شروع کی دو رکعت کو طویل کرنا
أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ابْنِ عُلَيَّةَ أَبُو الْحَسَنِ، قال: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ دَاوُدَ الطَّائِيِّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قال: وَقَعَ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ فِي سَعْدٍ عِنْدَ عُمَرَ، فَقَالُوا: وَاللَّهِ مَا يُحْسِنُ الصَّلَاةَ فَقَالَ: أَمَّا أَنَا فَأُصَلِّي بِهِمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا أَخْرِمُ عَنْهَا أَرْكُدُ فِي الْأُولَيَيْنِ وَأَحْذِفُ فِي الْأُخْرَيَيْنِقَالَ ذَاكَ الظَّنُّ بِكَ.
جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ کوفہ کے چند لوگ عمر ؓ کے پاس سعد ؓ کی شکایت لے کر آئے، اور کہنے لگے: اللہ کی قسم! یہ اچھی طرح نماز نہیں پڑھاتے، (عمر ؓ کے پوچھنے پر) سعد ؓ نے کہا: میں تو انہیں رسول اللہ ﷺ کی سی نماز پڑھاتا ہوں، اس میں ذرا بھی کمی نہیں کرتا، پہلی دونوں رکعتوں میں قرأت لمبی کرتا ہوں، اور پچھلی دونوں رکعتوں میں ہلکی کرتا ہوں، عمر ؓ نے کہا: تم سے یہی توقع ہے۔
It was narrated that Jabir bin Samurah said: "Some of the peole of Al-Khufah complained about Sad to Umar (RA). They said: By Allah, he does not pray properly. He said: I lead them in prayer as the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) did, and I do not deviate from that. I take my time in the first two rakahs and make the other two shorter. He (Umar) said: That is what I thought about you".