میقاتوں سے متعلق احادیث

Sunan An Nasai · Chapter 23 · 435 hadiths · Page 10 of 22

2833Sunan An Nasai

چوہے کو مارنا

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَذِنَ فِي قَتْلِ خَمْسٍ مِنَ الدَّوَابِّ لِلْمُحْرِمِ: الْغُرَابُ، وَالْحِدَأَةُ، وَالْفَأْرَةُ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ، وَالْعَقْرَبُ.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے محرم کو پانچ جانور کو مارنے کی اجازت دی ہے: کوا، چیل، چوہیا، کٹ کھنا (کاٹنے والا) کتا، اور بچھو۔

It was narrated from Ibn ‘Umar that the Messenger of Allah ﷺ gave permission for the Muhrim to kill five kinds of animals: Crows, kites, mice, vicious dogs and scorpions. (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2830
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٩ (١١٩٨ م، ١١٩٩)، (تحفة الأشراف: ٨٢٩٨) (صحیح )
2834Sunan An Nasai

گرگٹ کو مارنے سے متعلق

أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاق، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِيأَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ امْرَأَةً دَخَلَتْ عَلَى عَائِشَةَ وَبِيَدِهَا عُكَّازٌ، فَقَالَتْ: مَا هَذَا ؟ فَقَالَتْ: لِهَذِهِ الْوَزَغِ، لِأَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ شَيْءٌ إِلَّا يُطْفِئُ عَلَى إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام، إِلَّا هَذِهِ الدَّابَّةُ، فَأَمَرَنَا بِقَتْلِهَا، وَنَهَى عَنْ قَتْلِ الْجِنَّانِ، إِلَّا ذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالْأَبْتَرَ، فَإِنَّهُمَا يَطْمِسَانِ الْبَصَرَ، وَيُسْقِطَانِ مَا فِي بُطُونِ النِّسَاءِ.

تابعی سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ ایک عورت ام المؤمنین عائشہ کے پاس آئی، اور ان کے ہاتھ میں لوہے کی پھلی لگی ہوئی لاٹھی تھی، اس عورت نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ کہا: یہ ان چھپکلیوں (کے مارنے) کے لیے ہے۔ اس لیے کہ نبی اکرم ﷺ نے ہمیں بتایا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کی آگ کو اس جانور کے سوا سبھی جانور بجھاتے تھے اسی وجہ سے آپ نے ہمیں اسے مارنے کا حکم دیا ہے۔ اور گھروں میں رہنے والے سانپ کے مارنے سے روکا ہے سوائے دو دھاریوں والے، اور دم بریدہ سانپ کے کیونکہ یہ دونوں بصارت کو زائل کردیتے ہیں، اور حاملہ عورت کا حمل گرا دیتے ہیں۔

It was narrated from Saeed bin Al-Musayyab that a woman entered upon Aishah (RA), and in her hand was an iron-footed stick. She said: “What is this?” She (Aishah (RA)) said: “It is for these geckos, because the Prophet of Allah ﷺ told us, that there was nothing that did not try to extinguish the fire for Ibrahim except for this animal, so he told us to kill it. And he forbade us to kill harmless snakes, except for the snake with two lines on its back, and the snake with a short tail, for they snatch away the eyesight and cause that which is in women’s wombs to be miscarried.” (Hasan)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2831
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٦١٢٤)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الصید ١٢ (٣٢٣١)، مسند احمد (٦/٨٣، ١٠٩، ٢١٧) (صحیح )
2835Sunan An Nasai

بچھو کو مارنا

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو قُدَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ لَا جُنَاحَ عَلَى مَنْ قَتَلَهُنَّ أَوْ فِي قَتْلِهِنَّ وَهُوَ حَرَامٌ: الْحِدَأَةُ، وَالْفَأْرَةُ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ، وَالْعَقْرَبُ، وَالْغُرَابُ.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: پانچ جانور ایسے ہیں جنہیں احرام کی حالت میں مارنے پر یا جنہیں احرام کی حالت میں مارنے میں کوئی گناہ نہیں: چیل، چوہیا، کاٹ کھانے والا کتا، بچھو اور کوا ۔

