نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث

Sunan An Nasai · Chapter 11 · 492 hadiths · Page 18 of 25

1216Sunan An Nasai

بحالت نماز شیطان پر لعنت کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فَسَمِعْنَاهُ، يَقُولُ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ، ثُمَّ قَالَ: أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللَّهِ ثَلَاثًا وَبَسَطَ يَدَهُ كَأَنَّهُ يَتَنَاوَلُ شَيْئًا، فَلَمَّا فَرَغَ مِنَ الصَّلَاةِ، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ سَمِعْنَاكَ تَقُولُ فِي الصَّلَاةِ شَيْئًا لَمْ نَسْمَعْكَ تَقُولُهُ قَبْلَ ذَلِكَ، وَرَأَيْنَاكَ بَسَطْتَ يَدَكَ، قَالَ: إِنَّ عَدُوَّ اللَّهِ إِبْلِيسَ جَاءَ بِشِهَابٍ مِنْ نَارٍ لِيَجْعَلَهُ فِي وَجْهِي، فَقُلْتُ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قُلْتُ: أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللَّهِ فَلَمْ يَسْتَأْخِرْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ أَرَدْتُ أَنْ آخُذَهُ، وَاللَّهِ لَوْلَا دَعْوَةُ أَخِينَا سُلَيْمَانَ لَأَصْبَحَ مُوثَقًا بِهَا يَلْعَبُ بِهِ وِلْدَانُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ.

ابو الدرداء ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز پڑھنے کھڑے ہوئے تو ہم نے آپ کو کہتے سنا: أعوذ باللہ منك میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں تجھ سے پھر آپ نے فرمایا: ألعنک بلعنة اللہ میں تجھ پر اللہ کی لعنت کرتا ہوں تین بار آپ نے ایسا کہا، اور اپنا ہاتھ پھیلایا گویا آپ کوئی چیز پکڑنی چاہ رہے ہیں، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم نے آپ کو نماز میں ایک ایسی بات کہتے ہوئے سنا جسے ہم نے اس سے پہلے آپ کو کبھی کہتے ہوئے نہیں سنا، نیز ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ اپنا ہاتھ پھیلائے ہوئے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: اللہ کا دشمن ابلیس آگ کا ایک شعلہ لے کر آیا تاکہ اسے میرے چہرے پر ڈال دے، تو میں نے تین بار کہا: میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں تجھ سے، پھر میں نے تین بار کہا: میں تجھ پر اللہ کی لعنت بھیجتا ہوں، پھر بھی وہ پیچھے نہیں ہٹا، تو میں نے ارادہ کیا کہ اس کو پکڑ لوں، اللہ کی قسم! اگر ہمارے بھائی سلیمان (علیہ السلام) کی دعا نہ ہوتی، تو وہ صبح کو اس (کھمبے) سے بندھا ہوا ہوتا، اور اس سے اہل مدینہ کے بچے کھیل کرتے ۔

It was narrated that Abu Ad-Darda said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) stood praying, and we heard him say: I seek refuge with Allah from you. Then he said: I curse you with the curse of Allah (SWT), three times and stretched out his hand as if to take something. When he finished praying we said: O Messenger of Allah, we heard you say something in your prayer that we have never heard you say before, and we saw you stretch out your hand. He said: The enemy of Allah (SWT), Iblis, came with a brand of fire to throw it in my face, so I said: I seek refuge with Allah from you three times, then I wanted to take hold of him. By Allah (SWT), were it not for the prayer of our brother Sulaiman, he would have been tied up this morning for the children of Al-Madinah to play with him".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1215
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٨ (٥٤٢)، (تحفة الأشراف: ١٠٩٤٠) (صحیح )
1217Sunan An Nasai

دوران نماز گفتگو کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصَّلَاةِ وَقُمْنَا مَعَهُ، فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ: اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي وَمُحَمَّدًا وَلَا تَرْحَمْ مَعَنَا أَحَدًا، فَلَمَّا سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِلْأَعْرَابِيِّ: لَقَدْ تَحَجَّرْتَ وَاسِعًا يُرِيدُ رَحْمَةَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز کے لیے کھڑے ہوئے، آپ کے ساتھ ہم (بھی) کھڑے ہوئے، تو ایک اعرابی نے کہا (اور وہ نماز میں مشغول تھا) : اللہم ارحمني ومحمدا ولا ترحم معنا أحدا اے اللہ! میرے اوپر اور محمد پر رحم فرما، اور ہمارے ساتھ کسی اور پر رحم نہ فرما ١ ؎ جب رسول اللہ ﷺ نے سلام پھیرا تو آپ نے اعرابی سے فرمایا: تو نے ایک کشادہ چیز کو تنگ کردیا ، آپ اس سے اللہ کی رحمت مراد لے رہے تھے۔

