نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث

Sunan An Nasai · Chapter 11 · 492 hadiths · Page 7 of 25

996Sunan An Nasai

سورہ قل ھو اللہ احد کی فضیلت سے متعلق

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَجُلًا سَمِعَ رَجُلًا يَقْرَأُ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ يُرَدِّدُهَا فَلَمَّا أَصْبَحَ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهَا لَتَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ.

ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ایک شخص کو قل هو اللہ أحد پڑھتے سنا، وہ اسے باربار دہرا رہا تھا، جب صبح ہوئی تو وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اور اس نے آپ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یہ تہائی قرآن کے برابر ہے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Saeed Al Khudri (RA) that: A man heard another man reciting "Say: He is Allah, (the) One" and repeating it. When morning came he went to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and told him about that. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "By the One in Whose Hand is my soul, it is equal to one-third of the Quran".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 995
Notes · وضاحت
١ ؎: بعض علماء نے اس کی توضیح اس طرح کی ہے کہ علوم قرآن کی تین قسمیں ہیں، ایک توحید، دوسری تشریع، اور تیسری اخلاق، ان میں سے پہلی قسم توحید کا جامع بیان اس سورت میں موجود ہے اس لیے اسے ثلث قرآن کہا گیا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/فضائل القرآن ١٣ (٥٠١٣)، الأیمان والنذور ٣ (٦٦٤٣)، التوحید ١ (٧٣٧٤)، سنن ابی داود/الصلاة ٣٥٣ (١٤٦١)، (تحفة الأشراف: ٤١٠٤)، موطا امام مالک/القرآن ٦ (١٧)، مسند احمد ٣/٢٣، ٣٥، ٤٣ (صحیح )
997Sunan An Nasai

سورہ قل ھو اللہ احد کی فضیلت سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ رَبِيعِ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ امْرَأَةٍ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ثُلُثُ الْقُرْآنِ. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: مَا أَعْرِفُ إِسْنَادًا أَطْوَلَ مِنْ هَذَا.

ابوایوب خالد بن زید انصاری ؓ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: قل هو اللہ أحد تہائی قرآن ہے ۔ ابوعبدالرحمٰن (امام نسائی) کہتے ہیں: میں کسی حدیث کی اس سے زیادہ بڑی سند نہیں جانتا۔

It was narrated from Abu Ayyub that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Say: He is Allah, (the) One" is one-third of the Quran".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 996
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/فضائل القرآن ١١ (٢٨٩٦)، (تحفة الأشراف: ٣٥٠٢)، مسند احمد ٥/٤١٨، ٤١٩، سنن الدارمی/فضائل القرآن ٢٤ (٣٤٨٠) (صحیح) (پچھلی روایت سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے )
998Sunan An Nasai

نماز عشاء میں سورت اعلی کی تلاوت

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قال: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ جَابِرٍ، قال: قَامَ مُعَاذٌ فَصَلَّى الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ فَطَوَّلَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفَتَّانٌ يَا مُعَاذُ، أَفَتَّانٌ يَا مُعَاذُ أَيْنَ كُنْتَ، عَنْ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى و الضُّحَى و إِذَا السَّمَاءُ انْفَطَرَتْ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ معاذ ؓ کھڑے ہوئے اور انہوں نے عشاء پڑھائی، تو انہوں نے قرأت لمبی کردی، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: معاذ! کیا تم فتنہ پرداز ہو؟ معاذ! کیا تم فتنہ پرداز ہو؟ سبح اسم ربک الأعلى، والضحى اور إذا السماء انفطرت کیوں نہیں پڑھتے؟ ۔

It was narrated that Jabir said: "Muadh stood up and prayed Isha, and made it lengthy. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Do you want to cause hardship to the people, O Muadh; do you want to cause hardship to the people O Muadh? Why didnt you recite Glorify the Name of your Lord Most High or Ad-Duha or; When the heaven is cleft asunder"?

