Sunan An Nasai 1027

نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث

1027Sunan An Nasai

مونڈھوں تک ہاتھ نہ اٹھانا

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قال: أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَقَامَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ، ثُمَّ لَمْ يُعِدْ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ کیا میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کی نماز نہ بتاؤں؟ چناچہ وہ کھڑے ہوئے اور پہلی بار اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھایا، پھر انہوں نے دوبارہ ایسا نہیں کیا ١ ؎۔

It was narrated from Alqamah, that Abdullah said: "Shall I not tell you about the prayer of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم)? He stood and raised his hands the first time and then he did not do that again".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1026
Notes · وضاحت
١ ؎ ایسا ہوسکتا ہے کہ نبی اکرم ﷺ کبھی کبھی رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع یدین نہ کرتے رہے ہوں، کیونکہ یہ فرض و واجب تو ہے نہیں، اس لیے ممکن ہے بیان جواز کے لیے کبھی آپ نے رفع یدین نہ کیا ہو، اور ابن مسعود ؓ نے اسی حالت میں آپ کو دیکھا ہو، ویسے ان سے تو کچھ ایسی باتیں بھی منقول ہیں کہ جن کا کوئی بھی امام قائل نہیں ہے، جیسے رکوع میں تطبیق (دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو آپس میں ملا کر دونوں گھٹنوں کے درمیان رکھنا) اور معوّذتین کا ان کے مصحف (قرآن) میں نہ ہونا، وغیرہ، تو ممکن ہے ان کی یہ روایت بھی انہی باتوں میں سے ہو، رفع یدین نبی اکرم ﷺ کی سنت مستمرہ و راتبہ میں سے نہ ہوتا تو آپ کی وفات کے بعد بیسیوں صحابہ کرام ؓ رفع یدین نہ کرتے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ١١٩ (٧٤٨، ٧٥١)، سنن الترمذی/الصلاة ٧٦ (٢٥٧)، (تحفة الأشراف: ٩٤٦٨)، مسند احمد ١/٣٨٨، ٤٤١، ٤٤٢، ویأتی عند المؤلف برقم: ١٠٥٩ (صحیح )