عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے محرم کو پانچ جانور کو مارنے کی اجازت دی ہے: کوا، چیل، چوہیا، کٹ کھنا (کاٹنے والا) کتا، اور بچھو۔
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Messenger of Allah ﷺ gave permission for the Muhrim to kill five kinds of animals: Crows, kites, mice, vicious dogs and scorpions. (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2830
تابعی سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ ایک عورت ام المؤمنین عائشہ کے پاس آئی، اور ان کے ہاتھ میں لوہے کی پھلی لگی ہوئی لاٹھی تھی، اس عورت نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ کہا: یہ ان چھپکلیوں (کے مارنے) کے لیے ہے۔ اس لیے کہ نبی اکرم ﷺ نے ہمیں بتایا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کی آگ کو اس جانور کے سوا سبھی جانور بجھاتے تھے اسی وجہ سے آپ نے ہمیں اسے مارنے کا حکم دیا ہے۔ اور گھروں میں رہنے والے سانپ کے مارنے سے روکا ہے سوائے دو دھاریوں والے، اور دم بریدہ سانپ کے کیونکہ یہ دونوں بصارت کو زائل کردیتے ہیں، اور حاملہ عورت کا حمل گرا دیتے ہیں۔
It was narrated from Saeed bin Al-Musayyab that a woman entered upon Aishah (RA), and in her hand was an iron-footed stick. She said: “What is this?” She (Aishah (RA)) said: “It is for these geckos, because the Prophet of Allah ﷺ told us, that there was nothing that did not try to extinguish the fire for Ibrahim except for this animal, so he told us to kill it. And he forbade us to kill harmless snakes, except for the snake with two lines on its back, and the snake with a short tail, for they snatch away the eyesight and cause that which is in women’s wombs to be miscarried.” (Hasan)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2831
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٦١٢٤)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الصید ١٢ (٣٢٣١)، مسند احمد (٦/٨٣، ١٠٩، ٢١٧) (صحیح )
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: پانچ جانور ایسے ہیں جنہیں احرام کی حالت میں مارنے پر یا جنہیں احرام کی حالت میں مارنے میں کوئی گناہ نہیں: چیل، چوہیا، کاٹ کھانے والا کتا، بچھو اور کوا ۔
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Prophet ﷺ said: “There are five kinds of animals for which there is no sin on the one who kills them when he is in a state of Ihram: Kites, mice, vicious dogs, scorpions and crows.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2832
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جب ہم احرام باندھے ہوئے ہوں تو کون سے جانور مار سکتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: پانچ جانور ہیں جن کے مارنے پر کوئی گناہ نہیں: چیل، کوا، چوہیا، بچھو اور کٹ کھنا (کاٹنے والا) کتا ۔
It was narrated that Ibn ‘Umar said: “A man said: ‘Messenger of Allah ﷺ, what animals may we kill when we are in Ihram?’ He said: ‘There are five for which there is no sin in killing them: Kites, crows, mice, scorpions and vicious dogs.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2833
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا گیا کہ محرم کن (جانوروں) کو قتل کرسکتا ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ بچھو، چوہیا، چیل۔ کوا، اور کاٹ کھانے والے کتے کو قتل کرسکتا ہے ۔
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Prophet ﷺ was asked what the Muhrim may kill? He said: “He may kill scorpions, the evil creature (mice), kites, crows and vicious dogs.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2834
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: پانچ جانور ایسے ہیں جنہیں حرم میں اور حالت احرام میں مارنے میں کوئی گناہ نہیں ہے: چوہیا، چیل، کوا، بچھو اور کاٹ کھانے والا کتا ۔
It was narrated from Salim that his father said: “The Prophet ﷺ said: ‘There are five kinds of animals for which there is no sin on the one who kills them, whether he is in Ihram or not: Mice, kites, crows, scorpions and vicious dogs.”(Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2835
ابن ابی عمار کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ ؓ سے بجو کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مجھے اس کے کھانے کا حکم دیا، میں نے ان سے پوچھا: کیا وہ شکار ہے؟ کہا: ہاں، میں نے کہا: کیا آپ نے اسے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے؟ کہا: ہاں (میں نے سنا ہے) ۔
