ختانوں کے مل جانے (دخول صحیحہ) پر غسل کا واجب ہونا
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قال: سَمِعْتُ الْحَسَنَ، يُحَدِّثُ عَنْأَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا جَلَسَ بَيْنَ شُعَبِهَا الْأَرْبَعِ ثُمَّ اجْتَهَدَ، فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ.
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب مرد، اس (عورت) کے چاروں شاخوں کے درمیان بیٹھے، پھر کوشش کرے تو غسل واجب ہوجاتا ہے ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: “When (a man) sits between the four parts of his wife’s body and exerts himself, then Ghusl becomes obligatory.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 191
Notes · وضاحت
١ ؎: شاخوں کے درمیان بیٹھے اس سے مراد عورت کے دونوں ہاتھ اور دونوں پیر ہیں یا دونوں پیر اور دونوں ران ہیں، اور ایک قول ہے کہ اس کی شرمگاہ کے چاروں اطراف مراد ہیں۔ پھر کوشش کرے کوشش کرنے سے کنایہ دخول کی جانب ہے، یعنی عضو تناسل کو عورت کی شرمگاہ میں داخل کر دے۔ غسل واجب ہوجاتا ہے یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ غسل کے وجوب کا دارومدار دخول پر ہے اس کے لیے انزال شرط نہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الغسل ٢٨ (٢٩١)، صحیح مسلم/الحیض ٢٢ (٣٤٨)، سنن ابی داود/الطہارة ٨٤ (٢١٦)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ١١١ (٦١٠)، (تحفة الأشراف: ١٤٦٥٩)، مسند احمد ٢/٢٣٤، ٣٤٧، ٣٩٣، ٤٧١، ٥٢٠، سنن الدارمی/الطہارة ٧٥ (٧٨٨) (صحیح )