میقاتوں سے متعلق احادیث

Sunan An Nasai · Chapter 23 · 435 hadiths · Page 11 of 22

2853Sunan An Nasai

محرم کا سر کے درمیان فصد لگوانا کیسا ہے؟

أَخْبَرَنِي هِلَالُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ وَهُوَ ابْنُ عَثْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، قَالَ: قَالَ عَلْقَمَةُ بْنُ أَبِي عَلْقَمَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ الْأَعْرَجَ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ ابْنَ بُحَيْنَةَ يُحَدِّثُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَاحْتَجَمَ وَسَطَ رَأْسِهِ وَهُوَ مُحْرِمٌ بِلَحْيِ جَمَلٍ مِنْ طَرِيقِ مَكَّةَ.

عبداللہ بن بحینہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مکہ کے راستہ میں لحی جمل میں اپنے سر کے بیچ میں پچھنا لگوایا، اور آپ محرم تھے۔

‘Abdullah bin Buhayanah narrated that the Messenger of Allah ﷺ was treated by means of cupping in the middle of his head, when he was in Ihram, in Lahi Jamal, on the road to Makkah.(Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2850
Notes · وضاحت
١ ؎: لحی جمل مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک جگہ کا نام ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/جزاء الصید ١١ (١٨٣٦)، والطب ١٤ (٥٦٩٨)، صحیح مسلم/الحج ١١ (١٢٠٣)، سنن ابن ماجہ/الطب ٢١ (٣٤٨١)، (تحفة الأشراف: ٩١٥٦)، مسند احمد (٥/٣٤٥)، سنن الدارمی/المناسک ٢٠ (١٨٦١) (صحیح )
2854Sunan An Nasai

اگر کسی محرم کو جوؤں کی وجہ سے تکلیف ہو تو کیا کرنا چاہیے؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قراءة عليه وأنا أسمع، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْعَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ مَالِكٍ الْجَزَرِيِّ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْرِمًا، فَآذَاهُ الْقَمْلُ فِي رَأْسِهِ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَحْلِقَ رَأْسَهُ، وَقَالَ: صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ مُدَّيْنِ مُدَّيْنِ، أَوِ انْسُكْ شَاةً، أَيَّ ذَلِكَ فَعَلْتَ أَجْزَأَ عَنْكَ.

کعب بن عجرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ احرام باندھے ہوئے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے، تو ان کے سر کے جوئیں انہیں تکلیف دینے لگیں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں سر منڈا لینے کا حکم دیا اور فرمایا: (اس کے کفارہ کے طور پر) تین دن کے روزے رکھو، یا چھ مسکینوں کوفی مسکین دو دو مد کے حساب سے کھانا کھلاؤ، یا ایک بکری ذبح کرو، ان تینوں میں سے جو بھی کرلو گے تمہاری طرف سے کافی ہوجائے گا ۔

It was narrated from Kab bin Ujra: That he was with the Messenger of Allah in Ihram and he suffered an infestation of head lice. The Messenger of Allah commanded him to shave his head and told him: "Fast for three days, or fed six poor persons two Mudds earch, or sacrifice a sheep. Whichever one of these you do will be sufficient for you.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2851
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المحصر ٥، ٦، ٧، ٨ (١٨١٤-١٨١٨)، المغازی ٣٥ (٤١٥٩)، تفسیر البقرة ٣٢ (٤٥١٧)، المرضی ١٦ (٥٦٦٥)، الطب ١٦ (٥٧٠٣)، الکفارات ١ (٦٧٠٨)، صحیح مسلم/الحج ١٠ (١٢٠١)، سنن ابی داود/الحج ٤٣ (١٨٥٧)، سنن الترمذی/الحج ١٠٧ (٩٥٣)، و تفسیر البقرة (٢٩٧٣، ٢٩٧٤)، (تحفة الأشراف: ١١١١٤)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الحج ٨٦ (٣٠٧٩)، موطا امام مالک/الحج ٧٨ (٢٣٧)، مسند احمد (٤/ ٢٤١، ٢٤٢، ٢٤٣، ٢٤٤) (صحیح )
2855Sunan An Nasai

اگر کسی محرم کو جوؤں کی وجہ سے تکلیف ہو تو کیا کرنا چاہیے؟

أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الرِّبَاطِيُّ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ الدَّشْتَكِيُّ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ الزُّبَيْرِ وَهُوَ ابْنُ عَدِيٍّ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ: أَحْرَمْتُ فَكَثُرَ قَمْلُ رَأْسِي، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَانِي وَأَنَا أَطْبُخُ قِدْرًا لِأَصْحَابِي، فَمَسَّ رَأْسِي بِإِصْبَعِهِ، فَقَالَ: انْطَلِقْ فَاحْلِقْهُ، وَتَصَدَّقْ عَلَى سِتَّةِ مَسَاكِينَ.

