ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ظہر و عصر میں پہلی دونوں رکعتوں میں سورة فاتحہ اور دو سورتیں پڑھتے تھے، اور کبھی کبھار ہمیں ایک آدھ آیت سنا دیتے، اور پہلی رکعت میں دوسری رکعت کے بہ نسبت قرآت لمبی کرتے تھے۔
Abdullah bin Abi Qatadah (RA) said: "My father told us that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to recite Umm Al-Quran and two surahs in the first two rakahs of Zuhr and Asr, and he would make us hear a verse sometimes, and he used to make the first rakah lengthy".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 975
ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہم پر ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں قرآت کرتے، اور کبھی کبھار آپ ہمیں ایک آدھ آیت سنا دیتے، پہلی رکعت میں لمبی قرآت کرتے اور دوسری رکعت میں اس سے کم، اور فجر میں بھی ایسے ہی کرتے تھے پہلی میں لمبی قرآت کرتے اور دوسری میں اس سے کم کرتے، اور عصر میں بھی پہلی دونوں رکعتوں میں ہم پر قرآت کرتے، پہلی میں لمبی کرتے اور دوسری میں اس سے کم۔
Abdullah bin Abi Qatadah (RA) narrated that: His father told him: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to recite for us in the first two rakahs of Zuhr prayer, and he would make us hear a verse sometimes. He would make the first rakah longer and the second shorter. And he used to do that in Subh too, make the first rakah longer and the second shorter. And he used to recite in the first two rakahs of Asr prayer, making the first rakah longer and the second shorter".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 976
ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ظہر اور عصر کی پہلی دونوں رکعتوں میں سورة فاتحہ اور ایک ایک سورت پڑھتے تھے، اور آخری دونوں رکعتوں میں صرف سورة فاتحہ پڑھتے، اور کبھی کبھار ہمیں ایک آدھ آیت سنا دیتے تھے، اور ظہر کی پہلی رکعت لمبی کرتے تھے۔
It was narrated from Abdullah bin Abi Qatadah that his father said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to recite the Umm Al-Quran and two surahs in the first two rakahs of Zuhr and Asr, and in the last two with Umm Al-Quran, and he would make us hear a verse sometimes, and he used to make the first rakah lengthy".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 977
ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ظہر اور عصر کی پہلی دونوں رکعتوں میں سورة فاتحہ اور ایک ایک سورت پڑھتے تھے، اور کبھی کبھار ہمیں ایک آدھ آیت سنا دیتے، اور ظہر میں پہلی رکعت لمبی کرتے، اور دوسری رکعت (پہلی کی بہ نسبت) مختصر کرتے تھے، نیز فجر میں بھی ایسا ہی کرتے۔
It was narrated that Abu Salamah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to recite the Umm Al-Quran and two surahs in the first two rakahs of Zuhr and Asr, and he would make us hear a verse sometimes, and he used to make the first rakah of zuhr lengthy, and he did likewise in Subh".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 978
جابر بن سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ ظہر اور عصر میں والسماء ذات البروج اور والسماء والطارق اور اسی جیسی سورتیں پڑھتے تھے۔
It was narrated from Jabir bin Samurah that : The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) used to recite "By the heaven holding the big stars" and: "By the heaven, and At-Tariq (the night-comer, i.e. the bright star)" and similar surahs in Zuhr and Asr.
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 979
جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ظہر میں والليل إذا يغشى پڑھتے تھے، اور عصر میں اسی جیسی سورت پڑھتے، اور صبح میں اس سے زیادہ لمبی سورت پڑھتے۔
It was narrated that Jabir bin Samurah said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) used to recite "By the night as it envelops" in Zuhr and something similar in Asr, and he would recite something longer than that in subh".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 980
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٣٥ (٤٥٩)، المساجد ٣٣ (٦١٨)، سنن ابی داود/الصلاة ١٣١ (٨٠٦)، سنن ابن ماجہ/الصلاة ٣ (٦٧٣)، (تحفة الأشراف: ٢١٧٩، ٢١٨٥)، مسند احمد ٥/٨٦، ٨٨، ١٠١، ١٠٦، ١٠٨ (صحیح )
زید بن اسلم کہتے ہیں کہ ہم انس بن مالک ؓ کے پاس آئے تو انہوں نے پوچھا: تم لوگوں نے نماز پڑھ لی؟ ہم نے کہا: جی ہاں! تو انہوں نے کہا: بیٹی! میرے لیے وضو کا پانی لاؤ، میں نے کسی امام کے پیچھے نماز نہیں پڑھی جس کی نماز تمہارے اس امام ١ ؎ کی نماز سے بڑھ کر رسول اللہ ﷺ کی نماز سے مشابہت رکھتی ہو، زید کہتے ہیں: عمر بن عبدالعزیز رکوع اور سجدے مکمل کرتے اور قیام و قعود ہلکا کرتے تھے۔
It was narrated that Zaid bin Aslam said: "We entered upon Anas bin Malik (RA) and he said: Have you prayed? We said: Yes. He asid: O slave girl, bring me water for Wudhu! I have never prayed behind any Imam whose prayer more closely resembles the prayer of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) than this Imam of yours". Zaid said: "Umar bin Abdul Aziz رحمۃ اللہ علیہ used to complete the bowing and prostration (without rushing) and lighten the standing and sitting".