It was narrated from Abu Salamah that : Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) stood up to pray and we stood up with him. A Bedouin said- while he was praying- O Allah, have mercy on me and Muhammad and do not have mercy on anyone else. When the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said the Salam, he said to the Bedouin: You have limited something vast," meaning the mercy of Allah (SWT)".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1216
Notes · وضاحت
١ ؎: گرچہ یہ جملہ لوگوں کی عام دنیوی باتوں میں سے نہیں ہے، جو نماز میں ممنوع ہیں بلکہ ایک دعا ہے اور نماز میں دعا جائز ہے، لیکن پھر بھی غیر مناسب دعا ہے اس لیے آپ نے اس پر نکیر فرمائی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٥٢٦٧) (صحیح )
1218Sunan An Nasai

دوران نماز گفتگو کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّهْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: أَحْفَظُهُ مِنَ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِيسَعِيدٌ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمّ قَالَ: اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي وَمُحَمَّدًا وَلَا تَرْحَمْ مَعَنَا أَحَدًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَقَدْ تَحَجَّرْتَ وَاسِعًا.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی مسجد میں داخل ہوا، اور اس نے دو رکعت نماز پڑھی، پھر اس نے (نماز ہی میں) کہا: اللہم ارحمني ومحمدا ولا ترحم معنا أحدا اے اللہ! مجھ پر اور محمد پر رحم فرما، اور ہمارے ساتھ کسی اور پر رحم نہ فرما تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تو نے ایک کشادہ چیز کو تنگ کردیا ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that: A Bedouin entered the masjid and prayed two rakahs, then he said: "O Allah, have mercy on me and on Muhammad and do not have mercy on anyone else." The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "You have limited something vast".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1217
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ١٣٨ (٣٨٠)، سنن الترمذی/الطہارة ١١٢ (١٤٧)، مسند احمد ٢/٢٣٩، (تحفة الأشراف: ١٣١٣٩) (صحیح )
1219Sunan An Nasai

دوران نماز گفتگو کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السَّلَمِيِّ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ فَجَاءَ اللَّهُ بِالْإِسْلَامِ، وَإِنَّ رِجَالًا مِنَّا يَتَطَيَّرُونَ، قَالَ: ذَاكَ شَيْءٌ يَجِدُونَهُ فِي صُدُورِهِمْ، فَلَا يَصُدَّنَّهُمْ، وَرِجَالٌ مِنَّا يَأْتُونَ الْكُهَّانَ، قَالَ: فَلَا تَأْتُوهُمْ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَرِجَالٌ مِنَّا يَخُطُّونَ، قَالَ: كَانَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ يَخُطُّ فَمَنْ وَافَقَ خَطُّهُ فَذَاكَ.

معاویہ بن حکم سلمی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارا جاہلیت کا زمانہ ابھی ابھی گزرا ہے، پھر اللہ تعالیٰ اسلام کو لے آیا، ہم میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو برا شگون لیتے ہیں! آپ نے فرمایا: یہ محض ایک خیال ہے جسے لوگ اپنے دلوں میں پاتے ہیں، تو یہ ان کے آڑے نہ آئے ١ ؎ معاویہ بن حکم نے کہا: اور ہم میں بعض لوگ ایسے ہیں جو کاہنوں کے پاس جاتے ہیں! تو آپ نے فرمایا: تم لوگ ان کے پاس نہ جایا کرو ، پھر معاویہ ؓ نے کہا: اللہ کے رسول! اور ہم میں سے کچھ لوگ (زمین پر یا کاغذ پر آئندہ کی بات بتانے کے لیے) لکیریں کھینچتے ہیں! آپ نے فرمایا: نبیوں میں سے ایک نبی بھی لکیریں کھینچتے تھے، تو جس شخص کی لکیر ان کے موافق ہو تو وہ صحیح ہے ۔ معاویہ ؓ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھ ہی رہا تھا کہ اسی دوران اچانک قوم میں سے ایک آدمی کو چھینک آگئی، تو میں نے (زور سے) يرحمک اللہ اللہ تجھ پر رحم کرے کہا، تو لوگ مجھے گھور کر دیکھنے لگے، میں نے کہا: واثکل أمياه میری ماں مجھ پر روئے ، تم لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ تم مجھے گھور رہے ہو؟ لوگوں نے (مجھے خاموش کرنے کے لیے) اپنے ہاتھوں سے اپنی رانوں کو تھپتھپایا، جب میں نے انہیں دیکھا کہ وہ مجھے خاموش کر رہے ہیں تو میں خاموش ہوگیا، پھر جب رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے مجھے بلایا، میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، نہ تو آپ نے مجھے مارا، نہ ہی مجھے ڈانٹا، اور نہ ہی برا بھلا کہا، میں نے اس سے پہلے اور اس کے بعد آپ سے اچھا اور بہتر معلم کسی کو نہیں دیکھا، آپ نے فرمایا: ہماری اس نماز میں لوگوں کی گفتگو میں سے کوئی چیز درست نہیں، نماز تو صرف تسبیح، تکبیر اور قرأت قرآن کا نام ہے ، پھر میں اپنی بکریوں کی طرف آیا جنہیں میری باندی احد پہاڑ اور جوانیہ ٢ ؎ میں چرا رہی تھی، میں (وہاں) آیا تو میں نے پایا کہ بھیڑیا ان میں سے ایک بکری اٹھا لے گیا ہے، میں (بھی) بنو آدم ہی میں سے ایک فرد ہوں، مجھے (بھی) غصہ آتا ہے جیسے انہیں آتا ہے، چناچہ میں نے اسے ایک چانٹا مارا، پھر میں لوٹ کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، میں نے آپ کو اس واقعہ کی خبر دی، تو آپ نے مجھ پر اس کی سنگینی واضح کی، تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا میں اس کو آزاد نہ کر دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اسے بلاؤ، تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے پوچھا: اللہ کہاں ہے؟ اس نے جواب دیا: آسمان کے اوپر، آپ نے پوچھا: میں کون ہوں؟ اس نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: یہ مومنہ ہے، تو تم اسے آزاد کر دو ۔