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 997
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٨٣٢ (صحیح )
999Sunan An Nasai

نماز عشاء میں سورت شمس پڑھنا

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قال: صَلَّى مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ لِأَصْحَابِهِ الْعِشَاءَ فَطَوَّلَ عَلَيْهِمْ فَانْصَرَفَ رَجُلٌ مِنَّا فَأُخْبِرَ مُعَاذٌ عَنْهُ، فَقَالَ: إِنَّهُ مُنَافِقٌ فَلَمَّا بَلَغَ ذَلِكَ الرَّجُلَ دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِمَا قَالَ مُعَاذٌ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتُرِيدُ أَنْ تَكُونَ فَتَّانًا يَا مُعَاذُ إِذَا أَمَمْتَ النَّاسَ فَاقْرَأْ بِ الشَّمْسِ وَضُحَاهَا و سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى و اللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى و اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ معاذ بن جبل ؓ نے اپنے اصحاب کو عشاء پڑھائی تو انہوں نے قرأت ان پر طویل کردی، تو ہم میں سے ایک شخص نے نماز توڑ دی (اور الگ نماز پڑھ لی) معاذ ؓ کو اس کے متعلق بتایا گیا تو انہوں نے کہا: وہ منافق ہے، جب یہ بات اس شخص کو معلوم ہوئی، تو وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اور معاذ ؓ نے جو کچھ کہا تھا آپ کو اس کی خبر دی، تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا: معاذ! کیا تم فتنہ بپا کرنا چاہتے ہو؟ جب تم لوگوں کی امامت کرو تو والشمس وضحاها، سبح اسم ربک الأعلى، والليل إذا يغشى اور اقرأ باسم ربك پڑھا کرو ۔

It was narrated that Jabir said: "Muadh bin Jabal led his companions in praying Isha and he made it lengthy. A man left, and Muadh was told about that, and he said: He is a hypocrite. When news of that reached the man, he went to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and told him what Muadh had said. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said to him: Do you want to be a cause of hardship, O Muadh? When you lead the people in prayer, recite By the sun and its brightness and Glorify the Name of your Lord, the Most High and By the night as it envelopsand Read! In the Name of your Lord".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 998
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٣٦ (٤٦٥)، سنن ابن ماجہ/إقامة الدین ١٠ (٨٣٦)، ٤٨ (٩٨٦)، (تحفة الأشراف: ٢٩١٢) (صحیح )
1000Sunan An Nasai

نماز عشاء میں سورت شمس پڑھنا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبِي، قال: أَنْبَأَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ بِ الشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَأَشْبَاهِهَا مِنَ السُّوَرِ.

بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز عشاء میں والشمس وضحاها اور اسی جیسی سورتیں پڑھتے تھے۔

It was narrated from Abdullah bin Buraidah, from his father, that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to recite By the sun and its brightness and similar surahs in Isha.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 999
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ١١٥ (٣٠٩)، (تحفة الأشراف: ١٩٦٢)، مسند احمد ٥/٣٥٤، ٣٥٥ (صحیح )
1001Sunan An Nasai

سورہ والتین نماز عشاء میں تلاوت کرنا

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قال: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَتَمَةَ فَقَرَأَ فِيهَا بِ التِّينِ وَالزَّيْتُونِ.

براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عشاء پڑھی، تو آپ ﷺ نے اس میں والتین والزیتون پڑھی۔

It was narrated that Al-Bara (RA) bin Azib said: "I prayed Al-Atamah (Isha) with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and he recited By the gif and the olive in it.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1000
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٠٠ (٧٦٧)، ١٠٢ (٧٦٩)، تفسیر ” التین “ ١ (٤٩٥٢)، التوحید ٥٢ (٧٥٤٦)، صحیح مسلم/الصلاة ٣٦ (٤٦٤)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٧٥ (١٢٢١)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٣١ (٣١٠)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٠ (٨٣٤، ٨٣٥)، (تحفة الأشراف: ١٧٩١)، موطا امام مالک/الصلاة ٥ (٢٧)، مسند احمد ٤/٢٨٤، ٢٨٦، ٢٩١، ٢٩٨، ٣٠٢، ٣٠٣ (صحیح )
1002Sunan An Nasai

عشاء کی پہلی رکعت میں کونسی سورت پڑھی جائے

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَقَرَأَ فِي الْعِشَاءِ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى ب التِّينِ وَالزَّيْتُونِ.

براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک سفر میں تھے، تو آپ ﷺ نے عشاء کی پہلی رکعت میں والتین والزیتون پڑھی۔

It was narrated that Al-Bara (RA) bin Azib said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) was on a journey and he recited: By the fig and the olive in the first rakah of isha ".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1001
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
1003Sunan An Nasai

شروع کی دو رکعت کو طویل کرنا

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو عَوْنٍ، قال: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ يَقُولُ: قال عُمَرُ، لِسَعْدٍ: قَدْ شَكَاكَ النَّاسُ فِي كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى فِي الصَّلَاةِ فَقَالَ سَعْدٌ: أَتَّئِدُ فِي الْأُولَيَيْنِ وَأَحْذِفُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ وَمَا آلُو مَا اقْتَدَيْتُ بِهِ مِنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَقَالَ: ذَاكَ الظَّنُّ بِكَ.

ابو عون کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن سمرہ ؓ کو کہتے سنا کہ عمر ؓ نے سعد ؓ سے کہا: لوگ ہر بات میں تمہاری شکایت کرتے ہیں یہاں تک کہ نماز میں بھی، سعد ؓ نے کہا: میں پہلی دونوں رکعتوں میں جلد بازی نہیں کرتا ١ ؎ اور پچھلی دونوں رکعتوں میں قرأت ہلکی کرتا ہوں، میں رسول اللہ ﷺ کی نماز کی پیروی میں کوئی کوتاہی نہیں کرتا، عمر ؓ نے کہا: تم سے مجھے یہی توقع ہے۔

Abu Awn said: "I heard Jabir bin Samurah say: Umar (RA) said to Saeed: "The people are complaining about everything about you, even about your prayer". Sad (RA) said: "I take my time in the first two rakahs and I make the other two shorter. I do my best to follow the example of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) in prayer". Umar said: That is what I thought about you".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1002
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اطمینان سے ٹھہر ٹھہر کر قرأت کرتا ہوں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٩٤ (٧٥٥) مطولاً، ٩٥ (٧٥٨)، ١٠٣ (٧٧٠)، صحیح مسلم/الصلاة ٣٤ (٤٥٣)، سنن ابی داود/الصلاة ١٣٠ (٨٠٣)، (تحفة الأشراف: ٣٨٤٧)، مسند احمد ١/١٧٥، ١٧٦، ١٧٩، ١٨٠ (صحیح )
1004Sunan An Nasai

شروع کی دو رکعت کو طویل کرنا

أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ابْنِ عُلَيَّةَ أَبُو الْحَسَنِ، قال: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ دَاوُدَ الطَّائِيِّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قال: وَقَعَ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ فِي سَعْدٍ عِنْدَ عُمَرَ، فَقَالُوا: وَاللَّهِ مَا يُحْسِنُ الصَّلَاةَ فَقَالَ: أَمَّا أَنَا فَأُصَلِّي بِهِمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا أَخْرِمُ عَنْهَا أَرْكُدُ فِي الْأُولَيَيْنِ وَأَحْذِفُ فِي الْأُخْرَيَيْنِقَالَ ذَاكَ الظَّنُّ بِكَ.

جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ کوفہ کے چند لوگ عمر ؓ کے پاس سعد ؓ کی شکایت لے کر آئے، اور کہنے لگے: اللہ کی قسم! یہ اچھی طرح نماز نہیں پڑھاتے، (عمر ؓ کے پوچھنے پر) سعد ؓ نے کہا: میں تو انہیں رسول اللہ ﷺ کی سی نماز پڑھاتا ہوں، اس میں ذرا بھی کمی نہیں کرتا، پہلی دونوں رکعتوں میں قرأت لمبی کرتا ہوں، اور پچھلی دونوں رکعتوں میں ہلکی کرتا ہوں، عمر ؓ نے کہا: تم سے یہی توقع ہے۔

