ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: برابر اللہ بندے پر اس کی نماز میں متوجہ رہتا ہے اس وقت تک جب تک کہ وہ ادھر ادھر متوجہ نہیں ہوتا، اور جب وہ رخ پھیر لیتا ہے تو اللہ بھی اس سے پھرجاتا ہے ۔
It was narrated that Az-Zuhri said: "I heard Abu Al-Ahwas saying to us in a gathering with Ibn Al-Musayyab when Ibn Al-Musayyab was sitting there, that he had heard Abu Dharr say: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Allah (SWT) continues to look upon His slave while he is praying, so long as he does not turn away. If he turns his face away, He turns away from him".
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1195
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ١٦٥ (٩٠٩)، (تحفة الأشراف: ١١٩٩٨)، مسند احمد ٥/١٧٢، سنن الدارمی/الصلاة ١٣٤ (١٤٦٣) (ضعیف) (اس کے راوی ” أبو الأحوص “ لین الحدیث ہیں )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے نماز میں ادھر ادھر دیکھنے کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا: یہ چھینا جھپٹی ہے جسے شیطان اس سے نماز میں کرتا ہے ۔
It was narrated that Aishah, may Allah (SWT) be pleased with her, said: "I asked the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) about looking here and there during prayer. He said: That is something that the Shaitan snatches from ones prayer".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1196
جابر ؓ کہتے ہیں (ایک مرتبہ) رسول اللہ ﷺ بیمار ہوئے، تو ہم نے آپ کے پیچھے نماز پڑھی، آپ بیٹھ کر نماز پڑھا رہے تھے، اور ابوبکر ؓ زور سے تکبیر کہہ کر لوگوں کو آپ کی تکبیر سنا رہے تھے، (نماز میں) آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے تو آپ نے ہمیں دیکھا کہ ہم کھڑے ہیں، آپ نے ہمیں بیٹھنے کا اشارہ کیا، تو ہم بیٹھ گئے، اور ہم نے آپ کی امامت میں بیٹھ کر نماز پڑھی، جب آپ نے سلام پھیرا تو فرمایا: ابھی ابھی تم لوگ فارس اور روم والوں کی طرح کر رہے تھے، وہ لوگ اپنے بادشاہوں کے سامنے کھڑے رہتے ہیں، اور وہ بیٹھے رہتے ہیں، تو تم ایسا نہ کرو، اپنے اماموں کی اقتداء کرو، اگر وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھیں تو تم کھڑے ہو کر پڑھو، اور اگر بیٹھ کر پڑھیں بھی بیٹھ کر پڑھو ١ ؎۔
It was narrated that Jabir said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) was ill, and we prayed behind him while he was sitting, and Abu Bakr repeated his takbirs so that the people could hear them. He turned to us and saw us standing, so he gestured to us to sit down. So we prayed behind him sitting. When he said the salam he said: Just now you were doing what the Persians and Romans do for their kings when they are sitting. Do not do that. Follow your Imams: If they pray standing then pray standing, and if they pray sitting then pray sitting".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1200
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ واقعہ مرض الموت والے واقعے سے پہلے کا ہے، مرض الموت والے واقعے میں آپ نے بیٹھ کر امامت کرائی اور لوگوں نے کھڑے ہو کر آپ کے پیچھے نماز پڑھی، اور آپ نے اس بارے میں کچھ نہیں کہا، اس لیے وہ اب منسوخ ہے، اور نماز میں آپ ﷺ کا التفات کرنا آپ کی خصوصیات میں سے تھا، امت کے لیے آپ کا فرمان حدیث رقم: ١١٩٧ میں گزرا۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنی نماز میں دائیں بائیں متوجہ ہوتے تھے ١ ؎ لیکن آپ اپنی گردن اپنی پیٹھ کے پیچھے نہیں موڑتے تھے۔
It was narrated that Ibn Abbas said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to turn to his right and left when praying, but he did not twist his neck to look behind him".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1201
Notes · وضاحت
١ ؎: اسے نفل نماز پر محمول کرنا اولیٰ ہے، جیسا کہ سنن ترمذی میں انس ؓ کی حدیث میں اس کی صراحت ہے، اور فرض میں بوقت اشد ضرورت ایسا کیا جاسکتا ہے جیسا کہ اگلی حدیث میں آ رہا ہے۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز (کی حالت) میں دو کالوں کو یعنی سانپ اور بچھو کو مارنے کا حکم دیا ہے۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) commanded us to kill the two black ones (snakes and scorpions) while praying".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1202
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز میں دو کالوں کو مارنے کا حکم دیا۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) enjoined killing the two black ones (snakes and scorpions) while praying.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1203
ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز پڑھ رہے تھے، اور نماز کی حالت میں (اپنی نواسی) امامہ ؓ کو اٹھائے ہوئے تھے، جب آپ سجدہ میں گئے تو انہیں اتار دیا، اور جب کھڑے ہوئے تو انہیں اٹھا لیا۔
It was narrated from Abu Qatadah that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to pray carrying Umamah. When he prostrated he put her down and when he stood up he picked her up again.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1204
ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ لوگوں کی امامت کر رہے ہیں، اور امامہ بنت ابی العاص ؓ کو اپنے کندھے پر اٹھائے ہوئے ہیں، جب آپ رکوع میں گئے تو انہیں اتار دیا، اور جب سجدے سے فارغ ہوئے تو انہیں پھر اٹھا لیا۔
It was narrated that Abu Qatadah said: "I saw the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) leading the people in prayer, carrying Umamah bint Abi Al-As on his shoulder. When he bowed he put her down and when he finished prostrating he picked her up again".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1205
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے دروازہ کھلوانا چاہا، اس وقت رسول اللہ ﷺ نفل نماز پڑھ رہے تھے، دروازہ قبلہ کی طرف پڑ رہا تھا، آپ اپنے دائیں جانب یا بائیں جانب (چند قدم) چلے، اور آپ نے دروازہ کھولا، پھر آپ اپنی جگہ پر واپس لوٹ آئے۔
It was narrated that Aishah, may Allah (SWT) be pleased with her, said: "I knocked at the door when the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) was offering a voluntary prayer. The door was in the direction of the Qiblah so he took a few steps to his right or left and opened the door, then he went back to where he was praying".