It was narrated that Muawiyah bin Al-Hakam As-Sulami said: "I said: O Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), we were recently in a state of ignorance, then Allah (SWT) brought Islam. Some men among us follow omens. He said: That is something that they find in their own hearts; it should not deter them from going ahead. I said: And some men among us go to fortune tellers. He said: Do not go to them. He said: Some men among us draw lines. He said: One of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم)s used to draw lines. So whoever is in accord with his drawing of lines, then so it is." He said: "While I was praying with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), a man sneezed and I said: Yarhamuk-Allah (May Allah have mercy on you). The people glared at me and I said: May my mother be bereft of me, why are you looking at me? The people struck their hands against their thighs, and when I saw that they were telling me to be quiet, I fell silent. When the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) finished, he called me. May my father and mother be ransomed for him, he neither did hit me nor rebuke me nor revile me. I have never seen a better teacher than him, before or after. He said: This prayer of ours is not the place for ordinary human speech, rather it is glorification and magnification of Allah (SWT), and reciting Quran. Then I went out to a flock of sheep of mine that was tended by a slave woman of mine beside Uhud and Al-Jawwaniyyah, and I found that the wolf had taken one of the sheep. I am a man from the sons of Adam and I get upset as they get upset. So I slapped her. Then I came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and told him what happened. He regarded that as a serious action on my part. I said: O Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), should I set her free? He said: Call her. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said to her: Where is Allah (SWT), the Mighty and Sublime? She said: Above the heavens. He said: And who am I? She said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم). He said: She is a believer, set her free".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1218
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی یہ بدشگونی انہیں کسی کام سے جس کے کرنے کا انہوں نے ارادہ کیا ہو نہ روکے۔ ٢ ؎: احد پہاڑ کے قریب ایک جگہ کا نام ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٧ (٥٣٧)، سنن ابی داود/الصلاة ١٧١ (٩٣٠)، مسند احمد ٥/٤٤٧، (تحفة الأشراف: ١١٣٧٨)، وھو مختصراً والحدیث عند: صحیح مسلم/السلام ٣٥ (٥٣٧)، سنن ابی داود/الأیمان والنذور ١٩ (٣٢٨٢)، الطب ٢٣ (٣٩٠٩)، موطا امام مالک/العتق ٦ (٨)، مسند احمد ٥/٤٤٨، ٤٤٩، سنن الدارمی/الصلاة ١٧٧ (١٥٤٣، ١٥٤٤) (صحیح )
1220Sunan An Nasai

دوران نماز گفتگو کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ شُبَيْلٍ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: كَانَ الرَّجُلُ يُكَلِّمُ صَاحِبَهُ فِي الصَّلَاةِ بِالْحَاجَةِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاةِ الْوُسْطَى وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ سورة البقرة آية 238، فَأُمِرْنَا بِالسُّكُوتِ.

زید بن ارقم ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں (شروع میں) آدمی نماز میں اپنے ساتھ والے سے ضرورت کی باتیں کرلیا کرتا تھا، یہاں تک کہ آیت کریمہ: حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى وقوموا لله قانتين محافظت کرو نمازوں کی، اور بیچ والی نماز کی، اور اللہ کے لیے خاموش کھڑے رہو نازل ہوئی تو (اس کے بعد سے) ہمیں خاموش رہنے کا حکم دے دیا گیا (البقرہ: ٢٣٨ ) ۔

It was narrated that Zaid bin Arqam (RA) said: "We used to speak to each other during the prayer, saying whatever was necessary, at the time of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), until this verse was revealed: Guard strictly (five obligatory) As-Salawat (the prayers) especially the middle Salah (i.e. the best prayer- Asr). And stand before Allah with obedience (and do not speak to others during the Salah (prayers)), so we were commanded to be silent."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1219
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العمل فی الصلاة ٢ (١٢٠٠)، تفسیر البقرة ٤٢ (٤٥٣٤)، صحیح مسلم/المساجد ٧ (٥٣٩)، سنن ابی داود/الصلاة ١٧٨ (٩٤٩)، سنن الترمذی/فیہ ١٨١ (٤٠٥)، تفسیر البقرة (٢٩٨٦)، (تحفة الأشراف: ٣٦٦١)، مسند احمد ٤/٣٦٨ (صحیح )
1221Sunan An Nasai