It was narrated that Jabir bin Samurah said: "Some of the peole of Al-Khufah complained about Sad to Umar (RA). They said: By Allah, he does not pray properly. He said: I lead them in prayer as the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) did, and I do not deviate from that. I take my time in the first two rakahs and make the other two shorter. He (Umar) said: That is what I thought about you".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1003
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
1005Sunan An Nasai

ایک رکعت میں دو سورتیں پڑھنا

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قال: إِنِّي لَأَعْرِفُ النَّظَائِرَ الَّتِي كَانَ يَقْرَأُ بِهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِشْرِينَ سُورَةً فِي عَشْرِ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِ عَلْقَمَةَ فَدَخَلَ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَيْنَا عَلْقَمَةُ فَسَأَلْنَاهُ فَأَخْبَرَنَا بِهِنَّ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ میں ان سورتوں کو جانتا ہوں جو ایک دوسرے کے مشابہ ہیں، وہ بیس سورتیں ہیں جنہیں رسول اللہ ﷺ دس رکعتوں میں پڑھتے تھے، پھر انہوں نے علقمہ ؓ کا ہاتھ پکڑا، اور اندر لے گئے، پھر علقمہ ؓ نکل کر باہر ہمارے پاس آئے، تو ہم نے ان سے پوچھا، تو انہوں نے ہمیں وہ سورتیں بتائیں۔

It was narrated that Abdullah (RA) said: I know the similar surahs that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to recite, twenty surahs in ten rakahs". Then he took Alqamahs hand and went in, then Alqamah came out and we asked him and he told us what they were.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1004
Takhrij · تخریج
فضائل القرآن ٦ (٤٩٩٦)، صحیح مسلم/المسافرین ٤٩ (٨٢٢) مطولاً، سنن الترمذی/الصلاة ٣٠٥ (٦٠٢) مطولاً، (تحفة الأشراف: ٩٢٤٨)، مسند احمد ١/٣٨٠، ٤١٧، ٤٢٧، ٤٥٥ (صحیح )
1006Sunan An Nasai

ایک رکعت میں دو سورتیں پڑھنا

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قال: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍيَقُولُ: قال رَجُلٌ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ: قَرَأْتُ الْمُفَصَّلَ فِي رَكْعَةٍ، قَالَ: هَذًّا كَهَذِّ الشِّعْرِ لَقَدْ عَرَفْتُ النَّظَائِرَ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرُنُ بَيْنَهُنَّ فَذَكَرَ عِشْرِينَ سُورَةً مِنَ الْمُفَصَّلِ سُورَتَيْنِ سُورَتَيْنِ فِي رَكْعَةٍ.

ابو وائل شفیق بن سلمہ کہتے ہیں کہ ایک شخص عبداللہ بن مسعود ؓ کے پاس آ کر کہنے لگا: میں نے پوری مفصل ایک ہی رکعت میں پڑھ لی، تو انہوں نے کہا: یہ تو شعر کی طرح جلدی جلدی پڑھنا ہوا، مجھے وہ سورتیں معلوم ہیں جو ایک دوسرے کے مشابہ ہیں، اور جنہیں رسول اللہ ﷺ ملا کر پڑھا کرتے تھے، تو انہوں نے مفصل کی بیس سورتوں کا ذکر کیا جن میں آپ دو دو سورتیں ایک رکعت میں ملا کر پڑھا کرتے تھے۔

It was narrated that Amr bin Murrah said: "I heard Abu Wail say: "A man said in the presence of Abdullah: I recited Al-Mufassal in one rakah. He said: That is like reciting poetry. I know the similar surahs that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to recite together. And he mentioned twenty surahs from Al-Mufassal, two by two in each rakah".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1005
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٠٦ (٧٧٥)، صحیح مسلم/المسافرین ٤٩ (٨٢٢)، مسند احمد ١/٤٣٦، (تحفة الأشراف: ٩٢٨٨) (صحیح )
1007Sunan An Nasai

ایک رکعت میں دو سورتیں پڑھنا

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، قال: أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنِّي قَرَأْتُ اللَّيْلَةَ الْمُفَصَّلَ فِي رَكْعَةٍ، فَقَالَ: هَذًّا كَهَذِّ الشِّعْرِلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ النَّظَائِرَ عِشْرِينَ سُورَةً مِنَ الْمُفَصَّلِ مِنْ آلِ حم.

عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں نے آج رات ایک رکعت میں پوری مفصل پڑھ ڈالی، تو انہوں نے کہا: یہ تو شعر کی طرح جلدی جلدی پڑھنا ہوا، لیکن رسول اللہ ﷺ حمٓ سے اخیر قرآن تک مفصل کی صرف بیس ہم مثل سورتیں ملا کر پڑھتے تھے ١ ؎۔

It was narrated from Abdullah that: A man came to him and said: "Last night I recited Al-Mufassal in one rakah". He said: "That is like reciting poetry. But the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to recite similar surahs, twenty surahs from Al-Mufassal, those that start with Ha-Mim".

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1006
Notes · وضاحت
١ ؎: وہ سورتیں یہ ہیں الرحمن اور النجم کو ایک رکعت میں، اقتربت اور الحاقہ کو ایک رکعت میں الذاریات اور الطور کو ایک رکعت میں الواقع ۃ اور نون کو ایک رکعت میں، سأل اور والنازعات کو ایک رکعت میں عبس اور ویل للمطففین کو ایک رکعت میں المدثر، اور المزمل کو ایک رکعت میں، ہل أتی اور لا أقسم کو ایک رکعت میں، عم یتسألون اور المرسلات کو ایک رکعت میں، اور والشمس کورت اور الدخان کو ایک رکعت میں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٩٥٨٦) (صحیح الإسناد )
1008Sunan An Nasai

سورت کا کوئی حصہ نماز میں پڑھنا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قال: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ حَدِيثًا رَفَعَهُ إِلَى ابْنِ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ، قال: حَضَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ فَصَلَّى فِي قُبُلِ الْكَعْبَةِ فَخَلَعَ نَعْلَيْهِ فَوَضَعَهُمَا عَنْ يَسَارِهِ فَافْتَتَحَ بِسُورَةِ الْمُؤْمِنِينَ فَلَمَّا جَاءَ ذِكْرُ مُوسَى أَوْ عِيسَى عَلَيْهِمَا السَّلَام أَخَذَتْهُ سَعْلَةٌ فَرَكَعَ.

عبداللہ بن سائب ؓ کہتے ہیں کہ میں فتح مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، تو آپ نے کعبہ کے سامنے نماز پڑھی، اپنے جوتے اتار کر انہیں اپنی بائیں طرف رکھا، اور سورة مومنون سے قرأت شروع کی، جب موسیٰ یا عیسیٰ (علیہما السلام) کا ذکر آیا ١ ؎ تو آپ کو کھانسی آگئی، تو آپ رکوع میں چلے گئے۔

It was narrated that Abdullah bin As-Saib said: "I was with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) on the day of the Conquest (of Makkah). He prayed in front of the Kabah. He took off his shoes and placed them to his left, and he started to recite Surat Al-Muminun. When he reached the passage that mentions Musa and Eisa, peace be upon them both, he started coughing, then he bowed".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1007
Notes · وضاحت
١ ؎: موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر سورة مومنون آیت نمبر: ٤٥ ثم أرسلنا موسیٰ وأخاه هارون بآياتنا وسلطان مبين میں ہے، اور عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر اس سے چار آیتوں کے بعد وجعلنا ابن مريم وأمه آية وآويناهما إلى ربوة ذات قرار ومعين [ المؤمنون: 50] میں ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٠٦ (٧٧٤) تعلیقاً، صحیح مسلم/الصلاة ٣٥ (٤٥٥)، سنن ابی داود/الصلاة ٨٩ (٦٤٩)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٢٠٥ (٨٢٠)، (تحفة الأشراف: ٥٣١٣)، مسند احمد ٣/٤١١ (صحیح )
1009Sunan An Nasai

جس وقت دوران نماز عذاب الہی سے متعلق آیت کریمہ تلاوت کرے تو اللہ سے پناہ مانگے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الْأَحْنَفِ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، عَنْ حُذَيْفَةَأَنَّهُ صَلَّى إِلَى جَنْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً فَقَرَأَ فَكَانَ إِذَا مَرَّ بِآيَةِ عَذَابٍ وَقَفَ وَتَعَوَّذَ وَإِذَا مَرَّ بِآيَةِ رَحْمَةٍ وَقَفَ فَدَعَا وَكَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ وَفِي سُجُودِهِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى.

حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک رات انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے پہلو میں نماز پڑھی، تو آپ نے قرأت کی، آپ جب کسی عذاب کی آیت سے گزرتے تو تھوڑی دیر ٹھہرتے، اور پناہ مانگتے، اور جب کسی رحمت کی آیت سے گزرتے تو دعا کرتے ١ ؎، اور رکوع میں سبحان ربي العظيم کہتے، اور سجدے میں سبحان ربي الأعلى کہتے تھے۔

It was narrated from Hudhaifah that: He prayed beside the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) one night. He recited, and when he came to a verse that mentioned punishment, he would pause and seek refuge with Allah; if he came to a verse that mentioned mercy, he would pause for mercy. In his bowing he would say: Subhana Rabbil-Azim (Glory be to my Lord Almighty) and in his prostration he would say: Subhan Rabbil-Ala (Glory be to my Lord the Most High)".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1008
Notes · وضاحت
١ ؎: صلى إلى جنب النبي صلى الله عليه وسلم سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ تہجد کی نماز تھی، اسی لیے علماء نے اسے نفل نمازوں کے ساتھ خاص قرار دیا ہے شیخ عبدالحق لمعات میں لکھتے ہیں: وهو محمول عندنا على النوافل یعنی یہ ہمارے نزدیک نوافل پر محمول ہوگا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ٢٧ (٧٧٢)، سنن ابی داود/الصلاة ١٥١ (٨٧١)، سنن الترمذی/الصلاة ٧٩ (٢٦٢، ٢٦٣)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٢٣ (٨٩٧)، ١٧٩ (١٣٥١)، (تحفة الأشراف: ٣٣٥١)، مسند احمد ٥/٣٨٢، ٣٨٤، ٣٨٩، ٣٩٤، ٣٩٧، سنن الدارمی/الصلاة ٦٩ (١٣٤٥)، ویأتی عند المؤلف بأرقام: ١٠٤٧، ١١٣٤، ١٦٦٥، ١٦٦٦ (صحیح )
1010Sunan An Nasai

رحمت کی آیت پڑھنے پر رحمت کی دعا کرنا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ حُذَيْفَةَ، وَالْأَعْمَشِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الْأَحْنَفِ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَقَرَأَ الْبَقَرَةَ، وَآلَ عِمْرَانَ، وَالنِّسَاءَ فِي رَكْعَةٍ لَا يَمُرُّ بِآيَةِ رَحْمَةٍ إِلَّا سَأَلَ وَلَا بِآيَةِ عَذَابٍ إِلَّا اسْتَجَارَ.

حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک ہی رکعت میں تین سورتیں: بقرہ، آل عمران اور نساء پڑھیں، آپ جب بھی رحمت کی آیت سے گزرتے تو (اللہ سے) رحمت کی درخواست کرتے، اور عذاب کی آیت سے گزرتے تو (عذاب سے) اللہ کی پناہ مانگتے۔

It was narrated from Hudhaifah that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) recited Surat Al-Baqarah, Al Imran and An-Nisa in one rakah, and he did not reach any verse that spoke of mercy but he asked Allah for it, nor any verse that spoke of punishment but he asked Allah for protection therefrom.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1009
Takhrij · تخریج
ویأتي عند المؤلف برقم: ١٦٦٦، (تحفة الأشراف: ٣٣٥١، ٣٣٥٨) (صحیح )
1011Sunan An Nasai

ایک ہی آیت کریمہ کو متعدد مرتبہ تلاوت کرنا

أَخْبَرَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، قال: حَدَّثَنَا قُدَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قال: حَدَّثَتْنِي جَسْرَةُ بِنْتُ دَجَاجَةَ قالت: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ، يَقُولُ: قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا أَصْبَحَ بِآيَةٍ وَالْآيَةُ إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ سورة المائدة آية 118.

ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نماز میں کھڑے ہوئے یہاں تک کہ آپ نے ایک ہی آیت میں صبح کردی، وہ آیت یہ تھی: إن تعذبهم فإنهم عبادک وإن تغفر لهم فإنك أنت العزيز الحکيم یعنی اگر تو ان کو سزا دے تو یہ تیرے بندے ہیں، اور اگر تو انہیں معاف فرما دے تو تو (غالب و زبردست) ہے، اور حکیم (حکمت والا) ہے (المائدہ: ١١٨ ) ۔

Jasrah bint Dijajah said: "I heard Abu Dharr say: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) stayed up all night repeating one verse. The verse was: If You punish them, they are Your slaves, and if You forgive them, verily, You, only You, are the All-Mighty, the All-Wise".

حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1010
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٧٩ (١٣٥٠)، (تحفة الأشراف: ١٢٠١٢)، مسند احمد ٥/١٥٦، ١٧٠، ١٧٧ (حسن )
1012Sunan An Nasai

آیت کریمہ|"ولا تجھر بصلوتک ولاتخافت بھا|" کی تفسیر

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي وَحْشِيَّةَ وَهُوَ ابْنُ إِيَاسٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلّ وَلا تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ وَلا تُخَافِتْ بِهَا سورة الإسراء آية 110 قَالَ: نَزَلَتْ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُخْتَفٍ بِمَكَّةَ فَكَانَ إِذَا صَلَّى بِأَصْحَابِهِ رَفَعَ صَوْتَهُوَقَالَ ابْنُ مَنِيعٍ: يَجْهَرُ بِالْقُرْآنِ وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ إِذَا سَمِعُوا صَوْتَهُ سَبُّوا الْقُرْآنَ وَمَنْ أَنْزَلَهُ وَمَنْ جَاءَ بِهِفَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلا تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ سورة الإسراء آية 110 أَيْ بِقِرَاءَتِكَ فَيَسْمَعَ الْمُشْرِكُونَ فَيَسُبُّوا الْقُرْآنَ وَلا تُخَافِتْ بِهَا سورة الإسراء آية 110 عَنْ أَصْحَابِكَ فَلَا يَسْمَعُوا وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلا سورة الإسراء آية 110.

عبداللہ بن عباس ؓ آیت کریمہ: ولا تجهر بصلاتک ولا تخافت بها کے سلسلے میں کہتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو اس وقت رسول اللہ ﷺ مکہ میں چھپے رہتے تھے، جب رسول اللہ ﷺ صحابہ کرام ؓ کو نماز پڑھاتے تو اپنی آواز بلند کرتے، (ابن منیع کی روایت میں ہے: قرآن زور سے پڑھتے) جب مشرکین آپ کی آواز سنتے تو قرآن کو اور جس نے اسے نازل کیا ہے اسے، اور جو لے کر آیا ہے اسے سب کو برا بھلا کہتے، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم ﷺ سے کہا: اے محمد! اپنی نماز یعنی اپنی قرأت کو بلند نہ کریں کہ مشرکین سنیں تو قرآن کو برا بھلا کہیں، اور نہ اسے اتنی پست آواز میں پڑھیں کہ آپ کے ساتھی سن ہی نہ سکیں، بلکہ ان دونوں کے بیچ کا راستہ اختیار کریں۔

It was narrated that Ibn Abbas (RA) said: Concerning the saying of Allah, the Mighty and Sublime: "And offer your salah (prayer) neither aloud nor in a low voice"- It was revealed when the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) was still (preaching) in secret in Makkah. When he led his companions in prayer, he would raise his voice" -(One of the narrators) Ibn Mani said: He would recite the Quran out loud"- "And when the idolators heard his voice they would insult the Quran, and the One Who revealed it, and the one who brought it. So Allah, the Mighty and Sublime, said to His Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم): And offer your salah (prayer) neither aloud that is, such that the idolators can hear your recitation and insult the Quran; nor in a low voice, so that your companions cannot hear; but follow a way between."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1011
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر الإسراء ١٤ (٤٧٢٢)، التوحید ٣٤ (٧٤٩٠)، ٤٤ (٧٥٢٥)، ٥٢ (٧٥٤٧) مختصراً، صحیح مسلم/الصلاة ٣١ (٤٤٦)، سنن الترمذی/تفسیر الإسراء ٥/٣٠٦ (٣١٤٥، ٣١٤٦)، (تحفة الأشراف: ٥٤٥١)، مسند احمد ١/٢٣، ٢١٥ (صحیح )
1013Sunan An Nasai

