میقاتوں سے متعلق احادیث

Sunan An Nasai · Chapter 23 · 435 hadiths · Page 16 of 22

2953Sunan An Nasai

دوسرے دو رکن کو نہ چھونے سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، وَابْنِ جُرَيْجٍ، وَمَالِكٍ، عَنْ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: رَأَيْتُكَ لَا تَسْتَلِمُ مِنَ الْأَرْكَانِ إِلَّا هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَيْنِ، قَالَ: لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُ إِلَّا هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ، مُخْتَصَرٌ.

عبید بن جریج کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر ؓ سے کہا: میں نے آپ کو کعبہ کے چاروں ارکان میں سے صرف انہیں دونوں یمانی (رکن یمانی اور حجر اسود) کا استلام کرتے دیکھا، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو ان دونوں رکنوں کے علاوہ کسی اور رکن کا استلام کرتے نہیں دیکھا، یہ حدیث مختصر ہے۔

It was narrated that ‘Ubaid bin Juraij said: “I said to Ibn ‘Umar (RA): ‘I see that you only touch these two Yemeni corners.’ He said: ‘I only saw the Messenger of Allah ﷺ touch these two corners.” This is an abridgement of it. (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2950
Takhrij · تخریج
انظر الأرقام ١١٧، ٢٧٦١ (صحیح )
2954Sunan An Nasai

دوسرے دو رکن کو نہ چھونے سے متعلق

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قراءة عليه وأنا أسمع، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُ مِنْ أَرْكَانِ الْبَيْتِ إِلَّا الرُّكْنَ الْأَسْوَدَ وَالَّذِي يَلِيهِ مِنْ نَحْوِ دُورِ الْجُمَحِيِّينَ.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بیت اللہ کے ارکان میں سے کسی کا استلام نہیں کرتے تھے سوائے حجر اسود اور اس رکن کے جو جمحی لوگوں کے گھروں کی طرف حجر اسود سے قریب ہے۔

It was narrated from Salim that his father said: “The Messenger of Allah ﷺ did not touch any of the corners of the House except the Black Corner and the one that is next to it, in the direction of the houses of Al-Jumahiyyin.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2951
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٤٠ (١٢٦٧)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٢٧ (٢٩٤٦)، (تحفة الأشراف: ٦٩٨٨) (صحیح )
2955Sunan An Nasai

دوسرے دو رکن کو نہ چھونے سے متعلق

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: مَا تَرَكْتُ اسْتِلَامَ هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ مُنْذُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُمَا الْيَمَانِيَ، وَالْحَجَرَ فِي شِدَّةٍ وَلَا رَخَاءٍ.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب سے میں نے رسول اللہ ﷺ کو رکن یمانی اور حجر اسود کا استلام کرتے دیکھا، میں نے ان دونوں رکنوں کا استلام نہیں چھوڑا، نہ سختی میں اور نہ آسانی میں۔

It was narrated that Nafi’ said: “Abdullah (RA), said: ‘I have not failed to touch these two corners since I saw the Messenger of Allah ﷺ touching them, the Yemeni Corner and the Black Stone, either when it is difficult or when it is easy.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2952
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ٥٧ (١٦٠٦)، صحیح مسلم/الحج ٤٠ (١٢٦٨)، (تحفة الأشراف: ٨١٥٢)، مسند احمد (٢/٤٠)، سنن الدارمی/المناسک ٢٥ (١٨٨٠) (صحیح )
2956Sunan An Nasai

دوسرے دو رکن کو نہ چھونے سے متعلق

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: مَا تَرَكْتُ اسْتِلَامَ الْحَجَرِ فِي رَخَاءٍ، وَلَا شِدَّةٍ مُنْذُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُ.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب سے میں نے رسول اللہ ﷺ کو حجر اسود کا استلام کرتے دیکھا، آسانی اور پریشانی کسی حال میں بھی اس کا استلام نہیں چھوڑا۔

It was narrated that Ibn ‘Umar said: “Since I saw the Messenger of Allah ﷺ touch it, I did not fail to touching the Stone whether it was easy or difficult.”(Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2953
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٧٥٩٦)، مسند احمد (٢/٣٣، ٤٠، ٥٩) (صحیح )
2957Sunan An Nasai

لاٹھی سے حجر اسود کو چھونا

أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ عَلَى بَعِيرٍ يَسْتَلِمُ الرُّكْنَ بِمِحْجَنٍ.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع میں اونٹ پر سوار ہو کر طواف کیا، آپ ایک خمدار چھڑی سے حجر اسود کا استلام کر رہے تھے۔

