براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم قرآن کو اپنی آواز سے مزین کرو ۔ عبدالرحمٰن بن عوسجہ کہتے ہیں: میں اس جملے زينوا القرآن کو بھول گیا تھا یہاں تک کہ مجھے ضحاک بن مزاحم نے یاد دلایا۔
It was narrated that Al-Bara (RA) bin Azib said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Make your voices beautiful when you recite Quran".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1016
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: اللہ تعالیٰ کوئی چیز اتنی پسندیدگی سے نہیں سنتا جتنی خوش الحان نبی کی زبان سے قرآن سنتا ہے، جو اسے خوش الحانی کے ساتھ بلند آواز سے پڑھتا ہو ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that: He heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: "Allah never listens to anything as He listens to a Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) with a beautiful voice chanting the Quran aloud".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1017
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: نبی کے خوش الحانی سے قرآن پڑھنے کو اللہ تعالیٰ جس طرح سنتا ہے اس طرح کسی اور چیز کو نہیں سنتا ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Allah, the Mighty and Sublime, never listens to anything as He listens to a Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) chanting the Quran".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1018
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ابوموسیٰ اشعری ؓ کی قرأت سنی تو فرمایا: انہیں آل داود کے لحن (سُر) میں سے ایک لحن عطا کیا گیا ہے ۔
Abu Hurairah (RA) narrated that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) heard the recitation of Abu Musa and said: He has been given a Mizmar among the Mazamir of the family of Dawud, peace be upon him".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1019
Takhrij · تخریج
وقد أخرجہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٥٢٣١)، مسند احمد ٢/٣٦٩، ٤٥٠ (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ابوموسیٰ ؓ کی قرأت سنی تو فرمایا: یقیناً انہیں آل داود کے لحن (سُر) میں سے ایک لحن عطا کیا گیا ہے ۔
It was narrated that Aishah (RA) said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) heard the recitation of Abu Musa and said: This man has been given a Mizmar among the Mazamir of the family of Dawud, peace be upon him".
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1020
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ابوموسیٰ ؓ کی قرأت سنی تو فرمایا: انہیں داود کے لحن (سُر) میں سے ایک لحن عطا کیا گیا ہے ۔
It was narrated that Aishah (RA) said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) heard the recitation of Abu Musa and said: This man has been given a Mizmar among the Mazamir of the family of Dawud عَلَيْهِ السَّلَام".
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 21 10
یعلیٰ بن مملک سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین ام سلمہ ؓ سے رسول اللہ ﷺ کی قرأت اور نماز کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: تم کہاں اور آپ کی نماز کہاں! پھر انہوں نے آپ کی قرأت بیان کی جس کا ایک ایک حرف بالکل واضح تھا۔
It was narrated from Yala bin Mamlak that: He asked Umm Salamah about the recitation and prayer of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and she said: "Why do you want to know about his prayer"? Then she described his recitation and as being so measured and clear that each letter could be distinguished.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1022
