عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ کو کہتے سنا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اگر لوگوں کا زمانہ کفر سے قریب نہ ہوتا اور میرے پاس اسے ٹھوس اور مستحکم بنانے کے لیے اخراجات کی کمی نہ ہوتی تو میں حطیم میں سے پانچ ہاتھ خانہ کعبہ میں ضرور شامل کردیتا اور اس میں ایک دروازہ بنا دیتا جس سے لوگ اندر جاتے اور ایک دروازہ جس سے لوگ باہر آتے ۔
Aishah (RA) said: “The Prophet ﷺ said: ‘Were it not for the fact that the people have recently left disbelief, and that I do not have enough funds to enable me to build it, I would have incorporated five cubits of the Hijr in it, and given it a door through which the people could enter, and another door through which they could exit.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2910
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا میں بیت اللہ کے اندر داخل نہ ہوں؟ آپ نے فرمایا: حطیم میں چلی جاؤ، وہ بھی بیت اللہ کا حصہ ہے ۔
Aishah (RA) said: “I said: ‘Messenger of Allah ﷺ! Can I not enter the House?’ He said: ‘Enter the Hijr for it is part of the House.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2911
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں چاہتی تھی کہ میں بیت اللہ کے اندر داخل ہوں، اور اس میں نماز پڑھوں، تو رسول اللہ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑ اور مجھے حطیم کے اندر کردیا، پھر فرمایا: جب تم بیت اللہ کے اندر جا کر نماز پڑھنا چاہو تو یہاں آ کر پڑھ لیا کرو، یہ بھی بیت اللہ کا ایک ٹکڑا ہے۔ لیکن تمہاری قوم نے بناتے وقت اتنا کم کر کے بنایا ١ ؎۔
It was narrated that Aishah said: “I wanted to enter the House and pray therein, so the Messenger of Allah ﷺ took me by the hand and took me into the Hijr and said: ‘If you want to enter the House, then pray here, for it is part of the House, but your people made it too small when they built it.” (Sahih)
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2912
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے کعبہ کے اندر نماز نہیں پڑھی، لیکن اس کے گوشوں میں تکبیر کہی۔ (یہ ابن عباس ؓ کے اپنے علم کی بنا پر ہے، کیونکہ وہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ خانہ کعبہ کے اندر نہیں گئے تھے) ۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “The Prophet ﷺ did not pray inside the Ka’bah, but he recited the Takbir in its corners.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2913
اسامہ بن زید رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ وہ اور رسول اللہ ﷺ خانہ کعبہ کے اندر گئے، تو آپ نے بلال کو حکم دیا، انہوں نے دروازہ بند کردیا۔ اس وقت خانہ کعبہ چھ ستونوں پر قائم تھا، جب آپ اندر بڑھتے گئے یہاں تک کہ ان دونوں ستونوں کے درمیان پہنچ گئے جو کعبہ کے دروازے کے متصل ہیں، تو بیٹھے، اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، اور اس سے خیر کا سوال کیا اور مغفرت طلب کی، پھر کھڑے ہوئے یہاں تک کہ کعبہ کی پشت کی طرف آئے جو سامنے تھی، اس پر اپنا چہرہ اور رخسار رکھا، اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، اور اس سے خیر کا سوال کیا، اور مغفرت طلب کی۔ پھر کعبہ کے ستونوں میں سے ہر ستون کے پاس آئے اور اس کی طرف منہ کر کے تکبیر، تہلیل، تسبیح کی، اور اللہ کی ثنا بیان کی، خیر کا سوال کیا اور گناہوں سے مغفرت طلب کی، پھر باہر آئے، اور کعبہ کی طرف رخ کر کے دو رکعت نماز پڑھی، پھر پلٹے تو فرمایا: یہی قبلہ ہے یہی قبلہ ہے ۔
