پاکی کا بیان

Sunan An Nasai · Chapter 1 · 327 hadiths · Page 10 of 17

180Sunan An Nasai

آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کرنا

أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ حَرْبٍ، قال: حَدَّثَنَا الزُّبَيْدِيُّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْأَخْنَسِ بْنِ شَرِيقٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ خَالَتُهُ فَسَقَتْهُ سَوِيقًا، ثُمَّ قَالَتْ لَهُ: تَوَضَّأْ يَا ابْنَ أُخْتِي، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ.

ابوسفیان بن سعید بن اخنس بن شریق نے خبر دی ہے کہ وہ اپنی خالہ ام المؤمنین ام حبیبہ ؓ کے پاس آئے، تو انہوں نے مجھے ستو پلایا، پھر کہا: بھانجے! وضو کرلو، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: آگ کی پکی چیز (کھانے) سے وضو کرو ۔

It was narrated from Abu Sufyan (RA) bin Saeed bin Al-Akhnas bin Shariq that he entered upon Umm Habibah, the wife of the Prophet ﷺ , who was his maternal aunt, and she made SawIq for him, then she said to him: “Perform Wudu’ son of my sister! For the Messenger of Allah ﷺ said: ‘Perform Wudu from that which has been touched by fire.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 180
Takhrij · تخریج
الطہارة ٧٦ (١٩٥)، (تحفة الأشراف: ١٥٨٧١)، مسند احمد ٦/٣٢٦، ٣٢٧، ٣٢٨، ٤٢٦، ٤٢٧ (صحیح )
181Sunan An Nasai

آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کرنا

أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ، قال: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ بَكْرِ بْنِ مُضَرَ، قال: حَدَّثَنِي بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، عَنْجَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْأَخْنَسِ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ لَهُ وَشَرِبَ سَوِيقًا: يَا ابْنَ أُخْتِي تَوَضَّأْ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ.

ابوسفیان بن سعید بن اخنس سے روایت ہے کہ ام المؤمنین ام حبیبہ ؓ نے ان سے کہا (جب انہوں نے ستو پیا) بھانجے! وضو کرلو، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: آگ کی پکی چیز (کھانے) سے وضو کرو ۔

It was narrated from Abu Sufyan (RA) bin Saeed bin Al-Akhnas that Umm Habibah, the wife of the Prophet ﷺ , said to him, when he had drunk some Sawiq: “son of my sister, perform Wudu’, for I heard the Messenger of Allah ﷺ say: ‘Perform Wudu’ from that which has been touched by fire.”(Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 181
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١٥٨٧١) (صحیح )
182Sunan An Nasai

آگ سے پکی ہوئی اشیاء کھا کر وضو نہ کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَكَلَ كَتِفًا، فَجَاءَهُ بِلَالٌ، فَخَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً.

ام المؤمنین ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (بکری کی) دست کھائی، پھر آپ کے پاس بلال ؓ آئے، تو آپ نماز کے لیے نکلے اور پانی کو ہاتھ نہیں لگایا۔

It was narrated from Umm Salamah that the Messenger of Allah ﷺ ate (meat from) a shoulder, then Bilal (RA) came to him and he went out to pray, and he did not touch water. (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 182
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الطہارة ٦٦ (٤٩١)، (تحفة الأشراف: ١٨٢٦٩)، مسند احمد ٦/٢٩٢، ولہ غیر ھذہ الطریق عن أم سلمة، راجع مسند احمد ٦/٣٠٦، ٣١٧، ٣١٩، ٣٢٣ (صحیح )
183Sunan An Nasai

آگ سے پکی ہوئی اشیاء کھا کر وضو نہ کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، قال: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَحَدَّثَتْنِي، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ احْتِلَامٍ ثُمَّ يَصُومُ. وَحَدَّثَنَا مَعَ هَذَا الْحَدِيثِ، أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ، أَنَّهَاقَرَّبَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَنْبًا مَشْوِيًّا فَأَكَلَ مِنْهُ ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ.

سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کے پاس گیا، تو انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ احتلام سے نہیں (بلکہ جماع سے) صبح کرتے، پھر روزہ رکھتے، (محمد بن یوسف کہتے ہیں:) اور ہم سے سلیمان بن یسار نے اس حدیث کے ساتھ (یہ بھی) بیان کیا کہ ام سلمہ ؓ نے ان سے بیان کیا کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں بھنا ہوا پہلو (گوشت کا ٹکڑا) پیش کیا، تو آپ ﷺ نے اس میں سے کھایا، پھر نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور وضو نہیں کیا۔

It was narrated that Sulaiman bin Yasar said: “I entered upon Umm Salamah and she told me that the Messenger of Allah ﷺ used to wake up in a state of Janabah without having had a wet dream, then he would fast.” And she told him that she brought the Prophet ﷺ some grilled ribs and he ate from that, then he got up and prayed, and did not perform Wudu’. (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 183
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: ١٨١٦٠)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصوم ١٣ (١١٠٩)، مسند احمد ٦/٣٠٦ (صحیح )
184Sunan An Nasai

آگ سے پکی ہوئی اشیاء کھا کر وضو نہ کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قال: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ ابْنِ يَسَارٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَكَلَ خُبْزًا وَلَحْمًا ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوا، آپ نے روٹی اور گوشت تناول فرمایا، پھر نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور وضو نہیں کیا۔

It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “I saw the Messenger of Allah ﷺ eating bread and meat, then he got up to pray and did not perform Wudu’.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 184
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: ٥٦٧١)، مسند احمد ١/٣٦٦، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الطہارة ٥٠ (٢٠٧)، الأطعمة ١٨ (٥٤٠٤)، صحیح مسلم/الحیض ٢٤ (٣٥٤)، سنن ابی داود/الطہارة ٧٥ (١٨٧)، مسند احمد (١/٢٢٦، ٢٢٧، ٢٤١، ٢٤٤، ٢٥٣، ٢٥٤، ٢٥٨، ٢٦٤، ٢٦٧، ٢٧٢، ٢٧٣، ٢٨١، ٣٣٦، ٣٥١، ٣٥٢، ٣٥٦، ٣٦١، ٣٦٣، ٣٦٥، ٣٦٦) (صحیح )
185Sunan An Nasai

آگ سے پکی ہوئی اشیاء کھا کر وضو نہ کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، قال: سَمِعْتُجَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قال: كَانَآخِرَ الْأَمْرَيْنِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَرْكُ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی دونوں باتوں (آگ کی پکی ہوئی چیز کھا کر وضو کرنے اور وضو نہ کرنے) میں آخری بات آگ پر پکی ہوئی چیز کھا کر وضو نہ کرنا ہے۔

Jabir bin ‘Abdullah said: “The last of the two matters from the Messenger of Allah ﷺ was not performing Wudu from that which has been touched by fire.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 185
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٧٥ (١٩٢)، (تحفة الأشراف: ٣٠٤٧)، وأخرجہ: صحیح البخاری/الأطعمة ٥٣ (٥٤٥٧)، مسند احمد ٣/٣٠٤، ٣٠٧، ٣٢٢، ٣٦٣، ٣٧٥، ٣٨١، بغیر ھذا اللفظ (صحیح )
186Sunan An Nasai

ستو کھانے کے بعد کلی کرنا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قال: حَدَّثَنِيمَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ مَوْلَى بَنِي حَارِثَةَ، أَنَّ سُوَيْدَ بْنَ النُّعْمَانِ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ خَيْبَرَ، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالصَّهْبَاءِ وَهِيَ مِنْ أَدْنَى خَيْبَرَصَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ دَعَا بِالْأَزْوَادِ فَلَمْ يُؤْتَ إِلَّا بِالسَّوِيقِ، فَأَمَرَ بِهِ فَثُرِّيَ فَأَكَلَ وَأَكَلْنَا، ثُمَّ قَامَ إِلَى الْمَغْرِبِ فَتَمَضْمَضَ وَتَمَضْمَضْنَا، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ.

