نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث

Sunan An Nasai · Chapter 11 · 492 hadiths · Page 16 of 25

1176Sunan An Nasai

ایک اور نوعیت کے تشہد سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قال: سَمِعْتُ أَيْمَنَ وَهُوَ ابْنُ نَابِلٍ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْجَابِرٍ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ كَمَايُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ بِسْمِ اللَّهِ وَبِاللَّهِ التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ أَسْأَلُ اللَّهَ الْجَنَّةَ وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں تشہد پڑھنا سکھاتے جیسے ہمیں قرآن کی سورة پڑھنا سکھاتے، فرماتے: بسم اللہ وباللہ التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة اللہ وبرکاته السلام علينا وعلى عباد اللہ الصالحين أشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله أسأل اللہ الجنة وأعوذ باللہ من النار۔

It was narrated that Jabir said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to teach us the tashahhud just as he would teach us a surah of the Quran: "Bismillah, wa billahi. At-tahiyyatu lillahi was-salawatu wat-tayyibat, as-salamu alaika ayyuhan-Nabiyyu wa rahmatAllahi wa baraktuhu. As-salamu alaina wa ala ibad illahis-salihin, ashahdu an la illaha ill-Allah wa ashhadu anna Muhammadan abduhu wa rasuluhu. Asal Allahal-jannah wa audhu Billahi min an-nar (Allah compliments, prayers and pure words are due to Allah. Peace be upon you, O Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), and the mercy of Allah (SWT) and his blessings. Peace be upon us and upon the righteous slaves of Allah (SWT). I bear witness that none has the right to be worshipped except Allah and I bear witness that Muhammad is His slave and Messenger. I ask Allah for Paradise and I seek refuge with Allah from the Fire).

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1175
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الإقامة ٢٤ (٩٠٢)، (تحفة الأشراف: ٢٦٦٥)، ویأتی عند المؤلف برقم: ١٢٨٢ (ضعیف) (اس کے راوی ” أیمن “ حافظہ کے کمزور ہیں، اور کسی نے اس پر ان کی متابعت نہیں کی ہے، دیکھئے اس حدیث پر خود مؤلف کا کلام حدیث رقم: ١٢٨٢ )
1177Sunan An Nasai

پہلے قعدہ کو ہلکا کرنے کا بیان

أَخْبَرَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ أَيُّوبَ الطَّالَقَانِيُّ، قال: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، قال: حَدَّثَنَاأَبِي، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِيهِ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ كَأَنَّهُ عَلَى الرَّضْفِقُلْتُ: حَتَّى يَقُومَ: قَالَ ذَلِكَ يُرِيدُ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ دوسری رکعت میں ایسا بیٹھتے جیسے گرم پتھر پر بیٹھے ہوں، راوی نے کہا: میں نے کہا: اٹھنے تک؟ تو انہوں نے (استاد نے) کہا: ہاں! یہی مراد ہے۔

t was narrated that Abdullah bin Masud said: "In the first two rakahs the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) was as if he were on stones heated by fire".

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1176
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ١٨٨ (٩٩٥)، سنن الترمذی/الصلاة ١٥٤ (٣٦٦)، (تحفة الأشراف: ٩٦٠٩)، مسند احمد ١/٣٨٦، ٤١٠، ٤٢٨، ٤٣٦، ٤٦٠ (ضعیف) (ابو عبیدہ کا ان کے والد ابن مسعود ؓ سے سماع نہیں ہے )
1178Sunan An Nasai

اگر قعدہ اولی یاد نہ رہے تو کیا کرنا ہوگا؟

أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ الْبَصْرِيُّ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنِابْنِ بُحَيْنَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَصَلَّى فَقَامَ فِي الشَّفْعِ الَّذِي كَانَ يُرِيدُ أَنْ يَجْلِسَ فِيهِ فَمَضَى فِي صَلَاتِهِ حَتَّى إِذَا كَانَ فِي آخِرِ صَلَاتِهِ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ، ثُمَّ سَلَّمَ.

