اگر کسی شخص کو دشمن حج سے روک دے تو کیا کرنا چاہیے؟
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ الْبَصْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَهُوَ ابْنُ حَبِيبٍ، عَنْ الْحَجَّاجِ الصَّوَّافِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ عَرِجَ أَوْ كُسِرَ فَقَدْ حَلَّ، وَعَلَيْهِ حَجَّةٌ أُخْرَى، فَسَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، وَأَبَا هُرَيْرَةَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَا: صَدَقَ.
حجاج بن عمرو انصاری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ جو شخص لنگڑا ہوجائے، یا جس کی کوئی ہڈی ٹوٹ جائے، تو وہ حلال ہوجائے گا، (اس کا احرام کھل جائے گا) اور اس پر دوسرا حج ہوگا ، (عکرمہ کہتے ہیں) میں نے عبداللہ بن عباس اور ابوہریرہ ؓ سے اس کے متعلق پوچھا، تو ان دونوں نے کہا کہ انہوں (یعنی حجاج انصاری) نے سچ کہا۔
It was narrated from ‘Ikrimah, from Al-Hajjaj bin ‘Amr Al-Ansari that he heard the Messenger of Allah ﷺ say: “Whoever suffers a leg injury or breaks his leg, he has exited Ihram, but he has to perform another Hajj.” I asked Ibn ‘Abbas and Abu Hurairah (RA) about that and he said: “He spoke the truth.” (Sahih)