عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب چار ذی الحجہ کی صبح کو حج کا تلبیہ پکارتے ہوئے مکہ آئے، تو آپ نے انہیں حکم دیا کہ (عمرہ کر کے) احرام کھول ڈالیں۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “The Messenger of Allah ﷺ and his Companions came on the morning of the fourth day (of Dhul-Hijjah), reciting the Talbiyah for Hajj, and the Messenger of Allah ﷺ commanded them to exit Ihrám.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2870
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ چار ذی الحجہ کو (مکہ) آئے، آپ نے حج کا احرام باندھ رکھا تھا، تو آپ نے صبح کی نماز بطحاء میں پڑھی، اور فرمایا: جو اسے عمرہ بنانا چاہے وہ بنا لے (یعنی طواف کر کے احرام کھول دے، اور حلال ہوجائے) ۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “The Messenger of Allah ﷺ came on the fourth day of Dhul-Hijjah having entered Ihram for Hajj. He prayed Subh in Al Batha’ and said: ‘Whoever wants to make it ‘Umrah, let him do so.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2871
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ عمرہ قضاء میں مکہ میں داخل ہوئے اور عبداللہ بن رواحہ ؓ آپ کے آگے آگے چل رہے تھے، وہ کہہ رہے تھے: خلوا بني الکفار عن سبيله اليوم نضربکم على تنزيله ضربا يزيل الهام عن مقيله ويذهل الخليل عن خليله اے کافروں کی اولاد! ان کے راستے سے ہٹ جاؤ (کوئی مزاحمت اور کوئی رکاوٹ نہ ڈالو) ، ورنہ آج ہم ان پر نازل شدہ حکم کے مطابق تمہیں ایسی مار ماریں گے جو سروں کو ان کی خواب گاہوں سے جدا کر دے گی اور دوست کو اپنے دوست سے غافل کر دے گی، تو عمر ؓ نے ان سے کہا: ابن رواحہ! رسول اللہ ﷺ کے سامنے اور اللہ عزوجل کے حرم میں تم شعر پڑھتے ہو؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: چھوڑو ان کو (پڑھنے دو ) کیونکہ یہ ان پر تیر سے زیادہ اثرانداز ہیں ۔
It was narrated from Anas that the Prophet ﷺ entered Makkah during the ‘Umratul-Qaza’, and ‘Abdullah bin Rawahah was walking in front of him and saying: Get out of his way, you unbelievers, make way. Today we will fight about its revelation with blows that will remove heads from shoulders and make friend unmindful of friend. ‘Umar said to him: “Ibn Rawahah! In front of the Messenger of Allah ﷺ and in the Sanctuary of Allah, the Mighty and Sublime, you recite poetry?” The Prophet ﷺ, said: “Let him do so, for what he is saying is more effective than shooting arrows at them.” (Hasan)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2873
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ وہ شہر ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اسی دن سے محترم قرار دیا ہے جس دن اس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا، لہٰذا یہ اللہ کی حرمت کی سبب سے قیامت تک حرمت والا رہے گا، نہ اس کے کانٹے کاٹے جائیں گے، نہ اس کے شکار بدکائے جائیں گے، نہ وہاں کی کوئی گری پڑی چیز اٹھائے گا سوائے اس شخص کے جو اس کی پہچان کرائے اور نہ وہاں کی ہری شاخ کاٹی جائے گی ، اس پر ابن عباس ؓ نے کہا: اللہ کے رسول! سوائے اذخر کے ١ ؎ تو آپ نے ایک بات کہی جس کا مفہوم ہے سوائے اذخر کے۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “The Messenger of Allah ﷺ said on the day of the Conquest: ‘Allah made this land sacred the day He created the Heavens and the Earth, so it is sacred by the Decree of Allah until the Day of Resurrection. Its thorny shrubs are not to be cut, or its game disturbed, or its lost property to be picked up, except by the one who will announce it publicly, or is its green grass to be uprooted or cut.’ Al-’Abbas said: ‘Messenger of Allah ﷺ! Except Idhkhir.” And he said something that meant: “Except Idhkhir.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2874
Notes · وضاحت
١ ؎: اذخر ایک قسم کی مشہور گھاس ہے جو خوشبودار ہوتی ہے۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن فرمایا: یہ شہر (مکہ) حرام ہے اور اسے اللہ عزوجل نے حرام قرار دیا ہے، اس میں لڑائی مجھ سے پہلے کسی کے لیے بھی جائز نہیں ہوئی۔ صرف میرے لیے ذرا سی دیر کے لیے جائز کی گئی، لہٰذا یہ اللہ عزوجل کے حرام قرار دینے کی وجہ سے حرام (محترم و مقدس) ہے ۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “The Messenger of Allah ﷺ said on the day of the Conquest of Makkah: ‘Allah, the Mighty and Sublime, has made this land sacred, and it was not permissible to fight therein for anyone before me. It was permitted for me for a few hours of a day, and it is sacred by the decree of Allah, the Mighty and Sublime.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2875