ابن بحینہ (عبداللہ بن مالک) ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے نماز پڑھائی، تو دوسری رکعت میں جس میں آپ بیٹھنا چاہتے تھے کھڑے ہوگئے، اور اپنی نماز جاری رکھی، یہاں تک کہ نماز کے آخر میں سلام پھیرنے سے پہلے آپ ﷺ نے دو سجدہ کیا، پھر سلام پھیرا۔

It was narrated from Ibn Buhainah that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) prayed, then he stood up after two rakahs while he was supposed to sit, and he continued his prayer. Then at the end of his prayer, he performed two prostrations before the Salam, then he said the Salam.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1177
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٤٦ (٨٢٩)، ١٤٧ (٨٣٠)، السھو ١، ٥ (١٢٢٤، ١٢٢٥ و ١٢٣٠)، الأیمان ١٥ (٦٦٧٠)، صحیح مسلم/المساجد ١٩ (٥٧٠)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٠٠ (١٠٣٤، ١٠٣٥)، سنن الترمذی/الصلاة ١٧٢ (٣٩١)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٣١ (١٢٠٦، ١٢٠٧)، (تحفة الأشراف: ٩١٥٤)، موطا امام مالک/الصلاة ١٧ (٦٥)، مسند احمد ٥/٣٤٥، ٣٤٦، سنن الدارمی/الصلاة ١٧٦ (١٥٤٠، ١٥٤١)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: ١١٧٧، ١٢٢٣، ١٢٢٤، ١٢٦٢ (صحیح )
1179Sunan An Nasai

اگر قعدہ اولی یاد نہ رہے تو کیا کرنا ہوگا؟

أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ سَيْفٍ، قال: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنِ ابْنِ بُحَيْنَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَصَلَّى فَقَامَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ فَسَبَّحُوا فَمَضَى فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ.

ابن بحینہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے نماز پڑھائی، تو دوسری رکعت میں کھڑے ہوگئے، لوگوں نے سبحان اللہ کہا، لیکن آپ نے نماز جاری رکھی، اور جب نماز سے فارغ ہوئے تو دو سجدہ کیا، پھر سلام پھیرا۔

It was narrated from Ibn Buhainah that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) prayed and stood up following the first two rakahs, and they said (SubhanAllah). He carried on, then when he finished his prayer he performed two prostrations, then he said the Salam.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1178
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ (صحیح )
1180Sunan An Nasai

جس وقت درمیان کہ قعدہ سے فراغت ہوجائے اور پچھلی دو رکعت کے واسطے اٹھنا چاہئے تو تکبیر پڑھے

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصَمِّ، قَالَ: سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، عَنِ التَّكْبِيرِ فِي الصَّلَاةِ، فَقَالَ: يُكَبِّرُ إِذَا رَكَعَ وَإِذَا سَجَدَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ، وَإِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ، فَقَالَ حُطَيْمٌ عَمَّنْ تَحْفَظُ هَذَا، فَقَالَ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ثُمَّ سَكَتَ، فَقَالَ لَهُ حُطَيْمٌ: وَعُثْمَانُ، قَالَ: وَعُثْمَانُ.

عبدالرحمٰن بن اصم کہتے ہیں کہ انس بن مالک ؓ سے نماز میں اللہ اکبر کہنے کے سلسلہ میں پوچھا گیا، تو انہوں نے کہا: اللہ اکبر کہے جب رکوع میں جائے، اور جب سجدہ میں جائے، اور جب سجدہ سے سر اٹھائے، اور جب دوسری رکعت سے اٹھے۔ حطیم نے پوچھا: آپ نے اسے کس سے سن کر یاد کیا ہے، تو انہوں نے کہا: نبی اکرم ﷺ ، ابوبکر اور عمر ؓ سے، پھر وہ خاموش ہوگئے، تو حطیم نے ان سے کہا، اور عثمان ؓ عنہ سے بھی؟ انہوں نے کہا: اور عثمان ؓ عنہ سے بھی۔

