: سُبْحَانَ ذِي الْجَبَرُوتِ وَالْمَلَكُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ.

عوف بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ میں ایک رات رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (نماز کے لیے) کھڑا ہوا تو جب آپ ﷺ نے رکوع کیا، تو سورة البقرہ پڑھنے کے بقدر رکوع میں ٹھہرے، آپ اپنے رکوع میں سبحان ذي الجبروت والملکوت والکبرياء والعظمة میں صاحب قدرت و بادشاہت اور صاحب بزرگی و عظمت کی پاکی بیان کرتا ہوں پڑھ رہے تھے۔

Asim bin Humaid said: "I heard Awf bin Malik say: I prayed Qiyam with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) one night, and when he bowed, he stayed as long as it takes to recite Surat Al-Baqarah, saying: "Subhana Dhil-jabaruti wal-malakuti wal-kibriya wal-azamah (Glory be to the One Who has all power, sovereignty, magnificence and might)".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1049
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ١٥١ (٨٧٣) مطولاً، سنن الترمذی/الشمائل ٤٢ (٢٩٦)، (تحفة الأشراف: ١٠٩١٢)، مسند احمد ٦/٢٤، ویأتی عند المؤلف برقم: ١١٣٣ مطولاً (صحیح )
1051Sunan An Nasai

دوران رکوع پانچویں قسم کا کلمہ پڑھنا

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، قال: حَدَّثَنَا عَمِّي الْمَاجِشُونُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَكَعَ قَالَ: اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ وَبِكَ آمَنْتُ خَشَعَ لَكَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَعِظَامِي وَمُخِّي وَعَصَبِي.

علی بن ابی طالب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب رکوع کرتے تو اللہم لک رکعت ولک أسلمت وبک آمنت خشع لک سمعي وبصري وعظامي ومخي وعصبي اے اللہ! میں نے تیرے لیے اپنی پیٹھ جھکا دی، اور اپنے آپ کو تیرے حوالے کردیا، اور میں تجھ پر ایمان لایا، میرے کان، میری آنکھیں، میری ہڈیاں، میرے بھیجے اور میرے پٹھوں نے تیرے لیے عاجزی کا اظہار کیا پڑھتے تھے۔

It was narrated from Ali (RA) bin Abi Talib that: When the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) bowed, he said: "Allahumma laka rakatu was laka aslamtu wa bika amantu, khasha laka sam`I wa basri wa `izami wa mukhi wa asabi (O Allah, to You I have bowed and to You I have submitted and in You I have believed. My hearing, sight, bones, brain and sinews are humbled before You)".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1050
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ٢٦ (٧٧١)، سنن ابی داود/الصلاة ١١٨ (٧٤٤)، ١٢١ (٧٦٠، ٧٦١)، ٣٦٠ (١٥٠٩)، سنن الترمذی/الدعوات ٣٢ (٣٤٢١، ٣٤٢٢، ٣٤٢٣)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٥ (٨٦٤)، ٧٠ (١٠٥٤)، (تحفة الأشراف: ١٠٢٢٨)، مسند احمد ١/٩٣، ٩٥، ١٠٢، ١٠٣، ١١٩، سنن الدارمی/الصلاة ٣٣ (١٢٧٤)، ٧١ (١٣٥٣)، ویأتی عند المؤلف برقم: ١١٢٧ (صحیح )
1052Sunan An Nasai

رکوع کے دوران ایک دوسری قسم کا کلمہ

أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ الْحِمْصِيُّ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو حَيْوَةَ قال: حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَكَعَ قَالَ: اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ أَنْتَ رَبِّي خَشَعَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَدَمِي وَلَحْمِي وَعَظْمِي وَعَصَبِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالِمِينَ.

جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب رکوع کرتے تو اس میں اللہم لک رکعت وبک آمنت ولک أسلمت وعليك توکلت أنت ربي خشع سمعي وبصري ودمي ولحمي وعظمي وعصبي لله رب العالمين اے اللہ! میں نے تیرے لیے ہی اپنا سر جھکا دیا، تیرے اوپر ہی ایمان لایا، میں نے اپنے آپ کو تیرے ہی حوالے کردیا، تیرے ہی اوپر بھروسہ کیا، تو میرا رب ہے، میرے کان، میری آنکھ، میرا خون، میرا گوشت، میری ہڈیاں اور میرے پٹھے نے اللہ کے لیے جو سارے جہانوں کا رب ہے عاجزی کا اظہار کیا ہے پڑھتے تھے۔

It was narrated from Jabir bin Abdullah (RA) that: When the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) bowed, he said: "Allahumma laka rakatu wa bika amantu wa laka aslamtu wa alayka tawwakaltu, anta Rabbi, khashaa samI wa basri wa dammi wa lahmi wa azmi wa asabi Lillahi Rabbil-Alamin (O Allah, to You I have bowed, in You I believe, to You I have submitted and in You I put my trust. You are my Lord. My hearing, my sight, my blood, my flesh, my bones and sinews are humbled before Allah, the Lord of the Worlds.)"

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1051
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٣٠٤٩) (صحیح )
1053Sunan An Nasai

رکوع کے دوران ایک دوسری قسم کا کلمہ

أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ حِمْيَرٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ وَذَكَرَ آخَرَ قَبْلَهُ، عَنْعَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَامَ يُصَلِّي تَطَوُّعًا يَقُولُ: إِذَا رَكَعَ اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ أَنْتَ رَبِّي خَشَعَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَلَحْمِي وَدَمِي وَمُخِّي وَعَصَبِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ.

محمد بن مسلمہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب نفل پڑھنے کھڑے ہوتے تو جب رکوع میں جاتے تو اللہم لک رکعت وبک آمنت ولک أسلمت وعليك توکلت أنت ربي خشع سمعي وبصري ولحمي ودمي ومخي وعصبي لله رب العالمين اے اللہ! میں نے تیرے لیے اپنی پیٹھ جھکا دی، تیرے اوپر ایمان لایا، میں نے اپنے آپ کو تیرے سپرد کردیا، اور تجھ پر بھروسہ کیا، تو میرا رب ہے، میرا کان، میری آنکھ، میرا گوشت، میرا خون، میرا دماغ اور میرے پٹھے نے اللہ رب العالمین کے لیے عاجزی کا اظہار کیا ہے پڑھتے۔

It was narrated from Muhammad bin Maslamah that: When the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) stood to offer a voluntary prayer, he would say when he bowed: "Allahumma laka rakatu wa bika amantu wa laka aslamtu wa alayka tawwakaltu, anta Rabbi, khashaa samI wa basri wa lahmi wa dammi wa mukhi wa asabi Lillahi Rabbil-Alamin ( O Allah, to You I have bowed, in You I believe, to You I have submitted and in You I put my trust. You are my Lord. My hearing, my sight, my flesh, my blood, my brain and my sinews are humbled before Allah, the Lord of the Worlds)."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1052
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١١٢٣٠)، ویأتي عند المؤلف برقم: ١١٢٩ (صحیح )
1054Sunan An Nasai

دوران رکوع کچھ نہ پڑھنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمِّهِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ وَكَانَ بَدْرِيًّا، قال: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمُقُهُ وَلَا يَشْعُرُ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ، ثُمَّ قَالَ: ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّقَالَ: لَا أَدْرِي فِي الثَّانِيَةِ أَوْ فِي الثَّالِثَةِ قَالَ: وَالَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ لَقَدْ جَهِدْتُ فَعَلِّمْنِي وَأَرِنِي قَالَ: إِذَا أَرَدْتَ الصَّلَاةَ فَتَوَضَّأْ فَأَحْسِنِ الْوُضُوءَ، ثُمَّ قُمْ فَاسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ، ثُمَّ كَبِّرْ، ثُمَّ اقْرَأْ، ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ رَأْسَكَ حَتَّى تَطْمَئِنَّ قَاعِدًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا فَإِذَا صَنَعْتَ ذَلِكَ فَقَدْ قَضَيْتَ صَلَاتَكَ وَمَا انْتَقَصْتَ مِنْ ذَلِكَ فَإِنَّمَا تَنْقُصُهُ مِنْ صَلَاتِكَ.

