عبدالرحمٰن بن ابی الشعثاء کہتے ہیں کہ میں ابراہیم نخعی اور ابراہیم تیمی کے ساتھ تھا، تو میں نے کہا: میں نے اس سال حج اور عمرہ دونوں کو ایک ساتھ کرنے کا ارادہ کیا ہے۔ اس پر ابراہیم نے کہا: اگر تمہارے والد ہوتے تو ایسا ارادہ نہ کرتے، وہ کہتے ہیں: ابراہیم تیمی نے اپنے باپ کے واسطہ سے روایت بیان کی، اور انہوں نے ابوذر ؓ سے روایت کی کہ ابوذر ؓ نے کہا: متعہ ہمارے لیے خاص تھا۔
It was narrated that ‘Abdur Rahman bin Abi Ash-Sha’tha’ said: “I was with Ibrahim An-Nakha’i and Ibrahim At-Taimi, and I said: ‘I wanted to combine Hajj and ‘Umrah this year,’ but Ibrahim said: ‘If your father were alive, he would not do that.’ And Ibrahim At-Taimi said, (narrating) from his father, that Abu Dharr (RA) said: ‘Tamattu’ was only for us.” (Sahih)
صحيح موقوفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2812
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ (زمانہ جاہلیت میں) لوگ حج کے مہینوں میں عمرہ کرلینے کو زمین میں ایک بہت بڑا گناہ تصور کرتے تھے، اور محرم (کے مہینے) کو صفر کا (مہینہ) بنا لیتے تھے، اور کہتے تھے: جب اونٹ کی پیٹھ کا زخم اچھا ہوجائے، اور اس کے بال بڑھ جائیں اور صفر کا مہینہ گزر جائے یا کہا صفر کا مہینہ آجائے تو عمرہ کرنے والے کے لیے عمرہ حلال ہوگیا چناچہ نبی اکرم ﷺ اور آپ کے اصحاب ذی الحجہ کی چار تاریخ کی صبح کو (مکہ میں) حج کا تلبیہ پکارتے ہوئے آئے تو آپ نے انہیں حکم دیا کہ اسے عمرہ بنالیں، تو انہیں یہ بات بڑی گراں لگی ١ ؎، چناچہ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کون کون سی چیزیں حلال ہوں گی؟ تو آپ نے فرمایا: احرام سے جتنی بھی چیزیں حرام ہوئی تھیں وہ ساری چیزیں حلال ہوجائیں گی ۔
It was narrated that Ibn ‘Abbás said: “They used to think that performing ‘Umrah during the months of Hajj was one of the worst of evil actions on Earth, and they used to call Muharram ‘Safar,’ and say: ‘When the sore on the backs of the camels have healed and when their hair grows back and when Safar is over’ — or he said: ‘When Safar begins — then ‘Umrah becomes permissible for whoever wants to do it.’ Then the Prophet ﷺ and his Companions came on the morning of the fourth of Dhul Hijjah, reciting the Talbiyah for Hajj. He told them to make it ‘Umrah, and they found it too difficult to do that. They said: ‘Messenger of Allah ﷺ to what degree should we exit. He said: ‘Completely.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2813
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ یہ بات ان کے عقیدے کے خلاف تھی، وہ حج کے مہینوں میں عمرہ کرنے کو جائز نہیں سمجھتے تھے۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عمرہ کا احرام باندھا اور آپ کے اصحاب نے حج کا، اور آپ نے جن کے ساتھ ہدی کے جانور نہیں تھے انہیں حکم دیا کہ وہ احرام کھول کر حلال ہوجائیں، تو جن کے ساتھ ہدی کے جانور نہیں تھے ان میں طلحہ بن عبیداللہ اور ایک اور شخص تھے، یہ دونوں احرام کھول کر حلال ہوگئے۔
Ibn ‘Abbas said: “The Messenger of Allah ﷺ entered Ihram for ‘Umrah and his Companions entered Ihram for Hajj. He told those who did not have a Hadi with them to exit Ihram Among those who did not have a Hadi with them was Talhah bin ‘Ubaidullah and another men, so they exited Ihram.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2814
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: یہ عمرہ ہے جس سے ہم نے فائدہ اٹھایا ہے، تو جس کے ساتھ ہدی نہ ہو وہ پورے طور پر حلال ہوجائے، کیونکہ عمرہ حج میں شامل ہوگیا ہے ۔
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Prophet ﷺ said: “This is ‘Umrah that we have benefited from. Whoever does not have a Hadi with him, let him exit Ihram completely. Now ‘Umrah is permissible during the months of Hajj.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2815
ابوقتادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ (حج کے موقع پر) رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے یہاں تک کہ وہ مکہ کے راستہ میں احرام باندھے ہوئے اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ پیچھے رہ گئے، اور وہ خود محرم نہیں تھے (وہاں) انہوں نے ایک نیل گائے دیکھی، تو وہ اپنے گھوڑے پر جم کر بیٹھ گئے، پھر انہوں نے اپنے ساتھیوں سے درخواست کی وہ انہیں ان کا کوڑا دے دیں، تو ان لوگوں نے انکار کیا تو انہوں نے خود ہی لے لیا، پھر تیزی سے اس پر جھپٹے، اور اسے مار گرایا، تو اس میں سے نبی اکرم ﷺ کے بعض اصحاب نے کھایا، اور بعض نے کھانے سے انکار کیا۔ پھر ان لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کو پا لیا تو آپ سے اس بارے میں سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: یہ تو ایسی غذا ہے جسے اللہ عزوجل نے تمہیں کھلایا ہے ۔
It was narrated from Abu Qatadah that he was with the Messenger of Allah ﷺ when they were partway to Makkah, he lagged behind with some companions of his who were in Ihram, but he was not in Ihram. He saw an onager, so he mounted his horse, then he asked his companions to hand him his whip, but they refused. He asked them to hand him his spear, but they refused. He took it, then chased the onager and killed it. Some of the Companions of the Messenger of Allah ﷺ ate from it but others refused. They caught up with the Messenger of Allah ﷺ and asked him about that, and he said: “That is food that Allah, the Mighty and Sublime, gave to you.”(Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2816
عبدالرحمٰن تیمی کہتے ہیں کہ ہم طلحہ بن عبیداللہ ؓ کے ساتھ تھے اور ہم احرام باندھے ہوئے تھے، تو انہیں (شکار کی ہوئی) ایک چڑیا ہدیہ کی گئی اور وہ سوئے ہوئے تھے تو ہم میں سے بعض نے کھایا اور بعض نے احتیاط برتی تو جب طلحہ ؓ جاگے، تو انہوں نے کھانے والوں کی موافقت کی، اور کہا کہ ہم نے اسے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کھایا ہے۔
It was narrated from Muadh bin ‘Abdur-Rahmán At-Taimi that his father said: “We were with Talhah bin ‘Ubaidullah and we were in Ihram. A bird was given to him when he was asleep, and some of us ate from it and others refrained. Talhah woke up and agreed with those who had eaten it, and said: ‘We ate it with the Messenger of Allah ﷺ. (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2817
زید بن کعب بہزی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نکلے، آپ مکہ کا ارادہ کر رہے تھے، اور احرام باندھے ہوئے تھے یہاں تک کہ جب آپ روحاء پہنچے تو اچانک ایک زخمی نیل گائے دکھائی پڑا، رسول اللہ ﷺ سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا: اسے پڑا رہنے دو، ہوسکتا ہے اس کا مالک (شکاری) آجائے (اور اپنا شکار لے جائے) اتنے میں بہزی رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، اور وہی اس کے مالک (شکاری) تھے انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ گور نیل گائے آپ کے پیش خدمت ہے ١ ؎ آپ جس طرح چاہیں اسے استعمال کریں۔ تو رسول ﷺ نے ابوبکر ؓ کو حکم دیا، تو انہوں نے اس کا گوشت تمام ساتھیوں میں تقسیم کردیا، پھر آپ آگے بڑھے، جب اثایہ پہنچے جو رویثہ اور عرج کے درمیان ہے، تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک ہرن اپنا سر اپنے دونوں ہاتھوں اور پیروں کے درمیان کئے ہوئے ہے، ایک سایہ میں کھڑا ہے اس کے جسم میں ایک تیر پیوست ہے، تو ان کا (یعنی بہزی کا) گمان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو حکم دیا کہ وہ وہاں کھڑا ہوجائے تاکہ کوئی شخص اسے چھیڑنے نہ پائے یہاں تک کہ آپ (مع اپنے اصحاب کے) آگے بڑھ جائیں۔
It was narrated from Al Bahzi that the Messenger of Allah ﷺ set out for Makkah and was in Ihram. When they were in Ar Rawha’, they saw a wounded onager. Mention of that was made to the Messenger of Allah ﷺ and he said: “Leave it, for soon its owner will come.” Then Al-Bahzi, who was its owner, came to the Messenger of Allah ﷺ and said: “Messenger of Allah ﷺ, it is up to you what you want to do with this onager.” The Messenger of Allah ﷺ commanded Abu Bakr (RA) to share it out among the company, then he moved on, and when he was in Al Uthayah, between Ar-Ruwaythah and Al-’Arj, they saw a gazelle sleeping in the shade with an arrow in it. It was said that the Messenger of Allah ﷺ told a man to stand by it and not let anyone disturb it until everyone had passed by.” (Sahih)