It was narrated that Abdur-Rahman bin Al-Asamm said: "Anas bin Malik (RA) was asked about the takbir in the prayer. He said: "The takbir should be said when bowing, when prostrating, when raising ones head from prostration and when standing up following the first two rakahs. Hutaim said: From whom did you learn this? He said: From the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), Abu Bakr and Umar, may Allah (SWT) be pleased with them. Then he fell silent and Hutaim said to him: And Uthman? He said: And Uthman".

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1179
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٩٨٧)، مسند احمد ٣/١٢٥، ١٣٢، ١٧٩، ٢٥١، ٢٥٧، ٢٦٢ (صحیح الإسناد )
1181Sunan An Nasai

جس وقت درمیان کہ قعدہ سے فراغت ہوجائے اور پچھلی دو رکعت کے واسطے اٹھنا چاہئے تو تکبیر پڑھے

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْمُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: صَلَّى عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، فَكَانَ يُكَبِّرُ فِي كُلِّ خَفْضٍ وَرَفْعٍ يُتِمُّ التَّكْبِيرَ، فَقَالَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ: لَقَدْ ذَكَّرَنِي هَذَا صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

مطرف بن عبداللہ کہتے ہیں کہ علی بن ابی طالب ؓ نے نماز پڑھی، تو وہ ہر جھکنے اور اٹھنے میں اللہ اکبر کہتے تھے، اور تکبیر پوری کرتے تھے (اس میں کوئی کمی نہیں کرتے تھے) تو عمران بن حصین ؓ نے کہا: اس شخص نے مجھے رسول اللہ ﷺ کی نماز یاد دلا دی۔

It was narrated that Mutarrif bin Abdullah said: "Ali bin Abi Talib prayed, and he said the takbir every time he went down and came up, in all movements of the prayer. Imran bin Husain said: This reminds me of the prayer of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم)".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1180
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٠٨٣ (صحیح )
1182Sunan An Nasai

جس وقت پچھلی دو رکعت کے واسطے اٹھے تو دونوں ہاتھ اٹھائے

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا قَامَ مِنَ السَّجْدَتَيْنِ، كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ كَمَا صَنَعَ حِينَ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ.

ابو حمید ساعدی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب دونوں رکعتوں سے کھڑے ہوتے تو اللہ اکبر کہتے، اور رفع یدین کرتے یہاں تک کہ دونوں ہاتھوں کو اپنے مونڈھوں کے برابر لے جاتے، جیسے وہ نماز شروع کرتے وقت کرتے تھے۔

It was narrated from Abu Humaid As-Saidi that: When the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) stood up following two prostrations, he would say the takbir and raise his hands until they were level with his shoulders, as he had done at the beginning of the prayer.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1181
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ١٠٤٠ (صحیح )
1183Sunan An Nasai

قعدہ اولی کے بعد دونوں ہاتھ کندھوں تک اٹھانا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، وَإِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ يَرْفَعُ يَدَيْهِ كَذَلِكَ حَذْوَ الْمَنْكِبَيْنِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے تھے جب نماز میں داخل ہوتے، اور جب رکوع کا ارادہ کرتے، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے، اور دو رکعتوں کے بعد جب کھڑے ہوتے تو بھی اپنے ہاتھوں کو مونڈھوں کے بالمقابل اٹھاتے تھے۔

It was narrated from Ibn Umar that : The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) used to raise his hands when he began to pray, when he wanted to bow, when he raised his head from bowing, and when he stood up after the first two rakahs, he would raise his hands likewise, level with his shoulders.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1182
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٦٨٧٦) (صحیح )
1184Sunan An Nasai