کعب بن عجرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عمرہ کا احرام باندھا تو میرے سر میں جوئیں بہت ہوگئیں، نبی اکرم ﷺ کو اس کی خبر پہنچی تو آپ میرے پاس تشریف لائے، اس وقت میں اپنے ساتھیوں کے لیے کھانا پکا رہا تھا، تو آپ نے اپنی انگلی سے میرا سر چھوا اور فرمایا: جاؤ، سر منڈا لو اور چھ مسکینوں پر صدقہ کر دو ۔

It was narrated that Ka’b bin ‘Ujrah said: “I entered Ihram, then I had a severe infestation of head lice. News of that reached the Prophet ﷺ and he came to me when I was cooking something in a pot for my companions. He touched my head with his finger and said: ‘Go and shave it, and give charity to six poor persons.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2852
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١١١٠٨) (صحیح )
2856Sunan An Nasai

اگر محرم مر جائے تو اس کو بیری کے پتے ڈال کر غسل دینے سے متعلق

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَقَصَتْهُ نَاقَتُهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَمَاتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ، وَلَا تُمِسُّوهُ بِطِيبٍ، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھا، اس کی اونٹنی نے گرا کر اس کی گردن توڑ دی، اور وہ محرم تھا تو وہ مرگیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسے پانی اور بیری کے پتے سے غسل دو اور اسے اس کے (احرام کے) دونوں کپڑوں ہی میں کفنا دو، نہ اسے خوشبو لگاؤ، اور نہ اس کا سر ڈھانپو کیونکہ وہ قیامت کے دن لبیک پکارتا ہوا اٹھایا جائے گا ۔

It was narrated from Ibn ‘Abbas that a man was with the Messenger of Allah ﷺ, and his she-camel broke his neck when he was in Ihram, and he died. The Messenger of Allah ﷺ said: “Wash him with water and lote leaves, and shroud him in his two garments, and do not put any perfume on him or cover his head, for he will be raised on the Day of Resurrection reciting the Talbiyah.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2853
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٩٠٥ (صحیح )
2857Sunan An Nasai

اگر محرم مر جائے تو اس کو کس قدر کپڑوں میں کفن دینا چاہیے؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا مُحْرِمًا صُرِعَ عَنْ نَاقَتِهِ فَأُوقِصَ، ذُكِرَ أَنَّهُ قَدْ مَاتَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: عَلَى إِثْرِهِ خَارِجًا رَأْسُهُ، قَالَ: وَلَا تُمِسُّوهُ طِيبًا، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا، قَالَ شُعْبَةُ: فَسَأَلْتُهُ بَعْدَ عَشْرِ سِنِينَ، فَجَاءَ بِالْحَدِيثِ كَمَا كَانَ يَجِيءُ بِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَلَا تُخَمِّرُوا وَجْهَهُ وَرَأْسَهُ.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک محرم اپنی اونٹنی سے گرگیا، تو اس کی گردن ٹوٹ گئی، ذکر کیا گیا کہ وہ مرگیا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اسے پانی اور بیر کی پتی سے غسل دو، اور دو کپڑوں ہی میں اسے کفنا دو ، اس کے بعد یہ بھی فرمایا: اس کا سر کفن سے باہر رہے ، فرمایا: اور اسے کوئی خوشبو نہ لگانا کیونکہ وہ قیامت کے دن تلبیہ پکارتا ہوا اٹھایا جائے گا ۔ شعبہ (جو اس حدیث کے راوی ہیں) کہتے ہیں: میں نے ان سے (یعنی اپنے استاد ابوبشر سے) دس سال بعد پوچھا تو انہوں نے یہ حدیث اسی طرح بیان کی جیسے پہلے کی تھی البتہ انہوں نے (اس بار اتنا مزید) کہا کہ اس کا منہ اور سر نہ ڈھانپو ۔