سوید بن نعمان ؓ کہتے ہیں کہ وہ خیبر کے سال رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے، یہاں تک کہ جب لوگ مقام صہبا (جو خیبر سے قریب ہے) میں پہنچے، تو آپ ﷺ نے نماز عصر ادا کی، پھر توشوں کو طلب کیا، تو صرف ستو لایا گیا، آپ ﷺ نے حکم دیا، تو اسے گھولا گیا، آپ نے کھایا اور ہم نے بھی کھایا، پھر آپ مغرب کی نماز کے لیے کھڑے ہوئے، آپ نے کلی کی اور ہم نے (بھی) کلی کی، پھر آپ نے نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔

Suwaid bin An-Numan said that he went out with the Messenger of Allah ﷺ in the year of Khaibar, then when they were in As-Sahaba — which is the closest part of Khaibar — he prayed ‘Asr, then he called for food, and nothing was brought but Sawiq. He ordered that it be moistened with water, then he ate and we ate. Then he got up to (pray) Maghrib, and he rinsed his mouth and we rinsed our mouths, then he prayed and did not perform Wudu’. (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 186
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٥١ (٢٠٩)، ٥٤ (٢١٥)، الجھاد ١٢٣ (٢٩٨١)، المغازي ٣٨ (٤١٩٥)، الأطعمة ٧ (٥٣٨٤)، ٩ (٥٣٩٠)، ٥١ (٥٤٥٥)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٦٦ (٤٩٢)، (تحفة الأشراف: ٤٨١٣)، موطا امام مالک/فیہ ٥ (٢٠)، مسند احمد ٣/٤٦٢، ٤٨٨ (صحیح )
187Sunan An Nasai

دودھ پی کر کلی کرنے کا بیان

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَشَرِبَ لَبَنًا، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَتَمَضْمَضَ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ لَهُ دَسَمًا.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے دودھ پیا، پھر پانی مانگا اور کلی کی، پھر فرمایا: اس میں چکنائی ہوتی ہے ۔

It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Prophet ﷺ drank milk, then he called for water and rinsed his mouth, then he said: “It is greasy.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 187
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٥٢ (٢١١)، الأشربة ١٢ (٥٦٠٩)، صحیح مسلم/الحیض ٢٤ (٣٥٨)، سنن ابی داود/الطھارة ٧٧ (١٩٦)، سنن الترمذی/الطھارة ٦٦ (٨٩)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٦٨ (٤٩٨)، (تحفة الأشراف: ٥٨٣٣)، مسند احمد ١/٢٢٣، ٢٢٧، ٣٢٩، ٣٣٧، ٣٧٣ (صحیح )
188Sunan An Nasai

کونسی باتوں سے غسل کرنا لازم ہے اور کن سے نہیں؟

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَغَرِّ وَهوَ ابْنُ الصَّبَّاحِ، عَنْ خَلِيفَةَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَاصِمٍ، أَنَّهُ أَسْلَمَفَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَغْتَسِلَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ.

قیس بن عاصم ؓ سے روایت ہے کہ وہ اسلام لائے تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں پانی اور بیری کے پتوں سے غسل کرنے کا حکم دیا ١ ؎۔

It was narrated from Qais bin ‘Asim that he accepted Islam, and the Prophet ﷺ commanded him to perform Ghusl with water and lotus leaves. (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 188
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ غسل کفر کی گندگی کے ازالہ اور نجاست کے احتمال کے دفعیہ کے لیے ہے، اکثر علماء کے نزدیک یہ حکم استحبابی ہے اور بعض کے نزدیک وجوبی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطھارة ١٣١ (٣٥٥)، سنن الترمذی/الصلاة ٣٠٣ (٦٠٥)، (تحفة الأشراف: ١١١٠٠)، مسند احمد ٥/٦١ (صحیح )
189Sunan An Nasai