دوران نماز گفتگو کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي غَنِيَّةَ وَاسْمُهُ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ وَالْقَاسِمُ بْنُ يَزِيدَ الْجَرْمِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ كُلْثُومٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَهَذَا حَدِيثُ الْقَاسِمِ، قَالَ: كُنْتُ آتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي، فَأُسَلِّمُ عَلَيْهِ فَيَرُدُّ عَلَيَّ، فَأَتَيْتُهُ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ، فَلَمَّا سَلَّمَ أَشَارَ إِلَى الْقَوْمِ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَعْنِي أَحْدَثَ فِي الصَّلَاةِ أَنْ لَا تَكَلَّمُوا إِلَّا بِذِكْرِ اللَّهِ، وَمَا يَنْبَغِي لَكُمْ، وَأَنْ تَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آتا تھا، اور آپ نماز پڑھ رہے ہوتے تھے تو میں آپ کو سلام کرتا، تو آپ مجھے جواب دیتے، (ایک بار) میں آپ کے پاس آیا، اور میں نے آپ کو سلام کیا، آپ نماز پڑھ رہے تھے تو آپ نے مجھے جواب نہیں دیا، جب آپ نے سلام پھیرا، تو لوگوں کی طرف اشارہ کیا، اور فرمایا: اللہ نے نماز میں ایک نیا حکم دیا ہے کہ تم لوگ (نماز میں) سوائے ذکر الٰہی اور مناسب دعاؤں کے کوئی اور گفتگو نہ کرو، اور اللہ کے لیے یکسو ہو کر کھڑے رہا کرو ۔

It was narrated that Abdullah bin Masud said: "I used to come to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) when he was praying, and I would greet him with Salam, he would return my greeting. Then I came to him when he was praying, and he did not return my greeting. When he said the Taslim, he pointed to the people and said: "Allah (SWT) has decreed that in the prayer you should not speak except to remember Allah (SWT), and it is not appropriate for you, and that you should stand before Allah (SWT) with obedience".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1220
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٩٥٤٣) (صحیح )
1222Sunan An Nasai

دوران نماز گفتگو کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَرُدُّ عَلَيْنَا السَّلَامَ، حَتَّى قَدِمْنَا مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ، فَأَخَذَنِي مَا قَرُبَ وَمَا بَعُدَ فَجَلَسْتُ حَتَّى إِذَا قَضَى الصَّلَاةَ، قَالَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحْدِثُ مِنْ أَمْرِهِ مَا يَشَاءُ، وَإِنَّهُ قَدْ أَحْدَثَ مِنْ أَمْرِهِ أَنْ لَا يُتَكَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم ﷺ کو سلام کرتے تھے، تو آپ ہمیں سلام کا جواب دیتے تھے، یہاں تک کہ ہم سر زمین حبشہ سے واپس آئے تو میں نے آپ کو سلام کیا، تو آپ نے مجھے جواب نہیں دیا، تو مجھے نزدیک و دور کی فکر لاحق ہوئی ١ ؎ لہٰذا میں بیٹھ گیا یہاں تک کہ جب آپ نے نماز ختم کرلی تو فرمایا: اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے نیا حکم دیتا ہے، اب اس نے یہ نیا حکم دیا ہے کہ (اب) نماز میں گفتگو نہ کی جائے ۔

It was narrated that Ibn Masud said: "We used to greet the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) with salam and he would return our salam, until we came back from the land of Ethiopia. I greeted him with salam and he did not return my greeting,a nd I started to wonder why. So I sat down; and when he finished praying, he said: Allah (SWT) decrees what He wills, and He has decreed what we should not speak during the prayer".

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1221
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی میرے دل میں طرح طرح کے وسوسے آنے لگے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ١٧٠ (٩٢٤)، مسند احمد ١/٣٧٧، ٤٠٩، ٤١٥، ٤٣٥، ٤٦٣، (تحفة الأشراف: ٩٢٧٢)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العمل فی الصلاة ٢، ١٥ (١١٩٩، ١٢١٦)، مناقب الأنصار ٣٧ (٣٨٧٥)، صحیح مسلم/المساجد ٧ (٥٣٨) (حسن صحیح )
1223Sunan An Nasai

جو شخص دو رکعات ادا کر کے بھول کر کھڑا ہوجائے اور درمیان میں وہ قعدہ نے کرے

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ، قَالَ: صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَامَ فَلَمْ يَجْلِسْ فَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ وَنَظَرْنَا تَسْلِيمَهُ، كَبَّرَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ التَّسْلِيمِ، ثُمَّ سَلَّمَ.