It was narrated from Ibn ‘Abbas that a man in Ihram was thrown by his she-camel and his neck was broken. It was said that he had died, so the Prophet ﷺ said: “Wash him with water and lotus leaves, and shroud him in two cloths.” Then he said: “Do not put any perfume on him for he will be raised on the Day of Resurrection reciting the Talbiyah.” Shu’bah said: “Ten years later, I asked him (the narrator Abu Bishr) about that. And he narrated the Hadith as he had the first time, except that he said: ‘And do not cover his face and head.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2854
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٧١٤ (صحیح )
2858Sunan An Nasai

اگر محرم مر جائے تو اس کو خوشبو نہ لگانا

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بَيْنَا رَجُلٌ وَاقِفٌ بِعَرَفَةَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ وَقَعَ مِنْ رَاحِلَتِهِ، فَأَقْعَصَهُ أَوْ قَالَ: فَأَقْعَصَتْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْنِ، وَلَا تُحَنِّطُوهُ، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص عرفہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کھڑا تھا کہ وہ اپنی سواری سے گرگیا اور اس کی اونٹنی نے اسے کچل کر ہلاک کردیا۔ (راوی کو شک ہے کہ ابن عباس ؓ نے فأقعصه (مذکر کے صیغہ کے ساتھ) کہا یا فأقعصته (مونث کے صیغہ کے ساتھ) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسے پانی اور بیر کی پتی سے غسل دو، اور اسے اس کے دونوں کپڑوں ہی میں کفنا دو، نہ اسے خوشبو لگاؤ، اور نہ اس کے سر کو ڈھانپو، اس لیے کہ اللہ عزوجل اسے قیامت کے دن لبیک پکارتا ہوا اٹھائے گا ۔

It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “While a man was standing in ‘Arafat with the Messenger of Allah ﷺ, he fell from his mount and it killed him. The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Wash him with water and lotus leaves, and shroud him in two cloths. Do not apply aromatics to him or cover his head, for Allah, the Mighty and Sublime, will raise him on the Day of Resurrection reciting the Talbiyah.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2855
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجنائز ١٩ (١٢٦٥)، ٢٠ (١٢٦٦)، ٢١ (١٢٦٨)، جزاء الصید ٢٠ (١٨٥٠)، صحیح مسلم/الحج ١٤ (١٢٠٦)، سنن الدارمی/المناسک ٣٢٣٩، ٣٢٤٠)، (تحفة الأشراف: ٥٤٣٧)، مسند احمد (١/٣٣٣)، سنن الدارمی/المناسک ٣٥ (١٨٩٤) (صحیح )
2859Sunan An Nasai

اگر محرم مر جائے تو اس کو خوشبو نہ لگانا

أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: وَقَصَتْ رَجُلًا مُحْرِمًا نَاقَتُهُ، فَقَتَلَتْهُ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: اغْسِلُوهُ، وَكَفِّنُوهُ، وَلَا تُغَطُّوا رَأْسَهُ وَلَا تُقَرِّبُوهُ طِيبًا، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يُهِلُّ.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک محرم شخص کو اس کی اونٹنی نے گرا کر اس کی گردن توڑ دی اور اسے ہلاک کردیا، تو رسول اللہ ﷺ کے پاس لایا گیا تو آپ نے فرمایا: اسے نہلاؤ، اور کفناؤ، (لیکن) اس کا سر نہ ڈھانپنا اور نہ اسے خوشبو لگانا کیونکہ وہ (قیامت کے دن) لبیک پکارتا ہوا اٹھایا جائے گا ۔

It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “The she-camel of a man in Ihram broke his neck and killed him. He was brought to the Messenger of Allah ﷺ and he said: ‘Wash him and shroud him, and do not cover his head, or bring any perfume near him, for he will be raised reciting Talbiyah,” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2856
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/جزاء الصید ١٣ (١٨٣٩)، سنن ابی داود/المناسک ٨٤ (٣٢٤١)، (تحفة الأشراف: ٥٤٩٧)، مسند احمد (١/٢٦٦) (صحیح )
2860Sunan An Nasai

