عمرو کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر ؓ سے سنا، اور ہم نے ان سے ایک شخص کے بارے میں پوچھا جو عمرہ کی نیت کر کے آیا، اور اس نے بیت اللہ کا طواف کیا، لیکن صفا ومروہ کے درمیان سعی نہیں کی۔ کیا وہ اپنی بیوی کے پاس آسکتا ہے انہوں نے جواب دیا، جب رسول اللہ ﷺ مکہ مکرمہ آئے تو آپ نے بیت اللہ کے سات پھیرے کیے، اور مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نماز پڑھی اور صفا ومروہ کے درمیان سعی کی، اور تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ میں بہترین نمونہ ہے ١ ؎۔
It was narrated that ‘Amr said: “I heard Ibn ‘Umar say -when we asked him about a man who came for ‘Umrah, and performed Tawaf around the House, but did not perform Sa’i between As-Safa and Al-Marwah, could he be intimate with his wife? He said: ‘When the Messenger of Allah ﷺ came, he circumambulated seven times, and prayed two Rak’ahs behind the Maqam, and performed Sa’i between As-Safa and Al Marwah. And you have the best of examples in the Messenger of Allah ﷺ “ (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2930
Notes · وضاحت
١ ؎: اس لیے تمہیں رسول اللہ ﷺ کی پیروی کرنی چاہیئے، اور سعی کئے بغیر بیوی سے صحبت نہیں کرنی چاہیئے۔
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نکلے اور ہم بھی آپ کے ساتھ نکلے۔ جب ذوالحلیفہ پہنچے تو آپ نے ظہر پڑھی، پھر اپنی سواری پر سوار ہوئے اور جب وہ بیداء میں آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہوئی تو آپ نے حج و عمرہ دونوں کا ایک ساتھ تلبیہ پکارا، ہم نے بھی آپ کے ساتھ تلبیہ پکارا پھر جب رسول اللہ ﷺ مکہ آئے، اور ہم نے طواف کرلیا تو آپ نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ احرام کھول کر حلال ہوجائیں۔ تو لوگ ڈرے (کہ یہ کیا بات ہوئی کہ خود تو آپ نے احرام نہیں کھولا ہے، اور ہمیں کھول ڈالنے کا حکم دے رہے ہیں) تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: اگر ہمارے ساتھ ہدی نہ ہوتی تو میں بھی احرام کھول ڈالتا ، تو سب لوگ (احرام کھول کر) حلال ہوگئے یہاں تک کہ بیویوں کے لیے بھی حلال ہوگئے اور رسول اللہ ﷺ قربانی کے دن (یعنی دسویں ذی الحجہ) تک حلال نہیں ہوئے اور نہ ہی آپ نے بال کتروائے۔
It was narrated that Anas said: “The Messenger of Allah ﷺ set out and we set out with him. When he reached Dhul-Hulaifah he prayed Zuhr, then he rode his mount, and when it stood up with him at Al-Baida’, he initiated Ihram for Hajj and ‘Umrah together, and we initiated Ihram with him. When the Messenger of Allah ﷺ came to Makkah and we had performed Tawaf, he told the people to exit Ihram but they hesitated. The Messenger of Allah ﷺ said to them: ‘Were it not for the fact that I have the Hadi with me, I would have exited Ihram.’ So the people exited Ihram completely, such that intimacy with their wives became permissible. But the Messenger of Allah ﷺ did not exit Ihram, and he did not cut his hair until the Day of Sacrifice.” (Sahih)
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2931
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے حج و عمرہ کو ایک ساتھ ملایا، اور (ان دونوں کے لیے) ایک ہی طواف کیا، اور کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔
It was narrated that Ibn ‘Umar joined Hajj and ‘Umrah (Qarn) and he performed one Tawaf and said: “This is what I saw the Messenger of Allah ﷺ doing.” (Sahih)
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2932
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٧٦٠٢)، مسند احمد (٢/١١، ١٢)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/المناسک ٣٩ (٢٩٧٣) (صحیح الإسناد )
