Sunan An Nasai 1229

نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث

1229Sunan An Nasai

جس شخص نے دو رکعت ادا کر کے بھول کر سلام پھیر دیا اور گفتگو بھی کرلی تو اب وہ شخص کیا کرے؟

أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْأَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَلَّى يَوْمًا فَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَأَدْرَكَهُ ذُو الشِّمَالَيْنِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنُقِصَتِ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ، فَقَالَ: لَمْ تُنْقَصِ الصَّلَاةُ وَلَمْ أَنْسَ، قَالَ: بَلَى، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ، قَالُوا: نَعَمْ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ رَكْعَتَيْنِ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن نماز پڑھائی تو آپ نے دو ہی رکعت پر سلام پھیر دیا، پھرجانے لگے تو آپ کے پاس ذوالشمالین ١ ؎ آئے، اور کہنے لگے: اللہ کے رسول! کیا نماز کم کردی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: نہ تو نماز کم کی گئی ہے اور نہ ہی میں بھولا ہوں ، اس پر انہوں نے عرض کیا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، ان دونوں میں سے ضرور کوئی ایک بات ہوئی ہے، رسول اللہ ﷺ نے (لوگوں سے) پوچھا: کیا ذوالیدین سچ کہہ رہے ہیں؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، تو آپ ﷺ نے لوگوں کو دو رکعتیں اور پڑھائیں۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) prayed one day and said the salam after two rakahs, then he left. Dhul-Shimalain caught up with him and said: "O Messenger of Alah, has the prayer been shortened or did you forget?" He said: "The prayer has not been shortened, and I did not forget." He said: "Yes, by the One Who sent you with the truth." The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Is Dhul-Yadain speaking the truth?" They said: Yes. So he led the people in praying two rakahs

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1228
Notes · وضاحت
١ ؎: ذوالشمالین کا نام عمیر بن عبد عمرو اور کنیت ابو محمد ہے، یہ غزوہ بدر میں شہید کر دئیے گئے تھے، اور ذوالیدین کا نام خرباق اور کنیت ابو العریان ہے، ان کی وفات عمر ؓ کے عہد خلافت میں ہوئی، سہو والے واقعہ میں ذوالشمالین کا ذکر راوی کا وہم ہے، صحیح ذوالیدین ہے، بعض لوگوں نے دونوں کو ایک ثابت کرنے کی کوشش کی ہے جو صحیح نہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٤٩٩١) (صحیح )