اگر کوئی آدمی حالت احرام میں وفات پا جائے تو اس کا سر اور چہرے نہ چھپا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَلَفٌ يَعْنِي ابْنَ خَلِيفَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ حَاجًّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَّهُ لَفَظَهُ بَعِيرُهُ، فَمَاتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُغَسَّلُ، وَيُكَفَّنُ فِي ثَوْبَيْنِ، وَلَا يُغَطَّى رَأْسُهُ وَوَجْهُهُ، فَإِنَّهُ يَقُومُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج کر رہا تھا کہ اس کے اونٹ نے اسے گرا دیا جس سے وہ مرگیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسے غسل دیا جائے، اور دونوں کپڑوں ہی میں اسے کفنا دیا جائے، اور اس کا سر اور چہرہ نہ ڈھانپا جائے، کیونکہ وہ قیامت کے دن لبیک پکارتا ہوا اٹھے گا ۔

It was narrated from Ibn ‘Abbas that a man was performing Hajj with the Messenger of Allah ﷺ and his she-camel threw him and he died. The Messenger of Allah ﷺ said: “Wash him and shroud him in two garments, and do not cover his head or his face, for he will be raised on the Day of Resurrection reciting Talbiyah.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2857
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٧١٤ (صحیح )
2861Sunan An Nasai

اگر محرم کی وفات ہوجائے تو اس کا سر نہ ڈھانکنا چاہیے

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاق، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّسَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، قَالَ: أَقْبَلَ رَجُلٌ حَرَامًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَّ مِنْ فَوْقِ بَعِيرِهِ، فَوُقِصَ وَقْصًا، فَمَاتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَأَلْبِسُوهُ ثَوْبَيْهِ، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ، فَإِنَّهُ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُلَبِّي.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص احرام باندھے ہوئے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آیا، تو وہ اپنے اونٹ پر سے گرپڑا تو اسے کچل ڈالا گیا اور وہ مرگیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسے پانی اور بیر کی پتی سے غسل دو، اور اسے اس کے یہی دونوں (احرام کے) کپڑے پہنا دو، اور اس کا سر نہ ڈھانپو کیونکہ وہ قیامت کے دن لبیک پکارتا ہوا آئے گا ۔

It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “A man in Ihram came with the Messenger of Allah ﷺ and fell from atop his camel, breaking his neck, and he died. The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Wash him with water and lotus leaves, and wrap him in his two garments. But do not cover his head, for he will be raised on the Day of Resurrection reciting the Talbiyah.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2858
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٩٠٥ (صحیح )
2862Sunan An Nasai

اگر کسی شخص کو دشمن حج سے روک دے تو کیا کرنا چاہیے؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، وَسَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَاهُ، أَنَّهُمَا كَلَّمَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ لَمَّا نَزَلَ الْجَيْشُ بِابْنِ الزُّبَيْرِ، قَبْلَ أَنْ يُقْتَلَ، فَقَالَا: لَا يَضُرُّكَ أَنْ لَا تَحُجَّ الْعَامَ، إِنَّا نَخَافُ أَنْ يُحَالَ بَيْنك وَبَيْنَ الْبَيْتِ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَالَ كُفَّارُ قُرَيْشٍ دُونَ الْبَيْتِ، فَنَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدْيَهُ، وَحَلَقَ رَأْسَهُ، وَأُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ عُمْرَةً إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَنْطَلِقُ، فَإِنْ خُلِّيَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْبَيْتِ، طُفْتُ، وَإِنْ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْبَيْتِ فَعَلْتُ مَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ، ثُمَّ سَارَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ: فَإِنَّمَا شَأْنُهُمَا وَاحِدٌ، أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ حَجَّةً مَعَ عُمْرَتِي، فَلَمْ يَحْلِلْ مِنْهُمَا حَتَّى أَحَلَّ يَوْمَ النَّحْرِ وَأَهْدَى.

نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عبداللہ اور سالم بن عبداللہ بن عمر دونوں نے انہیں خبر دی کہ ان دونوں نے جب حجاج بن یوسف کے لشکر نے ابن زبیر ؓ پر چڑھائی کی تو ان کے قتل کئے جانے سے پہلے عبداللہ بن عمر ؓ سے بات کی ان دونوں نے کہا: امسال آپ حج کے لیے نہ جائیں تو کوئی نقصان نہیں، ہمیں اندیشہ ہے کہ ہمارے اور بیت اللہ کے درمیان کوئی رکاوٹ نہ کھڑی کردی جائے، تو انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے، تو کفار قریش بیت اللہ تک پہنچنے میں حائل ہوگئے، تو آپ ﷺ نے (وہیں) اپنی ہدی کا نحر کرلیا اور سر منڈا لیا (اور حلال ہوگئے) سنو! میں تمہیں گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے عمرہ (اپنے اوپر) واجب کرلیا ہے۔ ان شاء اللہ میں جاؤں گا اگر مجھے بیت اللہ تک پہنچنے سے نہ روکا گیا تو میں طواف کروں گا، اور اگر میرے اور بیت اللہ کے درمیان کوئی رکاوٹ پیش آگئی تو میں وہی کروں گا جو رسول اللہ ﷺ نے کیا اور میں آپ کے ساتھ تھا۔ پھر وہ تھوڑی دیر چلتے رہے۔ پھر کہنے لگے بلاشبہ حج و عمرہ دونوں کا معاملہ ایک جیسا ہے، میں تمہیں گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے عمرہ کے ساتھ حج بھی اپنے اوپر واجب کرلیا ہے۔ چناچہ انہوں نے حج و عمرہ دونوں میں سے کسی سے بھی احرام نہیں کھولا۔ یہاں تک کہ یوم النحر (دسویں ذی الحجہ) کو احرام کھولا، اور ہدی کی قربانی کی۔

It was narrated from Nafi’ that ‘Abdullah bin ‘Abdullah and Salim bin ‘Abdullah told him, that they spoke to ‘Abdullah bin ‘Umar when the army besieged Ibn Az Zubair before he was killed. They said: “It does not matter if you do not perform Hajj this year; we are afraid lest we are prevented from reaching the House.” He said: We went out with the Messenger of Allah ﷺ and the disbelievers of the Quraish prevented us from reaching the House. So the Messenger of Allah ﷺ slaughtered his Hadi and shaved his head. I ask you to bear witness that I have resolved to perform ‘Umrah. If Allah wills I will set out and if I am allowed to reach the House I will circumambulate it, and if I am prevented from reaching the House I will do what the Messenger of Allah ﷺ did when I was with him.” Then he traveled for a while, then he said: “They are both the same. I ask you to bear witness that I have resolved to perform Hajj as well as ‘Umrah.” And he did not exit Ihram for either until he exited Ihram on the Day of Sacrifice and offered his Hadi. (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2859
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المحصر ١ (١٨٠٧)، ١٨٠٨)، المغازي ٣٥ (٤١٨٥)، (تحفة الأشراف: ٧٠٣٢) (صحیح )
2863Sunan An Nasai

اگر کسی شخص کو دشمن حج سے روک دے تو کیا کرنا چاہیے؟

أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ الْبَصْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَهُوَ ابْنُ حَبِيبٍ، عَنْ الْحَجَّاجِ الصَّوَّافِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ عَرِجَ أَوْ كُسِرَ فَقَدْ حَلَّ، وَعَلَيْهِ حَجَّةٌ أُخْرَى، فَسَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، وَأَبَا هُرَيْرَةَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَا: صَدَقَ.

حجاج بن عمرو انصاری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ جو شخص لنگڑا ہوجائے، یا جس کی کوئی ہڈی ٹوٹ جائے، تو وہ حلال ہوجائے گا، (اس کا احرام کھل جائے گا) اور اس پر دوسرا حج ہوگا ، (عکرمہ کہتے ہیں) میں نے عبداللہ بن عباس اور ابوہریرہ ؓ سے اس کے متعلق پوچھا، تو ان دونوں نے کہا کہ انہوں (یعنی حجاج انصاری) نے سچ کہا۔