It was narrated from Usamah bin Zaid that he and the Messenger of Allah ﷺ entered the House, and he told Bilal (RA) to shut the door. At that time the House was built on six pillars. He walked forward until, when he was between the two columns that are on either side of the door of the Ka’bah, he sat down, praised Allah, asked of Him, and prayed for forgiveness. Then he got up, and went to the back wall of the Ka’bah, placed his face and cheek against it and praised Allah, asked of Him, and prayed for forgiveness. Then he went to each corner of the Ka’bah and faced it, reciting the Takbir, the Tahlil And the Tasbih, praising Allah, asking of Him and praying for forgiveness. Then he came out and prayed two Rakat facing the front of the Ka’bah, then he moved away and said: ‘This is the Qiblah, this is the Qiblah.” (Hasan)
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2914
اسامہ بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خانہ کعبہ کے اندر گیا۔ آپ بیٹھے پھر آپ نے اللہ کی حمد و ثنا اور تکبیر و تہلیل کی، پھر آپ بیت اللہ کے اس حصہ کی طرف جھکے جو آپ کے سامنے تھا، اور آپ نے اس پر اپنا سینہ، رخسار اور اپنے دونوں ہاتھ رکھے، پھر تکبیر و تہلیل کی، اور دعا مانگی، آپ نے اسی طرح خانہ کعبہ کے سبھی ستونوں پر کیا، پھر باہر نکلے دروازے کے پاس آئے، اور قبلہ رخ ہو کر فرمایا: یہی قبلہ ہے یہی قبلہ ہے ١ ؎۔
It was narrated that Usamah bin Zaid said: “I entered the House with the Messenger of Allah ﷺ. He sat and praised Allah, and recited the Takbir, and the Tahlil. Then he went to the wall of the House that was in front of him, and placed his chest, cheek and hands on it, then he recited the Takbir, and the Tahlil, and supplicated. And he did that in all the corners, then he came out, and turned to face the Qiblah while he was in front of the door, and he said: ‘This is the Qiblah, this is the Qiblah.” (Hasan)
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2915
اسامہ بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ خانہ کعبہ سے باہر آئے، اور کعبہ کے سامنے آپ نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر فرمایا: یہی قبلہ ہے ۔
It was narrated that Usamah said: “The Messenger of Allah ﷺ came out of the House and prayed two Rak‘ahs in front of the Ka’bah, then he said: ‘This is the Qiblah.” (Hasan)
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2916
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ مجھے اسامہ بن زید ؓ نے خبر دی ہے کہ نبی اکرم ﷺ کعبہ کے اندر گئے اور اس کے سبھی گوشوں میں (جا جا کر) دعا کی، اور اس میں نماز نہیں پڑھی یہاں تک کہ آپ اس سے باہر آگئے، اور باہر آ کر آپ نے کعبہ کے سامنے دو رکعتیں پڑھیں۔
It was narrated that ‘Ata’ said: “I heard Ibn ‘Abbas say: ‘Usamah bin Zaid told me that the Prophet ﷺ entered the House, and supplicated in all its corners, but he did not pray inside until he came out; when he came out he prayed two Rak’ahs in front of the Ka’bah.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2917
عبداللہ بن سائب کہتے ہیں کہ وہ ابن عباس ؓ کو (جب بڑھاپے سے ان کی بینائی جاتی رہی تھی) سہارا دے کرلے جاتے اور لے کر خانہ کعبہ کے انہیں تیسرے کونے میں جو اس رکن کے قریب ہے جو حجر اسود سے متصل ہے اور بیت اللہ کے دروازے سے بھی قریب ہے کھڑا کردیتے تھے تو ابن عباس ؓ کہتے: کیا تمہیں نہیں بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ یہیں نماز پڑھتے تھے، وہ کہتے: جی ہاں، بتایا گیا، تو وہ آگے بڑھتے اور نماز پڑھتے۔
Muhammad bin ‘Abdullah bin As-Sa’ib narrated from his father that he used to lead Ibn ‘Abbas and make him stand at the third side (of the Ka’bah) next to the corner that is next to the Stone, in between the Stone and the door. Ibn ‘Abbas said: “Have you heard that the Messenger of Allah ﷺ used to pray here?” He said: “Yes.” So he went forward and prayed. (Da’if)
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2918