It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Abbas that the Messenger of Allah ﷺ. circumambulated (the Ka’bah) during the Farewell Pilgrimage on a camel, touching the Corner with a crook-ended stick. (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2954
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٧١٤ (صحیح )
2958Sunan An Nasai

حجر اسود کی جانب اشا رہ کرنا

أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عَلَى رَاحِلَتِهِ، فَإِذَا انْتَهَى إِلَى الرُّكْنِ أَشَارَ إِلَيْهِ.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی سواری پر خانہ کعبہ کا طواف کر رہے تھے جب آپ کے سامنے پہنچے تو آپ نے اس کی طرف اشارہ کیا۔

It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Abbas that the Messenger of Allah ﷺ used to circumambulate the House on his mount, and when he reached the Corner he pointed to it. (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2955
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ٦١ (١٦١٢)، ٦٢ (١٦١٣)، ٧٤ (١٦٣٢)، الطلاق ٢٤ (٥٢٩٣)، سنن الترمذی/الحج ٤٠ (٨٦٥)، (تحفة الأشراف: ٦٠٥٠)، مسند احمد (١/٢٦٤)، سنن الدارمی/المناسک ٣٠ (١٨٨٧) (صحیح )
2959Sunan An Nasai

آیت کریمہ کا شان نزول

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ مُسْلِمًا الْبَطِينَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَتِ الْمَرْأَةُ تَطُوفُ بِالْبَيْتِ وَهِيَ عُرْيَانَةٌ، تَقُولُ: الْيَوْمَ يَبْدُو بَعْضُهُ أَوْ كُلُّهُ وَمَا بَدَا مِنْهُ فَلَا أُحِلُّهُ، قَالَ: فَنَزَلَتْ يَا بَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ سورة الأعراف آية 31.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ (ایام جاہلیت میں) عورت یہ شعر پڑھتے ہوئے خانہ کعبہ کا طواف ننگی ہو کر کرتی تھی۔ اليوم يبدو بعضه أو كله وما بدا منه فلا أحله آج کے دن جسم کا کل یا کچھ حصہ ظاہر ہو رہا ہے اور جو کچھ بھی ظاہر ہو رہا ہے میں اس کو مباح نہیں کرسکتی (کہ لوگ اسے دیکھیں یا ہاتھ لگائیں) عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں: پھر یہ آیت اتری: يا بني آدم خذوا زينتکم عند کل مسجد اے بنی آدم! جس کسی بھی مسجد میں جاؤ اپنا لباس پہن لیا کرو (الأعراف: ٣١ ) ۔

It was narrated from Saeed bin Jubair that Ibn ‘Abbas said: “Women used to circumambulate the Ka’bah naked, saying: ‘Today some, or all of it will appear And whatever appears I do not make it permissible.’ Then the following was revealed: ‘Children of Adam! Take your adornment to every Masjid.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2956
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/التفسیر ٢ (٣٠٢٨)، (تحفة الأشراف: ٥٦١٥) (صحیح )
2960Sunan An Nasai

آیت کریمہ کا شان نزول

أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِأَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ بَعَثَهُ فِي الْحَجَّةِ الَّتِي أَمَّرَهُ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ فِي رَهْطٍ يُؤَذِّنُ فِي النَّاسِ: أَلَا لَا يَحُجَّنَّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ، وَلَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ابوبکر ؓ نے انہیں اس حج میں جس کا رسول ﷺ نے انہیں حجۃ الوداع سے پہلے امیر بنایا تھا، اس جماعت میں شامل کر کے بھیجا جو لوگوں میں اعلان کر رہی تھی: لوگو! سن لو! اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہ کرسکے گا اور نہ کوئی ننگا ہو کر خانہ کعبہ کا طواف کرے گا۔

Abu Hurairah (RA) narrated that Abu Bakr (RA) sent him, during the Hajj that the Messenger of Allah ﷺ appointed him to lead before the Farewell Pilgrimage, with a group of others to announce to the people: “No idolator is to perform Hajj after this year, and no one is to circumambulate the House naked.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2957
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ١٠ (٣٦٩)، الحج ٦٧ (١٦٢٢)، الجزیة ١٦ (٣١٧٧)، المغازي ٦٦ (٤٣٦٣)، تفسیرالبراء ة ٢ (٤٦٥٥)، ٣ (٤٦٥٦)، ٤ (٤٦٥٧)، صحیح مسلم/الحج ٧٨ (١٣٤٧)، سنن ابی داود/الحج ٦٧ (١٩٤٦)، (تحفة الأشراف: ٦٦٢٤) (صحیح )
2961Sunan An Nasai