It was narrated from Ibn ‘Umar that the Prophet ﷺ said: “There are five kinds of animals for which there is no sin on the one who kills them when he is in a state of Ihram: Kites, mice, vicious dogs, scorpions and crows.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2832
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٨٢١٧)، مسند احمد (٢/٥٤) (صحیح )
2836Sunan An Nasai

چیل کو مارنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا نَقْتُلُ مِنَ الدَّوَابِّ إِذَا أَحْرَمْنَا ؟ قَالَ: خَمْسٌ لَا جُنَاحَ عَلَى مَنْ قَتَلَهُنَّ: الْحِدَأَةُ، وَالْغُرَابُ، وَالْفَأْرَةُ، وَالْعَقْرَبُ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جب ہم احرام باندھے ہوئے ہوں تو کون سے جانور مار سکتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: پانچ جانور ہیں جن کے مارنے پر کوئی گناہ نہیں: چیل، کوا، چوہیا، بچھو اور کٹ کھنا (کاٹنے والا) کتا ۔

It was narrated that Ibn ‘Umar said: “A man said: ‘Messenger of Allah ﷺ, what animals may we kill when we are in Ihram?’ He said: ‘There are five for which there is no sin in killing them: Kites, crows, mice, scorpions and vicious dogs.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2833
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٩ (١١٩٩)، (تحفة الأشراف: ٧٥٤٣)، مسند احمد (٢/٤٨، ٦٥، ٨٢) (صحیح )
2837Sunan An Nasai

کوے کو مارنا

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ مَا يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ ؟ قَالَ: يَقْتُلُ الْعَقْرَبَ، وَالْفُوَيْسِقَةَ، وَالْحِدَأَةَ، وَالْغُرَابَ، وَالْكَلْبَ الْعَقُورَ.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا گیا کہ محرم کن (جانوروں) کو قتل کرسکتا ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ بچھو، چوہیا، چیل۔ کوا، اور کاٹ کھانے والے کتے کو قتل کرسکتا ہے ۔

It was narrated from Ibn ‘Umar that the Prophet ﷺ was asked what the Muhrim may kill? He said: “He may kill scorpions, the evil creature (mice), kites, crows and vicious dogs.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2834
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٩ (١١٩٩)، (تحفة الأشراف: ٨٥٢٣)، مسند احمد (٢/٧٧)، سنن الدارمی/المناسک ١٩ (١٨٥٧) (صحیح )
2838Sunan An Nasai

کوے کو مارنا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ لَا جُنَاحَ فِي قَتْلِهِنَّ عَلَى مَنْ قَتَلَهُنَّ فِي الْحَرَمِ وَالْإِحْرَامِ: الْفَأْرَةُ، وَالْحِدَأَةُ، وَالْغُرَابُ، وَالْعَقْرَبُ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: پانچ جانور ایسے ہیں جنہیں حرم میں اور حالت احرام میں مارنے میں کوئی گناہ نہیں ہے: چوہیا، چیل، کوا، بچھو اور کاٹ کھانے والا کتا ۔

It was narrated from Salim that his father said: “The Prophet ﷺ said: ‘There are five kinds of animals for which there is no sin on the one who kills them, whether he is in Ihram or not: Mice, kites, crows, scorpions and vicious dogs.”(Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2835
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٩ (١١٩٩)، سنن ابی داود/المناسک ٤٠ (١٨٤٦)، (تحفة الأشراف: ٨٦٢٥) (صحیح )
2839Sunan An Nasai

محرم کو جن چیزوں کو مار ڈالنا درست نہیں ہے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي عَمَّارٍ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ الضَّبُعِ، فَأَمَرَنِي بِأَكْلِهَا، قُلْتُ: أَصَيْدٌ هِيَ ؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: أَسَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ: نَعَمْ.

