عبداللہ بن بحینہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مکہ کے راستہ میں لحی جمل میں اپنے سر کے بیچ میں پچھنا لگوایا، اور آپ محرم تھے۔
‘Abdullah bin Buhayanah narrated that the Messenger of Allah ﷺ was treated by means of cupping in the middle of his head, when he was in Ihram, in Lahi Jamal, on the road to Makkah.(Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2850
Notes · وضاحت
١ ؎: لحی جمل مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک جگہ کا نام ہے۔
کعب بن عجرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ احرام باندھے ہوئے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے، تو ان کے سر کے جوئیں انہیں تکلیف دینے لگیں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں سر منڈا لینے کا حکم دیا اور فرمایا: (اس کے کفارہ کے طور پر) تین دن کے روزے رکھو، یا چھ مسکینوں کوفی مسکین دو دو مد کے حساب سے کھانا کھلاؤ، یا ایک بکری ذبح کرو، ان تینوں میں سے جو بھی کرلو گے تمہاری طرف سے کافی ہوجائے گا ۔
It was narrated from Kab bin Ujra: That he was with the Messenger of Allah in Ihram and he suffered an infestation of head lice. The Messenger of Allah commanded him to shave his head and told him: "Fast for three days, or fed six poor persons two Mudds earch, or sacrifice a sheep. Whichever one of these you do will be sufficient for you.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2851
کعب بن عجرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عمرہ کا احرام باندھا تو میرے سر میں جوئیں بہت ہوگئیں، نبی اکرم ﷺ کو اس کی خبر پہنچی تو آپ میرے پاس تشریف لائے، اس وقت میں اپنے ساتھیوں کے لیے کھانا پکا رہا تھا، تو آپ نے اپنی انگلی سے میرا سر چھوا اور فرمایا: جاؤ، سر منڈا لو اور چھ مسکینوں پر صدقہ کر دو ۔
It was narrated that Ka’b bin ‘Ujrah said: “I entered Ihram, then I had a severe infestation of head lice. News of that reached the Prophet ﷺ and he came to me when I was cooking something in a pot for my companions. He touched my head with his finger and said: ‘Go and shave it, and give charity to six poor persons.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2852
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھا، اس کی اونٹنی نے گرا کر اس کی گردن توڑ دی، اور وہ محرم تھا تو وہ مرگیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسے پانی اور بیری کے پتے سے غسل دو اور اسے اس کے (احرام کے) دونوں کپڑوں ہی میں کفنا دو، نہ اسے خوشبو لگاؤ، اور نہ اس کا سر ڈھانپو کیونکہ وہ قیامت کے دن لبیک پکارتا ہوا اٹھایا جائے گا ۔
It was narrated from Ibn ‘Abbas that a man was with the Messenger of Allah ﷺ, and his she-camel broke his neck when he was in Ihram, and he died. The Messenger of Allah ﷺ said: “Wash him with water and lote leaves, and shroud him in his two garments, and do not put any perfume on him or cover his head, for he will be raised on the Day of Resurrection reciting the Talbiyah.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2853
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک محرم اپنی اونٹنی سے گرگیا، تو اس کی گردن ٹوٹ گئی، ذکر کیا گیا کہ وہ مرگیا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اسے پانی اور بیر کی پتی سے غسل دو، اور دو کپڑوں ہی میں اسے کفنا دو ، اس کے بعد یہ بھی فرمایا: اس کا سر کفن سے باہر رہے ، فرمایا: اور اسے کوئی خوشبو نہ لگانا کیونکہ وہ قیامت کے دن تلبیہ پکارتا ہوا اٹھایا جائے گا ۔ شعبہ (جو اس حدیث کے راوی ہیں) کہتے ہیں: میں نے ان سے (یعنی اپنے استاد ابوبشر سے) دس سال بعد پوچھا تو انہوں نے یہ حدیث اسی طرح بیان کی جیسے پہلے کی تھی البتہ انہوں نے (اس بار اتنا مزید) کہا کہ اس کا منہ اور سر نہ ڈھانپو ۔