آیت کریمہ کا شان نزول

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْمُغِيرَةِ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْالْمُحَرَّرِ بْنِ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جِئْتُ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ حِينَ بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ بِبَرَاءَةَ، قَالَ: مَا كُنْتُمْ تُنَادُونَ ؟ قَالَ: كُنَّا نُنَادِيإِنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُؤْمِنَةٌ، وَلَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ، وَمَنْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهْدٌ فَأَجَلُهُ، أَوْ أَمَدُهُ إِلَى أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ، فَإِذَا مَضَتِ الْأَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ، فَإِنَّ اللَّهَ بَرِيءٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَرَسُولُهُ، وَلَا يَحُجُّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ، فَكُنْتُ أُنَادِي حَتَّى صَحِلَ صَوْتِي.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں علی بن ابی طالب ؓ کے ساتھ آیا جس وقت رسول اللہ ﷺ نے انہیں اہل مکہ کے پاس سورة براءت دے کر بھیجا محرر بن ابی ہریرہ نے اپنے والد سے پوچھا: آپ لوگ کیا پکارتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: ہم اعلان کرتے تھے کہ جنت میں سوائے مومن کے کوئی نہ جائے گا، اور ننگا ہو کر کوئی بیت اللہ کا طواف نہیں کرے گا، اور جس شخص کا رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کوئی عہد و معاہدہ ہو تو اس کی مدت و مہلت چار مہینے کی ہے، اور جب چار مہینے گزر جائیں گے تو پھر اللہ تعالیٰ مشرکوں سے بری ہوگا، اور اس کا رسول بھی، اور اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہ کرسکے گا۔ میں (یہ باتیں) لوگوں کو پکار پکار کر بتارہا تھا یہاں تک کہ میری آواز بیٹھ گئی۔

It was narrated from Muharrar bin Abi Hurairah that his father said: “I came with ‘Ali Ibn Abi Talib (RA) when the Messenger of Allah ﷺ sent him to the people of Makkah with news of the dissolution of treaty obligations.” He said: “How did you announce it?” He said: “We announced that no one would enter Paradise but a believing soul, no one was to circumambulate the House naked; whoever had a treaty with the Messenger of Allah ﷺ then for its period, or, it extended to four months, and when four months had passed, and that Allah is free from (all) obligations to the idolators and so is His Messenger. No idolator was to perform Hajj after this year. I kept on announcing it until my voice grew hoarse.” (Hasan)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2958
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٤٣٥٣)، مسند احمد (٢/٢٩٩)، سنن الدارمی/الصلاة ١٤٠ (صحیح )
2962Sunan An Nasai

طواف کی دو رکعات کس جگہ پڑھنی چاہئیں؟

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ فَرَغَ مِنْ سُبُعِهِ جَاءَ حَاشِيَةَ الْمَطَافِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَلَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الطَّوَّافِينَ أَحَد.

مطلب بن ابی وداعہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا جس وقت آپ طواف کے اپنے سات پھیروں سے فارغ ہوئے، تو مطاف کے کنارے آئے، اور آپ نے دو رکعت نماز پڑھی، اور آپ کے اور طواف کرنے والوں کے درمیان کسی طرح کی آڑ نہ تھی ١ ؎۔

It was narrated that Al Muttalib bin Abi Wada’ah said: “I saw the Prophet ﷺ when he had completed his seven (circuits of Tawaf); he came to the edge of the Mataf and prayed two Rak’ahs, with nothing in between him and the people who were circumambulating.”(Da’if)

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2959
Notes · وضاحت
١ ؎: دیکھئیے حاشیہ حدیث رقم ٧٥٩ ۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٧٥٩ (ضعیف) (اس کے راوی ” کثیر بن المطلب “ لین الحدیث ہیں، اس لیے ان کے بیٹے ” کثیر بن کثیر “ اپنے باپ کو حذف کر کے کبھی ” عن بعض أھلہ “ اور کبھی ” عمن سمع جدہ “ کہا کرتے تھے )
2963Sunan An Nasai

