کتنے چکروں میں عادت کے مطابق چلنا چاہیے
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَإِذَا طَافَ فِي الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ أَوَّلَ مَا يَقْدَمُ، فَإِنَّهُ يَسْعَى ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ، وَيَمْشِي أَرْبَعًا، ثُمَّ يُصَلِّي سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ يَطُوفُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مکہ آتے ہی جب حج یا عمرہ کا طواف کرتے تو تین پھیرے دوڑ کر چلتے اور چار پھیرے عام چال سے چلتے، پھر دو رکعت پڑھتے، پھر صفا ومروہ کے درمیان سعی کرتے۔
It was narrated from Ibn ‘Umar, that when the Messenger of Allah ﷺ performed Tawaf in Hajj and ‘Umrah - as he first arrived (in Makkah), he would hasten in three rounds, and walk (at a regular pace) in four. Then he prayed two Rak’ahs, then he performed Sa’i between As-Safa and Al-Marwah.(Sahih)