میقاتوں سے متعلق احادیث

Sunan An Nasai · Chapter 23 · 435 hadiths · Page 8 of 22

2793Sunan An Nasai

ہدی کے گلے میں دو جوتے لٹکانے سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتَوَائِيُّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ الْأَعْرَجِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَتَى ذَا الْحُلَيْفَةِأَشْعَرَ الْهَدْيَ مِنْ جَانِبِ السَّنَامِ الْأَيْمَنِ، ثُمَّ أَمَاطَ عَنْهُ الدَّمَ، ثُمَّ قَلَّدَهُ نَعْلَيْنِ، ثُمَّ رَكِبَ نَاقَتَهُ، فَلَمَّا اسْتَوَتْ بِهِ الْبَيْدَاءَ أَحْرَمَ بِالْحَجِّ وَأَحْرَمَ عِنْدَ الظُّهْرِ وَأَهَلَّ بِالْحَجِّ.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب ذوالحلیفہ پہنچے تو ہدی کے داہنی کوہان کی جانب اشعار کیا، پھر اس کا خون صاف کیا، پھر اس کے گلے میں دو جوتے ڈالے، پھر اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے تو جب وہ بیداء میں آپ لے کر پورے طور پر کھڑی ہوگئی تو آپ نے حج کا احرام باندھا اور ظہر کے وقت احرام باندھا، اور حج کا تلبیہ پکارا۔

It was narrated from Ibn ‘Abbas that when the Messenger of Allah ﷺ came to Dhul-Hulaifah he marked the Hadi on the right side of its hump, then removed the blood from it, then he garlanded it with two shoes and mounted his she-camel. When it stood up with him in Al-Baida’, he began the Talbiyah for Hajj and he entered Ihram at noon. (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2791
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٧٨٤ (صحیح )
2794Sunan An Nasai

اگر قربانی کے جانور کے گلے میں ہار ڈالے تو کیا اس وقت احرام بھی باندھے؟

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا كَانُوا حَاضِرِينَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ، بَعَثَ بِالْهَدْيِ، فَمَنْ شَاءَ أَحْرَمَ، وَمَنْ شَاءَ تَرَكَ.

جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے ہدی بھیجی تو سب لوگ مدینہ میں موجود تھے تو جس نے چاہا احرام باندھا اور جس نے چاہا نہیں باندھا ١ ؎۔

It was narrated from Jabir, that when they were present with the Messenger of Allah ﷺ in Al-Madinah, he sent the Hadi, and whoever wanted to enter Ihram did so, and whoever did not want to, did not. (Sahih)

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2792
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو شخص ہدی بھیجے اسے اختیار ہے چاہے وہ محرم ہو کر رہے چاہے غیر محرم۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٢٩٢٨)، مسند احمد (٣/٣٥٠) (صحیح الإسناد )
2795Sunan An Nasai

کیا قربانی کے جانور کے گلے میں ہار ڈالنے پر احرام باندھنا لازم ہے؟

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْعَائِشَةَ، قَالَتْ: كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ، ثُمَّ يُقَلِّدُهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ، ثُمَّ يَبْعَثُ بِهَا مَعَ أَبِي، فَلَا يَدَعُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا أَحَلَّهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ حَتَّى يَنْحَرَ الْهَدْيَ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی ہدی کے ہار اپنے ہاتھوں سے بٹتی تھی، رسول اللہ ﷺ اپنے ہاتھ سے اسے ہدی کے گلے میں ڈالتے تھے اور اسے میرے والد کے ساتھ بھیجتے تھے تو رسول اللہ ﷺ کسی بھی ایسی چیز کا استعمال ترک نہیں کرتے تھے جسے اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے حلال کر رکھی ہے یہاں تک کہ ہدی کو نحر کرتے۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “I used to twist the garlands for the Hadi of the Messenger of Allah ﷺ with my own hands, then the Messenger of Allah ﷺ would garland them with his own hand. Then he would send them with my father and the Messenger of Allah ﷺ would not refrain from anything that Allah, the Mighty and Sublime, has permitted until the Hadi was sacrificed.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2793
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٧٧٧ (صحیح )
2796Sunan An Nasai