جس وقت کافر مسلمان ہونے کا ارادہ کرے تو وہ غسل کرے

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: إِنَّ ثُمَامَةَ بْنَ أُثَالٍ الْحَنَفِيَّ انْطَلَقَ إِلَى نَجْلٍ قَرِيبٍ مِنَ الْمَسْجِدِ، فَاغْتَسَلَ ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، يَا مُحَمَّدُ، وَاللَّهِ مَا كَانَ عَلَى الْأَرْضِ وَجْهٌ أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْ وَجْهِكَ، فَقَدْ أَصْبَحَ وَجْهُكَ أَحَبَّ الْوُجُوهِ كُلِّهَا إِلَيَّ، وَإِنَّ خَيْلَكَ أَخَذَتْنِي وَأَنَا أُرِيدُ الْعُمْرَةَ، فَمَاذَا تَرَى ؟فَبَشَّرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَعْتَمِرَ مُخْتَصِرٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ثمامہ بن اثال حنفی ١ ؎ مسجد نبوی کے قریب پانی کے پاس آئے، اور غسل کیا، پھر مسجد میں داخل ہوئے اور کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے کوئی اس کا شریک نہیں، اور محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، اے محمد! اللہ کی قسم میرے نزدیک روئے زمین پر کوئی چہرہ آپ کے چہرہ سے زیادہ ناپسندیدہ نہیں تھا، اور اب آپ کا چہرہ میرے لیے تمام چہروں سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ ہوگیا ہے، اور آپ کے گھوڑ سواروں نے مجھے گرفتار کرلیا ہے، اور حال یہ ہے کہ میں عمرہ کرنا چاہتا ہوں تو اب آپ کا کیا خیال ہے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں بشارت دی، اور حکم دیا کہ وہ عمرہ کرلیں، (یہ حدیث یہاں مختصراً مذکور ہے) ۔

Abu Hurairah (RA) said: “Thumamah bin Uthal Al-Hanafi went to fetch some water that was near the Masjid and performed Ghusl, then he entered the Masjid and said: ‘Ashhadu an lailaha ill-Allah wa ashhadu anna Muhammadan ‘abduhu wa rasaluh (I bear witness that there is none worthy of worship except Allah and I bear witness that Muhammad is His slave and Messenger), Muhammad, by Allah! There was no face on the face of the Earth that was more hateful to me than your face, but now your face has become the most beloved of all faces to me. Your cavalry captured me and I want to perform ‘Umrah. What do you think? The Prophet ﷺ gave him glad tidings and told him to perform ‘Umrah.”(Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 189
Notes · وضاحت
١ ؎: یمامہ کے قبیلہ بنو حنیفہ کے ایک فرد تھے، اپنی قوم کے سردار بھی تھے، عمرہ کی ادائیگی کے لیے نکلے تھے، راستے میں رسول اللہ ﷺ کے گشتی سواروں نے گرفتار کرلیا، اور انہیں مدینہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت اقدس میں لے آئے، اور انہیں مسجد نبوی کے ایک ستون سے باندھ دیا گیا، تین دن کے بعد نبی اکرم ﷺ نے انہیں آزاد کردیا جس سے متاثر ہو کر وہ اسلام لے لائے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٧٦ (٤٦٢) مختصرًا، الخصومات ٧ (٢٤٢٢) مختصرًا، المغازي ٧٠ (٤٣٧٢) مطولاً، صحیح مسلم/الجھاد ١٩ (١٧٦٤)، سنن ابی داود/الجھاد ١٢٤ (٢٦٧٩)، (تحفة الأشراف: ١٣٠٠٧)، مسند احمد ٢/٤٥٢، ٤٨٣، وسیأتی بعضہ برقم: ٧١٣ (صحیح )
190Sunan An Nasai

جس وقت کافر مسلمان ہونے کا ارادہ کرے تو وہ غسل کرے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ مُحَمَّدٍ، قال: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قال: سَمِعْتُ نَاجِيَةَ بْنَ كَعْبٍ، عَنْ عَلِيٍّرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ أَبَا طَالِبٍ مَاتَ، فَقَالَ: اذْهَبْ فَوَارِهِ، قَالَ: إِنَّهُ مَاتَ مُشْرِكًا، قَالَ: اذْهَبْ فَوَارِهِ، فَلَمَّا وَارَيْتُهُ رَجَعْتُ إِلَيْهِ، فَقَالَ لِي: اغْتَسِلْ.