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ وہ نکلے تو جب وہ ذوالحلیفہ آئے تو انہوں نے عمرے کا احرام باندھا، پھر تھوڑی دیر چلے، پھر وہ ڈرے کہ بیت اللہ تک پہنچنے سے پہلے ہی انہیں روک نہ دیا جائے تو انہوں نے کہا: اگر مجھے روک دیا گیا تو میں ویسے ہی کروں گا جیسے رسول اللہ ﷺ نے کیا تھا۔ انہوں نے کہا: قسم اللہ کی! حج کی راہ بھی وہی ہے جو عمرہ کی ہے، میں تم لوگوں کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے عمرہ کے ساتھ حج بھی اپنے اوپر واجب کرلیا ہے، پھر وہ چلے یہاں تک کہ وہ قدید آئے، اور وہاں سے ہدی (قربانی کا جانور) خریدا، پھر مکہ آئے۔ اور بیت اللہ کے سات پھیرے کیے اور صفا ومروہ کے درمیان سعی کی اور کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔
It was narrated that Nafi’ said: “Abdullah bin ‘Umar went out and he came to Dhul-Hulaifah he entered Ihram for ‘Umrah. Then he traveled a short distance. Then he was afraid that he might be prevented from reaching the House. He said: ‘If I am prevented I will do what the Messenger of Allah ﷺ did.’ He said: ‘By Allah, Hajj is just like ‘Umrah; I ask you to bear witness that I have resolved to do Hajj with my ‘Umrah.’ He traveled on until he reached Qudaid, where he bought a Hadi. Then he came to Makkah, and circumambulated the House seven times, and performed Sa‘i between As-Safa and Al-Marwah and said: ‘This is what I saw the Messenger of Allah ﷺ doing.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2933
سوید بن غفلہ سے روایت ہے کہ عمر ؓ نے (حجر اسود) کا بوسہ لیا، اور اس سے چمٹے، اور کہا: میں نے ابوالقاسم ﷺ کو تجھ پر مہربان دیکھا ہے۔
It was narrated from Suwaid bin Ghafalah that ‘Umar kissed the Black Stone and touched it, and said: “I saw Abu Al-Qasim paying attention to you.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2936
عابس بن ربیعہ کہتے ہیں کہ میں نے عمر ؓ کو دیکھا کہ وہ حجر اسود کے پاس آئے اور کہا: میں جانتا ہوں کہ تو پتھر ہے اور اگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو تجھے بوسہ لیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے بوسہ نہ لیتا، پھر وہ اس سے قریب ہوئے، اور اسے بوسہ لیا۔
It was narrated that ‘Abbas bin Rabi’ah said: “I saw ‘Umar coming to the Stone and saying: ‘I know that you are just a stone; had I not seen the Messenger of Allah ﷺ kiss you I would not have kissed you.’ Then he came closer to it and kissed it.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2937
حنظلہ کہتے ہیں کہ میں نے طاؤس کو دیکھا وہ رکن (یعنی حجر اسود) سے گزرتے، اگر وہاں بھیڑ پاتے تو گزر جاتے کسی سے مزاحمت نہ کرتے، اور اگر خالی پاتے تو اسے تین بار بوسہ لیتے، پھر کہتے: میں نے ابن عباس ؓ کو ایسا ہی کرتے دیکھا۔ اور ابن عباس ؓ کہتے ہیں: میں نے عمر بن خطاب ؓ کو دیکھا ہے انہوں نے اسی طرح کیا، پھر کہا: بلاشبہ تو پتھر ہے، تو نہ نفع پہنچا سکتا ہے نہ نقصان، اور اگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو تجھے بوسہ لیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے بوسہ نہ لیتا پھر عمر ؓ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔
It was narrated that Hanzalah said: “I saw Tawus pass by the Corner. If he saw it was crowded, he would pass by and he would not push his way in. And if he saw it was free, he would kiss it three times, then he said: ‘I saw Ibn ‘Abbas doing that. Ibn ‘Abbas said: I saw ‘Umar bin Al-Khattab (RA) doing that, then he said: You are just a stone that can neither cause harm or bring benefit; were it not that I saw the Messenger of Allah ﷺ kissing you I would not have kissed you.’ Then ‘Umar said: ‘I saw the Messenger of Allah ﷺ doing that.” (Sahih)