کیا قربانی کے جانور کے گلے میں ہار ڈالنے پر احرام باندھنا لازم ہے؟

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَقُتَيْبَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ لَا يَجْتَنِبُ شَيْئًا مِمَّا يَجْتَنِبُهُ الْمُحْرِمُ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی ہدی کے ہار بٹتی تھی پھر آپ کسی چیز سے پرہیز نہیں کرتے تھے جس سے محرم پرہیز کرتا ہے۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “I used to twist the garlands for the Hadi of the Messenger of Allah ﷺ. Then he would not avoid anything that the Muhrim avoids.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2794
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ١٠٨ (١٧٠٠)، الوکالة ١٤ (٢٣١٧)، صحیح مسلم/الحج ٦٤ (١٣٢١)، (تحفة الأشراف: ١٧٨٩٩)، موطا امام مالک/الحج ١٥ (٥١)، مسند احمد (٦/١٨٠) (صحیح )
2797Sunan An Nasai

کیا قربانی کے جانور کے گلے میں ہار ڈالنے پر احرام باندھنا لازم ہے؟

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ يُحَدِّثُ، عَنْأَبِيهِ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا يَجْتَنِبُ شَيْئًا، وَلَا نَعْلَمُ الْحَجَّ، يُحِلُّهُ إِلَّا الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی ہدی کے ہار بٹتی تھی تو آپ کسی چیز سے پرہیز نہیں کرتے تھے، اور ہم نہیں جانتے کہ حج سے (حاجی کو) بیت اللہ کے طواف ١ ؎ کے علاوہ بھی کوئی چیز حلال کرتی ہے۔

Aishah (RA) said: “I used to twist the garlands for the Hadi of the Messenger of Allah ﷺ Then he would not avoid anything.” She said: “We do not know that the pilgrim may exit Ihram fully except by performing Tawaf.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2795
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی طواف زیارت کے بعد ہی حاجی پورے طور سے حلال ہوتا ہے، رہا حلق تو اس سے کلی طور پر حلال نہیں ہوتا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٦٤ (١٣٢١)، (تحفة الأشراف: ١٧٤٨٧) (صحیح) (حدیث کا آخری ٹکڑا ” لانعلم “ صحیح مسلم میں نہیں ہے )
2798Sunan An Nasai

کیا قربانی کے جانور کے گلے میں ہار ڈالنے پر احرام باندھنا لازم ہے؟

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: إِنْ كُنْتُ لَأَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيُخْرَجُ بِالْهَدْيِ مُقَلَّدًا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُقِيمٌ مَا يَمْتَنِعُ مِنْ نِسَائِهِ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی قربانی کے جانور کے ہار بٹتی تھی، وہ ہار پہنا کر روانہ کردیئے جاتے، اور رسول اللہ ﷺ مقیم ہی رہتے اور اپنی بیویوں سے پرہیز نہیں کرتے۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “I used to twist the garlands for the Hadi of the Messenger of Allah ﷺ and the Hadi would be taken out garlanded, and the Messenger of Allah ﷺ would stay (with his family) and not refrain from (intimacy with) his wives.”(Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2796
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٦٠٣٦) (صحیح )
2799Sunan An Nasai

کیا قربانی کے جانور کے گلے میں ہار ڈالنے پر احرام باندھنا لازم ہے؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائَشَةَ، قَالَتْ: لَقَدْ رَأَيْتُنِي أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْغَنَمِ، فَيَبْعَثُ بِهَا، ثُمَّ يُقِيمُ فِينَا حَلَالًا.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے اپنے آپ کو رسول اللہ ﷺ کی ہدی کی بکریوں کے ہار بٹتے دیکھا، آپ انہیں پہنا کر بھیج دیتے تھے، پھر ہمارے درمیان حلال شخص کی حیثیت سے رہتے تھے (کسی چیز سے پرہیز نہیں کرتے تھے) ۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “I remember twisting the garlands for the sacrificial sheep of the Messenger of Allah ﷺ, then he sent them and stayed with us as a non-Muhrim (not in a state of Ihram).” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2797
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٧٨١ (صحیح )
2800Sunan An Nasai

قربانی کا جانور کو ساتھ لے جانے سے متعلق

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاق، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْأَبِيهِ سَمِعَهُ يُحَدِّثُ، عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ سَمِعَهُ يُحَدِّثُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَسَاقَ هَدْيًا فِي حَجِّهِ.

