کیا قربانی کے جانور کے گلے میں ہار ڈالنے پر احرام باندھنا لازم ہے؟
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَقُتَيْبَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ لَا يَجْتَنِبُ شَيْئًا مِمَّا يَجْتَنِبُهُ الْمُحْرِمُ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی ہدی کے ہار بٹتی تھی پھر آپ کسی چیز سے پرہیز نہیں کرتے تھے جس سے محرم پرہیز کرتا ہے۔
It was narrated that Aishah (RA) said: “I used to twist the garlands for the Hadi of the Messenger of Allah ﷺ. Then he would not avoid anything that the Muhrim avoids.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2794
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ١٠٨ (١٧٠٠)، الوکالة ١٤ (٢٣١٧)، صحیح مسلم/الحج ٦٤ (١٣٢١)، (تحفة الأشراف: ١٧٨٩٩)، موطا امام مالک/الحج ١٥ (٥١)، مسند احمد (٦/١٨٠) (صحیح )