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٣٥٥ (١٤٦٦) مطولاً، سنن الترمذی/فضائل القرآن ٢٣ (٢٩٢٣) مطولاً، (تحفة الأشراف: ١٨٢٢٦)، مسند احمد ٦/٢٩٤، ٢٩٧، ٣٠٠، ٣٠٨، وأعادہ المؤلف برقم: ١٦٣٠ (صحیح) (متابعات سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے ورنہ اس کے راوی ” یعلی “ لین الحدیث ہیں، دیکھئے إرواء رقم: ٣٤٣ )
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ جس وقت مروان نے ابوہریرہ ؓ کو مدینہ میں اپنا نائب مقرر کیا تھا، وہ فرض نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اللہ اکبر کہتے، پھر جب وہ رکوع کرتے تو اللہ اکبر کہتے، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو سمع اللہ لمن حمده، ربنا ولک الحمد کہتے، پھر جب سجدہ کے لیے جھکتے تو اللہ اکبر کہتے، پھر جب تشہد کے بعد دوسری رکعت سے اٹھتے تو اللہ اکبر کہتے، (ہر رکعت میں) اسی طرح کرتے یہاں تک کہ اپنی نماز پوری کرلیتے، (ایک بار) جب انہوں نے اپنی نماز پوری کرلی اور سلام پھیرا تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے، اور کہنے لگے: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں تم میں سب سے زیادہ رسول اللہ ﷺ کی نماز سے مشابہت رکھتا ہوں۔
It was narrated from Abu Salamah bin Abdur-Rahman that: Marwan appointed Abu Hurairah as governor of Al-Madinah. When he stood to offer an obligatory prayer, he would say the takbir, then he said the takbir when he bowed, and when he raised his head from bowing he said: "Sami Allahu liman hamidah, Rabbana wa lakal-hamd (Allah hears those who praise Him; our Lord, and to You be the praise)". Then he would say the takbir when he went down in prostration, then he said the takbir when he stood up after two rakahs, after saying the Tashahhud, and he did that until he had finished the prayer. When he had finished his prayer and said the Salam, he turned to the people in the masjid and said: "By the One in Whose Hand is my soul, I am the one among you whose prayer most closely resembles that of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم)".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1023
مالک بن حویرث ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ جب آپ اللہ اکبر کہتے، اور جب رکوع کرتے، اور جب رکوع سے سر اٹھاتے، تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ آپ کے دونوں ہاتھ آپ کی کانوں کی لو تک پہنچ جاتے۔
It was narrated that Malik bin Al-Huwairith (RA) said: "I saw the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) raise his hands until they reached the highest part of his ears, when he said the takbir, when he bowed and when he raised his head from bowing".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1024
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ جب آپ نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے، یہاں تک کہ آپ انہیں اپنے مونڈھوں کے بالمقابل لے جاتے ١ ؎، اور جب رکوع کرتے، اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی ایسا ہی کرتے۔
It was narrated from Salim that: His father said: "I saw the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) when he started to pray, raise his hands until they were parallel to his shoulders, (and he did that) when he bowed and when he raised his head from bowing".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1025
Notes · وضاحت
١ ؎: ان دونوں روایتوں سے پتہ چلتا ہے کہ اس میں توسّع ہے کہ کبھی آپ دونوں ہاتھ کانوں کے اطراف تک اٹھاتے اور کبھی مونڈھوں کے بالمقابل لے جاتے، اور بعض نے دونوں میں تطبیق اس طرح سے دی ہے کہ ہاتھوں کی ہتھیلیاں تو مونڈھوں کے بالمقابل رکھتے، اور انگلیوں کے سرے کانوں کے بالمقابل رکھتے۔
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ کیا میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کی نماز نہ بتاؤں؟ چناچہ وہ کھڑے ہوئے اور پہلی بار اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھایا، پھر انہوں نے دوبارہ ایسا نہیں کیا ١ ؎۔