دونوں ہاتھوں کا اوپر اٹھانا اور بحالت نماز خداوند قدوس کی تعریف کرنا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ عُمَرَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُصْلِحُ بَيْنَ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَجَاءَ الْمُؤَذِّنُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَجْمَعَ النَّاسَ وَيَؤُمَّهُمْ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَقَ الصُّفُوفَ حَتَّى قَامَ فِي الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ، وَصَفَّحَ النَّاسُ بِأَبِي بَكْرٍ لِيُؤْذِنُوهُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ لَا يَلْتَفِتُ فِي الصَّلَاةِ، فَلَمَّا أَكْثَرُوا عَلِمَ أَنَّهُ قَدْ نَابَهُمْ شَيْءٌ فِي صَلَاتِهِمْ، فَالْتَفَتَ فَإِذَا هُوَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْ كَمَا أَنْتَ، فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ يَدَيْهِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ رَجَعَ الْقَهْقَرَى، وَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ: مَا مَنَعَكَ إِذْ أَوْمَأْتُ إِلَيْكَ أَنْ تُصَلِّيَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: مَا كَانَ يَنْبَغِي لِابْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يَؤُمَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ لِلنَّاسِ: مَا بَالُكُمْ صَفَّحْتُمْ إِنَّمَا التَّصْفِيحُ لِلنِّسَاءِ، ثُمَّ قَالَ: إِذَا نَابَكُمْ شَيْءٌ فِي صَلَاتِكُمْ فَسَبِّحُوا.

سہل بن سعد ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ قبیلہ بنی عمرو بن عوف کے درمیان صلح کرانے گئے تھے کہ نماز کا وقت ہوگیا، تو مؤذن ابوبکر ؓ کے پاس آیا، اور اس نے ان سے لوگوں کو جمع کر کے ان کی امامت کرنے کے لیے کہا (چنانچہ انہوں نے امامت شروع کردی) اتنے میں رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے، اور صفوں کو چیر کر اگلی صف میں آ کر کھڑے ہوگئے، لوگ ابوبکر ؓ کو تالیاں بجانے لگے تاکہ انہیں رسول اللہ ﷺ کی آمد کی خبر دے دیں، جب لوگوں نے کثرت سے تالیاں بجائیں تو انہیں احساس ہوا کہ نماز میں کوئی چیز ہوگئی ہے، تو وہ متوجہ ہوئے، تو کیا دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے ہیں ابوبکر ؓ نماز میں کسی اور طرف دھیان نہیں کرتے تھے رسول اللہ ﷺ نے انہیں اشارہ کیا کہ جیسے ہو ویسے ہی رہو، رسول اللہ ﷺ کے اس کہنے پر ابوبکر ؓ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر اللہ کی حمد و ثنا کی، پھر وہ الٹے پاؤں پیچھے آگئے، اور رسول اللہ ﷺ آگے بڑھ گئے، پھر آپ نے نماز پڑھائی، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو ابوبکر ؓ سے پوچھا: تم نے نماز کیوں نہیں پڑھائی، جب میں نے تمہیں اشارہ کردیا تھا؟ تو ابوبکر ؓ نے کہا: ابوقحافہ کے بیٹے کو یہ بات زیب نہیں دیتی کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی امامت کرے، پھر آپ ﷺ نے لوگوں سے کہا: تمہیں کیا ہوگیا تھا کہ تم تالیاں بجا رہے تھے، تالیاں تو عورتوں کے لیے ہے ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: جب تمہیں تمہاری نماز میں کوئی چیز پیش آجائے، تو تم سبحان اللہ کہو ۔