عبداللہ بن بحینہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم کو دو رکعت نماز پڑھائی، پھر آپ کھڑے ہوگئے اور بیٹھے نہیں، تو لوگ (بھی) آپ کے ساتھ کھڑے ہوگئے، جب آپ نے نماز مکمل کرلی، اور ہم آپ کے سلام پھیرنے کا انتظار کرنے لگے، تو آپ نے اللہ اکبر کہا، اور سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے دو سجدے کیے، پھر آپ نے سلام پھیرا۔

It was narrated that Abdullah bin Buhainah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) led us in praying two rakahs, then he stood up and did not sit, and the people stood up with him. When he finished the prayer, and we were waiting for him to say the taslim, he said the takbir and prostrated twice while sitting, before the taslim. Then he said the taslim".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1222
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١١٧٨ (صحیح )
1224Sunan An Nasai

جو شخص دو رکعات ادا کر کے بھول کر کھڑا ہوجائے اور درمیان میں وہ قعدہ نے کرے

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ قَامَ فِي الصَّلَاةِ وَعَلَيْهِ جُلُوسٌ، فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ التَّسْلِيمِ.

عبداللہ ابن بحینہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز میں کھڑے ہوگئے حالانکہ آپ کو تشہد کے لیے بیٹھنا چاہیئے تھا، تو آپ نے سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے دو سجدے کئے۔

It was narrated from Abdullah bin Buhainah that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) stood up during the prayer when he should have sat, so he prostrated twice while sitting, before the taslim.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1223
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١١٧٨ (صحیح )
1225Sunan An Nasai

جس شخص نے دو رکعت ادا کر کے بھول کر سلام پھیر دیا اور گفتگو بھی کرلی تو اب وہ شخص کیا کرے؟

أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ: قَالَأَبُو هُرَيْرَةَ: صَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى صَلَاتَيِ الْعَشِيِّ، قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَلَكِنِّي نَسِيتُ، قَالَ: فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ فَانْطَلَقَ إِلَى خَشَبَةٍ مَعْرُوضَةٍ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: بِيَدِهِ عَلَيْهَا كَأَنَّهُ غَضْبَانُ وَخَرَجَتِ السَّرَعَانُ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ، فَقَالُوا: قُصِرَتِ الصَّلَاةُ وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَهَابَاهُ أَنْ يُكَلِّمَاهُ وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ فِي يَدَيْهِ طُولٌ، قَالَ: كَانَ يُسَمَّى ذَا الْيَدَيْنِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَسِيتَ أَمْ قُصِرَتِ الصَّلَاةُ، قَالَ: لَمْ أَنْسَ وَلَمْ تُقْصَرِ الصَّلَاةُ، قَالَ: وَقَالَ: أَكَمَا قَالَ ذُو الْيَدَيْنِ، قَالُوا: نَعَمْ،فَجَاءَ فَصَلَّى الَّذِي كَانَ تَرَكَهُ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَكَبَّرَ، ثُمَّ كَبَّرَ، ثُمَّ سَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ثُمَّ كَبَّرَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ہم کو شام کی دونوں نمازوں (ظہر یا عصر) میں سے کوئی ایک نماز پڑھائی، لیکن میں بھول گیا (کہ آپ نے کون سی نماز پڑھائی تھی) تو آپ نے ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں پھر سلام پھیر دیا، پھر آپ مسجد میں لگی ایک لکڑی کی جانب گئے، اور اس پر اپنا ہاتھ رکھا، ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ گویا آپ غصہ میں ہیں، اور جلد باز لوگ مسجد کے دروازے سے نکل گئے، اور کہنے لگے: نماز کم کردی گئی ہے، لوگوں میں ابوبکر اور عمر ؓ (بھی) تھے، لیکن وہ دونوں ڈرے کہ آپ سے اس سلسلہ میں پوچھیں، لوگوں میں ایک شخص تھے جن کے دونوں ہاتھ لمبے تھے، انہیں ذوالیدین (دو ہاتھوں والا) کہا جاتا تھا، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ بھول گئے ہیں یا نماز ہی کم کردی گئی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہ تو میں بھولا ہوں، اور نہ نماز ہی کم کی گئی ہے ، آپ نے (لوگوں سے) پوچھا: کیا ایسا ہی ہے جیسے ذوالیدین کہہ رہے ہیں؟ لوگوں نے عرض کیا: جی ہاں، (ایسا ہی ہے) چناچہ آپ (مصلے پر واپس آئے) اور وہ (دو رکعتیں) پڑھیں جنہیں آپ نے چھوڑ دیا تھا، پھر سلام پھیرا، پھر اللہ اکبر کہا اور اپنے سجدوں کے جیسا یا ان سے لمبا سجدہ کیا، پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا، اور اللہ اکبر کہا، اور اپنے سجدوں کی طرح یا ان سے لمبا سجدہ کیا، پھر اپنا سر اٹھایا پھر اللہ اکبر کہا۔

