پاکی کا بیان

Sunan An Nasai · Chapter 1 · 327 hadiths · Page 9 of 17

160Sunan An Nasai

پاخانہ نکلنے کی صورت میں وضو ٹوٹ جانے کا بیان

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، ح وأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ سُفْيَانَ، قال: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، قال: أَخْبَرَنِي سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُسَيَّبِ وَعَبَّادُ بْنُ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ وَهُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ، قال: شُكِيَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّجُلُ يَجِدُ الشَّيْءَ فِي الصَّلَاةِ، قَالَ: لَا يَنْصَرِفْ حَتَّى يَجِدَ رِيحًا أَوْ يَسْمَعَ صَوْتًا.

عبداللہ بن زید ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے شکایت کی گئی کہ آدمی (بسا اوقات) نماز میں محسوس کرتا ہے کہ ہوا خارج ہوگئی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: جب تک بو نہ پالے، یا آواز نہ سن لے نماز نہ چھوڑے ١ ؎۔

Saeed — meaning Ibn Al Musayyab — and ‘Abbad bin Tamim narrated that his uncle — ‘ Abdullah bin Zaid (RA) — said: “A man who felt something during Salah complained to the Prophet ﷺ .He said: ‘Do not stop praying unless you notice a smell or hear a sound.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 160
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جب ہوا کے خارج ہونے کا یقین ہوجائے تب نماز توڑے اور جا کر وضو کرے، محض وہم پر نہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٤ (١٣٧) و ٣٤ (١٧٧) مختصرًا، البیوع ٥ (٢٠٥٦)، صحیح مسلم/الحیض ٢٦ (٣٦١)، سنن ابی داود/الطہارة ٦٨ (١٧٦)، سنن ابن ماجہ/فیہ ٧٤ (٥١٣)، (تحفة الأشراف: ٥٢٩٦)، مسند احمد ٤/٣٩، ٤٠ (صحیح )
161Sunan An Nasai

سونے سے وضو ٹوٹ جانے سے متعلق

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، وَحُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قال: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْأَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ مَنَامِهِ، فَلَا يُدْخِلْ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ حَتَّى يُفْرِغَ عَلَيْهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نیند سے بیدار ہو تو اپنا ہاتھ برتن میں نہ ڈالے جب تک کہ اس پر تین مرتبہ پانی نہ ڈال لے کیونکہ اسے خبر نہیں کہ رات میں اس کا ہاتھ کہاں کہاں رہا ہے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: “When any one of you wakes from sleep, let him not put his hand into the vessel until he has washed it three times, because he does not know where his hand spent the night.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 161
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ نہی (ممانعت) اکثر علماء کے نزدیک تنزیہی ہے اور بعض کے نزدیک تحریمی ہے، امام احمد سے منقول ہے کہ اگر رات کو سو کر اٹھے تو کراہت تحریمی ہے اور دن کو سو کر اٹھے تو کراہت تنزیہی، في الإنائ کی قید سے معلوم ہوا کہ نہر، بڑا حوض اور تالاب وغیرہ اس حکم سے مستثنیٰ (الگ) ہیں اور ان میں ہاتھ داخل کرنا جائز ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١، (تحفة الأشراف: ١٥٢٩٣) (صحیح )
162Sunan An Nasai

اونگھ آنے کا بیان

أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قالت: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا نَعَسَ الرَّجُلُ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ، فَلْيَنْصَرِفْ لَعَلَّهُ يَدْعُو عَلَى نَفْسِهِ وَهُوَ لَا يَدْرِي.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کسی کو اونگھ آئے اور وہ نماز میں ہو تو وہ جلدی سے نماز ختم کرلے، ایسا نہ ہو کہ وہ (اونگھ میں) اپنے حق میں بدعا کر رہا ہو اور جان ہی نہ سکے ١ ؎۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘If a man feels drowsy when he is praying, let him stop, lest he supplicate against himself without realizing.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 162
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے مصنف نے یہ اخذ کیا ہے کہ اونگھ ناقض وضو نہیں ہے کیونکہ اگر ناقض وضو ہوتی تو آپ ﷺ نماز میں اس ڈر سے منع نہ فرماتے کہ وہ اپنے حق میں بدعا کر رہا ہو، بلکہ آپ ﷺ یہ کہتے کہ اونگھنے کی حالت میں نماز درست نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: ١٦٧٦٩)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضوء ٥٣ (٢١٢)، صحیح مسلم/المسافرین ٣١ (٧٨٦)، سنن ابی داود/الصلاة ٣٠٨ (١٣١٠)، سنن الترمذی/الصلاة ١٤٦ (٣٥٥)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٨٤ (١٣٧٠)، موطا امام مالک/صلاة الیل ١ (٣)، مسند احمد ٦/٥٦، ٢٠٥، سنن الدارمی/الصلاة ١٠٧ (١٤٢٣) (صحیح )
163Sunan An Nasai