It was narrated that Sahl bin Sad said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) set out to bring about reconciliation among Banu Amr bin Awf. The time for prayer came, and the Muadhdhin went to Abu Bakr to tell him to gather the people and lead them in prayer. Then the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) came and passed though the rows until he stood in the first row. The people started clapping to let Abu Bakr know that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) had come. Abu Bakr never used to turn around when he prayed, but when they clapped consistently he realized something must have happened while they were praying. So he turned around and saw the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم). The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) gestured to him to stay where he was. Abu Bakr raised his hands and praised and thanked Allah (SWT) for what the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) had said. Then, he moved backwards, and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) went forward and prayed. When he finished, he said to Abu Bakr: What stopped you from continuing to pray when I gestured to you? Abu Bakr, may Allah (SWT) be pleased with him, said: It was not appropriate for the son of Abu Quhafah to lead the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) in prayer. Then he said to the people: Why did you clap? Clapping is for women. Then he said: If you notice something when you are praying, say "SubhanAllah".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1183
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٢٢ (٤٢١)، مسند احمد ٥/٣٣٢، (تحفة الأشراف: ٤٧٣٣) (صحیح )
1185Sunan An Nasai

بحالت نماز ہاتھ اٹھا کر سلام کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْثَرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَحْنُ رَافِعُو أَيْدِينَا فِي الصَّلَاةِ، فَقَالَ: مَا بَالُهُمْ رَافِعِينَ أَيْدِيَهُمْ فِي الصَّلَاةِ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ الْخَيْلِ الشُّمُسِ، اسْكُنُوا فِي الصَّلَاةِ.

جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے، اور ہم نماز میں اپنے ہاتھ اٹھا اٹھا کر سلام کر رہے تھے ١ ؎ تو آپ نے فرمایا: لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ نماز میں اپنے ہاتھ اٹھا رہے ہیں گویا وہ شریر گھوڑوں کی دم ہیں، نماز میں سکون سے رہا کرو ۔

It was narrated that Jabir bin Samurah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) came out to us and we were raising our hands during the Salah. He said: Why are you raising your hands while praying, like the tails of wild horses? Stay still when you are praying".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1184
Notes · وضاحت
١ ؎: جیسا کہ اگلی روایت میں فنسلم بأیدینا کے الفاظ آ رہے ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٢٧ (٤٣٠)، سنن ابی داود/الصلاة ١٦٧ (٩١٢)، ١٨٩ (١٠٠٠)، (تحفة الأشراف: ٢١٢٨)، مسند احمد ٥/٨٦، ٨٨، ٩٣، ١٠١، ١٠٢، ١٠٧ (صحیح )
1186Sunan An Nasai

بحالت نماز ہاتھ اٹھا کر سلام کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ابْنِ الْقِبْطِيَّةِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنُسَلِّمُ بِأَيْدِينَا، فَقَالَ: مَا بَالُ هَؤُلَاءِ يُسَلِّمُونَ بِأَيْدِيهِمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمُسٍ ؟ أَمَا يَكْفِي أَحَدُهُمْ أَنْ يَضَعَ يَدَهُ عَلَى فَخِذِهِ، ثُمَّ يَقُولَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمُ، السَّلَامُ عَلَيْكُمْ.

جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے پیچھے نماز پڑھتے، اور اپنے ہاتھ اٹھا کر سلام کرتے تھے، اس پر آپ نے فرمایا: ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ یہ اپنے ہاتھ اٹھا اٹھا کر سلام کرتے ہیں گویا کہ یہ شریر گھوڑوں کی دم ہیں، کیا ان کے لیے یہ کافی نہیں کہ وہ اپنے ہاتھ اپنی ران پر رکھیں پھر السلام عليكم، السلام عليكم کہیں ۔

It was narrated that Jabir bin Samurah said: "We used to pray behind the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and we would greet (others) with our hands. He said: What is the matter with those who greet (others) with their hands as if they were tails of wild horses? It is sufficient for any one of you to put his hand on his thigh and say: "As-salamu alaikum, as-salamu alaikum".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1185
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ صحیح مسلم/الصلاة ٢٧ (٤٣١)، سنن ابی داود/الصلاة ١٨٩ (٩٩٨، ٩٩٩)، مسند احمد ٥/٨٦، ٨٨، ١٠٢، ١٠٧، (تحفة الأشراف: ٢٢٠٧)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: ١٣١٩، ١٣٢٧ (صحیح )
1187Sunan An Nasai

نماز کی حالت میں سلام کا جواب اشارہ سے دینا کیسا ہے

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ نَابِلٍ صَاحِبِ الْعَبَاءِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ صُهَيْبٍصَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَرَرْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَرَدَّ عَلَيَّ إِشَارَةً، وَلَا أَعْلَمُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: بِإِصْبَعِهِ.

