ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پانچ فاسق (موذی) جانور ہیں انہیں حرم اور حرم کے باہر دونوں جگ ہوں میں مارا جاسکتا ہے: چیل، کوا، چوہیا، بچھو اور کاٹ کھانے والا کتا ۔ عبدالرزاق کہتے ہیں کہ ہمارے بعض اصحاب نے ذکر کیا ہے کہ معمر اس سند کا ذکر یوں کرتے ہیں: عن الزهري عن سالم عن أبيه وعن عروة عن عائشة أن النبي صلى اللہ عليه وسلم۔
It was narrated from Aishah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: “There are five vermin that may be killed outside and inside the Haram: Kites, crows, mice, scorpions, and vicious dogs.” (One of the narrators) ‘Abdur-Razzaq said: “Some of our companions mentioned that Ma’mar would mention it from Az-Zuhri, from Salim, from his father, and from ‘Urwah, from Aishah (RA), from the Prophet ﷺ.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2890
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پانچ جانور فاسق (موذی) ہیں انہیں حرم میں (بھی) مارا جاسکتا ہے (وہ ہیں) : بچھو، چوہیا، کوا، کاٹ کھانے والا کتا اور چیل ۔
It was narrated that Aishah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘There are five kinds of vermin that may be killed in the Haram: Scorpions, mice, crows, vicious dogs, and kites.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2891
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ مکہ ہے جس کی حرمت اللہ تعالیٰ نے اسی دن قائم کردی تھی جس دن اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، یہ نہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال ہوا، نہ میرے بعد کسی کے لیے حلال ہوگا، صرف میرے لیے دن کے ایک حصہ میں حلال کیا گیا اور وہ یہی گھڑی ہے اور یہ اب اللہ تعالیٰ کے حرام کردینے کی وجہ سے قیامت تک حرام رہے گا، نہ اس کی تازہ گھاس کاٹی جائے گی، نہ اس کے درخت کاٹے جائیں گے، نہ اس کے شکار بدکائے جائیں گے، نہ اس کی کوئی گری پڑی چیز حلال ہوگی، مگر اس شخص کے لیے جو اس کی تشہیر کرنے والا ہو ، یہ سنا تو ابن عباس ؓ اٹھے، وہ ایک تجربہ کار شخص تھے اور کہنے لگے سوائے اذخر کے، کیونکہ وہ ہمارے گھروں اور قبروں میں کام آتی ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: سوائے اذخر کے ۔
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Messenger of Allah ﷺ said: “This Makkah was made sacred by Allah, the Mighty and Sublime, the day He created the heavens and the Earth. Fighting therein was not permitted for anyone before me or after me, rather it was permitted for me for a short part of a day. At this moment it is a sanctuary that is sacred by the decree of Allah until the Day of Resurrection. Its green grass is not to be uprooted or cut, its trees are not to be cut and its game is not to be disturbed. It is not permissible to pick up its lost property except by one who will announce it publicly.” Al-’Abbas, who was a man of experience, stood up and said: “Except Idhkhir, for we use it for our graves and houses.” He said: “Except Idhkhir.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2892
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب عمرہ قضاء کے موقع پر مکہ میں داخل ہوئے اور ابن رواحہ آپ کے آگے تھے اور کہہ رہے تھے: خلوا بني الکفار عن سبيله اليوم نضربکم على تأويله ضربا يزيل الهام عن مقيله ويذهل الخليل عن خليله اے کافروں کی اولاد! ان کے راستے سے ہٹ جاؤ، ١ ؎ ان کے اشارے پر آج ہم تمہیں ایسی مار ماریں گے جو تمہارے سروں کو گردنوں سے اڑا دے گی اور دوست کو اس کے دوست سے غافل کر دے گی ، عمر ؓ نے کہا: ابن رواحہ ؓ! تم اللہ کے حرم میں اور رسول اللہ ﷺ کے سامنے ایسے شعر پڑھتے ہو؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: چھوڑو انہیں (پڑھنے دو ) قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، ان کے یہ اشعار کفار پر تیر لگنے سے بھی زیادہ سخت ہیں ۔