شرم گاہ کو چھونے سے وضو ٹوٹ جانے سے متعلق

أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، أَنْبَأَنَا مَالِكٌ، ح وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قال: أَنْبَأَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، يَقُولُ: دَخَلْتُ عَلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، فَذَكَرْنَا مَا يَكُونُ مِنْهُ الْوُضُوءُ، فَقَالَ مَرْوَانُ: مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ الْوُضُوءُ، فَقَالَ عُرْوَةُ: مَا عَلِمْتُ ذَلِكَ. فَقَالَ مَرْوَانُ: أَخْبَرَتْنِي بُسْرَةُ بِنْتُ صَفْوَانَ، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِذَا مَسَّ أَحَدُكُمْ ذَكَرَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ.

عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ میں مروان بن حکم کے پاس گیا، پھر ہم نے ان چیزوں کا ذکر کیا جن سے وضو لازم آتا ہے، تو مروان نے کہا: ذکر (عضو تناسل) کے چھونے سے وضو ہے، اس پر عروہ نے کہا: مجھے معلوم نہیں، تو مروان نے کہا: بسرہ بنت صفوان ؓ نے مجھے بتایا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو کہتے ہوئے سنا کہ جب کوئی اپنا ذکر (عضو تناسل) چھوئے تو وضو کرے ۔

‘Urwah bin Az-Zubair said: “I entered upon Marwan bin Al-Hakam and we mentioned the things for which Wudu is done. Marwan said: ‘Wudu’ should be done after touching the penis.’ ‘Urwah said: ‘I did not know that.’ Marwan said: ‘Busrah bint Safwan told me that she heard the Messenger of Allah ﷺ say: “And if any one of you touches his penis, let him do Wudu’.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 163
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٧٠ (١٨١)، سنن الترمذی/فیہ ٦١ (٨٢) مختصرًا، سنن ابن ماجہ/٦٣ (٤٧٩) مختصرًا، (تحفة الأشراف: ١٥٧٨٥)، موطا امام مالک/فیہ ١٥ (٥٨)، مسند احمد ٦/٤٠٦، ٤٠٧، سنن الدارمی/الطہارة ٥٠ (٧٥١، ٧٥٢)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: ١٦٣، ٤٤٥- ٤٤٨ (صحیح )
164Sunan An Nasai

شرم گاہ کو چھونے سے وضو ٹوٹ جانے سے متعلق

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، قال: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قال: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، يَقُولُ: ذَكَرَ مَرْوَانُ فِي إِمَارَتِهِ عَلَى الْمَدِينَةِ أَنَّهُ يُتَوَضَّأُ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ إِذَا أَفْضَى إِلَيْهِ الرَّجُلُ بِيَدِهِ، فَأَنْكَرْتُ ذَلِكَ وَقُلْتُ لَا وُضُوءَ عَلَى مَنْ مَسَّهُ، فَقَالَ مَرْوَانُ: أَخْبَرَتْنِيبُسْرَةُ بِنْتُ صَفْوَانَ، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ذَكَرَ مَا يُتَوَضَّأُ مِنْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَيُتَوَضَّأُ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ. قَالَ عُرْوَةُ: فَلَمْ أَزَلْ أُمَارِي مَرْوَانَ حَتَّى دَعَا رَجُلًا مِنْ حَرَسِهِ، فَأَرْسَلَهُ إِلَى بُسْرَةَ فَسَأَلَهَا عَمَّا حَدَّثَتْ مَرْوَانَ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ بُسْرَةُ بِمِثْلِ الَّذِي حَدَّثَنِي عَنْهَا مَرْوَانُ.

عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ مروان نے اپنی مدینہ کی امارت کے دوران ذکر کیا کہ عضو تناسل کے چھونے سے وضو کیا جائے گا، جب اس تک آدمی اپنا ہاتھ لے جائے، تو میں نے اس کا انکار کیا اور کہا: جو عضو تناسل چھوئے اس پر وضو نہیں ہے، تو مروان نے کہا: مجھے بسرہ بنت صفوان ؓ نے خبر دی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ نے ان چیزوں کا ذکر کیا جن سے وضو کیا جاتا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اور عضو تناسل چھونے سے (بھی) وضو کیا جائے گا ، عروہ کہتے ہیں: میں مروان سے برابر جھگڑتا رہا، یہاں تک کہ انہوں نے اپنے ایک دربان کو بلایا اور اسے بسرہ ؓ کے پاس بھیجا، چناچہ اس نے مروان سے بیان کی ہوئی حدیث کے بارے میں بسرہ ؓ سے دریافت کیا، تو بسرہ نے اسی طرح کی بات کہلا بھیجی جو مروان نے ان کے واسطے سے مجھ سے بیان کی تھی۔

‘Urwah bin Az-Zubair said: “When he was the governor of Al-Madinah, Marwan mentioned that a man should perform Wudu’ after touching his penis, if he touches it with his hand. I did not like that and I said: ‘The one who touches it does not have to perform Wud Marwan said: ‘Busrah bint Safwan told me that she heard the Messenger of Allah ﷺ mention the things for which Wudu’ should be performed, and the Messenger of Allah ﷺ said: ‘Wudu should be performed after touching the penis.’ ‘Urwah said: ‘I continued to argue with Marwán until he called one of his guards and sent him to Busrah to ask her about what Marwan had narrated, and Busrah sent word saying something like that which Marwan had narrated to me from her.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 164
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (تحفة الأشراف: ١٥٧٨٥) (صحیح )
165Sunan An Nasai

شرم گاہ چھونے سے وضو نہ ٹوٹنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا هَنَّادٌ، عَنْ مُلَازِمٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، قال: خَرَجْنَا وَفْدًا حَتَّى قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعْنَاهُ وَصَلَّيْنَا مَعَهُ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ، جَاءَ رَجُلٌ كَأَنَّهُ بَدَوِيٌّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا تَرَى فِي رَجُلٍ مَسَّ ذَكَرَهُ فِي الصَّلَاةِ ؟ قَالَ: وَهَلْ هُوَ إِلَّا مُضْغَةٌ مِنْكَ أَوْ بَضْعَةٌ مِنْكَ ؟.

طلق بن علی ؓ کہتے ہیں کہ ہم ایک وفد کی شکل میں نکلے یہاں تک کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، اور ہم نے آپ سے بیعت کی اور آپ کے ساتھ نماز ادا کی، جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو ایک شخص جو دیہاتی لگ رہا تھا آیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ اس آدمی کے متعلق کیا فرماتے ہیں جو نماز میں اپنا عضو تناسل چھو لے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ تمہارے جسم کا ایک ٹکڑا یا حصہ ہی تو ہے ١ ؎۔

It was narrated that Talq bin ‘Ali said: “We went out as a delegation and when we arrived with the Messenger of Allah ﷺ he accepted our oath of allegiance and we prayed with him. When he had finished the prayer, a man who looked like a Bedouin came to him and said: ‘Messenger of Allah ﷺ , what do you think about a man Who touched his penis during theHe said: ‘It is just a part of you,’ or ‘a piece of you.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 165
Notes · وضاحت
١ ؎: بسرۃ بنت صفوان ؓ اور طلق بن علی ؓ دونوں کی روایتیں بظاہر متعارض ہیں لیکن بسرۃ ؓ کی روایت کو ترجیح حاصل ہے، اس لیے کہ وہ اثبت اور اصح ہے اور طلق بن علی ؓ کی روایت منسوخ ہے کیونکہ یہ پہلے کی ہے اور بسرۃ ؓ کی روایت بعد کی ہے جیسا کہ ابن حبان اور حازمی نے اس کی تصریح کی ہے، دونوں کے اندر اس طرح بھی تطبیق دی جاتی ہے کہ بسرہ ؓ کی حدیث بغیر کسی پردہ اور آڑ کے چھونے سے متعلق ہے، اور طلق ؓ کی حدیث کپڑے وغیرہ کے اوپر سے چھونے سے متعلق ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٧١ (١٨٢، ١٨٣)، سنن الترمذی/فیہ ٦٢ (٨٥) مختصرًا، سنن ابن ماجہ/فیہ ٦٤، ٤٨٣، (تحفة الأشراف: ٥٠٢٣)، مسند احمد ٤/٢٢، ٢٣ (صحیح )
166Sunan An Nasai