جابر رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ اپنے ساتھ حج میں ہدی لے کر گئے۔

It was narrated that Jabir said that the Prophet ﷺ drove a Hadi during his Hajj. (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2798
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٢٦٢٠) (صحیح )
2801Sunan An Nasai

ہدی کے جانور پر سوار ہونا

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَسُوقُ بَدَنَةً، قَالَ: ارْكَبْهَا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا بَدَنَةٌ، قَالَ: ارْكَبْهَا، وَيْلَكَ، فِي الثَّانِيَةِ، أَوْ فِي الثَّالِثَةِ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ قربانی کے اونٹ کو ہانک کرلے جا رہا ہے آپ نے فرمایا: اس پر سوار ہو جاؤ، اس نے کہا: اللہ کے رسول! ہدی کا اونٹ ہے۔ آپ نے (پھر) فرمایا: سوار ہو جاؤ، تمہارا، برا ہو، راوی کو شک ہے ويلك تمہارا برا ہو ١ ؎ کا کلمہ آپ نے دوسری بار میں کہا یا تیسری بار میں۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ saw a man driving a Badanah (sacrificial camel) and said: “Ride it.” He said: “Messenger of Allah ﷺ, it is a Badanah.” He said: “Ride it, woe to you!” the second or third time. (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2799
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے یہاں بدعا مقصود نہیں بلکہ زجر و توبیخ مراد ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ١٠٣ (١٦٨٩)، ١١٢ (١٧٠٦)، الوصایا ١٢ (٢٧٥٥)، الأدب ٩٥ (٦١٦٠)، صحیح مسلم/الحج ٦٥ (١٣٢٢)، سنن ابی داود/الحج ١٨ (١٧٦٠)، (تحفة الأشراف: ١٣٠٨١)، موطا امام مالک/الحج ٤٥ (١٣٩)، مسند احمد (٢/٢٥٤، ٢٧٨، ٣١٢، ٤٦٤، ٤٧٤، ٤٨١، ٤٨٧، ٥٠٥) (صحیح )
2802Sunan An Nasai

ہدی کے جانور پر سوار ہونا

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَسُوقُ بَدَنَةً، فَقَالَ: ارْكَبْهَاقَالَ: إِنَّهَا بَدَنَةٌ، قَالَ: ارْكَبْهَاقَالَ: إِنَّهَا بَدَنَةٌ، قَالَ فِي الرَّابِعَةِ: ارْكَبْهَا وَيْلَكَ.

انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ قربانی کا اونٹ اپنے ساتھ ہانکے لیے جا رہا ہے، آپ نے فرمایا: اس پر سوار ہو جاؤ، اس نے کہا: یہ قربانی کا اونٹ ہے، آپ نے (پھر) فرمایا: اس پر سوار ہو جاؤ، اس نے کہا: یہ قربانی کا اونٹ ہے، آپ نے چوتھی مرتبہ فرمایا: سوار ہوجاؤ تیرا برا ہو ۔

It was narrated from Anas that: the Messenger of Allah ﷺ saw a man driving a Badanah and said: "Ride it." He said: "It is Badanah." He said: "Ride it." He said: "It is a Badanah." The fourth time he said: Ride it, woe to you!

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2800
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٢١٩)، مسند احمد (٣/١٧٠)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج ١٠٣ (١٦٩٠)، الوصایا ١٢ (٢٧٥٤)، الأدب ٩٥ (٦١٥٩)، صحیح مسلم/الحج ٦٥ (١٣٢٣)، مسند احمد (٣/٩٩، ١٧٠، ١٧٣، ٢٠٢، ٢٣١، ٢٤٣، ٢٧٥، ٢٧٦، ٢٩١) (صحیح )
2803Sunan An Nasai

جو شخص تھک جائے وہ ہدی کے جانور پر سوار ہوسکتا ہے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَسُوقُ بَدَنَةً وَقَدْ جَهَدَهُ الْمَشْيُ، قَالَ: ارْكَبْهَاقَالَ: إِنَّهَا بَدَنَةٌ، قَالَ: ارْكَبْهَا وَإِنْ كَانَتْ بَدَنَةً.

انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کو ہدی کا اونٹ لے جاتے دیکھا اور وہ تھک کر چور ہوچکا تھا آپ نے اس سے فرمایا: اس پر سوار ہو جاؤ وہ کہنے لگا ہدی کا اونٹ ہے، آپ نے فرمایا: وار ہوجاؤ اگرچہ وہ ہدی کا اونٹ ہو ۔

It was narrated from Anas (RA) that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) saw a man driving a Badanah and he himself was exhausted from walking. He said: "Ride it." He said: "It is Badanah." He said: "Ride it even if it is a Badanah.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2801
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٣٩٦) وقد أخرجہ: صحیح مسلم/ الحج ٦٥ (١٣٢٣)، مسند احمد (٣/٩٩، ١٠٦) (صحیح )
2804Sunan An Nasai

بوقت ضرورت ہدی کے جانور پر سوار ہونے کے بارے میں

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَسْأَلُ عَنْ رُكُوبِ الْبَدَنَةِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ارْكَبْهَا بِالْمَعْرُوفِ إِذَا أُلْجِئْتَ إِلَيْهَا حَتَّى تَجِدَ ظَهْرًا.

ابو الزبیر کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ ؓ سے سنا ان سے قربانی کے جانور پر سوار ہونے کے متعلق پوچھا جا رہا تھا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ دستور کے مطابق اس کی سواری کر جب تم اس کے لیے مجبور کر دئیے جاؤ یہاں تک کہ دوسری سواری پالو۔

Abu Az-Zuhair said: "I heard Jabir bin Abdullah being asked about riding a Badanah. He said about riding a Badanah. He said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Ride it in a reasonable manner if necessary, until you find another mount.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2802
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٦٥ (١٣٢٤)، سنن ابی داود/المناسک ١٨ (١٧٦١)، (تحفة الأشراف: ٢٨٠٨)، مسند احمد (٣/٣١٧، ٣٢٤، ٣٢٥، ٣٤٨) (صحیح )
2805Sunan An Nasai

جو آدمی ساتھ میں ہدی نہیں لے گیا ہو تو وہ شخص احرام حج توڑ کر احرام کھول سکتا ہے اس سے متعلقہ حدیث

أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا نُرَى إِلَّا الْحَجَّ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ طُفْنَا بِالْبَيْتِ، أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَكُنْ سَاقَ الْهَدْيَ أَنْ يَحِلَّ، فَحَلَّ مَنْ لَمْ يَكُنْ سَاقَ الْهَدْيَ، وَنِسَاؤُهُ لَمْ يَسُقْنَ، فَأَحْلَلْنَ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَحِضْتُ، فَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ، فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ: يَرْجِعُ النَّاسُ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ، وَأَرْجِعُ أَنَا بِحَجَّةٍ، قَالَ: أَوَ مَا كُنْتِ طُفْتِ لَيَالِيَ قَدِمْنَا مَكَّةَ ؟قُلْتُ: لَا، قَالَ: فَاذْهَبِي مَعَ أَخِيكِ إِلَى التَّنْعِيمِ، فَأَهِلِّي بِعُمْرَةٍ، ثُمَّ مَوْعِدُكِ مَكَانُ كَذَا وَكَذَا.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے، اور ہمارے پیش نظر صرف حج تھا، جب ہم مکہ آئے تو ہم نے بیت اللہ کا طواف کیا، رسول اللہ ﷺ نے جو لوگ ہدی لے کر نہیں آئے تھے انہیں احرام کھول دینے کا حکم دیا تو جو ہدی نہیں لائے تھے حلال ہوگئے، آپ کی بیویاں بھی ہدی لے کر نہیں آئیں تھیں تو وہ بھی حلال ہوگئیں، تو مجھے حیض آگیا (جس کی وجہ سے) میں بیت اللہ کا طواف نہیں کرسکی، جب محصب کی رات آئی تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! لوگ حج و عمرہ دونوں کر کے اپنے گھروں کو واپس جائیں گے اور میں صرف حج کر کے لوٹوں گی، آپ نے پوچھا: کیا تم نے ان راتوں میں جن میں ہم مکہ آئے تھے طواف نہیں کیا تھا؟ میں نے عرض کیا: نہیں، آپ نے فرمایا: تو تم اپنے بھائی کے ساتھ تنعیم جاؤ، وہاں عمرے کا تلبیہ پکارو، (اور طواف وغیرہ کر کے) واپس آ کر فلاں فلاں جگہ ہم سے ملو ۔