It was narrated from Alqamah, that Abdullah said: "Shall I not tell you about the prayer of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم)? He stood and raised his hands the first time and then he did not do that again".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1026
Notes · وضاحت
١ ؎ ایسا ہوسکتا ہے کہ نبی اکرم ﷺ کبھی کبھی رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع یدین نہ کرتے رہے ہوں، کیونکہ یہ فرض و واجب تو ہے نہیں، اس لیے ممکن ہے بیان جواز کے لیے کبھی آپ نے رفع یدین نہ کیا ہو، اور ابن مسعود ؓ نے اسی حالت میں آپ کو دیکھا ہو، ویسے ان سے تو کچھ ایسی باتیں بھی منقول ہیں کہ جن کا کوئی بھی امام قائل نہیں ہے، جیسے رکوع میں تطبیق (دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو آپس میں ملا کر دونوں گھٹنوں کے درمیان رکھنا) اور معوّذتین کا ان کے مصحف (قرآن) میں نہ ہونا، وغیرہ، تو ممکن ہے ان کی یہ روایت بھی انہی باتوں میں سے ہو، رفع یدین نبی اکرم ﷺ کی سنت مستمرہ و راتبہ میں سے نہ ہوتا تو آپ کی وفات کے بعد بیسیوں صحابہ کرام ؓ رفع یدین نہ کرتے۔
ابومسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایسی نماز کافی نہیں ہوتی جس میں آدمی رکوع و سجود میں اپنی پیٹھ برابر نہ رکھے ۔
It was narrated that Abu Masud said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: The prayer is not valid if a man does not bring his backbone to rest while bowing and prostrating".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1027
انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رکوع اور سجدے میں سیدھے رہو ١ ؎ اور تم میں سے کوئی بھی اپنے دونوں بازو کتے کی طرح نہ بچھائے ۔
It was narrated from Anas that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Be moderate in bowing and prostration, and do not rest your forearms along the ground like a dog".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1028
Notes · وضاحت
١ ؎: رکوع میں (اعتدال) سیدھا رہنے کا مطلب یہ ہے کہ پیٹھ کو سیدھا رکھے، اور سر کو اس کے برابر رکھے، نہ اوپر نہ نیچے، اور دونوں ہاتھ سیدھے کر کے گھٹنوں پر رکھے، اور سجدہ میں اعتدال یہ ہے کہ کہنیوں کو زمین سے اور پیٹ کو ران سے جدا رکھے، کتے کی طرح بازو بچھانے کا مطلب دونوں کہنیوں کو دونوں ہتھیلیوں کے ساتھ زمین پر رکھنا ہے۔
Takhrij · تخریج
حدیث حماد بن سلمة عن قتادة عن أنس، تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١١٦١)، وحدیث سعید بن أبي عروبة عن قتادة عن أنس قد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الإقامة ٢١ (٨٩٢)، (تحفة الأشراف: ١١٩٧)، ویأتي عند المؤلف برقم: ١١١١، ١١١٨، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المواقیت ٨ (٥٣٢)، الأذان ١٤١ (٨٢٢)، صحیح مسلم/الصلاة ٤٥ (٤٩٣)، سنن ابی داود/فیہ ١٥٨ (٨٩٧)، سنن الترمذی/فیہ ٩٠ (٢٨٦)، مسند احمد ٣/١١٥، ١٧٧، ١٧٩، ١٩١، ٢١٤، ٢٧٤، ٢٩١، سنن الدارمی/الصلاة ٧٥ (١٣٦١) (صحیح )
علقمہ اور اسود سے روایت ہے کہ وہ دونوں عبداللہ بن مسعود ؓ کے ساتھ ان کے گھر میں تھے، تو انہوں نے پوچھا: کیا ان لوگوں نے نماز پڑھ لی؟ ہم نے کہا: ہاں! تو انہوں نے بغیر اذان و اقامت کے دونوں کی امامت کی، اور ان دونوں کے درمیان میں کھڑے ہوئے، اور کہنے لگے: جب تم تین ہو تو ایسے ہی کرو، اور جب تم اس سے زیادہ ہو تو تم میں کا ایک شخص تمہاری امامت کرے، اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کو اپنی دونوں رانوں پر بچھا لے، گویا میں رسول اللہ ﷺ کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پیوست دیکھ رہا ہوں ١ ؎۔
It was narrated from Alqamah and Al-Aswad that: They were with Abdullah in his house and he said: "Have these people prayed"? We said: "Yes". So he led them in prayer and stood between them, with no Adhan and no Iqamah, and said: "If you are three then do this, and if you are more than that then let one of you lead the others in prayer, and let him lay his hands on his thighs. It is as if I can see the fingers of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), interlaced".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1029
