Sunan An Nasai 1213

نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث

1213Sunan An Nasai

نماز کی حالت میں کھنکارنا

أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنِ الْحَارِثِ الْعُكْلِيِّ، عَنِ ابْنِ نُجَيٍّ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ: كَانَ لِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَدْخَلَانِ: مَدْخَلٌ بِاللَّيْلِ، وَمَدْخَلٌ بِالنَّهَارِ، فَكُنْتُ إِذَا دَخَلْتُ بِاللَّيْلِ تَنَحْنَحَ لِي.

علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس میرے آنے کے دو وقت تھے، ایک رات میں اور ایک دن میں، جب میں رات میں آپ کے پاس آتا (اور آپ نماز وغیرہ میں مشغول ہوتے) تو آپ میرے لیے کھنکھارتے ١ ؎۔

It was narrated that Ali said: "I had two times when I would enter upon the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), one at night and one during the day. When I entered at night he would clear his throat (to tell me to come in)".

ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1212
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی کھنکھار کر اندر آنے کی اجازت دیتے، اور بعض نسخوں میں تنحنح کے بجائے سبّح ہے، اور یہ زیادہ قرین قیاس ہے کیونکہ اس کے بعد والی روایت میں ہے کہ کھنکھارنا عدم اجازت کی علامت تھی، یہ بھی ممکن ہے کہ اس کی دو ہیئت رہی ہو ایک اجازت پر دلالت کرتی رہی ہو، اور دوسری عدم اجازت پر، واللہ اعلم۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٢١٢ (ضعیف الإسناد) (سند میں انقطاع ہے )