It was narrated from ‘Ikrimah, from Al-Hajjaj bin ‘Amr Al-Ansari that he heard the Messenger of Allah ﷺ say: “Whoever suffers a leg injury or breaks his leg, he has exited Ihram, but he has to perform another Hajj.” I asked Ibn ‘Abbas and Abu Hurairah (RA) about that and he said: “He spoke the truth.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2860
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحج ٤٤ (١٨٦٣)، سنن الترمذی/الحج ٩٦ (٩٤٠)، سنن ابن ماجہ/الحج ٨٥ (٣٠٧٨)، (تحفة الأشراف: ٣٢٩٤)، مسند احمد (٣/٤٥٠)، سنن الدارمی/المناسک ٥٧ (١٩٣٦) (صحیح )
2864Sunan An Nasai

اگر کسی شخص کو دشمن حج سے روک دے تو کیا کرنا چاہیے؟

أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ الصَّوَّافِ، قَالَ: حَدَّثَنَايَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ كُسِرَ أَوْ عَرِجَ فَقَدْ حَلَّ وَعَلَيْهِ حَجَّةٌ أُخْرَى، وَسَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، وَأَبَا هُرَيْرَةَ، فَقَالَا صَدَقَ، وَقَالَ شُعَيْبٌ فِي حَدِيثِهِ: وَعَلَيْهِ الْحَجُّ مِنْ قَابِلٍ.

حجاج بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس کی ہڈی ٹوٹ گئی، یا جو لنگڑا ہوگیا تو وہ حلال ہوگیا، اور اس پر دوسرا حج ہے (عکرمہ کہتے ہیں) میں نے ابن عباس اور ابوہریرہ ؓ سے پوچھا، تو ان دونوں نے کہا، انہوں (حجاج انصاری) نے سچ کہا ہے۔ اور شعیب اپنی روایت میں وعليه حجة أخرى ان پر دوسرا حج ہے کے بجائے وعليه الحج من قابل آئندہ سال ان پر حج ہے کہا ہے۔

It was narrated from ‘Ikrimah, from Al-Hajjaj bin ‘Amr that the Prophet ﷺ said: “Whoever breaks his leg or suffers a leg injury, then he has exited Ihram, but he has to perform another Hajj.” I asked Ibn ‘Abbas and Abu Hurairah (RA) and they said: “He spoke the truth.” And in his narration (one of the narrators) Shuaib said: “He has to perform Hajj the following year.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2861
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٨٦٣ (صحیح )
2865Sunan An Nasai

مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کے بارے میں

أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ، أَنَّعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ،أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْزِلُ بِذِي طُوًى، يَبِيتُ بِهِ، حَتَّى يُصَلِّيَ صَلَاةَ الصُّبْحِ، حِينَ يَقْدَمُ إِلَى مَكَّةَ، وَمُصَلَّى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ عَلَى أَكَمَةٍ غَلِيظَةٍ، لَيْسَ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي بُنِيَ ثَمَّ، وَلَكِنْ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ عَلَى أَكَمَةٍ خَشِنَةٍ غَلِيظَةٍ.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ذی طویٰ میں اترتے اور وہیں رات گزارتے، پھر صبح کی نماز پڑھ کر مکہ میں داخل ہوتے، اور رسول اللہ ﷺ کے نماز پڑھنے کی جگہ ایک سخت ٹیلے پر تھی نہ کہ مسجد میں جو وہاں بنائی گئی ہے، بلکہ اس مسجد سے نیچے ایک ٹھوس کھردرے ٹیلے پر ہے۔

Ibn ‘Umar narrated that the Messenger of Allah ﷺ used to dismount at Dhi Tuwa and stay there overnight until he prayed Subh when he was approaching Makkah. The place where the Messenger of Allah ﷺ prayed was on top of the big hillock and not in the Masjid that was built later on, but it was lower than that, on top of the big hillock. (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2862
Notes · وضاحت
١ ؎: ذی طویٰ مکہ کے قریب ایک جگہ کا نام ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٨٩ (٩٤٨٤)، والحج ١٤٨ (١٧٦٧)، ١٤٩ (١٧٦٩)، صحیح مسلم/الحج ٣٨ (١٢٥٩)، (تحفة الأشراف: ٨٤٦٠)، مسند احمد (٢/٨٧) (صحیح )
2866Sunan An Nasai

رات کے وقت مکہ مکرمہ داخل ہونے کے بارے میں

أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ شُعَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُزَاحِمُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مُحَرِّشٍ الْكَعْبِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ لَيْلًا مِنْ الْجِعِرَّانَةِ، حِينَ مَشَى مُعْتَمِرًا، فَأَصْبَحَ بِالْجِعِرَّانَةِ كَبَائِتٍ حَتَّى إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ، خَرَجَ عَنْ الْجِعِرَّانَةِ فِي بَطْنِ سَرِفَ حَتَّى، جَامَعَ الطَّرِيقَ طَرِيقَ الْمَدِينَةِ مِنْ سَرِفَ.