It was narrated from Ibn ‘Abbas that a man in Ihram was thrown by his she-camel and his neck was broken. It was said that he had died, so the Prophet ﷺ said: “Wash him with water and lotus leaves, and shroud him in two cloths.” Then he said: “Do not put any perfume on him for he will be raised on the Day of Resurrection reciting the Talbiyah.” Shu’bah said: “Ten years later, I asked him (the narrator Abu Bishr) about that. And he narrated the Hadith as he had the first time, except that he said: ‘And do not cover his face and head.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2854
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص عرفہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کھڑا تھا کہ وہ اپنی سواری سے گرگیا اور اس کی اونٹنی نے اسے کچل کر ہلاک کردیا۔ (راوی کو شک ہے کہ ابن عباس ؓ نے فأقعصه (مذکر کے صیغہ کے ساتھ) کہا یا فأقعصته (مونث کے صیغہ کے ساتھ) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسے پانی اور بیر کی پتی سے غسل دو، اور اسے اس کے دونوں کپڑوں ہی میں کفنا دو، نہ اسے خوشبو لگاؤ، اور نہ اس کے سر کو ڈھانپو، اس لیے کہ اللہ عزوجل اسے قیامت کے دن لبیک پکارتا ہوا اٹھائے گا ۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “While a man was standing in ‘Arafat with the Messenger of Allah ﷺ, he fell from his mount and it killed him. The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Wash him with water and lotus leaves, and shroud him in two cloths. Do not apply aromatics to him or cover his head, for Allah, the Mighty and Sublime, will raise him on the Day of Resurrection reciting the Talbiyah.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2855
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک محرم شخص کو اس کی اونٹنی نے گرا کر اس کی گردن توڑ دی اور اسے ہلاک کردیا، تو رسول اللہ ﷺ کے پاس لایا گیا تو آپ نے فرمایا: اسے نہلاؤ، اور کفناؤ، (لیکن) اس کا سر نہ ڈھانپنا اور نہ اسے خوشبو لگانا کیونکہ وہ (قیامت کے دن) لبیک پکارتا ہوا اٹھایا جائے گا ۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “The she-camel of a man in Ihram broke his neck and killed him. He was brought to the Messenger of Allah ﷺ and he said: ‘Wash him and shroud him, and do not cover his head, or bring any perfume near him, for he will be raised reciting Talbiyah,” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2856
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج کر رہا تھا کہ اس کے اونٹ نے اسے گرا دیا جس سے وہ مرگیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسے غسل دیا جائے، اور دونوں کپڑوں ہی میں اسے کفنا دیا جائے، اور اس کا سر اور چہرہ نہ ڈھانپا جائے، کیونکہ وہ قیامت کے دن لبیک پکارتا ہوا اٹھے گا ۔
It was narrated from Ibn ‘Abbas that a man was performing Hajj with the Messenger of Allah ﷺ and his she-camel threw him and he died. The Messenger of Allah ﷺ said: “Wash him and shroud him in two garments, and do not cover his head or his face, for he will be raised on the Day of Resurrection reciting Talbiyah.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2857
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص احرام باندھے ہوئے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آیا، تو وہ اپنے اونٹ پر سے گرپڑا تو اسے کچل ڈالا گیا اور وہ مرگیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسے پانی اور بیر کی پتی سے غسل دو، اور اسے اس کے یہی دونوں (احرام کے) کپڑے پہنا دو، اور اس کا سر نہ ڈھانپو کیونکہ وہ قیامت کے دن لبیک پکارتا ہوا آئے گا ۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “A man in Ihram came with the Messenger of Allah ﷺ and fell from atop his camel, breaking his neck, and he died. The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Wash him with water and lotus leaves, and wrap him in his two garments. But do not cover his head, for he will be raised on the Day of Resurrection reciting the Talbiyah.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2858