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحج ٥٥ (١٩٠٠)، (تحفة الأشراف: ٥٣١٧)، مسند احمد (٣/٤١٠) (ضعیف) (اس کے راوی ” محمد بن عبداللہ بن سائب “ مجہول ہیں )
عبداللہ بن عبید بن عمیر سے روایت ہے کہ ایک شخص نے (عبداللہ بن عمر ؓ سے) نے کہا: ابوعبدالرحمٰن (کیا بات ہے) میں آپ کو صرف انہیں دونوں رکنوں کو (یعنی رکن یمانی اور حجر اسود کو) بوسہ لیتے دیکھتا ہوں؟ تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: ان کے چھونے سے گناہ جھڑتے ہیں اور میں نے آپ کو یہ بھی فرماتے سنا ہے: جس نے سات بار طواف کیا تو یہ ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ہے ۔
It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Ubaid bin ‘Umair that a man said: “Abu ‘Abdur Rahman, why do I only see you touching these two corners?” He said: “I heard the Messenger of Allah ﷺ say: ‘Touching them erases sins.’ And I heard him say: ‘Whoever circumambulates seven times, it is like freeing a slave.” (Hasan)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2919
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ طواف کرتے ہوئے ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جس کی ناک میں نکیل ڈال کر ایک آدمی اسے کھینچے لیے جا رہا تھا، تو نبی اکرم ﷺ نے اپنے ہاتھ سے نکیل کاٹ دی، پھر اسے حکم دیا کہ وہ اس کا ہاتھ پکڑ کرلے جائے۔
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Prophet ﷺ passed by while he was circumambulating the Ka’bah with a man who was leading another with a ring in his nose. The Messenger of Allah ﷺ stopped him with his hand then told him to lead him by his hand. (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2920
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جسے ایک آدمی ایک ایسی چیز سے (باندھ کر) کھینچے لیے جا رہا تھا جسے اس نے نذر میں ذکر کیا تھا، تو نبی اکرم ﷺ نے اسے لے کر کاٹ دیا، فرمایا: یہ نذر ہے ١ ؎۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “The Messenger of Allah ﷺ passed by a man who was leading another man with something that he had stipulated in a vow. The Prophet ﷺ took it and broke it, and he said: ‘It is a vow.” (Sahih)
صحيح خ دون قوله إنه نذرصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2921
طاؤس سے روایت ہے کہ ایک شخص جس نے رسول اللہ ﷺ کو پایا ہے، کہتے ہیں: بیت اللہ کا طواف نماز ہے تو (دوران طواف) باتیں کم کرو ۔ (ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں) اس حدیث کے الفاظ یوسف (یوسف بن سعید) کے ہیں۔ حنظلہ بن ابی سفیان نے ان کی یعنی حسن ١ ؎ مخالفت کی ہے۔
It was narrated from Tawus, from a man who met the Prophet ﷺ , that he said: “Tawaf of the House is a form of Salah, so speak little.” (Sahih Mawquf) This is the wording of Yusuf, which was contradicted by Hanzalah bin Abi Sufyan:
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2922
Notes · وضاحت
١ ؎: یہاں مخالفت سے لفظی مخالفت مراد ہے، معنوی نہیں کیونکہ مبہم اور مفسر میں کوئی تضاد نہیں ہے، حسن نے صحابی کے نام کو مبہم رکھا ہے، اور حنظلہ نے نام کی وضاحت کردی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٥٦٩٤)، مسند احمد (٣/٤١٤ و ٤/٦٤ و ٥/٣٧٧) (صحیح )
جبیر بن مطعم رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اے بنی عبد مناف! تم اس گھر کے طواف کرنے سے، اور اس میں نماز پڑھنے سے کسی کو نہ روکو، رات اور دن کے جس حصہ میں وہ بھی چاہے ۔
It was narrated from Jubair bin Mut’im that the Prophet ﷺ said: “Banu ‘Abd Manaf, do not prevent anyone from circumambulating this House or praying at any time of the night or day he wishes.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2924
