Sunan An Nasai 1214

نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث

1214Sunan An Nasai

نماز کی حالت میں کھنکارنا

أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ يَعْنِي ابْنَ مُدْرِكٍ، قَالَ: حَدَّثَنِيعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُجَيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ لِي عَلِيٌّ: كَانَتْ لِي مَنْزِلَةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ تَكُنْ لِأَحَدٍ مِنَ الْخَلَائِقِ، فَكُنْتُ آتِيهِ كُلَّ سَحَرٍ، فَأَقُولُ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، فَإِنْ تَنَحْنَحَ انْصَرَفْتُ إِلَى أَهْلِي، وَإِلَّا دَخَلْتُ عَلَيْهِ.

نجی کہتے ہیں کہ مجھ سے علی ؓ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کے یہاں میرا ایسا مقام و مرتبہ تھا جو مخلوق میں سے کسی اور کو میسر نہیں تھا، چناچہ میں آپ کے پاس ہر صبح تڑکے آتا اور کہتا السلام عليك يا نبي اللہ اللہ کے نبی! آپ پر سلامتی ہو اگر آپ کھنکھارتے تو میں اپنے گھر واپس لوٹ جاتا، اور نہیں تو میں اندر داخل ہوجاتا۔

Abdullah bin Nujayy narrated that his father said: "Ali said to me: I was so close to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), closer than anyone else. I used to come to him at the end of every night, before dawn, and say: "As-salamu alayka ya Nabiyy Allah (Peace be upon you, O Prophet of Allah)." If he cleared his throat I would go back to my family, otherwise I would enter upon him".

ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1213
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٠٢٩٢)، مسند احمد ١/٨٥ (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ” نجی “ لین الحدیث ہیں )