ابوشریح سے روایت ہے کہ انہوں نے عمرو بن سعید سے کہا، اور وہ (عبداللہ بن زبیر ؓ پر حملہ کے لیے) مکہ پر چڑھائی کے لیے فوج بھیج رہے تھے، امیر (محترم) ! آپ مجھے اجازت دیجئیے کہ میں آپ سے ایک ایسی بات بیان کروں جسے رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دوسرے دن کہی تھی اور جسے میرے دونوں کانوں نے سنی ہے میرے دل نے یاد رکھا ہے اور میری دونوں آنکھوں نے دیکھا ہے جس وقت آپ نے اسے زبان سے ادا کیا ہے آپ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی پھر فرمایا: مکہ کو اللہ نے حرام کیا ہے، اسے لوگوں نے حرام قرار نہیں دیا ہے، اور آدمی کے لیے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو جائز نہیں کہ اس میں خونریزی کرے، یا یہاں کا کوئی درخت کاٹے۔ اگر کوئی اس میں رسول اللہ ﷺ کے قتال کی وجہ سے اس کی رخصت دے تو اس سے کہو: یہ اجازت اللہ تعالیٰ نے تمہیں نہیں دی ہے صرف اپنے رسول کو دی تھی، دن کے ایک تھوڑے سے حصہ میں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کی اجازت دی، پھر اس کی حرمت آج اسی طرح واپس لوٹ آئی جیسے کل تھی، اور چاہیئے کہ جو موجود ہے وہ غائب کو یہ بات پہنچا دے ۔
It was narrated from Abu Shuraih, that he said to ‘Amr bin Sad, when he was sending troops in batches to Makkah: “Commander! Permit me to tell you of a statement that the Messenger of Allah ﷺ said the day after the Conquest of Makkah, which my ears heard, my heart understood, and my eyes saw, when he said it. He (the Prophet ﷺ) praised Allah, then he said: ‘Makkah has been made sacred by Allah, not by the people. It is not permissible for any man who believes in Allah and the Last Day to shed blood in it, or to cut its trees. If anyone seeks permission to fight in it because the Messenger of Allah ﷺ fought in it, say to him: Allah allowed His Messenger (to fight therein) but He did not allow you. Rather permission was given to me (to fight therein) for a short period of one day, and now its sanctity has been restored as it was before. Let those who are present convey (this news) to those who are absent.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2876
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس گھر سے یعنی بیت اللہ سے لڑنے ایک لشکر آئے گا ١ ؎ تو اسے بیداء میں دھنسا دیا جائے گا ۔
Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: This House will be attacked by an army, and they will be swallowed up by the earth in Al-Baida’.” (Hasan)
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2877
Notes · وضاحت
١ ؎: مدینہ کے قریب ایک میدان ہے جو اسی نام سے معروف ہے۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اس گھر پر لشکر کشی سے لوگ باز نہ آئیں گے یہاں تک کہ ان میں سے کوئی لشکر دھنسا دیا جائے گا ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: “Troops will not cease to attack this House until an army of them are swallowed up by the earth.”(Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2878
ام المؤمنین حفصہ بنت عمر رضی الله عنہما کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس حرم کی طرف ایک لشکر بھیجا جائے گا تو جب وہ سر زمین بیداء میں ہوگا تو ان کے شروع سے لے کر آخر تک سبھی لوگ دھنسا دئیے جائیں گے، درمیان کا بھی کوئی نہ بچے گا ، میں نے کہا: بتائیے اگر ان میں مسلمان بھی ہوں تو بھی؟ آپ نے فرمایا: ان کے لیے قبریں ہوں گی (اور اعمال صالحہ کی بنا پر اہل ایمان کو ان قبروں میں عذاب نہیں ہوگا) ۔
It was narrated that Hafsah bint ‘Umar said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘An army will be sent toward this House, and when they are in Al-Baida’, the first and the last of them will be swallowed up by the earth, and those in the middle will not be saved.’ I said: ‘What if there are believers among them?’ He said: ‘It will be graves for them.” (Da’if)
منكرصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2879
عبداللہ بن صفوان کہتے ہیں کہ مجھ سے ام المؤمنین حفصہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: ایک لشکر اس گھر پر حملہ کرنا چاہے گا، اس کا قصد کرے گا یہاں تک کہ جب وہ سر زمین بیداء میں پہنچے گا، تو اس کا درمیانی حصہ دھنسا دیا جائے گا (ان کو دھنستا دیکھ کر) لشکر کا ابتدائی و آخری حصہ چیخ و پکار کرنے لگے گا، تو وہ بھی سب کے سب دھنسا دیے جائیں گے، اور کوئی نہیں بچے گا، سوائے ایک بھاگے ہوئے شخص کے جو ان کے متعلق خبر دے گا ، ایک شخص نے ان (امیہ بن صفوان) سے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ تم نے اپنے دادا کی طرف جھوٹی بات منسوب نہیں کی ہے، اور انہوں نے حفصہ ؓ کی طرف جھوٹی بات کی نسبت نہیں کی ہے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حفصہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ کی طرف جھوٹی بات کی نسبت نہیں کی ہے۔
Hafsah narrated that the Prophet ﷺ said: “An invading army will come toward this House until when they are in Al-Baida’, the middle of them will be swallowed up by the earth. The first of them will call out to the last of them, and they will be swallowed up, until there is no one left of them except a fugitive who will tell of what happened to them.” A man (hearing the narration) said: “I bear witness that you did not attribute a lie to your grandfather, and I bear witness that your grandfather did not attribute a lie to Hafsah, and I bear witness that Hafsah, did not attribute a lie to the Prophet ﷺ. (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2880
