Sunan An Nasai 1037

نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث

1037Sunan An Nasai

دوران رکوع دونوں ہتھیلیاں کس جگہ رکھے؟

أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ فِي حَدِيثِهِ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَالِمٍ، قال: أَتَيْنَا أَبَا مَسْعُودٍفَقُلْنَا لَهُ: حَدِّثْنَا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَفَقَامَ بَيْنَ أَيْدِينَا وَكَبَّرَ فَلَمَّا رَكَعَ وَضَعَ رَاحَتَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَجَعَلَ أَصَابِعَهُ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ وَجَافَى بِمِرْفَقَيْهِ حَتَّى اسْتَوَى كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ، ثُمَّ قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقَامَ حَتَّى اسْتَوَى كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ.

سالم البراد کہتے ہیں کہ ہم ابومسعود (عقبہ بن عمرو) کے پاس آئے تو ہم نے ان سے کہا: آپ ہم سے رسول اللہ ﷺ کی نماز کے بارے میں بیان کیجئے تو وہ ہمارے سامنے کھڑے ہوئے، اور اللہ اکبر کہا، اور جب انہوں نے رکوع کیا تو اپنی ہتھیلیوں کو اپنے دونوں گھٹنوں پہ رکھا، اور انگلیوں کو اس سے نیچے، اور اپنی دونوں کہنیوں کو پہلو سے جدا رکھا یہاں تک کہ ان کی ہر چیز سیدھی ہوگئی، پھر انہوں نے سمع اللہ لمن حمدہ کہا، اور کھڑے ہوگئے یہاں تک کہ ان کی ہر چیز سیدھی ہوگئی۔

It was narrated that Salim said: "We came to Abu Masud and said to him: Tell us about the prayer of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم). He stood in front of us and said the takbir, then when he bowed he placed his palms on his knees and put his fingers lower than that, and he held his elbows out from his sides until every part of him had settled. Then he said: Sami Allahu liman hamidah, Rabbana wa lakal-hamd (Allah hears those who praise Him, our Lord, and to You be the praise), then he stood up until every part of him had settled".

صحيح إلا جملة الأصابعصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1036
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ١٤٨ (٨٦٣) مطولاً، (تحفة الأشراف: ٩٩٨٥)، مسند احمد ٤/١١٩، ١٢٠ و ٥/٢٧٤، سنن الدارمی/الصلاة ٦٨ (١٣٤٣) (صحیح) (متابعات اور شواہد سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے، مگر ” انگلیوں والا “ ٹکڑا صحیح نہیں ہے، کیوں کہ اس کے راوی ” عطاء بن السائب “ مختلط راوی ہیں، اور ” ابو الاحوص “ یا زائدہ یا ابن علیہ (جو اگلی روایتوں میں ان کے راوی ہیں) ان سے اختلاط کے بعد روایت کرنے والے ہیں، اور انگلیوں والے ٹکڑے میں ان کا کوئی متابع نہیں پایا جاتا )