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2818
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ہماری طرف سے آپ کو تحفہ ہے۔ اثایہ جحفہ سے مکہ کے راستہ میں ایک جگہ کا نام ہے۔ رویثہ مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک جگہ کا نام ہے۔ عرج ایک بستی کا نام ہے جو مدینہ سے چند میل کی دوری پر واقع ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٥٦٥٥)، موطا امام مالک/الحج ٢٤ (٧٩)، مسند احمد (٣/٤١٨، ٤٥٢) (صحیح الإسناد )
صعب بن جثامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ کو ایک نیل گائے ہدیہ کیا اور آپ ابواء یا ودان میں تھے تو رسول اللہ ﷺ نے اسے انہیں واپس کردیا۔ پھر جب آپ نے میرے چہرے پر جو کیفیت تھی دیکھی تو فرمایا: ہم نے صرف اس وجہ سے اسے تمہیں واپس کیا ہے کہ ہم احرام باندھے ہوئے ہیں ۔
It was narrated from As-Sa’b bin Haththamah that he gave the Messenger of Allah ﷺ an onager when he was in Al-Abwa’ or in Waddan, but the Messenger of Allah ﷺ gave it back to him. “And when the Messenger of Allah ﷺ saw the expression on my face he said: ‘We only gave it back to you because we are in Ihram.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2819
Notes · وضاحت
١ ؎: ابواء اور ودّان یہ دونوں جگہوں کے نام ہیں جو مکہ اور مدینہ کے درمیان واقع ہیں۔
صعب بن جثامہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ آگے بڑھے یہاں تک کہ جب ودان پہنچے تو ایک نیل گائے دیکھا (جسے کسی نے شکار کر کے پیش کیا تھا) تو آپ نے اسے پیش کرنے والے کو لوٹا دیا، اور فرمایا: ہم احرام باندھے ہوئے ہیں، شکار نہیں کھا سکتے ۔
It was narrated from As-Sa’b bin Haththamah that the Prophet ﷺ came, and when he was in Waddan, he saw an onager, but he gave it back to him and said: ‘We are in Ihram, we cannot eat game.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2820
عطاء سے روایت ہے کہ ابن عباس ؓ نے زید بن ارقم ؓ سے کہا: آپ کو معلوم نہیں کہ نبی اکرم ﷺ کو کسی شکار کا کوئی عضو ہدیہ بھیجا گیا، اور آپ محرم تھے تو آپ نے اسے قبول نہیں کیا، انہوں نے کہا: جی ہاں، (ہمیں معلوم ہے) ۔
It was narrated from ‘Ata’ that Ibn ‘Abbas said to Zaid bin Arqam (RA): “Do you not know that the Prophet ﷺ was given a piece of game meat when he was in Ihram and he did not accept it?” He said: “Yes.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2821
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحج ٤١ (١٨٥٠)، (تحفة الأشراف: ٣٦٧٧)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحج ٨ (١١٩٥)، مسند احمد (٤/٣٦٩، ٣٧١) (صحیح )
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ زید بن ارقم ؓ آئے تو ابن عباس ؓ نے انہیں یاد دلاتے ہوئے کہا کہ آپ نے مجھے شکار کے گوشت کے بارے میں جسے رسول اللہ ﷺ کو ہدیہ کیا گیا تھا اور آپ محرم تھے کیا بتایا تھا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، نبی اکرم ﷺ کو ایک شخص شکار کے گوشت کا ایک پارچہ (عضو) بطور ہدیہ دیا، تو آپ ﷺ نے اسے لوٹا دیا اور فرمایا: ہم نہیں کھا سکتے، ہم احرام باندھے ہوئے ہیں ۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “Zaid bin Arqam came” and Ibn ‘Abbas said to him, reminding him: “What did you tell me about the game meat that was given to the Messenger of Allah ﷺ when he was in Ihram?” He said: “Yes, a man gave him a piece of game meat but he returned it and said: ‘We cannot eat it, we are in Ihram.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2821
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ صعب بن جثامہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ کے پاس نیل گائے کی ٹانگ بھیجی جس سے خون کے قطرے ٹپک رہے تھے، اور آپ احرام باندھے ہوئے مقام قدید میں تھے۔ تو آپ نے اسے انہیں واپس لوٹا دیا۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “As-Sa’b bin Jaththamah gave the Messenger of Allah ﷺ the leg of an onager that was dripping with blood when he was in Ihram, at Qudaid, and he returned it to him.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2822