محرش کعبی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ رات میں جعرانہ ٢ ؎ سے نکلے جس وقت آپ عمرہ کرنے کے لیے چلے پھر آپ رات ہی میں جعرانہ واپس آگئے اور جعرانہ میں اس طرح صبح کی گویا آپ نے رات وہیں گزاری ہے یہاں تک کہ جب سورج ڈھل گیا تو آپ جعرانہ سے چل کر بطن سرف پہنچے، سرف سے مدینہ کی راہ لی۔

It was narrated from Muharrish Al-Ka’bi, that the Prophet ﷺ, went out at night from Al-Ji’rranah when he set out for ‘Umrah, and came back to Al Ji’rranah in the morning, as if he had stayed there. Then, when the sun had passed its zenith he went out from Al-Ji’rranah in the valley of Sarf until the road joined the road to Al-Madinah from Sarf. (Hasan)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2863
Notes · وضاحت
١ ؎: جعرانہ مکہ اور طائف کے درمیان ایک جگہ کا نام ہے۔ سرف ایک جگہ کا نام ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحج ٨١ (١٩٩٦)، سنن الترمذی/الحج ٩٣ (٩٣٥)، (تحفة الأشراف: ١١٢٢٠)، مسند احمد (٣/٤٢٦، ٤٢٧، ٤/٦٩، ٥/٣٨٠)، سنن الدارمی/المناسک ٤١ (١٩٠٣) (صحیح )
2867Sunan An Nasai

رات کے وقت مکہ مکرمہ داخل ہونے کے بارے میں

أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ مُزَاحِمٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَالِدِ بْنِ أُسَيْدٍ، عَنْ مُحَرِّشٍ الْكَعْبِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَخَرَجَ مِنْ الْجِعِرَّانَةِ لَيْلًا، كَأَنَّهُ سَبِيكَةُ فِضَّةٍ، فَاعْتَمَرَ، ثُمَّ أَصْبَحَ بِهَا كَبَائِتٍ.

محرش کعبی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جعرانہ سے رات میں نکلے گویا آپ کھری چاندی کے ڈلے ہوں (یعنی آپ کا رنگ سفید چاندی کی طرح چمکدار تھا) آپ نے عمرہ کیا، پھر آپ نے جعرانہ ہی میں صبح کی جیسے آپ نے وہیں رات گزاری ہو۔

It was narrated from Muharrish Al-Kabi that: the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) set out from Al-Jirranah at night as if he were an ingot of silver (i.e., in whiteness and purity) and perfomed Umrah, then he came back in the mooring as if he had stayed there overnight.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2864
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ (صحیح )
2868Sunan An Nasai

مکہ مکرمہ میں کس جانب سے داخل ہوں؟

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ مِنْ الثَّنِيَّةِ الْعُلْيَا الَّتِي بِالْبَطْحَاءِ، وَخَرَجَ مِنْ الثَّنِيَّةِ السُّفْلَى.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مکہ میں ثنیہ علیا سے داخل ہوئے جو کہ بطحاء میں ہے، اور ثنیہ سفلی سے واپس نکلے۔

It was narrated from Ibn Umar that: the Messenger of Allah entered Makkah from the upper valley which is in Al-Batha and he left from the lower valley.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2865
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ٤٠ (١٥٧٦)، ٤١ (١٥٧٧)، صحیح مسلم/الحج ٣٧ (١٢٥٧)، سنن ابی داود/الحج ٤٥ (١٨٦٦)، (تحفة الأشراف: ٨١٤٠)، سنن ابن ماجہ/الحج ٢٦ (٢٩٤٠)، مسند احمد (٢/١٤، ١٩)، سنن الدارمی/المناسک ٨١ (١٩٦٩) (صحیح )
2869Sunan An Nasai

مکہ مکرمہ میں جھنڈا لے کر داخل ہونے کے بارے میں

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْجَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَدَخَلَ مَكَّةَ وَلِوَاؤُهُ أَبْيَضُ.

جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ مکہ میں (یعنی فتح مکہ کے دن) سفید جھنڈا لیے ہوئے داخل ہوئے۔

It was narrated from Jabir that: the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) enter Makkah and his standard was white.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2866
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الجہاد ٧٦ (٢٥٩٢)، سنن الترمذی/الجہاد ٩ (١٦٧٩)، سنن ابن ماجہ/الجہاد ٢٠ (٢٨١٧)، (تحفة الأشراف: ٢٨٨٩) (صحیح )
2870Sunan An Nasai

مکہ میں بغیر احرام کے واخل ہونا

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ وَعَلَيْهِ الْمِغْفَرُ، فَقِيلَ: ابْنُ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ، فَقَالَ: اقْتُلُوهُ.

انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ (فتح مکہ کے موقع پر) خود پہنے ہوئے مکہ میں داخل ہوئے، تو آپ سے کہا گیا کہ ابن خطل کعبہ کے پردوں سے لپٹا ہوا ہے، تو آپ نے فرمایا: اسے قتل کر دو ١ ؎۔

It was narrated from Anas that the Prophet ﷺ entered Makkah wearing a helmet. It was said that Ibn Khatal was hanging on to the drapes of the Ka’bah and he said: “Kill him.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2867
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ وہ نبی اکرم ﷺ کو بہت اذیت پہنچایا کرتا تھا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/جزاء الصید ١٨ (١٨٤٦)، الجہاد ١٦٩ (٣٠٤٤)، المغازی ٤٨ (٤٢٨٦)، اللباس ١٧ (٥٨٠٨)، صحیح مسلم/الحج ٨٤ (١٣٥٧)، سنن ابی داود/الجہاد ١٢٧ (٢٦٨٥)، سنن الترمذی/الجہاد ١٨ (١٦٩٣)، والشمائل ١٦ (١٠٦)، سنن ابن ماجہ/الجہاد ١٨ (١٨٠٥)، (تحفة الأشراف: ١٥٢٧)، موطا امام مالک/الحج ٨١ (٢٤٧)، مسند احمد (٣/١٠٩، ١٦٤، ١٨٠، ١٨٦، ٢٢٤، ٢٣١، ٢٣٢، ٢٤٠)، سنن الدارمی/ المناسک ٨٨ (١٩٨١)، والسیر ٢٠ (٢٥٠٠) (صحیح )
2871Sunan An Nasai

مکہ میں بغیر احرام کے واخل ہونا

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ فَضَالَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَدَخَلَ مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ، وَعَلَى رَأْسِهِ الْمِغْفَرُ.

انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ فتح مکہ کے سال مکہ میں داخل ہوئے اور آپ کے سر پر خود تھا۔

It was narrated from Anas that the Prophet ﷺ entered Makkah in the year of the Conquest wearing a helmet on his head. (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2868
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
2872Sunan An Nasai

مکہ میں بغیر احرام کے واخل ہونا

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ الْمَكِّيُّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ بِغَيْرِ إِحْرَامٍ.

جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ فتح مکہ کے دن مکہ میں داخل ہوئے، آپ کے سر پر کالی پگڑی تھی، اور آپ بغیر احرام کے تھے ١ ؎۔

It was narrated from Jabir bin ‘Abdullah that the Prophet ﷺ entered on the day of the Conquest of Makkah wearing a black ‘Imamah, without being in Ihram. (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2869
Notes · وضاحت
١ ؎: دونوں روایتوں میں کوئی تعارض نہیں کیونکہ ہوسکتا ہے کہ عمامہ خود کے اوپر رہا ہو، یا خود عمامہ کے اوپر رہا ہو یا داخل ہوتے وقت سر پر خود رہا ہو پھر آپ نے اسے ہٹا کر پگڑی باندھ لی ہو، واللہ اعلم۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٨٤ (١٣٥٨)، (تحفة الأشراف: ٢٩٤٧)، مسند احمد (٣/٣٨٧)، ویأتی عند المؤلف فی الزینة ١٠٩، برقم ٥٣٤٦ (صحیح )