It was narrated that Anas said: “The Prophet ﷺ entered Makkah during ‘Umratul-Qada’ and Ibn Rawahah went before him, saying: Get out of his way, you unbelievers, make way. Today we will fight about its revelation with blows that will remove heads from shoulders And make friend unmindful of friend. ‘Umar said to him: “Ibn Rawahah! In the Sanctuary of Allah and in front of the Messenger of Allah ﷺ you recite poetry?” The Prophet ﷺ said: “Let him do that, for by the One in Whose Hand is my soul, his words are harder for them than being shot with arrows.” (Hasan)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2893
Notes · وضاحت
١ ؎: باب پر استدلال ابن رواحہ کے اسی قول خلو بنی الکفار سے ہے۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب مکہ مکرمہ تشریف لائے تو بنی ہاشم کے چھوٹے بچوں نے آپ کا استقبال کیا، تو آپ ﷺ نے ایک کو اپنے آگے بٹھا لیا، اور دوسرے کو اپنے پیچھے۔
It was narrated from Ibn ‘Abbas that when the Prophet ﷺ came to Makkah, he was welcomed by the boys of Banu Hashim, and he carried one of them in front of him (on his mount) and one behind him. (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2894
مہاجر مکی کہتے ہیں کہ جابر بن عبداللہ ؓ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو بیت اللہ کو دیکھے، تو کیا وہ اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے؟ انہوں نے کہا: میں نہیں سمجھتا کہ یہود کے سوا کوئی ایسا کرتا ہے۔ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج کیا، تو ہم ایسا نہیں کرتے تھے۔
It was narrated that Al Muhajir Al-Makki said: “Jabir bin ‘Abdullah was asked whether a man should raise his hands when he sees the House. He said: “I do not think that anyone does that except the Jews. We performed Hajj with the Messenger of Allah ﷺ and we did not do that.” (Da’if)
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2895
عبدالرحمٰن بن طارق کی والدہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب دار یعلیٰ کے مکان میں آجاتے ١ ؎ تو قبلہ کی طرف منہ کرتے، اور دعا کرتے۔
‘Abdur-Rahman bin Tariq bin ‘Alqamah narrated from his mother, that when the Prophet ﷺ came to a place in Dar-e- Ya’la he turned to face the Qiblah and supplicated. (Da’if)
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2896
Notes · وضاحت
١ ؎: مکہ کے قریب جہاں سے بیت اللہ نظر آتا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحج ٨٦ (٢٠٠٧)، (تحفة الأشراف: ١٨٣٧٤)، مسند احمد (٦/٤٣٦، ٤٣٧) (ضعیف) (اس کے راوی ” عبدالرحمن بن طارق “ لین الحدیث ہیں )
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: میری مسجد میں ایک نماز دوسری مسجدوں کی ہزار نمازوں سے افضل ہے سوائے مسجد الحرام کے ١ ؎۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ اس حدیث کو موسیٰ جہنی کے سوا کسی اور نے عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کیا ہے اور ابن جریج وغیرہ نے ان کی مخالفت کی ہے ٢ ؎۔
‘Abdullah bin ‘Umar said: “I heard the Messenger of Allah ﷺ say: ‘One prayer in my Masjid is better than a thousand prayers anywhere else, except Al-Masjid Al-Haram.” Abu ‘Abdur-Rahman said: I do not know of anyone who reported this Hadith from Nafi’, from ‘Abdullah bin ‘Umar, other than Musa Al Juhani; he was contradicted by Ibn Juraij and others. (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2897
Notes · وضاحت
١ ؎: مسجد الحرام میں نماز کا ثواب مسجد نبوی کی نماز سے سو گنا زیادہ ہے۔ ٢ ؎: ابن جریج نے اسے عن نافع عن ابراہیم عن میمونہ رضی الله عنہا روایت کیا ہے بخلاف موسیٰ جہنی کے کیونکہ انہوں نے اسے عن نافع عن ابن عمر رضی الله عنہما روایت کیا ہے، موسیٰ کی روایت کے مطابق یہ حدیث ابن عمر رضی الله عنہما کے مسانید میں سے ہوگی اور ابن جریج وغیرہ کی روایت کے مطابق یہ ام المؤمنین میمونہ رضی الله عنہا کے مسانید میں سے ہوگی لیکن یہ مخالفت حدیث کے لیے ضرر رساں نہیں کیونکہ ہوسکتا ہے کہ نافع نے اسے دونوں سے سنا ہو۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٩٤ (١٣٩٥)، (تحفة الأشراف: ٨٤٥١)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٩٥ (١٤٠٥)، مسند احمد (٢/١٦، ٢٩، ٥٣، ٦٨، ١٠٢) (صحیح )