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عبداللہ اور سالم بن عبداللہ بن عمر دونوں نے انہیں خبر دی کہ ان دونوں نے جب حجاج بن یوسف کے لشکر نے ابن زبیر ؓ پر چڑھائی کی تو ان کے قتل کئے جانے سے پہلے عبداللہ بن عمر ؓ سے بات کی ان دونوں نے کہا: امسال آپ حج کے لیے نہ جائیں تو کوئی نقصان نہیں، ہمیں اندیشہ ہے کہ ہمارے اور بیت اللہ کے درمیان کوئی رکاوٹ نہ کھڑی کردی جائے، تو انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے، تو کفار قریش بیت اللہ تک پہنچنے میں حائل ہوگئے، تو آپ ﷺ نے (وہیں) اپنی ہدی کا نحر کرلیا اور سر منڈا لیا (اور حلال ہوگئے) سنو! میں تمہیں گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے عمرہ (اپنے اوپر) واجب کرلیا ہے۔ ان شاء اللہ میں جاؤں گا اگر مجھے بیت اللہ تک پہنچنے سے نہ روکا گیا تو میں طواف کروں گا، اور اگر میرے اور بیت اللہ کے درمیان کوئی رکاوٹ پیش آگئی تو میں وہی کروں گا جو رسول اللہ ﷺ نے کیا اور میں آپ کے ساتھ تھا۔ پھر وہ تھوڑی دیر چلتے رہے۔ پھر کہنے لگے بلاشبہ حج و عمرہ دونوں کا معاملہ ایک جیسا ہے، میں تمہیں گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے عمرہ کے ساتھ حج بھی اپنے اوپر واجب کرلیا ہے۔ چناچہ انہوں نے حج و عمرہ دونوں میں سے کسی سے بھی احرام نہیں کھولا۔ یہاں تک کہ یوم النحر (دسویں ذی الحجہ) کو احرام کھولا، اور ہدی کی قربانی کی۔
It was narrated from Nafi’ that ‘Abdullah bin ‘Abdullah and Salim bin ‘Abdullah told him, that they spoke to ‘Abdullah bin ‘Umar when the army besieged Ibn Az Zubair before he was killed. They said: “It does not matter if you do not perform Hajj this year; we are afraid lest we are prevented from reaching the House.” He said: We went out with the Messenger of Allah ﷺ and the disbelievers of the Quraish prevented us from reaching the House. So the Messenger of Allah ﷺ slaughtered his Hadi and shaved his head. I ask you to bear witness that I have resolved to perform ‘Umrah. If Allah wills I will set out and if I am allowed to reach the House I will circumambulate it, and if I am prevented from reaching the House I will do what the Messenger of Allah ﷺ did when I was with him.” Then he traveled for a while, then he said: “They are both the same. I ask you to bear witness that I have resolved to perform Hajj as well as ‘Umrah.” And he did not exit Ihram for either until he exited Ihram on the Day of Sacrifice and offered his Hadi. (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2859
حجاج بن عمرو انصاری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ جو شخص لنگڑا ہوجائے، یا جس کی کوئی ہڈی ٹوٹ جائے، تو وہ حلال ہوجائے گا، (اس کا احرام کھل جائے گا) اور اس پر دوسرا حج ہوگا ، (عکرمہ کہتے ہیں) میں نے عبداللہ بن عباس اور ابوہریرہ ؓ سے اس کے متعلق پوچھا، تو ان دونوں نے کہا کہ انہوں (یعنی حجاج انصاری) نے سچ کہا۔
It was narrated from ‘Ikrimah, from Al-Hajjaj bin ‘Amr Al-Ansari that he heard the Messenger of Allah ﷺ say: “Whoever suffers a leg injury or breaks his leg, he has exited Ihram, but he has to perform another Hajj.” I asked Ibn ‘Abbas and Abu Hurairah (RA) about that and he said: “He spoke the truth.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2860
حجاج بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس کی ہڈی ٹوٹ گئی، یا جو لنگڑا ہوگیا تو وہ حلال ہوگیا، اور اس پر دوسرا حج ہے (عکرمہ کہتے ہیں) میں نے ابن عباس اور ابوہریرہ ؓ سے پوچھا، تو ان دونوں نے کہا، انہوں (حجاج انصاری) نے سچ کہا ہے۔ اور شعیب اپنی روایت میں وعليه حجة أخرى ان پر دوسرا حج ہے کے بجائے وعليه الحج من قابل آئندہ سال ان پر حج ہے کہا ہے۔
It was narrated from ‘Ikrimah, from Al-Hajjaj bin ‘Amr that the Prophet ﷺ said: “Whoever breaks his leg or suffers a leg injury, then he has exited Ihram, but he has to perform another Hajj.” I asked Ibn ‘Abbas and Abu Hurairah (RA) and they said: “He spoke the truth.” And in his narration (one of the narrators) Shuaib said: “He has to perform Hajj the following year.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2861