Notes · وضاحت
١ ؎: یہاں اختصار ہے، صحیح مسلم کی روایت میں ہے واذا کنتم أکثر من ذلک، فلیؤمکم أحدکم، وإذا رکع أحدکم فلیفرش ذراعیہ علی فخذیہ، ولیجنأ ولیطبق بین کفیہ، فلَکَأَني أنظر إلی اختلاف أصابع رسول اللہ یعنی جب تم تین سے زائد ہو تو تم میں سے ایک آگے بڑھ کر امامت کرے، اور جب رکوع کرے تو اپنے دونوں بازو اپنی دونوں رانوں پر بچھا لے، اور رکوع میں جائے اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پیوست کرے، اور انہیں اپنے دونوں گھٹنوں کے بیچ میں رکھ لے، گویا میں رسول اللہ ﷺ کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پیوست دیکھ رہا ہوں، اس کو تطبیق کہتے ہیں اور یہ منسوخ ہے، دیکھئیے رقم: ١٠٣٣ ۔
اسود اور علقمہ کہتے ہیں کہ ہم نے عبداللہ بن مسعود ؓ کے ساتھ ان کے گھر میں نماز پڑھی، وہ ہمارے درمیان کھڑے ہوئے، ہم نے اپنے ہاتھوں کو اپنے گھٹنوں پر رکھ لیا، تو انہوں نے اسے وہاں سے ہٹا دیا اور ہمارے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پیوست کردیں، اور کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسا کرتے دیکھا ہے۔
It was narrated that Alqamah and Al-Aswad said: "We prayed with Abdullah bin Masud (RA) in his house. He stood between us and we placed our hands on our knees, but he took them off and made us interlace our fingers, and said: "I saw the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) do that".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1030
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز سکھائی، آپ کھڑے ہوئے اور آپ نے اللہ اکبر کہا، تو جب آپ نے رکوع کرنا چاہا تو اپنے ہاتھوں کو ملا کر اپنے دونوں گھٹنوں کے بیچ کرلیا، اور رکوع کیا، یہ بات سعد ؓ کو معلوم ہوئی تو انہوں نے کہا: میرے بھائی نے سچ کہا، ہم پہلے ایسا ہی کرتے تھے، پھر ہمیں اس کا یعنی ہاتھوں سے گھٹنوں کو پکڑنے کا حکم دیا گیا۔
It was narrated that Abdullah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) taught us the prayer. He stood up and said the takbir, and when he wanted to bow, he put his hands together and put his hands between his knees and bowed". News of that reached Sad and he said: "My brother has spoken the truth. We used to do that, then we were commanded to do this", meaning to hold the knees.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1031
مصعب بن سعد کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد (سعد بن ابی وقاص ؓ) کے پہلو میں نماز پڑھی، میں نے رکوع میں اپنے دونوں ہاتھوں کو دونوں گھٹنوں کے درمیان کرلیا، تو انہوں نے مجھ سے کہا: اپنی ہتھیلیاں اپنے دونوں گھٹنوں پہ رکھو، پھر میں نے دوسری بار بھی ایسا ہی کیا، تو انہوں نے میرے ہاتھ پر مارا اور کہا: ہمیں اس سے روک دیا گیا ہے، اور ہاتھوں کو گھٹنوں پہ رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔
It was narrated that Musab bin Sad (RA) said: "I prayed beside my father and I put my hands between my knees, and he told me: Put your hands on your knees. Then I did that again and he struck my hands and said: We were forbidden to do that, and we were commanded to put our hands on our knees".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1032
مصعب بن سعد کہتے ہیں کہ میں نے رکوع کیا، تو اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پیوست کر کے اپنے دونوں گھٹنوں کے درمیان کرلیا، تو میرے والد نے کہا: پہلے ہم ایسا ہی کرتے تھے، پھر ہم اسے اٹھا کر گھٹنوں پر رکھنے لگے۔
It was narrated that Musab bin Sad (RA) said: "I bowed and put my hands together, and my father said: This is something that we used to do, then we brought them up to our knees".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1033