اس کا بیان کہ اگر مرد شہوت کے بغیر عورت کو چھوئے تو وضو نہیں ٹوٹتا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنْ اللَّيْثِ، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُصَلِّي وَإِنِّي لَمُعْتَرِضَةٌ بَيْنَ يَدَيْهِ اعْتِرَاضَ الْجَنَازَةِ، حَتَّى إِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ مَسَّنِي بِرِجْلِهِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز پڑھتے تھے اور میں آپ کے سامنے جنازے کی طرح چوڑان میں لیٹی رہتی تھی، یہاں تک کہ جب آپ وتر پڑھنے کا ارادہ کرتے تو مجھے اپنے پاؤں سے کچوکے لگاتے ١ ؎۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ used to pray when I was lying in front of him as the bier is placed (in front of the Imam), and when he wanted to pray Witr he would nudge me with his foot.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 166
Notes · وضاحت
١ ؎: مصنف نے باب پر حدیث میں وارد لفظ مسني برجله سے استدلال کیا ہے کیونکہ یہ بغیر شہوت کے چھونا تھا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: ١٧٥٣٢)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة ١٠٨ (٥١٩)، صحیح مسلم/صلاة المسافرین ١٧ (٧٤٤)، سنن ابی داود/فیہ ١١٢ (٧١٢)، مسند احمد ٦/٤٤، ٥٥، ٢٥٩، سنن الدارمی/الصلاة ١٢٧ (١٤٥٣) (صحیح )
167Sunan An Nasai

اس کا بیان کہ اگر مرد شہوت کے بغیر عورت کو چھوئے تو وضو نہیں ٹوٹتا

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قال: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ، قالت: لَقَدْ رَأَيْتُمُونِي مُعْتَرِضَةً بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ غَمَزَ رِجْلِي فَضَمَمْتُهَا إِلَيَّ ثُمَّ يَسْجُدُ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ تم لوگوں نے دیکھا ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے سامنے لیٹی ہوتی اور آپ نماز پڑھتے ہوتے، جب آپ سجدہ کا ارادہ کرتے تو میرے پاؤں کو کچوکے لگاتے، تو میں اسے سمیٹ لیتی، پھر آپ سجدہ کرتے۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “I remember lying in front of the Messenger of Allah ﷺ . and the Messenger of Allah ﷺ was praying. When he wanted to prostate he would nudge my foot and I would draw it up (out of the way) until he had finished prostrating.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 167
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ١٠٨ (٥١٩) مطولاً، سنن ابی داود/الصلاة ١١٢ (٧١٢)، (تحفة الأشراف: ١٧٥٣٧)، مسند احمد ٢/٤٤، ٥٤ (صحیح )
168Sunan An Nasai

اس کا بیان کہ اگر مرد شہوت کے بغیر عورت کو چھوئے تو وضو نہیں ٹوٹتا

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: كُنْتُ أَنَامُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرِجْلَايَ فِي قِبْلَتِهِ، فَإِذَا سَجَدَ غَمَزَنِي فَقَبَضْتُ رِجْلَيَّ، فَإِذَا قَامَ بَسَطْتُهُمَا، وَالْبُيُوتُ يَوْمِئِذٍ لَيْسَ فِيهَا مَصَابِيحُ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے سامنے سوتی تھی اور میرے دونوں پاؤں آپ کے قبلہ کی طرف ہوتے، جب آپ سجدہ کرتے تو مجھے کچوکے لگاتے تو میں اپنے دونوں پاؤں سمیٹ لیتی، پھر جب آپ کھڑے ہوجاتے تو میں انہیں پھیلا لیتی، ان دنوں گھروں میں چراغ نہیں ہوتے تھے۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “I used to sleep in front of the Messenger of Allah ﷺ and my feet were in the direction of his Qiblah. When he prostrated he nudged me and I drew up my feet, then when he stood up I stretched them out again. And there were no lamps in the houses at that time.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 168
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٢٢ (٣٨٢)، ١٠٤ (٥١٣)، العمل في الصلاة ١٠ (١٢٠٩)، صحیح مسلم/الصلاة ٥١ (٥١٢)، سنن ابی داود/فیہ ١١٢ (٧١٤)، (تحفة الأشراف: ١٧٧١٢)، موطا امام مالک/صلاة اللیل ١ (٢)، مسند احمد ٦/١٤٨، ٢٢٥، ٢٥٥ (صحیح )
169Sunan An Nasai