It was narrated that Muhammad bin Sirin said: "Abu Hurairah said: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) led us in one of the nighttime prayers." He said: "Abu Hurairah said: But I forgot (which one). He said: He led us in praying two rakahs, then he said the taslim and went to a piece of wood that was lying in the masjid and leaned his hand on it as if he was angry. Those who were in a hurry left the masjid, and said: "The prayer has been shortened." Among the people were Abu Bakr and Umar but they hesitated to ask him for they revere him. Also among the people was a man with long hands who was known as Dhul-Yadain. He said: O Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), did you forget or has the prayer been shortened? He said: I did not forget and the prayer has not been shortened. He said: Is it as Dhul-Yadain says? They said: yes. So he came and prayed what he had missed, then he said the salam, then he said the takbir and prostrated as usual or longer than that. Then he raised his head and said the takbir, and prostrated as usual or longer than that. Then he raised his head and said the takbir".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1224
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٨٨ (٤٨٢)، والحدیث عند: صحیح البخاری/ سنن ابی داود/الصلاة ١٩٥ (١٠١١)، (تحفة الأشراف: ١٤٤٦٩)، ویأتي عند المؤلف برقم: ١٢٣٦، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٣٤ (١٢١٤)، مسند احمد ٢/٤٣٥، سنن الدارمی/الصلاة ١٧٥ (١٥٣٧) (صحیح )
1226Sunan An Nasai

جس شخص نے دو رکعت ادا کر کے بھول کر سلام پھیر دیا اور گفتگو بھی کرلی تو اب وہ شخص کیا کرے؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، انْصَرَفَ مِنَ اثْنَتَيْنِ، فَقَالَ لَهُ ذُو الْيَدَيْنِ: أَقُصِرَتِ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ، فَقَالَ النَّاسُ: نَعَمْ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،فَصَلَّى اثْنَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، ثُمَّ سَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دو ہی رکعت پر نماز ختم کردی، تو آپ سے ذوالیدین نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا نماز کم کردی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا ذوالیدین سچ کہہ رہے ہیں؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے، پھر آپ نے دو (رکعت مزید) پڑھائی، پھر سلام پھیرا، پھر آپ نے اللہ اکبر کہہ کر اپنے سجدوں کی طرح یا اس سے لمبا سجدہ کیا، پھر اپنا سر اٹھایا، پھر اپنے سجدوں کی طرح یا اس سے لمبا دوسرا سجدہ کیا، پھر اپنا سر اٹھایا۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that : The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) finished praying two rakahs,and Dhul-Yadain said to him: "Has the prayer been shortened or did you forget, O Messenger of Allah?" The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Is Dhul-Yadain speaking the truth?" The people said: "Yes." So the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) stood up and prayed two, then he said the takbir and prostrated as usual or longer than that. Then he raised his head, then he prostrated as usual or longer than that, then he sat up".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1225
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٦٩ (٧١٤)، السہود ٤ (١٢٢٨)، أخبار الآحاد ١ (٧٢٥٠)، سنن ابی داود/الصلاة ١٩٥ (١٠٠٩)، سنن الترمذی/الصلاة ١٧٦ (٣٩٩)، موطا امام مالک/الصلاة ١٥ (٥٨)، (تحفة الأشراف: ١٤٤٤٩) (صحیح )
1227Sunan An Nasai

جس شخص نے دو رکعت ادا کر کے بھول کر سلام پھیر دیا اور گفتگو بھی کرلی تو اب وہ شخص کیا کرے؟

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ مَوْلَى ابْنِ أَبِي أَحْمَدَ، أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعَصْرِ فَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ، فَقَامَ ذُو الْيَدَيْنِ، فَقَالَ: أَقُصِرَتِ الصَّلَاةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمْ نَسِيتَ، فَقَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كُلُّ ذَلِكَ لَمْ يَكُنْ، فَقَالَ: قَدْ كَانَ بَعْضُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ: أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ، فَقَالُوا: نَعَمْ، فَأَتَمَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَقِيَ مِنَ الصَّلَاةِ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَ التَّسْلِيمِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز عصر پڑھائی، تو دو ہی رکعت میں سلام پھیر دیا، ذوالیدین کھڑے ہوئے، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا نماز کم کردی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (ان دونوں میں سے) کوئی بات بھی نہیں ہوئی ہے ، ذوالیدین نے کہا: اللہ کے رسول! ان دونوں میں سے کوئی ایک بات ضرور ہوئی ہے، چناچہ رسول اللہ ﷺ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے، اور آپ نے ان سے پوچھا: کیا ذوالیدین سچ کہہ رہے ہیں؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، (سچ کہہ رہے ہیں) تو رسول اللہ ﷺ نے نماز میں سے جو رہ گیا تھا، اسے پورا، کیا پھر سلام پھیرنے کے بعد بیٹھے بیٹھے دو سجدے کیے۔

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) led us in praying Asr, and he said the salam after two rakahs. Dhul-Yadain stood up and said: Has the prayer been shortened, O Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) or did you forget? The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Neither. He said: One of them happened, O Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم). The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) turned to the people and said: Is Dhul-Yadain speaking the truth? They said: Yes. So the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) completed what was left of the prayer, then he prostrated twice when he was sitting after the taslim".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1226
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ١٩ (٥٧٣)، موطا امام مالک/الصلاة ١٥ (٥٩)، مسند احمد ٢/٤٤٧، ٤٥٩، ٥٣٢، (تحفة الأشراف: ١٤٩٤٤) (صحیح )
1228Sunan An Nasai

جس شخص نے دو رکعت ادا کر کے بھول کر سلام پھیر دیا اور گفتگو بھی کرلی تو اب وہ شخص کیا کرے؟

