Sunan An Nasai 170

پاکی کا بیان

170Sunan An Nasai

بوسہ لینے سے وضو نہ ٹوٹنے کا بیان

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، قال: أَخْبَرَنِي أَبُو رَوْقٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يُقَبِّلُ بَعْضَ أَزْوَاجِهِ ثُمَّ يُصَلِّي وَلَا يَتَوَضَّأُ. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: لَيْسَ فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثٌ أَحْسَنُ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ وَإِنْ كَانَ مُرْسَلًا. وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ الْأَعْمَشُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَ يَحْيَى الْقَطَّانُ: حَدِيثُ حَبِيبٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، هَذَا وَحَدِيثُ حَبِيبٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، تُصَليِّ وَإِنْ قَطَرَ الدَّمُ عَلَى الْحَصِيرِ لَا شَيْءَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ اپنی بعض ازواج مطہرات کا بوسہ لیتے تھے، پھر نماز پڑھتے اور وضو نہیں کرتے ١ ؎۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: اس باب میں اس سے اچھی کوئی حدیث نہیں ہے اگرچہ یہ مرسل ہے، اور اس حدیث کو اعمش نے حبیب بن ابی ثابت سے، انہوں نے عروہ سے، اور عروہ نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت کی ہے، یحییٰ القطان کہتے ہیں: حبیب کی یہ روایت جسے انہوں نے عروہ سے اور عروہ نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت کی ہے اور حبیب کی تصلى وإن قطر الدم على الحصير مستحاضہ نماز پڑھے گرچہ چٹائی پر خون ٹپکے والی روایت جسے انہوں نے عروہ سے اور عروہ نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت کی ہے دونوں کچھ نہیں ہیں ٢ ؎، (یعنی دونوں ضعیف اور ناقابل اعتماد ہیں) ۔

It was narrated from Aishah (RA) that the Prophet ﷺ used to kiss one of his wives then pray without performing Wudu’.(Hasan) Abu ‘Abdur-Rahman said: “There is nothing for this chapter which is better than this Hadith, even though it is Mursal. And Al-A`mash reported this Hadith from Habib bin Abi Thabit, from ‘Urwah, from Aishah (RA) . Yahya Al-Qattan said: “This is the Hadith of Habib from ‘Urwah, from Aishah (RA) . And the Hadith of Habib from ‘Urwah, from Aishah (RA) : “She prays even if blood drips on the mat” is nothing.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 170
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ شہوت کے ساتھ عورت کو چھونے سے بھی وضو نہیں ہے کیونکہ اس کا بوسہ عام طور سے شہوت کے ساتھ ہی ہوتا ہے۔ ٢ ؎: اس کی وجہ حبیب اور عروہ کے درمیان سند میں انقطاع ہے، مگر متابعات و شواہد سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
حدیث إبراہیم بن یزید الیتمی عن عائشة أخرجہ: سنن ابی داود/الطہارة ٦٩ (١٧٨)، صحیح مسلم/٢١٠، (تحفة الأشراف: ١٥٩١٥)، وحدیث عروة المزنی عن عائشة أخرجہ: سنن ابی داود/الطہارة ٦٩ (١٧٩)، سنن الترمذی/الطہارة ٦٣ (٨٦)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٦٩ (٥٠٢)، مسند احمد ٦/٢١٠، (تحفة الأشراف: ١٧٣٧١) (صحیح) (متابعات و شواہد سے تقویت پا کر یہ روایت صحیح ہے، ورنہ ابراہیم تیمی کا سماع ام المومنین عائشہ ؓ سے نہیں ہے )