ضعيف الإسناد منکر بهذا السياقصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2938
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٠٥٠٣) (ضعیف) (اس کے راوی ” ولید “ مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت کئے ہوئے ہیں، لیکن میں صرف ” تین بار “ کا لفظ منکر ہے )
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب مکہ آئے تو مسجد الحرام میں گئے، اور حجر اسود کا بوسہ لیا، پھر اس کے داہنے جانب (باب کعبہ کی طرف) چلے، پھر تین پھیروں میں رمل کیا، اور چار پھیروں میں معمول کی چال چلے، پھر مقام ابراہیم پر آئے اور آیت کریمہ: واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى پڑھی پھر دو رکعت نماز پڑھی، اور مقام ابراہیم آپ کے اور کعبہ کے بیچ میں تھا۔ پھر دونوں رکعت پڑھ کر بیت اللہ کے پاس آئے، اور حجر اسود کا استلام کیا، پھر آپ صفا کی طرف نکل گئے۔
It was narrated that Jabir said: “When the Messenger of Allah ﷺ came to Makkah he entered the Masjid and touched the Stone, then he moved to his right and walked rapidly for three (rounds) and then walked (at a regular pace) for four. Then he came to the Maqam and said: ‘And take you (people) the Maqam (place) of Ibrahim as a place of prayer’ and prayed two Rak’ahs with the Maqam between him and the House. Then he came to the House after praying those two Rak’ahs and touched the Stone, then he went out to As-Safa.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2939
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر ؓ پہلے تین پھیروں میں رمل ١ ؎ کرتے اور چار پھیرے عام چال چلتے، اور کہتے: رسول اللہ ﷺ ایسا ہی کرتے تھے۔
It was narrated from Nafi’ that ‘Abdullah bin ‘Umar used to walk rapidly for three (rounds), and walk for four, and he said that the Messenger of Allah ﷺ used to do that. (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2940
Notes · وضاحت
١ ؎: اکڑ کر مونڈھے ہلاتے ہوئے چلنا جیسے سپاہی جنگ کے لیے چلتا ہے۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مکہ آتے ہی جب حج یا عمرہ کا طواف کرتے تو تین پھیرے دوڑ کر چلتے اور چار پھیرے عام چال سے چلتے، پھر دو رکعت پڑھتے، پھر صفا ومروہ کے درمیان سعی کرتے۔
It was narrated from Ibn ‘Umar, that when the Messenger of Allah ﷺ performed Tawaf in Hajj and ‘Umrah - as he first arrived (in Makkah), he would hasten in three rounds, and walk (at a regular pace) in four. Then he prayed two Rak’ahs, then he performed Sa’i between As-Safa and Al-Marwah.(Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2941
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ٦٣ (١٦١٦)، صحیح مسلم/الحج ٣٩ (١٢٦١)، سنن ابی داود/الحج ٥١ (١٨٩٣)، (تحفة الأشراف: ٨٤٥٣)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/ المناسک ٢٩ (٢٩٥٠)، مسند احمد (٢/١١٤، ١٥٥) (صحیح )
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جس وقت مکہ آتے تو طواف کے شروع میں حجر اسود کا استلام کرتے، پھر سات پھیروں میں سے پہلے تین پھیروں میں دلکی چال (کندھے ہلا کر تیز) چلتے۔
It was narrated from Salim that his father said: “When the Messenger of Allah ﷺ came to Makkah, he touched the Black Stone and at the beginning of his Tawaf, he walked rapidly in (the first) three of the seven rounds.” (Sahih)
سكت عنه الشيخصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2942