صحابی رسول صہیب ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس سے گزرا، اور آپ نماز پڑھ رہے تھے تو میں نے آپ کو سلام کیا، تو آپ نے مجھے اشارے سے جواب دیا، (ابن عمر ؓ کہتے ہیں) اور میں یہی جانتا ہوں کہ صہیب ؓ نے کہا کہ آپ ﷺ نے اپنی انگلی سے اشارہ کیا۔

It was narrated that Suhaib, the Companion of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "I passed by the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) when he was praying, and greeted him with Salam. He returned my greeting with a gesture, or maybe it was just with his finger".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1186
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ١٧٠ (٩٢٥)، سنن الترمذی/فیہ ١٥٥ (٣٦٧)، (تحفة الأشراف: ٤٩٦٦)، مسند احمد ٤/٣٣٢، سنن الدارمی/الصلاة ٩٤ (١٤٠١) (صحیح )
1188Sunan An Nasai

نماز کی حالت میں سلام کا جواب اشارہ سے دینا کیسا ہے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْمَكِّيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زَيْدِ ابْنِ أَسْلَمَ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عُمَرَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسْجِدَ قُبَاءَ لِيُصَلِّيَ فِيهِ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ رِجَالٌ يُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ، فَسَأَلْتُ صُهَيْبًا وَكَانَ مَعَهُ: كَيْفَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ إِذَا سُلِّمَ عَلَيْهِ ؟ قَالَ: كَانَ يُشِيرُ بِيَدِهِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ مسجد قباء میں نماز پڑھنے کے لیے داخل ہوئے، تو لوگ ان کے پاس سلام کرنے کے لیے آئے، میں نے صہیب ﷺ سے پوچھا (وہ آپ کے ساتھ تھے) کہ نبی اکرم ﷺ سے جب سلام کیا جاتا تھا تو آپ کیسے جواب دیتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: آپ اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے تھے۔

It was narrated that Zaid bin Aslam said: "Ibn Umar said: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) entered the Masjid of Quba to pray there, then some men came in and greeted him with Salam. I asked Suhaib, who was with him: What did the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) do when he was greeted? He said: He used to gesture with his hand".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1187
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الإقامة ٥٩ (١٠١٧)، (تحفة الأشراف: ٤٩٦٧) (صحیح )
1189Sunan An Nasai

نماز کی حالت میں سلام کا جواب اشارہ سے دینا کیسا ہے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبٌ يَعْنِي ابْنَ جَرِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْمُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ: أَنَّهُ سَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي فَرَدَّ عَلَيْهِ.

عمار بن یاسر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو سلام کیا، اور آپ نماز پڑھ رہے تھے، تو آپ نے انہیں (اشارے سے) جواب دیا۔

It was narrated from Ammar bin Yasir that: He greeted the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) with the Salam when he was praying, and he returned the greeting.

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1188
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، مسند احمد ٤/٢٦٣، (تحفة الأشراف: ١٠٣٦٧) (صحیح الإسناد )
1190Sunan An Nasai