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَلَّى صَلَاةَ الظُّهْرِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، فَقَالُوا: قُصِرَتِ الصَّلَاةُ، فَقَامَ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز ظہر دو رکعت پڑھائی، پھر آپ نے سلام پھیر دیا، تو لوگ کہنے لگے کہ نماز کم کردی گئی ہے، تو آپ کھڑے ہوئے، اور دو رکعت مزید پڑھائی، پھر سلام پھیرا پھر دو سجدے کئے۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) prayed Zuhr with two rakahs, then said the salam. They said: "Has the prayer been shortened?" So he stood up and prayed two rakahs, then he said the salam, then he prostrated twice.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1227
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٦٩ (٦١٥)، السہو ٣ (١٢٢٧)، سنن ابی داود/الصلاة ١٩٥ (١٠١٤) مختصراً، مسند احمد ٢/٣٨٦، ٤٦٨، (تحفة الأشراف: ١٤٩٥٢) (صحیح )
1229Sunan An Nasai

جس شخص نے دو رکعت ادا کر کے بھول کر سلام پھیر دیا اور گفتگو بھی کرلی تو اب وہ شخص کیا کرے؟

أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْأَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَلَّى يَوْمًا فَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَأَدْرَكَهُ ذُو الشِّمَالَيْنِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنُقِصَتِ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ، فَقَالَ: لَمْ تُنْقَصِ الصَّلَاةُ وَلَمْ أَنْسَ، قَالَ: بَلَى، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ، قَالُوا: نَعَمْ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ رَكْعَتَيْنِ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن نماز پڑھائی تو آپ نے دو ہی رکعت پر سلام پھیر دیا، پھرجانے لگے تو آپ کے پاس ذوالشمالین ١ ؎ آئے، اور کہنے لگے: اللہ کے رسول! کیا نماز کم کردی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: نہ تو نماز کم کی گئی ہے اور نہ ہی میں بھولا ہوں ، اس پر انہوں نے عرض کیا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، ان دونوں میں سے ضرور کوئی ایک بات ہوئی ہے، رسول اللہ ﷺ نے (لوگوں سے) پوچھا: کیا ذوالیدین سچ کہہ رہے ہیں؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، تو آپ ﷺ نے لوگوں کو دو رکعتیں اور پڑھائیں۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) prayed one day and said the salam after two rakahs, then he left. Dhul-Shimalain caught up with him and said: "O Messenger of Alah, has the prayer been shortened or did you forget?" He said: "The prayer has not been shortened, and I did not forget." He said: "Yes, by the One Who sent you with the truth." The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Is Dhul-Yadain speaking the truth?" They said: Yes. So he led the people in praying two rakahs

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1228
Notes · وضاحت
١ ؎: ذوالشمالین کا نام عمیر بن عبد عمرو اور کنیت ابو محمد ہے، یہ غزوہ بدر میں شہید کر دئیے گئے تھے، اور ذوالیدین کا نام خرباق اور کنیت ابو العریان ہے، ان کی وفات عمر ؓ کے عہد خلافت میں ہوئی، سہو والے واقعہ میں ذوالشمالین کا ذکر راوی کا وہم ہے، صحیح ذوالیدین ہے، بعض لوگوں نے دونوں کو ایک ثابت کرنے کی کوشش کی ہے جو صحیح نہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٤٩٩١) (صحیح )
1230Sunan An Nasai

جس شخص نے دو رکعت ادا کر کے بھول کر سلام پھیر دیا اور گفتگو بھی کرلی تو اب وہ شخص کیا کرے؟

أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ مُوسَى الْفَرْوِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو ضَمْرَةَ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ، عَنْأَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: نَسِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ فِي سَجْدَتَيْنِ، فَقَالَ لَهُ ذُو الشِّمَالَيْنِ: أَقُصِرَتِ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ، قَالُوا: نَعَمْ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَمَّ الصَّلَاةَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ (نماز میں) بھول گئے، تو آپ نے دو ہی رکعت پر سلام پھیر دیا، تو آپ سے ذوالشمالین نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا نماز کم کردی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ رسول اللہ ﷺ نے (لوگوں سے) پوچھا: کیا ذوالیدین سچ کہہ رہے ہیں؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، (سچ کہہ رہے ہیں) تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے، پھر آپ نے نماز پوری کی۔

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forgot and said the taslim after two rakahs. Dhul-Shimalain said to him: Has the prayer been shortened or did you forget, O Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم)? The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Is Dhul-Yadain speaking the truth? They said: "Yes." So the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) stood up and completed the prayer."