علی ؓ سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے: ابوطالب مرگئے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: جاؤ انہیں گاڑ دو تو انہوں نے کہا: وہ شرک کی حالت میں مرے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جاؤ انہیں گاڑ دو ، چناچہ جب میں انہیں گاڑ کر آپ کے پاس واپس آیا، تو آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: غسل کرلو ۔

It was narrated that Abu Ishaq said: “I heard Najiyah bin Ka’b narrating from ‘Ali that he came to the Prophet ﷺ and said: ‘Abu Talib has died.’ He said: ‘Go and bury him.’ He said: ‘He died as an idolator.’ He said: ‘Go and bury him.’ (‘Ali said:) ‘When I had buried him I went back to him and he said to me: ‘Perform Ghusl.” (Hasan)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 190
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الجنائز ٧٠ (٣٢١٤)، (تحفة الأشراف: ١٠٢٨٧)، مسند احمد ١/٩٧، ١٣١، ویأتي عند المؤلف برقم: ٢٠٠٨ (صحیح )
191Sunan An Nasai

ختانوں کے مل جانے (دخول صحیحہ) پر غسل کا واجب ہونا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قال: سَمِعْتُ الْحَسَنَ، يُحَدِّثُ عَنْأَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا جَلَسَ بَيْنَ شُعَبِهَا الْأَرْبَعِ ثُمَّ اجْتَهَدَ، فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب مرد، اس (عورت) کے چاروں شاخوں کے درمیان بیٹھے، پھر کوشش کرے تو غسل واجب ہوجاتا ہے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: “When (a man) sits between the four parts of his wife’s body and exerts himself, then Ghusl becomes obligatory.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 191
Notes · وضاحت
١ ؎: شاخوں کے درمیان بیٹھے اس سے مراد عورت کے دونوں ہاتھ اور دونوں پیر ہیں یا دونوں پیر اور دونوں ران ہیں، اور ایک قول ہے کہ اس کی شرمگاہ کے چاروں اطراف مراد ہیں۔ پھر کوشش کرے کوشش کرنے سے کنایہ دخول کی جانب ہے، یعنی عضو تناسل کو عورت کی شرمگاہ میں داخل کر دے۔ غسل واجب ہوجاتا ہے یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ غسل کے وجوب کا دارومدار دخول پر ہے اس کے لیے انزال شرط نہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الغسل ٢٨ (٢٩١)، صحیح مسلم/الحیض ٢٢ (٣٤٨)، سنن ابی داود/الطہارة ٨٤ (٢١٦)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ١١١ (٦١٠)، (تحفة الأشراف: ١٤٦٥٩)، مسند احمد ٢/٢٣٤، ٣٤٧، ٣٩٣، ٤٧١، ٥٢٠، سنن الدارمی/الطہارة ٧٥ (٧٨٨) (صحیح )
192Sunan An Nasai

ختانوں کے مل جانے (دخول صحیحہ) پر غسل کا واجب ہونا

أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ الْجَوْزَجَانِيُّ، قال: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قال: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، قال: حَدَّثَنَا أَشْعَثُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا قَعَدَ بَيْنَ شُعَبِهَا الْأَرْبَعِ ثُمَّ اجْتَهَدَ، فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا خَطَأٌ، وَالصَّوَابُ أَشْعَثُ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَقَدْ رَوَى الْحَدِيثَ، عَنْ شُعْبَةَ، النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ وَغَيْرُهُ، كَمَا رَوَاهُ خَالِدٌ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب مرد عورت کی چاروں شاخوں کے بیچ بیٹھے، پھر کوشش کرے، تو غسل واجب ہوگیا ۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: اشعث کا ابن سیرین کے طریق سے ابوہریرہ ؓ سے روایت کرنا غلط ہے، صحیح یہ ہے کہ اشعث نے اسے بواسطہ حسن ابوہریرہ ؓ سے روایت کی ہے، نیز یہ حدیث بواسطہ شعبہ نضر بن شمیل وغیرہ سے بھی مروی ہے جیسا کہ اسے خالد نے روایت کی ہے، یعنی: بطریق قتادة عن الحسن، عن أبي رافع، عن أبي هريرة۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: “When (a man) sits between the four parts of his wife’s body and exerts himself, then Ghusl becomes obligatory.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 192
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: ١٤٤٠٥) (صحیح )
193Sunan An Nasai