نماز کی حالت میں سلام کا جواب اشارہ سے دینا کیسا ہے

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَةٍ ثُمَّأَدْرَكْتُهُ وَهُوَ يُصَلِّي، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَأَشَارَ إِلَيَّ، فَلَمَّا فَرَغَ دَعَانِي، فَقَالَ: إِنَّكَ سَلَّمْتَ عَلَيَّ آنِفًا وَأَنَا أُصَلِّي، وَإِنَّمَا هُوَ مُوَجَّهٌ يَوْمَئِذٍ إِلَى الْمَشْرِقِ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے کسی ضرورت کے لیے بھیجا، جب میں (واپس آیا تو) میں نے آپ کو نماز پڑھتے ہوئے پایا، تو میں نے (اسی حالت میں) آپ کو سلام کیا، تو آپ نے مجھے اشارے سے جواب دیا، جب آپ نماز پڑھ چکے تو مجھے بلایا، اور فرمایا: تم نے ابھی مجھے سلام کیا تھا، اور میں نماز پڑھ رہا تھا ، اور اس وقت آپ پورب کی طرف رخ کیے ہوئے تھے ١ ؎۔

It was narrated that Jabir said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) sent me on an errand then I came back to him while he was praying. I greeted him with the salam and he gestured to me. When he finished he called me and said: You greeted me with Salam just now and I was praying. And he was facing toward the east that day".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1189
Notes · وضاحت
١ ؎: مقصود یہ ہے کہ اس وقت آپ کا چہرہ قبلہ کی طرف نہیں تھا اس لیے مجھے یہ اندازہ نہیں ہوسکا کہ آپ نماز میں ہیں، اس لیے آپ نے بعد میں بلا کر وضاحت کی، اور پورب کی طرف رخ ہونے کی وجہ یہ تھی کہ آپ اس وقت اپنی سواری پر تھے، اور سواری قبلہ سے پورب کی طرف متوجہ ہوگئی تھی۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٧ (٥٤٠)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٥٩ (١٠١٨)، مسند احمد ٣/٣٣٤، (تحفة الأشراف: ٢٩١٣) (صحیح )
1191Sunan An Nasai

نماز کی حالت میں سلام کا جواب اشارہ سے دینا کیسا ہے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَعْلَبَكِّيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ يَسِيرُ مُشَرِّقًا أَوْ مُغَرِّبًا، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَأَشَارَ بِيَدِهِ، ثُمَّ سَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَأَشَارَ بِيَدِهِ، فَانْصَرَفْتُ فَنَادَانِي: يَا جَابِرُ، فَنَادَانِي النَّاسُ: يَا جَابِرُ، فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ: إِنِّي سَلَّمْتُ عَلَيْكَ فَلَمْ تَرُدَّ عَلَيَّ، قَالَ: إِنِّي كُنْتُ أُصَلِّي.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ مجھے نبی اکرم ﷺ نے (کسی ضرورت سے) بھیجا، میں (لوٹ کر) آپ کے پاس آیا تو آپ (سواری پر) مشرق یا مغرب کی طرف جا رہے تھے، میں نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا، میں واپس ہونے لگا تو آپ نے مجھے آواز دی: اے جابر! (تو میں نے نہیں سنا) پھر لوگوں نے بھی مجھے جابر کہہ کر (بلند آواز سے) پکارا، تو میں آپ کے پاس آیا، اور آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے آپ کو سلام کیا مگر آپ نے مجھے جواب نہیں دیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: میں نماز پڑھ رہا تھا ۔

It was narrated that Jabir said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) sent me on an errand, then I came back to him while he was facing the east or the west. I greeted him with salam and he gestured to me. Then when he finished he called me and said: "O Jabir!" So I came and said: "O Messenger of Allah, I greeted you with Salam but you did not answer." He said: I was praying.

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1190
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٢٨٩٨) (صحیح )
1192Sunan An Nasai

نماز کے دوران کنکریوں کو ہٹانا منع ہے

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلَا يَمْسَحِ الْحَصَى، فَإِنَّ الرَّحْمَةَ تُوَاجِهُهُ.

ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز کے لیے کھڑا ہو تو وہ کنکری پر ہاتھ نہ پھیرے، کیونکہ رحمت اس کا سامنا کر رہی ہوتی ہے ۔

was narrated that Abu Dharr said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: When any one of you stands in prayer, let him not smooth the pebbles, for he is facing Mercy".