It was narrated that Aishah said: "We went out with the Messenger of Allah ﷺ not thinking of anything but Hajj. When we came to Makkah we circumambulated the house, then the Messenger of Allah ﷺ told those who have not brought a Hadi to exit Ihram. So those who have not brought a Hadi exited Ihram. His wives had not brought a Hadi so they exited Ihram too." Aishah said: "My menses came so I did not circumambulate the House. On the night of Al-Hasbah (the twelfth night of Dhul-Hajjah) I said" "O Messenger of Allah, the people are going back having done Umrah and Hajj, But I am going back having done only Hajj. He said: Did you not perform Tawaf when we came to Makkah? I said: No. He said: Then go with your brother to At-Tanim and enter Ihram for Umrah then we will meet you and such and such a place.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2803
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٧١٩ (صحیح )
2806Sunan An Nasai

جو آدمی ساتھ میں ہدی نہیں لے گیا ہو تو وہ شخص احرام حج توڑ کر احرام کھول سکتا ہے اس سے متعلقہ حدیث

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نُرَى إِلَّا أَنَّهُ الْحَجُّ، فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنْ مَكَّةَ، أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ أَنْ يُقِيمَ عَلَى إِحْرَامِهِ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ أَنْ يَحِلَّ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے، ہمارے پیش نظر صرف حج تھا، تو جب ہم مکہ کے قریب پہنچے تو رسول اللہ ﷺ نے جن کے ساتھ ہدی تھی انہیں اپنے احرام پر قائم رہنے کا حکم دیا، اور جن کے ساتھ ہدی نہیں تھی انہیں احرام کھول دینے کا حکم دیا۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “We went out with the Messenger of Allah ﷺ not thinking of anything but Hajj. When we drew close to Makkah, the Messenger of Allah ﷺ ordered: ‘Whoever has a Hadi with him should remain in Ihram, and whoever does not have a Hadi with him, he should exit Ihram.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2804
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٦٥١ (صحیح )
2807Sunan An Nasai

جو آدمی ساتھ میں ہدی نہیں لے گیا ہو تو وہ شخص احرام حج توڑ کر احرام کھول سکتا ہے اس سے متعلقہ حدیث

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: أَهْلَلْنَا أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ خَالِصًا لَيْسَ مَعَهُ غَيْرُهُ خَالِصًا وَحْدَهُ فَقَدِمْنَا مَكَّةَ صَبِيحَةَ رَابِعَةٍ مَضَتْ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، فَأَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَحِلُّوا وَاجْعَلُوهَا عُمْرَةً، فَبَلَغَهُ عَنَّا أَنَّا نَقُولُ: لَمَّا لَمْ يَكُنْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ عَرَفَةَ إِلَّا خَمْسٌ، أَمَرَنَا أَنْ نَحِلَّ، فَنَرُوحَ إِلَى مِنًى وَمَذَاكِيرُنَا تَقْطُرُ مِنَ الْمَنِيِّ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَطَبَنَا، فَقَالَ: فَقَدْ بَلَغَنِي الَّذِي قُلْتُمْ وَإِنِّي لَأَبَرُّكُمْ وَأَتْقَاكُمْ وَلَوْلَا الْهَدْيُ لَحَلَلْتُ، وَلَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا أَهْدَيْتُ. (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ: وَقَدِمَ عَلِيٌّ مِنْ الْيَمَنِ، فَقَالَ: بِمَا أَهْلَلْتَ ؟قَالَ بِمَا أَهَلَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَأَهْدِ وَامْكُثْ حَرَامًا كَمَا أَنْتَ. (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ: وَقَالَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ عُمْرَتَنَا هَذِهِ لِعَامِنَا هَذَا أَوْ لِلْأَبَدِ ؟ قَالَ: هِيَ لِلْأَبَدِ.

جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم ﷺ کے اصحاب نے خالص حج کا احرام باندھا، اس کے ساتھ اور کسی چیز کی نیت نہ تھی۔ تو ہم ٤ ذی الحجہ کی صبح کو مکہ پہنچے تو نبی اکرم ﷺ نے ہمیں حکم دیا احرام کھول ڈالو اور اسے (حج کے بجائے) عمرہ بنا لو ، تو آپ کو ہمارے متعلق یہ اطلاع پہنچی کہ ہم کہہ رہے ہیں کہ ہمارے اور عرفہ کے درمیان صرف پانچ دن باقی رہ گئے ہیں اور آپ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم اپنے احرام کھول کر حلال ہوجائیں تو ہم منیٰ کو جائیں گے، اور ہمارے ذکر سے منی ٹپک رہی ہوگی، تو نبی اکرم ﷺ کھڑے ہوئے اور آپ نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: جو بات تم لوگوں نے کہی ہے وہ مجھے معلوم ہوچکی ہے، میں تم سے زیادہ نیک اور تم سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا ہوں، اگر میرے ساتھ ہدی نہ ہوتی تو میں بھی حلال ہوگیا ہوتا، اگر جو بات مجھے اب معلوم ہوئی ہے پہلے معلوم ہوگئی ہوتی تو میں ہدی ساتھ لے کر نہ آتا ۔ (اسی دوران) علی ؓ یمن سے آئے، تو آپ نے ان سے پوچھا: تم نے کس چیز کا تلبیہ پکارا ہے؟ انہوں نے کہا: جس کا نبی اکرم ﷺ نے پکارا ہے، آپ نے فرمایا: تم ہدی دو اور احرام باندھے رہو، جس طرح تم ہو ۔ اور سراقہ بن مالک بن جعشم ؓ نے کہا: اللہ کے رسول! ہمیں بتائیے ہمارا یہ عمرہ اسی سال کے لیے ہے، یا ہمیشہ کے لیے؟ آپ نے فرمایا: ہمیشہ کے لیے ہے ۔

It was narrated that Jabir said: “We, the Companions of the Prophet ﷺ entered Ihram for Hajj only, and nothing else. We came to Makkah on the morning of the fourth of Dhul-Hijjah, and the Prophet ﷺ commanded us: ‘Exit Ihram and make it ‘Umrah.’ He heard that we were saying: ‘When there are only five days between us and ‘Arafat he commands us to exit, I, and we will go out to Mina with our male members dripping with semen (because of recent intimacy with their wives)?’ The Prophet ﷺ stood up and addressed us, saying: ‘I have heard what you said. I am the most righteous and the most pious of you, and were it not for the Hadi, I would have exited Ihram. If I had known what I know now, I would not have brought a Hadi.’ And ‘Ali (RA) came from Yemen and he said: ‘For what did you enter Ihram?’ He said: ‘For that for which the Messenger of Allah ﷺ entered Ihram.’ Suraqah bin Malik bin Ju’shum said: ‘Messenger of Allah ﷺ, do you think that this ‘Umrah of ours is for this year only or for all time?’ He said: ‘It is for all time.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2805
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/المناسک ٢٣ (١٧٨٧)، (تحفة الأشراف: ٤٢٥٩)، مسند احمد (٣/٣١٧) (صحیح )
2808Sunan An Nasai

جو آدمی ساتھ میں ہدی نہیں لے گیا ہو تو وہ شخص احرام حج توڑ کر احرام کھول سکتا ہے اس سے متعلقہ حدیث

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ عُمْرَتَنَا هَذِهِ لِعَامِنَا أَمْ لِأَبَدٍ ؟، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هِيَ لِأَبَدٍ.

سراقہ بن مالک بن جعشم رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمیں بتائیے کیا ہمارا یہ عمرہ ہمارے اسی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ ہمیشہ کے لیے ہے ۔

It was narrated from Suraqah bin Malik bin Ju’shum that he said: “Messenger of Allah ﷺ, do you think that this ‘Umrah of ours is for this year only, or for all time?” The Messenger of Allah ﷺ said: “It is for all time.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2806
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الحج ٤٠ (٢٩٧٧)، (تحفة الأشراف: ٣٨١٥)، مسند احمد (٤/١٧٥) (صحیح )
2809Sunan An Nasai

جو آدمی ساتھ میں ہدی نہیں لے گیا ہو تو وہ شخص احرام حج توڑ کر احرام کھول سکتا ہے اس سے متعلقہ حدیث

أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنْ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: قَالَ: سُرَاقَةُ: تَمَتَّعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَمَتَّعْنَا مَعَهُ، فَقُلْنَا: أَلَنَا خَاصَّةً أَمْ لِأَبَدٍ ؟ قَالَ: بَلْ لِأَبَدٍ.

سراقہ بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حج تمتع کیا ١ ؎ اور ہم سب نے بھی آپ کے ساتھ تمتع کیا۔ تو ہم نے عرض کیا: کیا یہ ہمارے لیے خاص ہے یا ہمیشہ کے لیے ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، بلکہ یہ ہمیشہ کے لیے ہے ۔

Suraqah said: The Messenger of Allah joined Hajj and Umrah and we did so with him. We said: "Is it just for us, or for all time?" He said: "No, it is for all time.

