نماز میں ادھر ادھر دیکھنے کی اجازت
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَلْتَفِتُ فِي صَلَاتِهِ يَمِينًا وَشِمَالًا وَلَا يَلْوِي عُنُقَهُ خَلْفَ ظَهْرِهِ.
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنی نماز میں دائیں بائیں متوجہ ہوتے تھے ١ ؎ لیکن آپ اپنی گردن اپنی پیٹھ کے پیچھے نہیں موڑتے تھے۔
It was narrated that Ibn Abbas said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to turn to his right and left when praying, but he did not twist his neck to look behind him".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1201
Notes · وضاحت
١ ؎: اسے نفل نماز پر محمول کرنا اولیٰ ہے، جیسا کہ سنن ترمذی میں انس ؓ کی حدیث میں اس کی صراحت ہے، اور فرض میں بوقت اشد ضرورت ایسا کیا جاسکتا ہے جیسا کہ اگلی حدیث میں آ رہا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٢٩٦ (الجمعة ٦٠) (٥٨٧)، (تحفة الأشراف: ٦٠١٤)، مسند احمد ١/٢٧٥، ٣٠٤ (صحیح )