عورت کے لئے احتلام کے حکم کا بیان
أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، قال: أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ امْرَأَةً، قالت: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ، هَلْ عَلَى الْمَرْأَةِ غُسْلٌ إِذَا هِيَ احْتَلَمَتْ ؟ قَالَ: نَعَمْ، إِذَا رَأَتِ الْمَاءَ، فَضَحِكَتْ أُمُّ سَلَمَةَ، فَقَالَتْ: أَتَحْتَلِمُ الْمَرْأَةُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَفِيمَ يُشْبِهُهَا الْوَلَدُ.
ام المؤمنین ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ حق بات (بیان کرنے) سے نہیں شرماتا ہے (اسی لیے میں ایک مسئلہ دریافت کرنا چاہتی ہوں) ، عورت کو احتلام ہوجائے تو کیا اس پر غسل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، جب منی دیکھ لے ، ام المؤمنین ام سلمہ ؓ (یہ سن کر) ہنس پڑیں، اور کہنے لگیں: کیا عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پھر لڑکا کس چیز کی وجہ سے اس کے مشابہ (ہم شکل) ہوتا ہے؟ ۔
It was narrated from Umm Salamah that a woman said: “O Messenger of Allah, Allah is not shy to tell the truth. Does a woman have to perform Ghusl if she has a wet dream?” He said: “Yes, if she sees water.” Umm Salamah laughed and said: “Do women really have wet dreams?” The Messenger of Allah ﷺ said: “How else would her child resemble her?” (Sahih)