سجدہ کس طریقہ سے کرنا چاہئے؟
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، قال: سَمِعْتُ يُوسُفَ وَهُوَ ابْنُ مَاهَكَيُحَدِّثُ، عَنْ حَكِيمٍ قال: بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا أَخِرَّ إِلَّا قَائِمًا.
حکیم ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس بات پر بیعت کی کہ میں کھڑے کھڑے ہی سجدے میں گروں گا ١ ؎۔
It was narrated that Abu Bushr said: "I heard Yusuf-meaning Ibn Mahak- narrating that Hakim said: I gave my pledge of allegiance to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), pledging that I would go down (in prostration) only after standing up from bowing".
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1084
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی رکوع سے واپس قیام میں جاؤں گا، اور سیدھا کھڑا ہوجانے کے بعد سجدہ کے لیے جھکوں گا۔ (دونوں سجدوں کے درمیان رفع یدین کے ذکر کے بغیر یہ حدیث رقم: ٨٨١ میں گزر چکی ہے )
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٣٤٣٧)، مسند احمد ٣/٤٠٢ (صحیح الإسناد )