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ صعب بن جثامہ ؓ نے نبی اکرم ﷺ کو ایک نیل گائے ہدیہ میں بھیجا اور آپ احرام باندھے ہوئے تھے، تو آپ نے اسے انہیں واپس کردیا۔
It was narrated from Ibn ‘Abbas that As-Sa’b bin Jaththamah gave the Prophet ﷺ some onager (meat) when he was in Ihram and he returned it to him. (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2823
عبداللہ بن ابی قتادہ کہتے ہیں کہ میرے والد صلح حدیبیہ کے سال رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چلے تو ان کے ساتھیوں نے احرام باندھ لیا لیکن انہوں نے نہیں باندھا، (ان کا بیان ہے) کہ میں اپنے اصحاب کے ساتھ تھا کہ اسی دوران ہمارے اصحاب ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر ہنسے، میں نے نظر اٹھائی تو اچانک ایک نیل گائے مجھے دکھائی پڑا، میں نے اسے نیزہ مارا اور (اسے پکڑنے اور ذبح کرنے کے لیے) ان سے مدد چاہی تو انہوں نے میری مدد کرنے سے انکار کیا پھر ہم سب نے اس کا گوشت کھایا، اور ہمیں ڈر ہوا کہ ہم کہیں لوٹ نہ لیے جائیں تو میں نے رسول اللہ ﷺ کا ساتھ پکڑنا چاہا کبھی میں اپنا گھوڑا تیز بھگاتا اور کبھی عام رفتار سے چلتا تو میری ملاقات کافی رات گئے قبیلہ غفار کے ایک شخص سے ہوئی میں نے اس سے پوچھا: تم نے رسول اللہ ﷺ کو کہاں چھوڑا ہے؟ اس نے کہا: میں نے آپ کو مقام سقیا میں قیلولہ کرتے ہوئے چھوڑا ہے، چناچہ میں جا کر آپ سے مل گیا، اور میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کے صحابہ آپ کو سلام عرض کرتے ہیں اور آپ کے لیے اللہ کی رحمت کی دعا کرتے ہیں اور وہ ڈر رہے ہیں کہ وہ کہیں آپ سے پیچھے رہ جانے پر لوٹ نہ لیے جائیں، تو آپ ذرا ٹھہر کر ان کا انتظار کر لیجئیے تو آپ نے ان کا انتظار کیا۔ پھر میں نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! (راستے میں) میں نے ایک نیل گائے کا شکار کیا اور میرے پاس اس کا کچھ گوشت موجود ہے، تو آپ نے لوگوں سے کہا: کھاو ٔ اور وہ لوگ احرام باندھے ہوئے تھے۔
It was narrated that ‘Abdullah bin Abi Qatadah said: “My father set out with the Messenger of Allah ﷺ in the year of Al-Hudaybiyah, and his companions entered Ihram, but he did not. (He said:) ‘While I was with my companions, some of them laughed at others. I looked and saw an onager. I stabbed it then asked them to help, but they refused to help me. We ate from its meat, and we were afraid that we would be intercepted (by the enemy) so I followed the Messenger of Allah ﷺ sometimes making my horse gallop and sometimes traveling at a regular pace. I met a man from Ghifar at midnight and said: Where did you leave the Messenger of Allah ﷺ? He said: I left him when he was napping in As-Suqya. I caught up with him and said: Messenger of Allah ﷺ! Your Companions convey their greetings of Salam to you, and the mercy of Allah and His blessings. They were afraid that they may be intercepted and cut off from you, so wait for them. Then I said: Messenger of Allah ﷺ, I caught an onager and I have some of it. He said to the people: Eat, and they were in Ihram.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2824
ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ وہ غزوہ حدیبیہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رہے، وہ کہتے ہیں کہ میرے علاوہ لوگوں نے عمرہ کا احرام باندھ رکھا ہے تھا۔ تو میں نے (راستہ میں) ایک نیل گائے کا شکار کیا اور اس کا گوشت اپنے ساتھیوں کو کھلایا، اور وہ محرم تھے، پھر میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور آپ کو میں نے بتایا کہ ہمارے پاس اس کا کچھ گوشت بچا ہوا ہے، تو آپ نے (لوگوں سے) فرمایا: کھاؤ، اور وہ لوگ احرام باندھے ہوئے تھے۔