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1191
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ١٧٥ (٩٤٥)، سنن الترمذی/الصلاة ١٦٣ (٣٧٩)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٦٢ (١٠٢٧)، (تحفة الأشراف: ١١٩٩٧)، مسند احمد ٥/١٤٩، ١٥٠، ١٦٣، ١٧٩، سنن الدارمی/الصلاة ١١٠ (١٤٢٨) (ضعیف) (اس کے راوی ” أبو الأحوص “ لین الحدیث ہیں )
1193Sunan An Nasai

ایک مرتبہ کنکریوں کو ہٹانے کی اجازت سے متعلق

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُعَيْقِيبٌ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنْ كُنْتَ لَا بُدَّ فَاعِلًا فَمَرَّةً.

معیقب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: اگر تمہیں (کنکریوں پر) ہاتھ پھیرنا ضروری ہی ہو تو ایک بار پھیر سکتے ہو ۔

Abu Salamah bin Abdur-Rahman said: "Muaiqib told me that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: If you have to do that, then do it only once".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1192
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العمل فی ال صلاة ٨ (١٢٠٧)، صحیح مسلم/المساجد ١٢ (٥٤٦)، سنن ابی داود/الصلاة ١٧٥ (٩٤٦)، سنن الترمذی/الصلاة ١٦٣ (٣٨٠)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٦٢ (١٠٢٦)، مسند احمد ٣/٤٢٦ و ٥/٤٢٥، ٤٢٦، سنن الدارمی/الصلاة ١١٠ (١٤٢٧)، (تحفة الأشراف: ١١٤٨٥) (صحیح )
1194Sunan An Nasai

بحالت نماز آسمان کی جانب دیکھنے کی ممانعت سے متعلق

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ وَشُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَرْفَعُونَ أَبْصَارَهُمْ إِلَى السَّمَاءِ فِي صَلَاتِهِمْ، فَاشْتَدَّ قَوْلُهُ فِي ذَلِكَ حَتَّى قَالَ: لَيَنْتَهُنَّ عَنْ ذَلِكَ أَوْ لَتُخْطَفَنَّ أَبْصَارُهُمْ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ نماز میں اپنی نگاہوں کو آسمان کی جانب اٹھاتے ہیں ، آپ نے بڑی سخت بات اس سلسلہ میں کہی یہاں تک کہ آپ نے فرمایا: وہ اس سے باز آجائیں ورنہ ان کی نظریں اچک لی جائیں گی ۔

It was narrated from Anas bin Malik (RA) that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "What is the matter with people who lift their gaze to the sky when praying"? And he spoke sternly concerning that until he said: "They must stop that or they will certainly lose their eyesight".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1193
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٩٢ (٧٥٠)، سنن ابی داود/الصلاة ١٦٧ (٩١٣)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٦٨ (١٠٤٤)، (تحفة الأشراف: ١١٧٣)، مسند احمد ٣/١٠٩، ١١٢، ١١٥، ١١٦، ١٤٠، ٢٥٨، سنن الدارمی/الصلاة ٦٧ (١٣٤٠) (صحیح )
1195Sunan An Nasai

بحالت نماز آسمان کی جانب دیکھنے کی ممانعت سے متعلق

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ، فَلَا يَرْفَعْ بَصَرَهُ إِلَى السَّمَاءِ أَنْ يُلْتَمَعَ بَصَرُهُ.

ایک صحابی رسول ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جب تم میں سے کوئی نماز میں ہو تو وہ اپنی نظروں کو آسمان کی طرف نہ اٹھائے، ایسا نہ ہو کہ اس کی نظر اچک لی جائے ۔

It was narrated from Ubaidullah bin Abdullah that: A man from among the companions of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) told him that he heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: If any one of you in praying, let him not lift his gaze to the sky, or his eyesight will be taken away".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1194
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٥٦٣٤)، مسند احمد ٣/٤٤١ و ٥/٢٩٥ (صحیح )