اس کا بیان کہ اگر مرد شہوت کے بغیر عورت کو چھوئے تو وضو نہیں ٹوٹتا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، وَنُصَيْرُ بْنُ الْفَرَجِ، وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قالت: فَقَدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَجَعَلْتُ أَطْلُبُهُ بِيَدِي، فَوَقَعَتْ يَدِي عَلَى قَدَمَيْهِ وَهُمَا مَنْصُوبَتَانِ وَهُوَ سَاجِدٌ، يَقُولُ: أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ، لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ایک رات میں نے نبی اکرم ﷺ کو غائب پایا، تو اپنے ہاتھ سے آپ کو ٹٹولنے لگی، تو میرا ہاتھ آپ کے قدموں پر پڑا، آپ کے دونوں قدم کھڑے تھے اور آپ سجدے میں تھے، کہہ رہے تھے: أعوذ برضاک من سخطک وبمعافاتک من عقوبتک وأعوذ بک منک لا أحصي ثناء عليك أنت کما أثنيت على نفسک اے اللہ! پناہ مانگتا ہوں تیری رضا مندی کی تیری ناراضگی سے، اور تیری عافیت کی تیرے عذاب سے، اور تیری پناہ مانگتا ہوں تجھ سے، میں تیری شمار کرسکتا، تو ویسا ہی ہے جیسے تو نے اپنی تعریف کی ہے ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that Aishah (RA) said: “I noticed the Prophet ﷺ was not there one night, so I started looking for him with my hand. My hand touched his feet and they were held upright, and he was prostrating and saying: ‘I seek refuge in Your pleasure from Your anger, in Your forgiveness from Your punishment, and I seek refuge in You from You. I cannot praise You enough, You are as You have praised yourself.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 169
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٤٢ (٤٨٦)، سنن ابی داود/فیہ ١٥٢ (٨٧٩)، سنن ابن ماجہ/الدعاء ٣ (٣٨٤١)، (تحفة الأشراف: ١٧٨٠٧)، موطا امام مالک/القرآن ٨ (٣١)، (وفیہ انقطاع)، مسند احمد ٦/٥٨، ٢٠١، ویأتي عند المؤلف بأرقام: ١١٠١، ١١٣١، ٥٥٣٦ (صحیح )
170Sunan An Nasai

بوسہ لینے سے وضو نہ ٹوٹنے کا بیان

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، قال: أَخْبَرَنِي أَبُو رَوْقٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يُقَبِّلُ بَعْضَ أَزْوَاجِهِ ثُمَّ يُصَلِّي وَلَا يَتَوَضَّأُ. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: لَيْسَ فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثٌ أَحْسَنُ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ وَإِنْ كَانَ مُرْسَلًا. وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ الْأَعْمَشُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَ يَحْيَى الْقَطَّانُ: حَدِيثُ حَبِيبٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، هَذَا وَحَدِيثُ حَبِيبٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، تُصَليِّ وَإِنْ قَطَرَ الدَّمُ عَلَى الْحَصِيرِ لَا شَيْءَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ اپنی بعض ازواج مطہرات کا بوسہ لیتے تھے، پھر نماز پڑھتے اور وضو نہیں کرتے ١ ؎۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: اس باب میں اس سے اچھی کوئی حدیث نہیں ہے اگرچہ یہ مرسل ہے، اور اس حدیث کو اعمش نے حبیب بن ابی ثابت سے، انہوں نے عروہ سے، اور عروہ نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت کی ہے، یحییٰ القطان کہتے ہیں: حبیب کی یہ روایت جسے انہوں نے عروہ سے اور عروہ نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت کی ہے اور حبیب کی تصلى وإن قطر الدم على الحصير مستحاضہ نماز پڑھے گرچہ چٹائی پر خون ٹپکے والی روایت جسے انہوں نے عروہ سے اور عروہ نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت کی ہے دونوں کچھ نہیں ہیں ٢ ؎، (یعنی دونوں ضعیف اور ناقابل اعتماد ہیں) ۔