It was narrated that Ibn Abi ‘Ammar said: “I asked Jabir bin ‘Abdullah about hyenas, and he told me to eat them. I said: ‘Is it not game? He said: ‘Yes.’ I said: ‘Did you hear that from the Messenger of Allah ﷺ ?‘ He said: ‘Yes.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2836
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے میمونہ ؓ سے نکاح کیا اور آپ محرم تھے ١ ؎۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “The Prophet ﷺ married Maimunah when he was in Ihram.” (Sahih)
شاذصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2837
Notes · وضاحت
١ ؎: سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ اس سلسلہ میں ابن عباس کو وہم ہوا ہے کیونکہ ام المؤمنین میمونہ رضی الله عنہا کا خود بیان ہے کہ رسول اللہ نے مجھ سے شادی کی تو ہم دونوں حلال تھے، نیز ان دونوں کا نکاح کرانے والے ابورافع رضی الله عنہ کا بیان بھی ابن عباس رضی الله عنہما کے برعکس ہے، دراصل ابن عباس رضی الله عنہما نے مکہ نہ جا کر صرف ہدی کا جانور بھیج دینے کو بھی احرام سمجھا، حالانکہ یہ احرام نہیں ہوتا، اور یہ نکاح اسی حالت میں ہوا تھا کہ آپ ﷺ نے اشعار کر کے ہدی بھیج دی اور حج سے رہ گئے، اور بقول عائشہ رضی الله عنہا آپ نے اپنے اوپر احرام کی کوئی بات لاگو نہیں کی، (دیکھئیے سنن ابوداؤد حدیث رقم ١٨٤٢ ) ایک قول یہ بھی ہے کہ آپ نے حالت احرام میں نکاح سے ممانعت حجۃ الوداع میں کی تھی، اور میمونہ رضی الله عنہا سے نکاح اس حرمت سے پہلے کیا تھا۔ واللہ اعلم
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ انکاح ٣٠ (٥١١٥)، صحیح مسلم/انکاح ٥ (١٤١٠)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الحج ٣٩ (١٨٤٤)، سنن الترمذی/ الحج ٢٤ (٨٤٤)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٤٥ (١٩٦٥)، (تحفة الأشراف: ٥٣٧٦)، مسند احمد ١/٢٢١، ٢٢٨، ٢٤٥، ٢٦٦، ٢٧٠، ٢٨٣، ٢٨٥، ٢٨٦، ٣٢٤، ٣٣٠، ٣٣٣، ٣٣٦، ٣٣٧، ٣٤٦، ٣٥١، ٣٥٤، ٣٦٠، ٣٦١ سنن الدارمی/المناسک ٢١ (١٨٦٣)، ویأتی عند المؤلف فیما یأتی برقم: ٣٢٧٤ (صحیح) (ابن عباس کا وہم ہے کہ میمونہ سے شادی حالت احرام میں ہوئی، صحیح اور ثابت یہی ہے کہ احرام سے باہر یہ شادی ہوئی، اسی لیے علماء نے ابن عباس سے ثابت ان احادیث کو شاذ کہا ہے )
عثمان بن عفان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: محرم نہ اپنا نکاح کرے، نہ شادی کا پیغام بھیجے اور نہ ہی کسی دوسرے کا نکاح کرائے ۔
‘Uthman bin ‘Affan (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘The Muhrim should not get married, or propose marriage, or arrange a marriage for someone else.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2842
عثمان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے منع فرمایا: محرم اپنا نکاح کرے یا کسی دوسرے کا نکاح کرائے، یا کسی کو شادی کا پیغام بھیجے ۔
It was narrated from Aban bin ‘Uthman, from his father, that the Prophet ﷺ forbade the Muhrim to get married, arrange a marriage for anyone else, or propose marriage. (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2843
نبیہ بن وہب کہتے ہیں کہ عمر بن عبیداللہ بن معمر نے ابان بن عثمان کے پاس کسی کو یہ سوال کرنے کے لیے بھیجا کہ کیا محرم نکاح کرسکتا ہے؟ تو ابان نے کہا کہ عثمان بن عفان ؓ نے بیان کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: محرم نہ نکاح کرے، اور نہ نکاح کا پیغام بھیجے ۔
‘Uthman bin ‘Affan (RA) narrated that the Prophet ﷺ said: “The Muhrim should not get married or propose marriage.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2844
عطاء کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی الله عنہما کو کہتے سنا کہ نبی اکرم ﷺ نے پچھنا لگوایا اور آپ احرام باندھے ہوئے تھے، اس کے بعد انہوں نے یہ کہا کہ طاؤس نے ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے پچھنا لگوایا، اور آپ محرم تھے۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “The Prophet ﷺ was treated by means of cupping when he was in Ihram.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2847
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پاؤں کے اوپری حصہ پر اس تکلیف کی وجہ سے جو آپ کو تھی پچھنا لگوایا اور آپ محرم تھے۔
It was narrated from Anas that the Messenger of Allah ﷺ was treated by means of cupping when he was in Ihram on the top of the foot for a contusion that he had suffered. (Da’if)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2849