ام المؤمنین میمونہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: میری اس مسجد میں ایک نماز اور مسجدوں کی ہزار نمازوں سے افضل ہے، سوائے مسجد الحرام کے ۔
Maimunah, the wife of the Prophet ﷺ said: “I heard the Messenger of Allah ﷺ say: ‘One prayer in this Masjid of mine is better than a thousand prayers in any other Masjid, except Al-Masjid Al-Haram.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2898
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میری اس مسجد میں ایک نماز کعبہ کے علاوہ دوسری مساجد کی ایک ہزار نمازوں سے افضل ہے ۔
Abu Hurairah (RA) narrated that the Prophet ﷺ said: “One prayer in this Masjid of mine is better than a thousand prayers in any other Masjid, except Al-Masjid Al Ka’bah.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2899
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/فضل ال صلاة ١ (١١٩٠)، صحیح مسلم/الحج ٩٤ (١٣٩٤)، سنن الترمذی/الصلاة ١٢٦ (٣٢٥)، سنن ابن ماجہ/الصلاة ١٩٥ (١٤٠٤)، (تحفة الأشراف: ١٣٤٦٤، ١٤٩٦٠)، موطا امام مالک/القبلة ٥ (٩)، مسند احمد ٢/٢٥٦، ٣٨٦، ٤٦٦، ٤٧٣، ٤٨٥، سنن الدارمی/الصلاة ١٣١ (١٤٥٨) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہاری قوم نے جس وقت کعبہ کو بنایا تو ان لوگوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کی بنیاد میں کمی کردی تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ ابراہیم (علیہ السلام) کی بنیاد پر اسے کیوں نہیں بنا دیتے؟ آپ نے فرمایا: اگر تمہاری قوم زمانہ کفر سے قریب نہ ہوتی ١ ؎ (تو میں ایسا کر ڈالتا) ٢ ؎ عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں: اگر عائشہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے ایسی بات سنی ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ کے حطیم سے قریب کے دونوں رکن (رکن شامی و عراقی) کو بوسہ نہ لینے کی وجہ یہی ہے کہ خانہ کعبہ کی (اس جانب سے) ابراہیم (علیہ السلام) کی بنیاد پر تکمیل نہیں ہوئی ہے۔
It was narrated from Aishah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: “Don’t you see that when your people (re)built the Ka’bah, they did not build it on all the foundations laid by lbrahim علیہ السلام?” I said: “Messenger of Allah ﷺ, why do you not rebuild it on the foundations of Ibrahim علیہ السلام.?” He said: “Were it not for the fact that your people have recently left disbelief (I would have done so).” ‘Abdullah bin ‘Umar said: Aishah (RA) heard this from the Messenger of Allah ﷺ for I see that he would not touch the two corners facing Al-Hijr because the House was not built on the foundations of Ibrahim علیہ السلام.”(Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2900
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اگر وہ نئے نئے مسلمان نہ ہوئے ہوتے۔ ٢ ؎: یعنی اسے گرا کر کے ابراہیم (علیہ السلام) کی بنیادوں پر اس کی تعمیر کردیتا لیکن چونکہ ابھی اسلام ان کے دلوں میں پوری طرح راسخ نہیں ہوا ہے اس لیے ایسا کرنے سے ڈر ہے کہ وہ اسلام سے متنفر نہ ہوجائیں، اور اسے غلط اقدام سمجھیں۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر تمہاری قوم کا زمانہ کفر سے قریب نہ ہوتا تو میں خانہ کعبہ کو ڈھا دیتا، اور اسے (پھر سے) ابراہیم (علیہ السلام) کی بنیاد پر تعمیر کرتا، اور سامنے کے مقابل میں پیچھے بھی ایک دروازہ کردیتا، قریش نے جب خانہ کعبہ کی تعمیر کی تو اسے گھٹا دیا ۔
It was narrated that Aishah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Were it not for the fact that your people have recently left disbelief, I would have knocked down the House and rebuilt it on the foundations of Ibrahim علیہ السلام, and I would have given it a back door. For when the Quraish built the House, they made it too small.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2901
ام المؤمنین (عائشہ) رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر میری قوم (اور محمد بن عبدالاعلی کی روایت میں تیری قوم) جاہلیت کے زمانہ سے قریب نہ ہوتی تو میں کعبہ کو ڈھا دیتا اور اس میں دو دروازے کردیتا ، تو جب عبداللہ بن زبیر ؓ وہاں کے حکمراں ہوئے تو انہوں نے (رسول اللہ ﷺ کی خواہش کے مطابق) کعبہ میں دو دروازے کر دئیے ١ ؎۔