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر ؓ جب حج یا عمرہ میں آتے تو پہلے تین پھیروں میں کندھے ہلاتے ہوئے دوڑتے اور باقی چار پھیروں میں عام رفتار سے چلتے، اور کہتے: رسول اللہ ﷺ ایسا ہی کرتے تھے۔
It was narrated from Nafi’ that ‘Abdullah bin ‘Umar used to walk rapidly in three rounds of his Tawaf when he came for Hajj or ‘Umrah, and walk (at a normal pace) in four. He said: “The Messenger of Allah ﷺ used to do that.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2943
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ حجر اسود سے حجر اسود تک رمل کرتے یہاں تک آپ نے تین پھیرے پورے کئے۔
It was narrated that Jabir bin ‘Abdullah said: “I saw the Messenger of Allah ﷺ walking rapidly from the Stone to the Stone, until he had finished three circuits.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2944
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم ﷺ اور آپ کے اصحاب (فتح کے موقع پر) مکہ تشریف لائے تو مشرکین کہنے لگے: انہیں یثرب یعنی مدینہ کے بخار نے لاغر و کمزور کردیا ہے، اور انہیں وہاں شر پہنچا ہے، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اکرم ﷺ کو بذریعہ وحی اس کی اطلاع دی تو آپ نے صحابہ کرام کو حکم دیا کہ وہ اکڑ کر کندھے ہلاتے ہوئے تیز چلیں، اور دونوں رکنوں (یعنی رکن یمانی اور حجر اسود) کے درمیان عام چال چلیں، اور مشرکین اس وقت حطیم کی جانب ہوتے تو انہوں نے (ان کو اکڑ کر کندھے اچکاتے ہوئے تیز چلتے ہوئے دیکھ کر) کہا: یہ تو یہاں سے بھی زیادہ مضبوط اور قوی ہیں۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “When the Prophet ﷺ and his Companions came to Makkah, the idolaters said: ‘The fever of Yathrib has weakened them, and they have suffered a great deal because of it.’ Allah informed His Prophet ﷺ about that, so he told his Companions to walk rapidly, and to walk (at a normal pace) between the two corners, and the idolaters were on the side of the Stone. They said: ‘They are stronger than such and such.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2945
زبیر بن عدی کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ابن عمر سے حجر اسود کے استلام کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسے چھوتے اور چومتے دیکھا ہے، اس آدمی نے کہا: اگر میرے اس تک پہنچنے میں بھیڑ آڑے آجائے یا میں مغلوب ہوجاؤں اور نہ جا پاؤں تو؟ ابن عمر ؓ نے کہا: أرأیت ١ ؎ کو تم یمن میں رکھو، میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسے چھوتے اور چومتے دیکھا ہے۔
It was narrated that Az Zubair bin ‘Arabiy said: “A man asked Ibn ‘Umar about touching the Black Stone and he said: ‘I saw the Messenger of Allah ﷺ touching it and kissing it.’ The man said: ‘What if it is too crowded and I am overwhelmed?’ Ibn ‘Umar (RA), said: ‘Leave your “what if” in Yemen! I saw the Messenger of Allah ﷺ touching it and kissing it.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2946
Notes · وضاحت
١ ؎: أرأیت مطلب یہ ہے کہ اگر مگر چھوڑو جسے سنت رسول کی جستجو ہوا سے اس طرح کے سوالات زیب نہیں دیتے یہ تو تارکین سنت کا شیوہ ہے، سنت رسول کو جان لینے کے بعد اس پر عمل پیرا ہونے کے لیے جہاں تک ممکن ہو کوشش کرنی چاہیئے۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دونوں یمانی رکنوں ١ ؎ کے علاوہ کسی اور چیز پر ہاتھ پھیرتے نہیں دیکھا۔
It was narrated from Salim that his father said: “I did not see the Messenger of Allah ﷺ touching any part of the House except the two Yemeni Corners.”(Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2949
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے مراد رکن یمانی اور حجر اسود ہے حجر اسود کو یمانی تغلیباً کہا گیا ہے۔