آیت کریمہ|"ولا تجھر بصلوتک ولاتخافت بھا|" کی تفسیر

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قال: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ صَوْتَهُ بِالْقُرْآنِ وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ إِذَا سَمِعُوا صَوْتَهُ سَبُّوا الْقُرْآنَ وَمَنْ جَاءَ بِهِ فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْفِضُ صَوْتَهُ بِالْقُرْآنِ مَا كَانَ يَسْمَعُهُ أَصْحَابُهُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلا تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ وَلا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلا سورة الإسراء آية 110.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ قرآن بلند آواز سے پڑھتے تھے، تو جب مشرک آپ کی آواز سنتے تو وہ قرآن کو اور اسے لے کر آنے والے کو برا بھلا کہتے، تو نبی اکرم ﷺ قرآن کو اتنی پست آواز سے پڑھنے لگے کہ آپ کے ساتھی بھی نہیں سن پاتے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ولا تجهر بصلاتک ولا تخافت بها وابتغ بين ذلک سبيلا یعنی اے محمد! نہ اپنی نماز بہت بلند آواز سے پڑھیں، اور نہ بہت پست آواز سے بلکہ ان کے بیچ کا راستہ اختیار کریں (بنی اسرائیل: ١١٠ ) ۔

It was narrated that Ibn Abbas (RA) said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) used to raise his voice when reciting Quran, and when the idolaters heard his voice they would insult the Quran and the one who had brought it. So the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) began to lower his voice such that his companions would not hear him. Then Allah (SWT), the Mighty and Sublime, revealed: And offer your salah (prayer) neither aloud nor in a low voice, but follow a way between".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1012
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
1014Sunan An Nasai

قرآن کریم کو بلند آواز سے تلاوت کرنا

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، عَنْ وَكِيعٍ، قال: حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ، قالت: كُنْتُ أَسْمَعُ قِرَاءَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا عَلَى عَرِيشِي.

ام ہانی ؓ کہتی ہیں کہ میں مسجد میں نبی اکرم ﷺ کی قرأت سنتی تھی، اور میں اپنی چھت پر ہوتی تھی۔

Umm Hani (RA) said: "I used to listen to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) reciting Quran when I was on my roof".

حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1013
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الشمائل ٤٣ (٣٠١)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٧٩ (١٣٤٩)، (تحفة الأشراف: ١٨٠١٦)، مسند احمد ٦/٣٤٢، ٣٤٣، ٤٢٤ (حسن )
1015Sunan An Nasai

بلند آواز سے قرآن کریم پڑھنا

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ قَتَادَةَ، قال: سَأَلْتُ أَنَسًا كَيْفَ كَانَتْ قِرَاءَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ: كَانَ يَمُدُّ صَوْتَهُ مَدًّا.

قتادہ کہتے ہیں کہ میں نے انس ؓ سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ کی قرأت کیسی ہوتی تھی؟ تو انہوں نے کہا: آپ اپنی آواز خوب کھینچتے تھے۔

It was narrated that Qatadah said: "I asked Anas: How did the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) recite Quran? He said: He used to elongate the sounds".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1014
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/فضائل القرآن ٢٩ (٥٠٤٥)، سنن ابی داود/الصلاة ٣٥٥ (١٤٦٥)، سنن الترمذی/الشمائل ٤٣ (٢٩٨)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٧٩ (١٣٥٣)، (تحفة الأشراف: ١١٤٥)، مسند احمد ٣/١١٩، ١٢٧، ١٣١، ١٩٢، ١٩٨، ٢٨٩ (صحیح )