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الفتن ٣٠ (٤٠٦٣)، (تحفة الأشراف: ١٥٧٩٩)، مسند احمد (٦/٢٨٥) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پانچ موذی جانور ہیں جو حرم اور حرم سے باہر مارے جاسکتے ہیں: کوا، چیل، کاٹ کھانے والا کتا، بچھو، اور چوہیا ۔
It was narrated from Aishah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: “There are five kinds of vermin which may be killed outside and inside the Haram: Crows, kites, vicious dogs, scorpions and mice.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2881
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پانچ موذی جانور ہیں جو حرم اور حرم سے باہر دونوں جگہوں میں مارے جاسکتے ہیں۔ سانپ، کاٹ کھانے والا کتا، چتکبرا کوا، چیل اور چوہیا ۔
It was narrated from Aishah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: “There are five kinds of vermin which may be killed outside and inside the Haram: Snakes, vicious dogs, speckled crows, kites and mice.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2882
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ منیٰ کی مسجد خیف میں تھے یہاں تک کہ سورة والمرسلات عرفاً نازل ہوئی، اتنے میں ایک سانپ نکلا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسے مارو تو ہم مارنے کے لیے جلدی سے لپکے، لیکن وہ اپنی سوراخ میں گھس گیا۔
It was narrated that ‘Abdullah said: “We were with the Messenger of Allah ﷺ in Al-Khaif, which is in Mina, when the following was revealed: ‘By the winds sent forth one after another.’ A snake came out, and the Messenger of Allah ﷺ said: ‘Kill it.’ So they rushed to kill it, but it went back into its hole.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2883
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم عرفہ کی رات جو عرفہ کے دن سے پہلے ہوتی ہے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے، اچانک سانپ کی سرسراہٹ محسوس ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسے مارو لیکن وہ ایک سوراخ کے شگاف میں داخل ہوگیا تو ہم نے اس میں ایک لکڑی گھسیڑ دی، اور سوراخ کا کچھ حصہ ہم نے اکھیڑ دیا، پھر ہم نے کھجور کی شاخ لی اور اس میں آگ بھڑکا دی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اسے تمہارے شر سے اور تمہیں اس کے شر سے بچا لیا ۔
It was narrated from Abu ‘Ubaidah that his father said: “We were with the Messenger of Allah ﷺ on the night of ‘Arafat which is before ‘Arafat, when he heard a snake. The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Kill it.’ It went into a crack in a rock, and we put a stick in and broke part of the hole, then we took some palm tree leaves and set them ablaze in the hole. The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Allah protected it from your evil and protected you from its evil.” (Sahih)
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2884
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٩٦٣٠)، حصحیح مسلم/١/٣٨٥ (صحیح) (اس کے راوی ” ابو عبیدہ “ کا اپنے والد محترم ابن مسعود رضی الله عنہ سے سماع نہیں ہے، مگر پچھلی سند سے یہ حدیث صحیح ہے )
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: پانچ جانور ہیں جو سب کے سب فاسق (موذی) ہیں حرم اور حرم سے باہر دونوں جگ ہوں میں مارے جاسکتے ہیں: کاٹ کھانے والا کتا، کوا، چیل، بچھو اور چوہیا ۔
It was narrated that Aishah (RA) said: “The Prophet ﷺ said: ‘There are five animals all of which are vermin, and may be killed outside and inside the sanctuary: Vicious dogs, crows, kites, scorpions and mice.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2887
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جانوروں میں پانچ ایسے ہیں جو سب کے سب فاسق (موذی) ہیں وہ حرم میں (بھی) مارے جاسکتے ہیں: کوا، چیل، کاٹ کھانے والا کتا، چوہیا اور بچھو ۔
It was narrated from ‘Urwah that Aishah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘There are five animals all of which are vermin and may be killed inside the sanctuary: Crows, kites, vicious dogs, mice, and scorpions.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2888
ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پانچ جانور ایسے ہیں جن کے مارنے والے پر کوئی گناہ نہیں: بچھو، کوا، چیل، چوہیا اور کاٹ کھانے والا کتا ۔
It was narrated that Ibn ‘Umar said: “Hafsah the wife of the Prophet ﷺ said: ‘The Messenger of Allah ﷺ said: There are five animals for which there is no sin on the one who kills them: Scorpions, crows, kites, mice, and vicious dogs.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2889