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے شکایت کی کہ میں بیمار ہوں۔ آپ نے فرمایا: لوگوں کے پیچھے سوار ہو کر طواف کرلو ، تو میں نے طواف کیا، اور رسول اللہ ﷺ بیت اللہ کے پہلو میں نماز پڑھ رہے تھے، اور آپ الطور * وکتاب مسطور پڑھ رہے تھے۔
It was narrated from Zainab bint Abi Salamah that Umm Salamah said: “I complained to the Messenger of Allah ﷺ that I was sick, and he said: ‘Perform Tawaf behind the people while you are riding.’ So I performed Tawaf while the Messenger of Allah ﷺ was praying beside the House, and reciting: ‘The Tur (Mount), and by the Book Inscribed.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2925
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے تو واپسی کا طواف نہیں کیا ہے۔ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب نماز کھڑی کردی جائے، تو تم اپنے اونٹ پر لوگوں کے پیچھے سے طواف کرلو ۔ عبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: عروہ کا ام سلمہ ؓ سے سماع نہیں ہے۔
It was narrated from Hisham bin ‘Urwah, from his father, from Umm Salamah, that she said: “Messenger of Allah ﷺ, by Allah! I have not performed the Farewell Tawaf.” The Prophet ﷺ said: “When the Iqamah is said for prayer, perform Tawaf on your camel behind the people.” ‘Urwah did not hear from Umm Salamah. (Sahih)
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2926
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ وہ مکہ آئیں، اور وہ بیمار تھیں، تو انہوں نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا، تو آپ نے فرمایا سوار ہو کر نمازیوں کے پیچھے سے طواف کرلو ، تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا آپ کعبہ کے پاس والطور پڑھ رہے تھے۔
It was narrated from ‘Urwah from Zainab bint Umm Salamah, from Umm Salamah, that she came to Makkah when she was sick. She mentioned that to the Messenger of Allah ﷺ and he said: “Perform Tawaf behind those who are praying while you are riding.” She said: “And I heard the Messenger of Allah ﷺ at the Ka’bah, reciting ‘By the Tur (Mount).” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2927
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع میں اونٹ پر سوار ہو کر کعبہ کے گرد طواف کیا، آپ اپنی خمدار چھڑی سے حجر اسود کا استلام (چھونا) کر رہے تھے۔
It was narrated that Aishah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ performed Tawaf around the Ka’bah during the Farewell Pilgrimage on a camel, touching the Corner with his crooked-ended stick.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2928
وبرہ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر ؓ سے سنا اس حال میں کہ ایک شخص نے ان سے پوچھا کہ میں نے حج کا احرام باندھ رکھا ہے، تو کیا میں بیت اللہ کا طواف کروں؟ تمہیں کیا چیز روک رہی ہے؟ اس نے کہا: میں نے عبداللہ بن عباس ؓ کو اس سے روکتے دیکھا ہے ١ ؎، لیکن آپ ہمیں ان سے زیادہ پسند ہیں انہوں نے کہا: ہم نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا آپ نے حج کا احرام باندھا پھر بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا ومروہ کے درمیان سعی کی۔
Wabarah said: “I heard ‘Abdullah bin ‘Umar say, when a man asked him whether he could perform Tawaf around the House when he had entered Ihram for Hajj: ‘What is stopping you?’ He said: ‘I saw ‘Abdullah bin ‘Abbas forbidding that, but you are telling us something different.’ He said: ‘We saw the Messenger of Allah ﷺ enter Ihram for Hajj, then circumambulate the House then perform Sai between As-Safa and Al-Marwah.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2929
Notes · وضاحت
١ ؎: ابن عباس رضی الله عنہما کا کہنا تھا کہ طواف کرنے سے احرام کھولنا ضروری ہوجاتا ہے، لہٰذا جو اپنے احرام پر باقی رہنا چاہے وہ طواف نہ کرے۔