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 981
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے مراد خلیفہ راشد عمر بن عبدالعزیز ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٨٤٠)، مسند احمد ٣/١٦٢، ١٦٣، ٢٥٤، ٢٥٥، ٢٥٩ (صحیح) (آگے آنے والی حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے کسی کے پیچھے ایسی نماز نہیں پڑھی جو فلاں ١ ؎ کی نماز سے بڑھ کر رسول اللہ ﷺ کی نماز کے مشابہ ہو، سلیمان کہتے ہیں: وہ ظہر کی پہلی دو رکعتیں لمبی کرتے اور آخری دونوں رکعتیں ہلکی کرتے، اور عصر کو ہلکی کرتے، اور مغرب میں قصارِ مفصل پڑھتے تھے، اور عشاء میں وساطِ مفصل پڑھتے تھے، اور فجر میں طوالِ مفصل پڑھتے تھے۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "I have never prayed behind anyone whose prayer more closely resembled that of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) than so-and-so". (The narrator) Sulaiman siad: "He used to make the first two rakahs of Zuhr lengthy and the last two shorter, and he would make Asr shorter; in Maghrib he would recite the short Mufassal surahs, in Isha the medium-length Mufassal surahs and in Subh the long Mufassal surahs.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 982
Notes · وضاحت
١ ؎: فلاں سے مراد عمرو بن سلمہ ؓ ہیں۔ ٢ ؎: مفصل قرآن کا آخری ساتواں حصہ ہے جس کی ابتداء صحیح قول کی بنا پر سورة قٓ سے ہوتی ہے، مفصل کی تین قسمیں ہیں طوال مفصل وساط مفصل، قصارِ مفصل سورة ق یا سورة حجرات سے لے کر عم یتسألون یا سورة بروج تک طوال مفصل ہے، اور وساط مفصل سورة عم یتسألون سے یا سورة بروج سے لے کر والضحیٰ یا سورة لم یکن تک ہے، اور قصار مفصل والضحیٰ یا لم یکن سے لے کر اخیر قرآن تک ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الإقامة ٧ (٨٢٧)، (تحفة الأشراف: ١٣٤٨٤)، مسند احمد ٢/٣٠٠، ٣٢٩، ٣٣٠، ٥٣٢ (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے فلاں سے بڑھ کر کسی کے پیچھے رسول اللہ ﷺ کی نماز سے مشابہ نماز نہیں پڑھی (سلیمان کہتے ہیں) ہم نے اس شخص کے پیچھے نماز پڑھی، وہ ظہر کی پہلی دونوں رکعتیں لمبی کرتے تھے، اور آخری دونوں (رکعتیں) ہلکی کرتے، اور عصر بھی ہلکی کرتے، اور مغرب میں قصار مفصل پڑھتے، اور عشاء میں والشمس وضحاها اور اسی طرح کی سورتیں پڑھتے، اور فجر میں دو لمبی دو سورتیں پڑھتے۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "I have never prayed behind anyone whose prayer more closely resembled that of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) than so-and-so. We prayed behind that person and he used to make the first two rakahs of Zuhr lengthy and the last two shorter, and he would make Asr shorter; in Maghrib he would recite the short Mufassal surahs. In Isha he recited: By the sun and its brightness and similar surahs, and in subh he recited two lengthy surahs".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 983
جابر ؓ کہتے ہیں: انصار کا ایک شخص دو اونٹوں کے ساتھ جن پر سنچائی کے لیے پانی ڈھویا جاتا ہے معاذ ؓ کے پاس سے گزرا، اور وہ مغرب ١ ؎ پڑھ رہے تھے، تو انہوں نے سورة البقرہ شروع کردی، تو اس شخص نے (الگ جا کر) نماز پڑھی، پھر وہ چلا گیا تو یہ بات نبی اکرم ﷺ کے پاس پہنچی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: معاذ! کیا تم فتنہ پرداز ہو؟ معاذ کیا تم فتنہ پرداز ہو؟ سبح اسم ربک الأعلى اور والشمس وضحاها اور اس طرح کی سورتیں کیوں نہیں پڑھتے ۔
It was narrated that Jabir said: "A man from among the Ansar passed Muadh leading two camels, when he (Muadh) was praying maghrib, and he was starting to recite Al-Baqarah. So that man prayed then went away. News of that reached the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and he said: Do you want to cause hardship to the people, O Muadh; do you want to cause hardship to the people, O Muadh? Why dont you recite: Glorify the Name of your Lord, the Most High and By the sun and its brightness and the like"?
