Sunan An Nasai 2925

میقاتوں سے متعلق احادیث

2925Sunan An Nasai

دوران طواف گفتگو کرنا درست ہے

أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ. ح وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ رَجُلٍأَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ صَلَاةٌ فَأَقِلُّوا مِنَ الْكَلَامِ، اللَّفْظُ لِيُوسُفَ خَالَفَهُ حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ.

طاؤس سے روایت ہے کہ ایک شخص جس نے رسول اللہ ﷺ کو پایا ہے، کہتے ہیں: بیت اللہ کا طواف نماز ہے تو (دوران طواف) باتیں کم کرو ۔ (ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں) اس حدیث کے الفاظ یوسف (یوسف بن سعید) کے ہیں۔ حنظلہ بن ابی سفیان نے ان کی یعنی حسن ١ ؎ مخالفت کی ہے۔

It was narrated from Tawus, from a man who met the Prophet ﷺ , that he said: “Tawaf of the House is a form of Salah, so speak little.” (Sahih Mawquf) This is the wording of Yusuf, which was contradicted by Hanzalah bin Abi Sufyan:

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2922
Notes · وضاحت
١ ؎: یہاں مخالفت سے لفظی مخالفت مراد ہے، معنوی نہیں کیونکہ مبہم اور مفسر میں کوئی تضاد نہیں ہے، حسن نے صحابی کے نام کو مبہم رکھا ہے، اور حنظلہ نے نام کی وضاحت کردی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٥٦٩٤)، مسند احمد (٣/٤١٤ و ٤/٦٤ و ٥/٣٧٧) (صحیح )