رفاعہ بن رافع ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا، اور اس نے نماز پڑھی، رسول اللہ ﷺ اسے دیکھ رہے تھے لیکن وہ جان نہیں رہا تھا، وہ نماز سے فارغ ہوا، تو رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، اور آپ کو سلام کیا، تو آپ نے سلام کا جواب دیا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: جاؤ تم پھر سے نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی ، میں نہیں جان سکا کہ اس نے دوسری بار میں یا تیسری بار میں کہا کہ قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ پر قرآن نازل کیا ہے، میں اپنی کوشش کرچکا، آپ مجھے نماز پڑھنا سکھا دیں، اور پڑھ کر دکھا دیں کہ کیسے پڑھوں، آپ ﷺ نے فرمایا: جب تم نماز کا ارادہ کرو تو وضو کرو اور اچھی طرح وضو کرو، پھر قبلہ رخ کھڑے ہو، پھر اللہ اکبر کہو، پھر قرأت کرو، پھر رکوع کرو یہاں تک کہ تم رکوع کی حالت میں مطمئن ہوجاؤ، پھر اٹھو یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہوجاؤ، پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ سجدہ کی حالت میں مطمئن ہوجاؤ، پھر اپنا سر اٹھاؤ یہاں تک کہ اطمینان سے بیٹھ جاؤ، پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ سجدہ کی حالت میں مطمئن ہوجاؤ، جب تم ایسا کرو گے تو اپنی نماز پوری کرلو گے، اور اس میں جو کمی کرو گے تو اپنی نماز ہی میں کمی کرو گے ١ ؎۔

It was narrated that Rifaah bin Rafi- who had been present at Badr- said: "We were with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) when a man entered the Masjid and prayed. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) watched him without him realizing, then he finished, came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and greeted him with salam. He returned the salam and said: "Go back and pray, for you have not prayed." He (the narrator) said: "I do not know if it was the second or third time,- "(the man) said: By the One Who revealed the Book to you, I have tried my best. Teach me and show me. He said: When you want to pray, perform wudu and do it well, then stand up and face the qiblah. Then say the takbir, then recite, then bow until you are at ease in bowing. Then stand up until you are standing up straight. Then prostrate until you are at ease in prostration, then raise your head until you are at ease in sitting, then prostrate until you are at ease in prostration. If you do that then you will have done your prayer properly, and whatever you failed to do properly is going to detract from your prayer."

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1053
Notes · وضاحت
١ ؎: مؤلف نے اس سے استدلال کیا ہے کہ آپ نے رکوع (یا سجدہ) میں تسبیح کا ذکر نہیں کیا ہے، آپ اس کو صلاۃ سکھا رہے تھے، اس سے معلوم ہوا کہ رکوع (یا سجدہ) میں تسبیح ضروری نہیں ہے، لیکن یہ استدلال صحیح نہیں، اس میں بہت سے واجبات کا ذکر نہیں ہے، دراصل اس آدمی میں تعدیل ارکان کی کمی تھی، اسی پر توجہ دلانا مقصود تھا، اس لیے آپ نے اعتدال پر خاص زور دیا، اور بہت سے واجبات کا ذکر نہیں کیا، دیگر روایات میں تسبیحات کا حکم موجود ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٦٦٨، (تحفة الأشراف: ٣٦٠٤)، ویأتي برقم: ١٣١٤، ١٣١٥ (حسن صحیح )
1055Sunan An Nasai

عمدہ طریقہ سے رکوع پورا کرنا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قال: سَمِعْتُ أَنَسًا يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَتِمُّوا الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ إِذَا رَكَعْتُمْ وَسَجَدْتُمْ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم رکوع اور سجدہ کرو تو انہیں اچھی طرح کرو ۔

It was narrated that Qatadah said: "I heard Anas narrate that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Bow and prostrate properly when you bow and prostrate".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1054
Takhrij · تخریج
وقد أخرجہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٢٩٢) (صحیح )