ابن ابی عمار کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ ؓ سے بجو کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مجھے اس کے کھانے کا حکم دیا، میں نے ان سے پوچھا: کیا وہ شکار ہے؟ کہا: ہاں، میں نے کہا: کیا آپ نے اسے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے؟ کہا: ہاں (میں نے سنا ہے) ۔

It was narrated that Ibn Abi ‘Ammar said: “I asked Jabir bin ‘Abdullah about hyenas, and he told me to eat them. I said: ‘Is it not game? He said: ‘Yes.’ I said: ‘Did you hear that from the Messenger of Allah ﷺ ?‘ He said: ‘Yes.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2836
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأطعمة ٣٢ (٣٨٠١)، سنن الترمذی/الحج ٢٨ (٨٥١)، الأطعمة ٤ (١٧٩١)، سنن ابن ماجہ/الحج ٩٠ (٣٠٨٥)، الصید ١٥ (٣٢٣٦)، (تحفة الأشراف: ٢٣٨١)، مسند احمد (٣/٢٩٧، ٣١٨، ٣٢١)، سنن الدارمی/المناسک ٩٠ (٨٩٨٤، ١٩٨٥)، ویأتی عند المؤلف في الصید ٢٧ (برقم ٤٣٢٨) (صحیح )
2840Sunan An Nasai

محرم کو نکاح کرنے کی اجازت سے متعلق

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارُ، عَنْ عَمْرٍو وَهُوَ ابْنُ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الشَّعْثَاءِيُحَدِّثُ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے میمونہ ؓ سے نکاح کیا اور آپ محرم تھے ١ ؎۔

It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “The Prophet ﷺ married Maimunah when he was in Ihram.” (Sahih)

شاذصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2837
Notes · وضاحت
١ ؎: سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ اس سلسلہ میں ابن عباس کو وہم ہوا ہے کیونکہ ام المؤمنین میمونہ رضی الله عنہا کا خود بیان ہے کہ رسول اللہ نے مجھ سے شادی کی تو ہم دونوں حلال تھے، نیز ان دونوں کا نکاح کرانے والے ابورافع رضی الله عنہ کا بیان بھی ابن عباس رضی الله عنہما کے برعکس ہے، دراصل ابن عباس رضی الله عنہما نے مکہ نہ جا کر صرف ہدی کا جانور بھیج دینے کو بھی احرام سمجھا، حالانکہ یہ احرام نہیں ہوتا، اور یہ نکاح اسی حالت میں ہوا تھا کہ آپ ﷺ نے اشعار کر کے ہدی بھیج دی اور حج سے رہ گئے، اور بقول عائشہ رضی الله عنہا آپ نے اپنے اوپر احرام کی کوئی بات لاگو نہیں کی، (دیکھئیے سنن ابوداؤد حدیث رقم ١٨٤٢ ) ایک قول یہ بھی ہے کہ آپ نے حالت احرام میں نکاح سے ممانعت حجۃ الوداع میں کی تھی، اور میمونہ رضی الله عنہا سے نکاح اس حرمت سے پہلے کیا تھا۔ واللہ اعلم
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ انکاح ٣٠ (٥١١٥)، صحیح مسلم/انکاح ٥ (١٤١٠)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الحج ٣٩ (١٨٤٤)، سنن الترمذی/ الحج ٢٤ (٨٤٤)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٤٥ (١٩٦٥)، (تحفة الأشراف: ٥٣٧٦)، مسند احمد ١/٢٢١، ٢٢٨، ٢٤٥، ٢٦٦، ٢٧٠، ٢٨٣، ٢٨٥، ٢٨٦، ٣٢٤، ٣٣٠، ٣٣٣، ٣٣٦، ٣٣٧، ٣٤٦، ٣٥١، ٣٥٤، ٣٦٠، ٣٦١ سنن الدارمی/المناسک ٢١ (١٨٦٣)، ویأتی عند المؤلف فیما یأتی برقم: ٣٢٧٤ (صحیح) (ابن عباس کا وہم ہے کہ میمونہ سے شادی حالت احرام میں ہوئی، صحیح اور ثابت یہی ہے کہ احرام سے باہر یہ شادی ہوئی، اسی لیے علماء نے ابن عباس سے ثابت ان احادیث کو شاذ کہا ہے )
2841Sunan An Nasai