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2807
Notes · وضاحت
١ ؎: یہاں اصطلاحی تمتع مراد نہیں لغوی تمتع مراد ہے، مطلب یہ ہے کہ عمرہ اور حج دونوں کا آپ نے فائدہ اٹھایا کیونکہ صحیح روایتوں سے آپ کا قارن ہونا ثابت ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٨٠٨ (صحیح الإسناد )
2810Sunan An Nasai

جو آدمی ساتھ میں ہدی نہیں لے گیا ہو تو وہ شخص احرام حج توڑ کر احرام کھول سکتا ہے اس سے متعلقہ حدیث

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ وَهُوَ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ: أَفَسْخُ الْحَجِّ لَنَا خَاصَّةً أَمْ لِلنَّاسِ عَامَّةً ؟ قَالَ: بَلْ لَنَا خَاصَّةً.

بلال رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا حج کو عمرہ میں تبدیل کردینا صرف ہمارے ساتھ خاص ہے یا سب لوگوں کے لیے ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، بلکہ ہم لوگوں کے لیے خاص ہے ١ ؎۔

It was narrated from Al Harith bin Bilal (RA) that his father said: “I said: ‘Messenger of Allah ﷺ, is this annulment of Hajj just for us or is it for all the people?’ He said: ‘No, it is just for us.” (Da’if)

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2808
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی حج کو عمرہ کے ذریعہ فسخ کرنا خاص ہے، نہ کہ تمتع کیونکہ اس کا حکم عام ہے جیسا کہ اوپر کی روایت میں گزرا اور جو لوگ فسخ کو بھی عام کہتے ہیں وہ اس روایت کا جواب یہ دیتے ہیں کہ یہ روایت قابل استدلال نہیں ہے، کیونکہ اس میں ایک راوی حارث ہیں جو ضعیف ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحج ٢٥ (١٨٠٨)، سنن ابن ماجہ/الحج ٤٢ (٢٩٨٤)، (تحفة الأشراف: ٢٠٢٧)، مسند احمد (٣/٤٦٩)، سنن الدارمی/المناسک ٣٧ (١٨٩٧) (ضعیف منکر) (اس کے راوی ” حارث “ لین الحدیث ہیں، نیز یہ حدیث دیگر صحیح حدیثوں کے مخالف ہے )
2811Sunan An Nasai

قلیل صدقہ سے متعلق

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، وَعَيَّاشٌ الْعَامِرِيُّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، فِي مُتْعَةِ الْحَجِّ، قَالَ: كَانَتْ لَنَا رُخْصَةً.

ابوذر رضی الله عنہ سے حج کے متعہ کے سلسلہ میں روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ یہ ہمارے لیے رخصت تھی۔

It was narrated that Abu Dharr (RA) said concerning Tamattu in Hajj: “It was only for us.” (Sahih)

صحيح موقوف مخالف للأحاديث المتقدمةصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2809
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٢٣ (١٢٢٤)، سنن ابن ماجہ/الحج ٤٢ (٢٩٨٥)، (تحفة الأشراف: ١١٩٩٥) (صحیح) (سند کے اعتبار سے یہ روایت صحیح ہے، مگر یہ ابو ذر رضی الله عنہ کی اپنی غلط فہمی ہے )
2812Sunan An Nasai

جو آدمی ساتھ میں ہدی نہیں لے گیا ہو تو وہ شخص احرام حج توڑ کر احرام کھول سکتا ہے اس سے متعلقہ حدیث

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الْوَارِثِ بْنَ أَبِي حَنِيفَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ فِي مُتْعَةِ الْحَجِّ: لَيْسَتْ لَكُمْ وَلَسْتُمْ مِنْهَا فِي شَيْءٍ، إِنَّمَا كَانَتْ رُخْصَةً لَنَا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ابوذر رضی الله عنہ حج کے متعہ کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ تمہارے لیے نہیں ہے، اور نہ تمہارا اس سے کوئی واسطہ ہے، یہ رخصت صرف ہم اصحاب محمد ﷺ کے لیے تھی۔

It was narrated that Abu Dharr (RA) said concerning Tamattu’ in Hajj: “It is not for you, and you have nothing to do with it; it was only for us, the Companions of Muhammad ﷺ.“ (Sahih)

صحيح موقوفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2810
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٨١١ (صحیح )