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1229
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٥٣٤٤) (صحیح الإسناد )
1231Sunan An Nasai

جس شخص نے دو رکعت ادا کر کے بھول کر سلام پھیر دیا اور گفتگو بھی کرلی تو اب وہ شخص کیا کرے؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ،وَأَبِي بَكْرِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ أَوِ الْعَصْرَ، فَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ وَانْصَرَفَ، فَقَالَ لَهُ ذُو الشِّمَالَيْنِ ابْنُ عَمْرٍو: أَنُقِصَتِ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ ؟ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ، فَقَالُوا: صَدَقَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، فَأَتَمَّ بِهِمُ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ نَقَصَ،

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (ہم کو) ظہر یا عصر پڑھائی، تو آپ نے دو ہی رکعت میں سلام پھیر دیا، اور اٹھ کر جانے لگے، تو آپ سے ذوالشمالین بن عمرو نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا نماز کم کردی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ نبی اکرم ﷺ نے (لوگوں سے) پوچھا: ذوالیدین کیا کہہ رہے ہیں؟ لوگوں نے کہا: وہ سچ کہہ رہے ہیں، اللہ کے نبی! تو آپ نے ان دو رکعتوں کو جو باقی رہ گئی تھیں لوگوں کے ساتھ پورا کیا۔

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) prayed Zuhr or Asr and said the taslim following two rakahs and left. Dhul-Shimalain bin Amr said to him: Has the prayer been shortened or did you forget?" The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: What is Dhul-Yadain saying? They said: He is speaking the truth, O Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم). So he led them in praying the two rakahs that he missed."

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1230
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٤٨٥٩، ١٥٢٩٦) (صحیح الإسناد )
1232Sunan An Nasai

جس شخص نے دو رکعت ادا کر کے بھول کر سلام پھیر دیا اور گفتگو بھی کرلی تو اب وہ شخص کیا کرے؟

أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فَقَالَ لَهُ ذُو الشِّمَالَيْنِ نَحْوَهُ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: أَخْبَرَنِي هَذَا الْخَبَرَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِيهِ أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ.

ابوبکر بن سلیمان بن ابی حثمہ سے روایت ہے کہ انہیں یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دو رکعت پڑھائی، تو ذوالشمالین نے آپ سے عرض کیا، آگے حدیث اسی طرح ہے۔ ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ مجھے یہ خبر سعید بن مسیب نے ابوہریرہ کے واسطہ سے دی ہے، وہ (زہری) کہتے ہیں: نیز مجھے اس کی خبر ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن اور ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث اور عبیدالرحمن بن عبداللہ نے بھی دی ہے۔

Abu Bakr bin Sulaiman bin Abi Hathmah narrated that: It was conveyed to him that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) prayed two rakahs, and Dhul-Shimalain said something similar to him. (One of the narrators Ibn Shihab said: "Saeed bin Al-Musayyab informed me of this Hadith from Abu Hurairah." He said: "And Abu Salamah bin Abdur Rahman, Abu Bakr bin Abdur Rahman, abu Bakr bin Abdur Rahman bin Al-Harith and Ubaidullah bin Abdullah informed me."

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1231
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ١٩٥ (١٠١٣)، (تحفة الأشراف: ١٣١٨٠)، مرسلاً وموصولاً، وانظر حدیث رقم: ١٢٢٥ (صحیح )
1233Sunan An Nasai

حضرت ابوہریرہ سے روایات کا اختلاف کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سہو کے سجدے فرمائے یا نہیں؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ: لَمْ يَسْجُدْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ قَبْلَ السَّلَامِ وَلَا بَعْدَهُ.

سعید بن مسیب، ابوسلمہ، ابوبکر بن عبدالرحمٰن اور ابن ابی حثمہ چاروں ابوہریرہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس دن نہ تو سلام سے پہلے سجدہ (سہو) کیا، اور نہ ہی اس کے بعد۔

It was narrated that Abu Hurairah said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) did not prostrate that day either before the salam or after."

شاذصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1232
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٣٢٢٢)، وحدیث أبي سلمة، عن أبي ہریرة (تحفة الأشراف: ١٥٢٢٨)، وحدیث أبي بکر عبدالرحمن، (تحفة الأشراف: ١٤٨٦٩)، وحدیث أبي بکر بن سلیمان بن حثمة، (تحفة الأشراف: ١٤٨٦٠)، وأربعتہم عن أبي ہریرة، (تحفة الأشراف: ١٣١٨٠) (شاذ) (محفوظ بات یہ ہے کہ آپ نے سلام کے بعد سجدۂ سہو کیا )
1234Sunan An Nasai

حضرت ابوہریرہ سے روایات کا اختلاف کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سہو کے سجدے فرمائے یا نہیں؟

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَجَدَ يَوْمَ ذِي الْيَدَيْنِ سَجْدَتَيْنِ بَعْدَ السَّلَامِ،

عراک بن مالک ابوہریرہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ذوالیدین والے دن سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کئے۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) prostrated twice after the salam on the day of Dhul-Yadain.

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1233
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٤١٥٩) (صحیح الإسناد )
1235Sunan An Nasai

حضرت ابوہریرہ سے روایات کا اختلاف کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سہو کے سجدے فرمائے یا نہیں؟

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادِ بْنِ الْأَسْوَدِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْمُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.

محمد بن سیرین ابوہریرہ ؓ سے، اور وہ رسول اللہ ﷺ اسی کے مثل روایت کرتے ہیں۔

Narrated from Abu Hurairah: A similar report was narrated from Abu Hurairah from the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم).

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1234
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٤٤٩٨) (صحیح الإسناد )