It was narrated from Al Aswad that the Mother of the Believers said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Were it not for the fact that my people’ - according to the narration of Muhammad he said: ‘your people’ - have recently left Jahiliyyah, I would have knocked down the House and given it two doors.” When Ibn Az Zubair was in power, he gave it two doors. (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2902
Notes · وضاحت
١ ؎: لیکن عبدالملک بن مروان کے عہد خلافت میں حجاج بن یوسف نے اس دوسرے دروازے کو بند کردیا۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: اگر تیری قوم کا زمانہ جاہلیت سے قریب نہ ہوتا تو میں کعبہ کو گرا دیے جانے کا حکم دیتا، اور جو حصہ اس سے نکال دیا گیا ہے اسے اس میں داخل کردیتا، اور اسے زمین کے برابر کردیتا، اور اس میں دو دروازے بنا دیتا، ایک دروازہ مشرقی جانب اور ایک مغربی جانب، کیونکہ وہ اس کی تعمیر سے عاجز رہے تو میں اسے ابراہیم (علیہ السلام) کی بنیاد پر پہنچا دیتا ۔ راوی کہتے ہیں: اسی چیز نے عبداللہ بن زبیر ؓ کو اسے منہدم کرنے پر آمادہ کیا۔ یزید (راوی حدیث) کہتے ہیں: میں موجود تھا جس وقت ابن زبیر ؓ نے اسے گرا کر دوبارہ بنایا، اور حطیم کو اس میں شامل کیا۔ اور میں نے ابراہیم (علیہ السلام) کی بنیاد کے پتھر دیکھے، وہ پتھر اونٹ کی کوہان کی طرح تھے، ایک دوسرے میں پیوست۔
It was narrated from Aishah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said to her: “Aishah (RA), were it not for the fact that your people have recently left Jahiliyyah, I would have commanded that the House be knocked down, and I would have incorporated into it what was left out of it. I would have made its (door) in level with the ground and I would have given it two doors, an eastern door and a western door. For they built it too small, and by doing this, it would have been built on the foundations of Ibrahim علیہ السلام.” He (one of the narrators) said: “This is what motivated Ibn Az Zubair to knock it down.” Yazid said: “I saw Ibn Az-Zubair when he knocked it down and rebuilt it, and included part of the Hijr in it. And I saw the foundations of Ibrahim علیہ السلام, stones like the humps of camels joined to one another.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2903
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: خانہ کعبہ کو دو چھوٹی پنڈلیوں والے حبشی ویران کریں گے ١ ؎۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘The Ka’bah will be destroyed by Dhul-Suwaiqatain (one with thin legs) from Ethiopia.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2904
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ قیامت کے قریب ہوگا، جب روئے زمین پر کوئی اللہ اللہ کہنے والا باقی نہ رہے گا۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ وہ کعبہ کے پاس پہنچے اور نبی اکرم ﷺ، بلال اور اسامہ بن زید ؓ اندر داخل ہوچکے تھے، اور (ان کے اندر جاتے ہی) عثمان بن طلحہ ؓ نے دروازہ بند دیا۔ تو وہ لوگ کچھ دیر تک اندر رہے، پھر انہوں نے دروازہ کھولا تو نبی اکرم ﷺ نکلے (اور آپ کے نکلتے ہی) میں سیڑھیاں چڑھ کر اندر گیا، تو میں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے کہاں نماز پڑھی ہے؟ لوگوں نے بتایا، یہاں، اور میں ان لوگوں سے یہ پوچھنا بھول گیا کہ آپ نے بیت اللہ میں کتنی رکعتیں پڑھیں؟۔
It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Umar that he came to the Ka’bah when the Prophet ﷺ, Bilal (RA) and Usamah bin Zaid had entered it, and ‘Uthman bin Talhah had shut the door. They stayed there for a while, then he opened the door and the Prophet ﷺ came out. I (Ibn ‘Umar) climbed the steps and entered the House and said: “Where did the Prophet ﷺ pray?” They said: “Here.” And I forgot to ask them how many (Rak’ahs) the Prophet ﷺ had prayed inside the House. (Sahih).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2905