محرم کو نکاح کرنے کی اجازت سے متعلق

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّ أَبَا الشَّعْثَاءِحَدَّثَهُ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَكَحَ حَرَامًا.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حالت احرام میں نکاح کیا۔

It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Messenger of Allah ﷺ got married when in Ihram. (Sahih)

سكت عنه الشيخصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2838
Takhrij · تخریج
انظرما قبلہ (صحیح) (لیکن شاذ ہے )
2842Sunan An Nasai

محرم کو پچھنے لگانا

أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُونُسَ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَتَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ وَهُمَا مُحْرِمَانِ.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے میمونہ ؓ سے نکاح کیا اور دونوں محرم تھے۔

It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Messenger of Allah ﷺ, married Maimunah when they were both in Ihram. (Sahih)

شاذصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2839
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٦٣٣٩١) (صحیح) (لیکن شاذ ہے )
2843Sunan An Nasai

قلیل صدقہ سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق الصَّاغَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاق، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْعِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَتَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے میمونہ ؓ سے نکاح کیا اور آپ محرم تھے۔

It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Messenger of Allah ﷺ married Maimunah when he was in Ihram. (Sahih)

شاذصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2840
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٦٠٤٥)، مسند احمد (١/٢٤٥) (صحیح) (لیکن شاذ ہے )
2844Sunan An Nasai

محرم کو پچھنے لگانا

أَخْبَرَنِي شُعَيْبُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ إِسْحَاق، وَصَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو الْحِمْصِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَاالْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَتَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے میمونہ ؓ سے نکاح کیا اور آپ احرام باندھے ہوئے تھے۔

It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Prophet ﷺ married Maimunah when he was in Ihram. (Sahih)

شاذصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2841
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/جزاء الصید ١٢ (١٨٣٧)، (تحفة الأشراف: ٥٩٠٣)، مسند احمد (١/٣٣٠) (صحیح )
2845Sunan An Nasai

اس کی ممانعت سے متعلق

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ، أَنَّ أَبَانَ بْنَ عُثْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَنْكِحُ الْمُحْرِمُ وَلَا يَخْطُبُ وَلَا يُنْكِحُ.

عثمان بن عفان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: محرم نہ اپنا نکاح کرے، نہ شادی کا پیغام بھیجے اور نہ ہی کسی دوسرے کا نکاح کرائے ۔

‘Uthman bin ‘Affan (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘The Muhrim should not get married, or propose marriage, or arrange a marriage for someone else.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2842
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/النکاح ٥ (١٤٠٩)، سنن ابی داود/الحج ٣٩ (١٨٤١) مطولا، سنن الترمذی/الحج ٢٣ (٨٤٠)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٤٥ (١٩٦٦)، (تحفة الأشراف: ٩٧٧٦)، موطا امام مالک/الحج ٢٢ (٧٠)، مسند احمد (١/٥٧، ٦٤، ٦٥، ٦٨، ٦٩، ٧٣)، سنن الدارمی/المناسک ٢١ (١٨٦٤)، ویأتي عند المؤلف فی انکاح ٣٨ (برقم ٣٢٧٧، ٣٢٧٨) (صحیح )
2846Sunan An Nasai

اس کی ممانعت سے متعلق

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُنَهَى أَنْ يَنْكِحَ الْمُحْرِمُ، أَوْ يُنْكِحَ، أَوْ يَخْطُبَ.

عثمان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے منع فرمایا: محرم اپنا نکاح کرے یا کسی دوسرے کا نکاح کرائے، یا کسی کو شادی کا پیغام بھیجے ۔

It was narrated from Aban bin ‘Uthman, from his father, that the Prophet ﷺ forbade the Muhrim to get married, arrange a marriage for anyone else, or propose marriage. (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2843
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ (صحیح )
2847Sunan An Nasai

اس کی ممانعت سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَرْسَلَ عُمَرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْمَرٍ إِلَى أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ يَسْأَلُهُ أَيَنْكِحُ الْمُحْرِمُ ؟ فَقَالَ أَبَانُ: إِنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ حَدَّثَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يَنْكِحُ الْمُحْرِمُ، وَلَا يَخْطُبُ.

