اگر قربانی کے جانور کے گلے میں ہار ڈالے تو کیا اس وقت احرام بھی باندھے؟
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا كَانُوا حَاضِرِينَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ، بَعَثَ بِالْهَدْيِ، فَمَنْ شَاءَ أَحْرَمَ، وَمَنْ شَاءَ تَرَكَ.
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے ہدی بھیجی تو سب لوگ مدینہ میں موجود تھے تو جس نے چاہا احرام باندھا اور جس نے چاہا نہیں باندھا ١ ؎۔
It was narrated from Jabir, that when they were present with the Messenger of Allah ﷺ in Al-Madinah, he sent the Hadi, and whoever wanted to enter Ihram did so, and whoever did not want to, did not. (Sahih)
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2792
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو شخص ہدی بھیجے اسے اختیار ہے چاہے وہ محرم ہو کر رہے چاہے غیر محرم۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٢٩٢٨)، مسند احمد (٣/٣٥٠) (صحیح الإسناد )