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1206
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: سبحان اللہ کہنا مردوں کے لیے ہے، اور تالی بجانا عورتوں کے لیے ہے ۔ ابن مثنیٰ نے في الصلاة کا اضافہ کیا ہے (یعنی نماز میں) ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "The Tasbih is for men, and clapping is for women." Ibn Al-Muthanna added: "During the prayer".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1207
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العمل فی ال صلاة ٥ (١٢٠٣)، صحیح مسلم/الصلاة ٢٣ (٤٢٢)، سنن ابی داود/الصلاة ١٧٣ (٩٣٩)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الإقامة ٦٥ (١٠٣٤)، (تحفة الأشراف: ١٥١٤١)، مسند احمد ٢/٢٤١، سنن الدارمی/الصلاة ٩٥ (١٤٠٣) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: سبحان اللہ کہنا مردوں کے لیے ہے، اور تالی بجانا عورتوں کے لیے ہے ۔
Saeed bin Al-Musayyab and Abu Salamah bin Abdur-Rahman said that: They heard Abu Hurairah say: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: The Tasbih is for men and clapping is for women".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1208
علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے میرے لیے ایک گھڑی ایسی مقرر تھی کہ میں اس میں آپ کے پاس آیا کرتا تھا، جب میں آپ کے پاس آتا تو اجازت مانگتا، اگر میں آپ کو نماز پڑھتے ہوئے پاتا تو آپ کھنکھارتے، تو میں اندر داخل ہوجاتا، اگر میں آپ کو خالی پاتا تو آپ مجھے اجازت دیتے۔
It was narrated that Ali said: "I had certain times when I used to come to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم). When I came to him I would ask for permission to enter. If I found him praying he would clear his throat and I would enter, and if I found him free he would give me permission (to enter)".
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1211
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأدب ١٧ (٣٧٠٨)، (تحفة الأشراف: ١٠٢٠٢)، مسند احمد ١/٧٧، ٨٠، ١٠٧، ١٥٠ (ضعیف الإسناد) (عبداللہ بن نجی کا علی ؓ سے سماع نہیں ہے، یعنی سند میں انقطاع ہے )
علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس میرے آنے کے دو وقت تھے، ایک رات میں اور ایک دن میں، جب میں رات میں آپ کے پاس آتا (اور آپ نماز وغیرہ میں مشغول ہوتے) تو آپ میرے لیے کھنکھارتے ١ ؎۔
It was narrated that Ali said: "I had two times when I would enter upon the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), one at night and one during the day. When I entered at night he would clear his throat (to tell me to come in)".
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1212
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی کھنکھار کر اندر آنے کی اجازت دیتے، اور بعض نسخوں میں تنحنح کے بجائے سبّح ہے، اور یہ زیادہ قرین قیاس ہے کیونکہ اس کے بعد والی روایت میں ہے کہ کھنکھارنا عدم اجازت کی علامت تھی، یہ بھی ممکن ہے کہ اس کی دو ہیئت رہی ہو ایک اجازت پر دلالت کرتی رہی ہو، اور دوسری عدم اجازت پر، واللہ اعلم۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٢١٢ (ضعیف الإسناد) (سند میں انقطاع ہے )
نجی کہتے ہیں کہ مجھ سے علی ؓ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کے یہاں میرا ایسا مقام و مرتبہ تھا جو مخلوق میں سے کسی اور کو میسر نہیں تھا، چناچہ میں آپ کے پاس ہر صبح تڑکے آتا اور کہتا السلام عليك يا نبي اللہ اللہ کے نبی! آپ پر سلامتی ہو اگر آپ کھنکھارتے تو میں اپنے گھر واپس لوٹ جاتا، اور نہیں تو میں اندر داخل ہوجاتا۔
Abdullah bin Nujayy narrated that his father said: "Ali said to me: I was so close to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), closer than anyone else. I used to come to him at the end of every night, before dawn, and say: "As-salamu alayka ya Nabiyy Allah (Peace be upon you, O Prophet of Allah)." If he cleared his throat I would go back to my family, otherwise I would enter upon him".
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1213
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٠٢٩٢)، مسند احمد ١/٨٥ (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ” نجی “ لین الحدیث ہیں )
عبداللہ بن الشخیر ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اس وقت آپ نماز پڑھ رہے تھے، اور آپ کے پیٹ سے ایسی آواز آرہی تھی جیسے ہانڈی ابل رہی ہو یعنی آپ رو رہے تھے ١ ؎۔
It was narrated from Mutarrif that his father said: "I came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) when he was praying, and there was a sound coming from his chest like the sound of water boiling," meaning, he was weeping.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1214
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے نماز میں اللہ کے خوف سے رونے کا جواز ثابت ہوا۔