It was narrated from Aishah (RA) that the Prophet ﷺ used to kiss one of his wives then pray without performing Wudu’.(Hasan) Abu ‘Abdur-Rahman said: “There is nothing for this chapter which is better than this Hadith, even though it is Mursal. And Al-A`mash reported this Hadith from Habib bin Abi Thabit, from ‘Urwah, from Aishah (RA) . Yahya Al-Qattan said: “This is the Hadith of Habib from ‘Urwah, from Aishah (RA) . And the Hadith of Habib from ‘Urwah, from Aishah (RA) : “She prays even if blood drips on the mat” is nothing.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 170
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ شہوت کے ساتھ عورت کو چھونے سے بھی وضو نہیں ہے کیونکہ اس کا بوسہ عام طور سے شہوت کے ساتھ ہی ہوتا ہے۔ ٢ ؎: اس کی وجہ حبیب اور عروہ کے درمیان سند میں انقطاع ہے، مگر متابعات و شواہد سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
حدیث إبراہیم بن یزید الیتمی عن عائشة أخرجہ: سنن ابی داود/الطہارة ٦٩ (١٧٨)، صحیح مسلم/٢١٠، (تحفة الأشراف: ١٥٩١٥)، وحدیث عروة المزنی عن عائشة أخرجہ: سنن ابی داود/الطہارة ٦٩ (١٧٩)، سنن الترمذی/الطہارة ٦٣ (٨٦)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٦٩ (٥٠٢)، مسند احمد ٦/٢١٠، (تحفة الأشراف: ١٧٣٧١) (صحیح) (متابعات و شواہد سے تقویت پا کر یہ روایت صحیح ہے، ورنہ ابراہیم تیمی کا سماع ام المومنین عائشہ ؓ سے نہیں ہے )
171Sunan An Nasai

آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کرنا

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِظٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: آگ کی پکی چیز (کھانے) سے وضو کرو ١ ؎۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “I heard the Messenger of Allah ﷺ say: ‘Perform Wudu’ from that which has been touched by fire.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 171
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث منسوخ ہے، دیکھئیے حدیث رقم: ١٨٢ - ١٨٥۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحیض ٢٣ (٣٥٢)، (تحفة الأشراف: ١٢١٨٢، ٣٥٥٣)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطھارة ٧٦ (١٩٤)، سنن الترمذی/الطہارة ٥٨ (٧٩)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٦٥ (٤٨٥)، مسند احمد ٢/٢٦٥، ٢٧١، ٤٢٧، ٤٥٨، ٤٧٩، ٤٦٩، ٤٧٨ (صحیح )
172Sunan An Nasai

آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کرنا

أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ حَرْبٍ، قال: حَدَّثَنِي الزُّبَيْدِيُّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَارِظٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قال: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: آگ کی پکی چیز (کھانے) سے وضو کرو ۔

Abu Hurairah (RA) said: “I heard the Messenger of Allah ﷺ say: ‘Perform Wudu’ from that which has been touched by fire.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 172
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٧١، (تحفة الأشراف: ١٣٥٥٣) (صحیح )
173Sunan An Nasai

آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کرنا

أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ بَكْرٍ وَهُوَ ابْنُ مُضَرَ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ قَارِظٍ، قال: رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَتَوَضَّأُ عَلَى ظَهْرِ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: أَكَلْتُ أَثْوَارَ أَقِطٍ فَتَوَضَّأْتُ مِنْهَا، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَأْمُرُ بِالْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ.