نبیہ بن وہب کہتے ہیں کہ عمر بن عبیداللہ بن معمر نے ابان بن عثمان کے پاس کسی کو یہ سوال کرنے کے لیے بھیجا کہ کیا محرم نکاح کرسکتا ہے؟ تو ابان نے کہا کہ عثمان بن عفان ؓ نے بیان کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: محرم نہ نکاح کرے، اور نہ نکاح کا پیغام بھیجے ۔

‘Uthman bin ‘Affan (RA) narrated that the Prophet ﷺ said: “The Muhrim should not get married or propose marriage.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2844
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٨٤٥ (صحیح )
2848Sunan An Nasai

محرم کو پچھنے لگانا

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَاحْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پچھنا لگوایا، اور آپ احرام باندھے ہوئے تھے۔

It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Messenger of Allah ﷺ was treated by means of cupping when he was in Ihram. (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2845
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/جزاء الصید ١١ (١٨٣٥)، الصوم ٣٢ (١٩٣٨)، الطب ١٢ (٥٦٩٤)، ١٥ (٥٦٩٥)، صحیح مسلم/الحج ١١ (١٢٠٢)، سنن ابی داود/الحج ٣٦ (١٨٣٥)، سنن الترمذی/الحج ٢٢ (٨٣٩)، (تحفة الأشراف: ٥٧٣٧)، مسند احمد (١/٢٢١، سنن الدارمی/المناسک ٢٠ (١٨٦٢) (صحیح )
2849Sunan An Nasai

محرم کو پچھنے لگانا

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ طَاوُسٍ، وَعَطَاءٌ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَاحْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے پچھنا لگوایا اور آپ محرم تھے۔

It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Prophet ﷺ was treated by means of cupping when he was in Ihram. (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2846
Takhrij · تخریج
انظرماقبلہ (صحیح )
2850Sunan An Nasai

محرم کو پچھنے لگانا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍيَقُولُ: احْتَجَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ. (حديث موقوف) (حديث مرفوع) ثُمَّ قَالَ بَعْدُ: أَخْبَرَنِيطَاوُسٌ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: احْتَجَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ.

عطاء کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی الله عنہما کو کہتے سنا کہ نبی اکرم ﷺ نے پچھنا لگوایا اور آپ احرام باندھے ہوئے تھے، اس کے بعد انہوں نے یہ کہا کہ طاؤس نے ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے پچھنا لگوایا، اور آپ محرم تھے۔

It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “The Prophet ﷺ was treated by means of cupping when he was in Ihram.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2847
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٨٤٨ (صحیح )
2851Sunan An Nasai

محرم کا کسی بیماری کی وجہ سے پچھنے لگانا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَاحْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ مِنْ وَثْءٍ كَانَ بِهِ.

جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک تکلیف کے باعث جو آپ کو لاحق تھی پچھنا لگوایا اور آپ محرم تھے۔

It was narrated from Jabir that the Prophet ﷺ was treated by means of cupping when he was in Ihram for a contusion that he had suffered. (Da’if)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2848
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٢٩٩٨)، مسند احمد (٣/٣٦٣)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطب ٥ (٣٨٦٣)، سنن ابن ماجہ/الطب ٢١ (٣٤٨٥) (تعلیقاً ) (صحیح )
2852Sunan An Nasai

محرم کے پاؤں میں پچھنے لگوانے کے بارے میں

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَاحْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ عَلَى ظَهْرِ الْقَدَمِ مِنْ وَثْءٍ كَانَ بِهِ.

انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پاؤں کے اوپری حصہ پر اس تکلیف کی وجہ سے جو آپ کو تھی پچھنا لگوایا اور آپ محرم تھے۔

It was narrated from Anas that the Messenger of Allah ﷺ was treated by means of cupping when he was in Ihram on the top of the foot for a contusion that he had suffered. (Da’if)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2849
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحج ٣٦ (١٨٣٧)، سنن الترمذی/الشمائل ٤٩ (٣٤٨)، (تحفة الأشراف: ١٣٣٥)، مسند احمد (٣/١٦٤، ٢٦٧) (صحیح )