جس وقت منی نکل جائے تو غسل کرنا ضروری ہے

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ، قال: حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْحُصَيْنِ بْنِ قَبِيصَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قال: كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا رَأَيْتَ الْمَذْيَ فَاغْسِلْ ذَكَرَكَ وَتَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلَاةِ، وَإِذَا فَضَخْتَ الْمَاءَ فَاغْتَسِلْ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ میں ایک ایسا شخص تھا جسے کثرت سے مذی آتی تھی، تو رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: جب مذی دیکھو تو اپنا ذکر دھو لو، اور نماز کے وضو کی طرح وضو کرلو، اور جب پانی (منی) کودتا ہوا نکلے تو غسل کرو ۔

It was narrated that ‘Ali said: “I was one who had a lot of prostatic discharge, and the Messenger of Allah ﷺ said to me: ‘If you see Madhi (prostatic fluid) then wash your penis and perform Wudu’ like that for Salah, but if you ejaculate semen, then perform Ghusl.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 193
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطھارة ٨٣ (٢٠٦) مطولاً، (تحفة الأشراف: ١٠٠٧٩)، مسند احمد ١/ ١٠٩، ١٢٥، ١٤٥ (صحیح )
194Sunan An Nasai

جس وقت منی نکل جائے تو غسل کرنا ضروری ہے

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ زَائِدَةَ، ح وأَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَاللَّفْظُ لَهُ، أَنْبَأَنَاأَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ عَمِيلَةَ الْفَزَارِيِّ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ قَبِيصَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قال: كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِذَا رَأَيْتَ الْمَذْيَ فَتَوَضَّأْ وَاغْسِلْ ذَكَرَكَ، وَإِذَا رَأَيْتَ فَضْخَ الْمَاءِ فَاغْتَسِلْ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ میں ایک ایسا آدمی تھا جسے کثرت سے مذی آتی تھی، تو میں نے ١ ؎، نبی اکرم ﷺ سے پوچھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: جب مذی دیکھو تو وضو کرلو، اور اپنا ذکر دھو لو، اور جب پانی (منی) کو کودتے دیکھو، تو غسل کرو ٢ ؎۔

It was narrated that ‘Ali said: “I was one who had a lot of prostatic discharge, so I asked the Prophet ﷺ and he said: ‘If you see Madhi (prostatic fluid) then perform Wudu’ and wash your penis, but if you see semen ejaculated, then perform Ghusl.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 194
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی مقداد یا عمار کے واسطہ سے پوچھا، جیسا کہ حدیث نمبر: ١٥٢ ، ١٥٧ میں گزر چکا ہے۔ ٢ ؎: منی کا ذکر افادئہ مزید کے لیے ہے ورنہ جواب مذی کے ذکر ہی پر پورا ہوچکا تھا۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (تحفة الأشراف: ١٠٠٧٩) (صحیح )
195Sunan An Nasai

عورت کے لئے احتلام کے حکم کا بیان

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، قال: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَرْأَةِ تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ، قَالَ: إِذَا أَنْزَلَتِ الْمَاءَ فَلْتَغْتَسِلْ.