It was narrated that Yahya bin Abi Kathir said: “Abdullah bin Abu Qatadah said that his father told him, that he went out with the Messenger of Allah ﷺ on the campaign of Al-Hudaybiyah. He said: ‘They entered Ihram for ‘Umrah apart from me. I hunted an onager and fed my companions with it, when they were in Ihram. Then, I went to the Messenger of Allah ﷺ and told him that we had some of its meat left over. He said: Eat, and they were in Ihram.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2825
ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ وہ لوگ سفر میں تھے ان میں سے بعض نے احرام باندھ رکھا تھا اور بعض بغیر احرام کے تھے، میں نے ایک نیل گائے دیکھا تو میں اپنے گھوڑے پر سوار ہوگیا، اور اپنا نیزہ لے لیا، اور ان لوگوں سے مدد چاہی تو ان لوگوں نے مجھے مدد دینے سے انکار کیا تو میں نے ان میں سے ایک کا کوڑا اچک لیا اور تیزی سے نیل گائے پر جھپٹا اور اسے پا لیا (مار گرایا) تو ان لوگوں نے اس کا گوشت کھایا پھر ڈرے (کہ ہمارے لیے کھانا اس کا حلال تھا یا نہیں) تو اس بارے میں نبی اکرم ﷺ سے پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: کیا تم لوگوں نے اشارہ کیا تھا یا کسی طرح کی مدد کی تھی؟ انہوں نے کہا: نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: پھر تو کھاؤ۔
‘Abdullah bin Abi Qatadah narrated from his father that they were on a march, some of them in Ihram and some not in Ihram. He said: “I saw an onager so I mounted my horse and picked up a spear. I asked them to help me but they refused to help me. I snatched a whip from one of them and chased the onager and caught it. They ate of it but they were scared. The Prophet ﷺ was asked about that and he said: ‘Did you point (at it) or help him?’ They said, ‘No.’ He said: ‘Then eat.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2826
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: خشکی کا شکار تمہارے لیے حلال ہے جب تک کہ تم خود شکار نہ کرو، یا تمہارے لیے شکار نہ کیا جائے ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: اس حدیث میں عمرو بن ابی عمرو قوی نہیں ہیں، گو امام مالک نے ان سے روایت کی ہے۔
It was narrated that Jabir said: “I heard the Messenger of Allah ﷺ say: ‘Land game is permissible for you so long as you do not hunt it, and it is not hunted for you.” (Da’if) Abu ‘Abdur-Rahman (An-Nasa’i) said: ‘Amar bin Abi ‘Amr is not strong in Hadith, even though Malik reported from him.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2827
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پانچ جانور ایسے ہیں جنہیں محرم کے مارنے میں کوئی حرج (گناہ) نہیں ہے۔ کوا، چیل، بچھو، چوہیا اور کٹ کھنا (کاٹنے والا) کتا ١ ؎۔
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: “There are five (animals) for which there is no sin on the Muhrim if he kills them: Crows, kites, scorpions, mice and vicious dogs.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2828
Notes · وضاحت
١ ؎: کٹ کھنے کتے سے مراد وہ تمام درندے ہیں جو لوگوں پر حملہ کر کے انہیں زخمی کردیتے ہوں، مثلاً شیر، چیتا، بھیڑیا وغیرہ۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/جزاء الصید ٧ (١٨٢٦)، بدء الخلق ١٦ (٣٣١٥)، صحیح مسلم/الحج ٩ (١١٩٩)، (تحفة الأشراف: ٨٣٦٥)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الحج ٤٠ (١٨٤٦)، سنن ابن ماجہ/الحج ٩١ (٣٠٨٨)، موطا امام مالک/الحج ٢٨ (٨٨)، مسند احمد (٢/١٣٨)، سنن الدارمی/المناسک ١٩ (١٨٥٧) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: پانچ جانور ایسے ہیں جنہیں محرم مار سکتا ہے: سانپ، چوہیا، چیل، کوا اور کاٹ کھانے والا کتا ۔
It was narrated from Aishah (RA) that the Prophet ﷺ said: “There are five which the Muhrim may kill: Snakes, mice, kites, speckled crows and vicious dogs.”(Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2829
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٩ (١١٩٨)، (تحفة الأشراف: ١٦١٢٢)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/جزاء الصید ٧ (١٨٢٩)، بدء الخلق ١٦ (٣٣١٤)، سنن الترمذی/الحج ٢١ (٨٣٧)، سنن ابن ماجہ/الحج ٩١ (٣٠٨٧)، مسند احمد (٦/٩٧، ٢٠٣)، ویأتی عند المؤلف برقم: ٢٨٨٥ (صحیح )