عبداللہ بن ابراہیم بن قارظ کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ ؓ کو مسجد کی چھت پر وضو کرتے دیکھا، تو انہوں نے کہا: میں نے پنیر کے کچھ ٹکڑے کھائے ہیں، اسی وجہ سے میں نے وضو کیا ہے، میں نے رسول اللہ ﷺ کو آگ کی پکی چیز (کھانے) سے وضو کا حکم دیتے سنا ہے۔

It was narrated that ‘Abdullah bin Ibrahim bin Qariz said: “I saw Abu Hurairah (RA) performing Wuduon the roof of the Masjid and he said: ‘I ate some tough cheese, so I performed Wudu’ because of that. I heard the Messenger of Allah ﷺ commanding us to do Wudu’ from that which has been touched by fire.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 173
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٧١ (تحفة الأشراف: ١٣٥٥٣) (صحیح )
174Sunan An Nasai

آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کرنا

أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، قال: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، قال: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ الْمُطَّلِبَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ، يَقُولُ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَتَوَضَّأُ مِنْ طَعَامٍ أَجِدُهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ حَلَالًا لِأَنَّ النَّارَ مَسَّتْهُ، فَجَمَعَ أَبُو هُرَيْرَةَ حَصًى، فَقَالَ: أَشْهَدُ عَدَدَ هَذَا الْحَصَى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں: کیا میں اس کھانے سے وضو کروں جسے میں اللہ تعالیٰ کی کتاب میں حلال پاتا ہوں، محض اس لیے کہ وہ آگ سے پکا ہوا ہے؟ تو ابوہریرہ ؓ نے کچھ کنکریاں جمع کیں اور کہا: ان کنکریوں کی تعداد کے برابر گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آگ سے پکی چیزوں سے وضو کرو ۔

Ibn ‘Abbas said: “Should I perform Wudu after eating food that I see in the Book of Allah is permissible because fire has touched it?” Abu Hurairah (RA) gathered some pebbles and said: “I bear witness (as many times as) the number of these pebbles, that the Messenger of Allah ﷺ said: ‘Perform Wudu’ from that which has been touched by fire.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 174
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: ١٤٦١٤)، مسند احمد ٢/٥٢٩ (صحیح )
175Sunan An Nasai

آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کرنا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرٍو، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آگ کی پکی چیز (کھانے) سے وضو کرو ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: ‘Perform Wudu’ from that which has been touched by fire.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 175
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: ١٣٥٨٤) (صحیح )
176Sunan An Nasai

آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کرنا

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: أَنْبَأَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قال مُحَمَّدٌ الْقَارِيُّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، قال: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَوَضَّئُوا مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ.

ابوایوب ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: آگ سے پکی چیز (کھانے) سے وضو کرو ۔

It was narrated that Abu Ayyub said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Perform Wudu’ from that which has been altered by fire.” (Sahih)

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 176
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٣٤٦٤) (صحیح الإسناد )
177Sunan An Nasai

آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کرنا

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَرَمِيٌّ وَهُوَ ابْنُ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ، قال: حَدَّثَنَاشُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قال: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ جَعْدَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو الْقَارِيِّ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: تَوَضَّئُوا مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ.

ابوطلحہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آگ کی پکی چیز (کھانے) سے وضو کرو ۔

It was narrated from Abu Talhah that the Messenger of Allah ﷺ said: “Perform Wudu from that which has been altered by fire.” (Sahih)

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 177
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٣٧٨١)، مسند احمد ٤/٣٠ (صحیح الإسناد )
178Sunan An Nasai

آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کرنا

أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قال: حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: تَوَضَّئُوا مِمَّا أَنْضَجَتِ النَّارُ.

ابوطلحہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: آگ کی پکی چیز (کھانے) سے وضو کرو ۔

It was narrated from Abu Talhah that the Prophet ﷺ said: “Perform Wudu’ from that which has been heated with fire.” (Sahih)

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 178
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٣٧٧٨)، مسند احمد ٤/٢٨، ٣٠ (صحیح الإسناد )
179Sunan An Nasai

آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کرنا

أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قال: حَدَّثَنَا الزُّبَيْدِيُّ، قال: أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ، أَنَّ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ خَارِجَةَ بْنَ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، قال: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ.

زید بن ثابت ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: آگ کی پکی چیز (کھانے) سے وضو کرو ۔

Zaid bin Thabit said: “I heard the Messenger of Allah ﷺ say: ‘Perform Wudu’ from that which has been touched by fire.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 179
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحیض ٢٣ (٣٥١)، (تحفة الأشراف: ٣٧٠٤)، مسند احمد ٥/١٨٤، ١٨٨، ١٨٩، ١٩٠، ١٩١، ١٩٢، سنن الدارمی/الطہارة ٥١ (٧٥٣) (صحیح )