انس ؓ سے روایت ہے کہ ام سلیم ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اس عورت کے متعلق دریافت کیا جو اپنے خواب میں وہ چیز دیکھتی ہے جو مرد دیکھتا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: جب وہ انزال کرے تو غسل کرے ۔

It was narrated from Anas that Umm Sulaim asked the Messenger of Allah ﷺ about a woman who sees in her dream something like a man sees. He said: “If water is released then let her perform Ghusl.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 195
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحیض ٧ (٣١١) مطولاً، سنن ابن ماجہ/الطھارة ١٠٧ (٦٠١) مطولاً، (تحفة الأشراف: ١١٨١)، مسند احمد ٣/١٢١، ١٩٩، ٢٨٢، سنن الدارمی/الطھارة ٧٥ (٧٩١) بأطول من ھذا، ویأتی عندالمؤلف برقم: ٢٠٠ (صحیح )
196Sunan An Nasai

عورت کے لئے احتلام کے حکم کا بیان

أَخْبَرَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ الزُّبَيْدِيِّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ كَلَّمَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَائِشَةُ جَالِسَةٌ، فَقَالَتْ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ، أَرَأَيْتَ الْمَرْأَةَ تَرَى فِي النَّوْمِ مَا يَرَى الرَّجُلُ، أَفَتَغْتَسِلُ مِنْ ذَلِكَ ؟ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَعَمْ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ لَهَا: أُفٍّ لَكِ، أَوَ تَرَى الْمَرْأَةُ ذَلِكَ ؟ فَالْتَفَتَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: تَرِبَتْ يَمِينُكِ، فَمِنْ أَيْنَ يَكُونُ الشَّبَهُ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ام سلیم ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے بات کی، اور عائشہ ؓ (بھی وہاں) بیٹھی ہوئی تھیں، ام سلیم ؓ نے آپ ﷺ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ حق بات (بیان کرنے) سے نہیں شرماتا ہے، آپ مجھے اس عورت کے متعلق بتائیے جو خواب میں وہ چیز دیکھتی ہے جو مرد دیکھتا ہے، کیا وہ اس کی وجہ سے غسل کرے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ہاں!، عائشہ ؓ کہتی ہیں: تو میں نے ان سے (ام سلیم ؓ سے) کہا: افسوس ہے تم پر! کیا عورت بھی اس طرح خواب دیکھتی ہے؟ تو رسول اللہ ﷺ میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں، پھر بچہ کیسے (ماں کے) مشابہ ہوجاتا ہے؟ ١ ؎۔

It was narrated from ‘Urwah that Aishah (RA) told him that Umm Sulaim spoke to the Messenger of Allah ﷺ when Aishah (RA) was sitting there. She said to him: “Messenger of Allah ﷺ ! Allah is not shy to tell the truth. Inform me: if a woman sees in a dream what men see should she perform Ghusl from that?” The Messenger of Allah ﷺ said to her: “Yes.” Aishah (RA) said: “I expressed my displeasure and said: ‘Does a woman see that?’ The Messenger of Allah ﷺ turned to me and said: ‘May your right hand be covered with dust! How else would (her child) resemble her?” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 196
Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ لڑکا مرد اور عورت کے پانی ہی سے پیدا ہوتا ہے، جس کا پانی غالب ہوجاتا ہے لڑکا اسی کے مشابہ ہوتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائی، وقد آخرجہ: صحیح مسلم/الحیض ٧ (٣١٣) تعلیقاً، سنن ابی داود/الطھارة ٩٦ (٢٣٧)، (تحفة الأشراف: ١٦٦٢٧)، مسند احمد ٦/٩٢ (صحیح )
197Sunan An Nasai

عورت کے لئے احتلام کے حکم کا بیان

أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، قال: أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ امْرَأَةً، قالت: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ، هَلْ عَلَى الْمَرْأَةِ غُسْلٌ إِذَا هِيَ احْتَلَمَتْ ؟ قَالَ: نَعَمْ، إِذَا رَأَتِ الْمَاءَ، فَضَحِكَتْ أُمُّ سَلَمَةَ، فَقَالَتْ: أَتَحْتَلِمُ الْمَرْأَةُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَفِيمَ يُشْبِهُهَا الْوَلَدُ.