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ذی طویٰ میں اترتے اور وہیں رات گزارتے، پھر صبح کی نماز پڑھ کر مکہ میں داخل ہوتے، اور رسول اللہ ﷺ کے نماز پڑھنے کی جگہ ایک سخت ٹیلے پر تھی نہ کہ مسجد میں جو وہاں بنائی گئی ہے، بلکہ اس مسجد سے نیچے ایک ٹھوس کھردرے ٹیلے پر ہے۔
Ibn ‘Umar narrated that the Messenger of Allah ﷺ used to dismount at Dhi Tuwa and stay there overnight until he prayed Subh when he was approaching Makkah. The place where the Messenger of Allah ﷺ prayed was on top of the big hillock and not in the Masjid that was built later on, but it was lower than that, on top of the big hillock. (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2862
محرش کعبی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ رات میں جعرانہ ٢ ؎ سے نکلے جس وقت آپ عمرہ کرنے کے لیے چلے پھر آپ رات ہی میں جعرانہ واپس آگئے اور جعرانہ میں اس طرح صبح کی گویا آپ نے رات وہیں گزاری ہے یہاں تک کہ جب سورج ڈھل گیا تو آپ جعرانہ سے چل کر بطن سرف پہنچے، سرف سے مدینہ کی راہ لی۔
It was narrated from Muharrish Al-Ka’bi, that the Prophet ﷺ, went out at night from Al-Ji’rranah when he set out for ‘Umrah, and came back to Al Ji’rranah in the morning, as if he had stayed there. Then, when the sun had passed its zenith he went out from Al-Ji’rranah in the valley of Sarf until the road joined the road to Al-Madinah from Sarf. (Hasan)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2863
Notes · وضاحت
١ ؎: جعرانہ مکہ اور طائف کے درمیان ایک جگہ کا نام ہے۔ سرف ایک جگہ کا نام ہے۔
محرش کعبی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جعرانہ سے رات میں نکلے گویا آپ کھری چاندی کے ڈلے ہوں (یعنی آپ کا رنگ سفید چاندی کی طرح چمکدار تھا) آپ نے عمرہ کیا، پھر آپ نے جعرانہ ہی میں صبح کی جیسے آپ نے وہیں رات گزاری ہو۔
It was narrated from Muharrish Al-Kabi that: the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) set out from Al-Jirranah at night as if he were an ingot of silver (i.e., in whiteness and purity) and perfomed Umrah, then he came back in the mooring as if he had stayed there overnight.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2864
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مکہ میں ثنیہ علیا سے داخل ہوئے جو کہ بطحاء میں ہے، اور ثنیہ سفلی سے واپس نکلے۔
It was narrated from Ibn Umar that: the Messenger of Allah entered Makkah from the upper valley which is in Al-Batha and he left from the lower valley.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2865
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ (فتح مکہ کے موقع پر) خود پہنے ہوئے مکہ میں داخل ہوئے، تو آپ سے کہا گیا کہ ابن خطل کعبہ کے پردوں سے لپٹا ہوا ہے، تو آپ نے فرمایا: اسے قتل کر دو ١ ؎۔
It was narrated from Anas that the Prophet ﷺ entered Makkah wearing a helmet. It was said that Ibn Khatal was hanging on to the drapes of the Ka’bah and he said: “Kill him.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2867
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ وہ نبی اکرم ﷺ کو بہت اذیت پہنچایا کرتا تھا۔
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ فتح مکہ کے دن مکہ میں داخل ہوئے، آپ کے سر پر کالی پگڑی تھی، اور آپ بغیر احرام کے تھے ١ ؎۔
It was narrated from Jabir bin ‘Abdullah that the Prophet ﷺ entered on the day of the Conquest of Makkah wearing a black ‘Imamah, without being in Ihram. (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2869
Notes · وضاحت
١ ؎: دونوں روایتوں میں کوئی تعارض نہیں کیونکہ ہوسکتا ہے کہ عمامہ خود کے اوپر رہا ہو، یا خود عمامہ کے اوپر رہا ہو یا داخل ہوتے وقت سر پر خود رہا ہو پھر آپ نے اسے ہٹا کر پگڑی باندھ لی ہو، واللہ اعلم۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٨٤ (١٣٥٨)، (تحفة الأشراف: ٢٩٤٧)، مسند احمد (٣/٣٨٧)، ویأتی عند المؤلف فی الزینة ١٠٩، برقم ٥٣٤٦ (صحیح )