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 984
Notes · وضاحت
١ ؎: صحیح بات یہ ہے کہ یہ واقعہ عشاء میں ہوا، جیسا کہ صحیح بخاری میں اس کی صراحت ہے، نیز دیکھئیے حدیث رقم: ٩٩٨ ۔
ام فضل بنت حارث ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اپنے گھر میں مغرب پڑھائی، تو آپ نے سورة المرسلات پڑھی، اس کے بعد آپ نے کوئی بھی نماز نہیں پڑھائی یہاں تک کہ آپ کی وفات ہوگئی۔
It was narrated from Anas that Umm Al-Fadl bint Al-Harith said: " The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) led us in praying maghrib in his house and he recited Al-Mursalat, then after that, he never offered any prayer until he died".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 985
عبداللہ بن عتبہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے مغرب میں سورة حم الدخان پڑھی۔
Muawiyah bin Abdullah bin Jafar narrated that Abdullah bin Utbah bin Masud told him that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) recited Ha- Mim Ad-Dukhan in Maghrib.
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 988
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٦٥٧٩) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ” معاویہ “ لین الحدیث ہیں )
زید بن ثابت ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے مروان سے پوچھا: اے ابوعبدالملک! کیا تم مغرب میں قل هو اللہ أحد اور إنا أعطيناک الکوثر پڑھتے ہو؟ تو انہوں نے کہا: جی ہاں! تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس میں المص جو دو لمبی سورتوں (انعام اور اعراف) میں زیادہ لمبی ہے (سورۃ الاعراف) پڑھتے دیکھا ہے۔
It was narrated from Zaid bin Thabit that: He said to Marwan: O Abu Abdul-Malik, do you recite: Say: He is Allah, (the) One and Verily, We have granted you Al-Kawthar in maghrib"? He said: "Yes." He (Zaid) said: "I swear by Allah, I saw the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) reciting the longer of the two long surahs in it: Alif-Lam-Mim-Sad".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 989
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ مروان بن حکم نے انہیں خبر دی کہ زید بن ثابت ؓ کہنے لگے کہ کیا بات ہے کہ میں مغرب میں تمہیں چھوٹی سورتیں پڑھتے دیکھتا ہوں، حالانکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس نماز میں دو بڑی سورتوں میں جو زیادہ بڑی سورت ہے اسے پڑھتے دیکھا ہے، میں نے پوچھا: اے ابوعبداللہ! دو بڑی سورتوں میں سے زیادہ بڑی سورت کون سی ہے؟ انہوں نے کہا: اعراف۔
Marwan bin Al-Hakam narrated that: Zaid bin Thabit said: "Why do I see you reciting short surahs in Maghrib when I saw the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) reciting the longer of the two long surahs in it"? I said: "O Abu Abdullah, what is the longer of the two long surahs"? He said: "Al-Araf".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 990
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو بیس مرتبہ مغرب کے بعد کی اور فجر کے پہلے کی دونوں رکعتوں میں قل يا أيها الکافرون اور قل هو اللہ أحد پڑھتے دیکھا ہے۔
It was narrated that Ibn Umar (RA) said: "I watched the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم)- twenty times- reciting in the two rakahs after maghrib Say: O you disbelievers and Say: He is Allah, (the) One".
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو لشکر کی ایک ٹکری کا امیر بنا کر بھیجا، وہ اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھایا کرتا تھا، اور قرأت قل هو اللہ أحد پر ختم کرتا تھا، جب لوگ لوٹ کر واپس آئے، تو لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کا ذکر کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ان سے پوچھو، وہ ایسا کیوں کرتے تھے؟ ان لوگوں نے ان سے پوچھا: انہوں نے کہا: یہ رحمن عزوجل کی صفت ہے، اس لیے میں اسے پڑھنا پسند کرتا ہوں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم لوگ اسے بتادو کہ اللہ عزوجل بھی اسے پسند کرتا ہے ۔
It was narrated from Aishah (RA) that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) sent a man on a campaign, and he used to recite to his companions when leading them in prayer, and would conclude with Say: He is Allah, (the) One. When they returned, they told the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) about that. He said: "Ask them why he did that". So they asked him and he said: "Because it is a description of the Most Merciful, the Mighty and Sublime, and I love to recite it". The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Tell him that Allah, the Mighty and Sublime, loves him".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 993
عبید بن حنین مولی آل زید بن خطاب کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ ؓ کو سنا وہ کہہ رہے تھے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آیا، تو آپ نے ایک شخص کو قل هو اللہ أحد * اللہ الصمد * لم يلد ولم يولد * ولم يكن له کفوا أحد پڑھتے سنا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: واجب ہوگئی ، میں نے آپ سے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا چیز واجب ہوگئی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جنت ۔
"I heard Abu Hurairah (RA) say: I came back (from a journey) with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and he heard a man reciting Say: He is Allah, (the) One, Allah-us-Samad (the Self-Sufficient Master). He begets not, nor was He begotten. And there is none equal or comparable unto Him. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: It is guaranteed. We asked him: What, O Messenger of Allah? He said: Paradise".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 994
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/فضائل القرآن ١١ (٢٨٩٧)، (تحفة الأشراف: ١٤١٢٧)، موطا امام مالک/القرآن ٦ (١٨)، مسند احمد ٢/٣٠٢، ٥٣٥، ٥٣٦ (صحیح )