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ خانہ کعبہ کے اندر داخل ہوئے، اور آپ کے ساتھ فضل بن عباس، اسامہ بن زید، عثمان بن طلحہ اور بلال ؓ بھی تھے۔ انہوں نے دروازہ بند کرلیا، اور جب تک اللہ تعالیٰ نے چاہا آپ اس میں رہے، پھر باہر آئے، تو سب سے پہلے میری جس سے ملاقات ہوئی وہ بلال ؓ تھے۔ میں نے کہا: نبی اکرم ﷺ نے کہاں نماز پڑھی؟ انہوں نے کہا: دونوں ستونوں کے درمیان۔
It was narrated that Ibn ‘Umar said: “The Messenger of Allah ﷺ entered the House, accompanied by Al-Fadal bin ‘Abbas, Usamah bin Zaid, ‘Uthman bin Talhah and Bilal (RA). They shut the door, and he stayed there for as long as Allah willed, then he came out.” Ibn ‘Umar said: “The first one whom I met was Bilal (RA), and I said: ‘Where did the Prophet ﷺ pray?’ He said: ‘Between the two columns.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2906
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ خانہ کعبہ کے اندر داخل ہوئے، آپ کے نکلنے کا وقت نزدیک آیا تو میرے دل میں کچھ خیال آیا تو میں چلا اور جلدی سے آیا، تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو نکلتے ہوئے پایا۔ میں نے بلال ؓ سے پوچھا: کیا رسول اللہ ﷺ نے کعبہ میں نماز پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، دو رکعتیں، دونوں ستونوں کے درمیان۔
It was narrated that Ibn ‘Umar said: “The Messenger of Allah ﷺ entered the Ka’bah, and was about to come out, when I thought of something, so I came quickly and I found the Messenger of Allah ﷺ coming out. I asked Bilal (RA): ‘Did the Messenger of Allah ﷺ pray inside the Ka’bah?’ He said: ‘Yes, two Rak’ahs between the two columns.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2907
مجاہد کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر ؓ کے پاس ان کے گھر آ کر ان سے کہا گیا کہ (دیکھئیے) رسول اللہ ﷺ (ابھی ابھی) کعبہ کے اندر گئے ہیں۔ (ابن عمر ؓ کہتے ہیں) تو میں آیا وہاں پہنچ کر دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نکل چکے ہیں، اور بلال ؓ دروازے پر کھڑے ہیں۔ میں نے پوچھا: بلال! کیا رسول اللہ ﷺ نے کعبہ کے اندر نماز پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، میں نے پوچھا: کہاں؟ انہوں نے کہا: ان دونوں ستونوں کے درمیان دو رکعتیں آپ نے پڑھیں۔ پھر آپ وہاں سے نکلے، اور کعبہ رخ ہو کر دو رکعتیں پڑھیں۔
Someone came to Ibn ‘Umar in his house and said: “The Messenger of Allah ﷺ has entered the Ka’bah.” So Ibn ‘Umar said, I (Ibn ‘Umar) came and found that the Messenger of Allah ﷺ had come out, and I found Bilal (RA) standing at the door. I said: “ Bilal, did the Messenger of Allah ﷺ pray inside the Ka’bah?” He said: “Yes.” I said: “Where?” He said: “Between these two columns, two Rak’ahs. Then he came out and prayed two Rak’ahs in front of the Ka’bah.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2908
اسامہ بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کعبہ میں داخل ہوئے، تو اس کے کناروں میں آپ نے تسبیح پڑھی اور تکبیر کہی اور نماز نہیں پڑھی ١ ؎، پھر آپ باہر نکلے، اور مقام ابراہیم کے پیچھے آپ نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر فرمایا: یہ قبلہ ہے ۔
It was narrated that Usamah bin Zaid said: “The Messenger of Allah ﷺ entered the Ka’bah and recited the Tasbih and the Takbir in its corners, but he did not pray. Then he came out and prayed two Rak’ahs behind the Maqam, then he said: ‘This is the Qiblah.” (Hasan)
منکر بذکر المقامصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2909
Notes · وضاحت
١ ؎: اسامہ کی یہ نفی ان کے اپنے علم کی بنیاد پر ہے، وہ کسی کام میں مشغول رہے ہوں گے جس کی وجہ سے انہیں آپ کے نماز پڑھنے کا علم نہیں ہوسکا ہوگا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١١٠)، مسند احمد (٥/٢٠٩، ٢١٠) (منکر) (اسامہ کی اس روایت میں صرف ” خلف المقام “ کا ذکر منکر ہے (جو کسی کے نزدیک نہیں ہے) باقی باتیں سنداً صحیح ہیں )