جو کوئی عمرہ کا احرام باندھے اس کا طواف کرنا
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ وَسَأَلْنَاهُ عَنْ رَجُلٍ قَدِمَ مُعْتَمِرًا، فَطَافَ بِالْبَيْتِ، وَلَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ أَيَأْتِي أَهْلَهُ ؟ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَطَافَ سَبْعًا، وَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ، وَطَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ.
عمرو کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر ؓ سے سنا، اور ہم نے ان سے ایک شخص کے بارے میں پوچھا جو عمرہ کی نیت کر کے آیا، اور اس نے بیت اللہ کا طواف کیا، لیکن صفا ومروہ کے درمیان سعی نہیں کی۔ کیا وہ اپنی بیوی کے پاس آسکتا ہے انہوں نے جواب دیا، جب رسول اللہ ﷺ مکہ مکرمہ آئے تو آپ نے بیت اللہ کے سات پھیرے کیے، اور مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نماز پڑھی اور صفا ومروہ کے درمیان سعی کی، اور تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ میں بہترین نمونہ ہے ١ ؎۔
It was narrated that ‘Amr said: “I heard Ibn ‘Umar say -when we asked him about a man who came for ‘Umrah, and performed Tawaf around the House, but did not perform Sa’i between As-Safa and Al-Marwah, could he be intimate with his wife? He said: ‘When the Messenger of Allah ﷺ came, he circumambulated seven times, and prayed two Rak’ahs behind the Maqam, and performed Sa’i between As-Safa and Al Marwah. And you have the best of examples in the Messenger of Allah ﷺ “ (Sahih)