ام المؤمنین ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ حق بات (بیان کرنے) سے نہیں شرماتا ہے (اسی لیے میں ایک مسئلہ دریافت کرنا چاہتی ہوں) ، عورت کو احتلام ہوجائے تو کیا اس پر غسل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، جب منی دیکھ لے ، ام المؤمنین ام سلمہ ؓ (یہ سن کر) ہنس پڑیں، اور کہنے لگیں: کیا عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پھر لڑکا کس چیز کی وجہ سے اس کے مشابہ (ہم شکل) ہوتا ہے؟ ۔

It was narrated from Umm Salamah that a woman said: “O Messenger of Allah, Allah is not shy to tell the truth. Does a woman have to perform Ghusl if she has a wet dream?” He said: “Yes, if she sees water.” Umm Salamah laughed and said: “Do women really have wet dreams?” The Messenger of Allah ﷺ said: “How else would her child resemble her?” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 197
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العلم ٥٠ (١٣٠)، الغسل ٢٢ (٢٨٢)، الأنبیاء ١ (٣٣٢٨)، الأدب ٦٧ (٦٠٩١)، وباب ٧٩ (٦١٢١)، صحیح مسلم/الحیض ٧ (٣١٣)، سنن الترمذی/الطھارة ٩٠ (١٢٢)، سنن ابن ماجہ/فیہ ١٠٧ (٦٠٠)، (تحفة الأشراف: ١٨٢٦٤)، موطا امام مالک/فیہ ٢١ (٨٤)، مسند احمد ٦/ ٢٩٢، ٣٠٢، ٣٠٦ (صحیح )
198Sunan An Nasai

عورت کے لئے احتلام کے حکم کا بیان

أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ شُعْبَةَ، قال: سَمِعْتُ عَطَاءً الْخُرَاسَانِيَّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ، قالت: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَرْأَةِ تَحْتَلِمُ فِي مَنَامِهَا، فَقَالَ: إِذَا رَأَتِ الْمَاءَ فَلْتَغْتَسِلْ.

خولہ بنت حکیم ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس عورت کے متعلق پوچھا جسے خواب میں احتلام ہوجائے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: جب وہ منی دیکھے تو غسل کرے ۔

It was narrated that Khawlah bint Hakim said: “I asked the Messenger of Allah ﷺ about a woman who has a wet dream and he said: ‘If she sees water, let her perform Ghusl.” (Hasan)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 198
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الطھارة ١٠٧ (٦٠٢) مطولاً، (تحفة الأشراف: ١٥٨٢٧)، مسند احمد ٦/٤٠٩، سنن الدارمی/الطھارة ٧٦/٧٨٩ (صحیح) (متابعات و شواہد سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی عطاء خراسانی “ ضعیف ہیں )
199Sunan An Nasai

اگر کسی کو احتلام تو ہو لیکن (جسم یا کپڑے پر) تری نہ دیکھے؟

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ سُعَادٍ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ.

ابوایوب ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: پانی پانی سے ہے ١ ؎ یعنی خواب میں منی خارج ہونے پر ہی غسل واجب ہوتا ہے۔

It was narrated from Abu Ayyub that the Prophet ﷺ said: “Water is for water.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 199
Notes · وضاحت
١ ؎: پہلے پانی سے مراد ماء مطہر ہے اور دوسرے پانی سے مراد منی ہے، یہ حدیث عرفاً حصر کا فائدہ دے رہی ہے یعنی مجرد دخول سے جب تک کہ انزال نہ ہو غسل واجب نہیں ہوتا، لیکن یہ حدیث ابی بن کعب کے قول كان الماء من الماء في أوّل الإسلام ثم ترک بعده وأمر بالغسل إذا مس الختان بالختان سے منسوخ ہے، یا یہ حکم جماع سے متعلق نہیں صرف احتلام سے متعلق ہے جیسا کہ مؤلف نے ترجمہ الباب میں اس کی جانب اشارہ کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الطھارة ١١٠ (٦٠٧)، (تحفة الأشراف: ٣٤٦٩)، مسند احمد ٥/ ٤١٦، ٤٢١، سنن الدارمی/الطہارة ٧٤ (٧٨٥) (صحیح )