طواف کی دو رکعات کس جگہ پڑھنی چاہئیں؟

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، قَالَ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا، وَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ، وَطَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَقَالَ: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ آئے، تو آپ نے بیت اللہ کے سات پھیرے لگائے اور مقام (ابراہیم) کے پیچھے دو رکعتیں پڑھیں، اور صفا ومروہ کے درمیان سعی کی، اور فرمایا: لقد کان لکم في رسول اللہ أسوة حسنة رسول اللہ کی ذات میں تمہارے لیے بہترین نمونہ ہے (تو اللہ کا رسول جیسا کچھ کرے ویسے ہی تم بھی کرنا) (الأحزاب: ٢١ ) ۔

It was narrated that ‘Amr - meaning, bin ‘Umar - said: “The Messenger of Allah ﷺ came and circumambulated the House seven times, then he prayed two Rak’ahs behind the Maqam and performed Sa’i between As-Safa and Al Marwah, and he(Umar) said: “Indeed in the Messenger of Allah ﷺ you have a good example to follow.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2960
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٩٣٣ (صحیح )
2964Sunan An Nasai

طواف کی دو رکعات کے بعد کیا پڑھنا چاہیے؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: طَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا، رَمَلَ مِنْهَا ثَلَاثًا، وَمَشَى أَرْبَعًا، ثُمَّ قَامَ عِنْدَ الْمَقَامِ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَرَأَ: وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى سورة البقرة آية 125، وَرَفَعَ صَوْتَهُ يُسْمِعُ النَّاسَ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَاسْتَلَمَ، ثُمَّ ذَهَبَ، فَقَالَ: نَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ، فَبَدَأَ بِالصَّفَا، فَرَقِيَ عَلَيْهَا حَتَّى بَدَا لَهُ الْبَيْتُ، فَقَالَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، يُحْيِي وَيُمِيتُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، فَكَبَّرَ اللَّهَ وَحَمِدَهُ، ثُمَّ دَعَا بِمَا قُدِّرَ لَهُ، ثُمَّ نَزَلَ مَاشِيًا حَتَّى تَصَوَّبَتْ قَدَمَاهُ فِي بَطْنِ الْمَسِيلِ، فَسَعَى حَتَّى صَعِدَتْ قَدَمَاهُ، ثُمَّ مَشَى حَتَّى أَتَى الْمَرْوَةَ فَصَعِدَ فِيهَا، ثُمَّ بَدَا لَهُ الْبَيْتُ، فَقَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، قَالَ: ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ ذَكَرَ اللَّهَ وَسَبَّحَهُ، وَحَمِدَهُ، ثُمَّ دَعَا عَلَيْهَا بِمَا شَاءَ اللَّهُ، فَعَلَ هَذَا حَتَّى فَرَغَ مِنَ الطَّوَافِ.

جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بیت اللہ کے سات پھیرے کئے ان میں سے تین میں رمل کیا اور چار میں عام چال چلے پھر مقام ابراہیم کے پاس کھڑے ہو کر دو رکعات پڑھیں، پھر آپ نے آیت کریمہ: واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بناؤ پڑھی اور اپنی آواز بلند کی آپ لوگوں کو سنا رہے تھے۔ پھر آپ وہاں سے پلٹے اور جا کر حجر اسود کا استلام کیا اور فرمایا: کہ ہم وہیں (سعی) شروع کریں گے جہاں سے اللہ تعالیٰ نے (اپنی کتاب میں) شروع کی ہے، تو آپ نے صفا سے سعی شروع کی اور اس پر چڑھے یہاں تک کہ آپ کو بیت اللہ دکھائی دینے لگا تو آپ نے تین مرتبہ لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملک وله الحمد وهو على كل شىء قدير کہا، پھر آپ نے اللہ کی تکبیر اور تحمید کی۔ اور دعا کی جواب آپ کے لیے مقدر تھی، پھر آپ پیدل چل کر نیچے اترے یہاں تک کہ آپ کے دونوں قدم وادی کے نشیب میں رہے پھر دوڑے یہاں تک کہ آپ کے دونوں قدم بلندی پر چڑھے، پھر عام چال چلے یہاں تک کہ مروہ کے پاس آئے اور اس پر چڑھے پھر خانہ کعبہ آپ کو دکھائی دینے لگا تو آپ نے لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملک وله الحمد وهو على كل شىء قدير تین بار کہا۔ پھر اللہ کا ذکر کیا اور اس کی تسبیح و تحمید کی۔ اور دعا کی جو اللہ کو منظور تھی ہر بار ایسا ہی کیا یہاں تک کہ سعی سے فارغ ہوئے۔

It was narrated that Jabir said: “The Messenger of Allah ﷺ circumambulated the House seven times, walking rapidly (Rami) in three, and walking (at a regular pace) for four. Then he stood near the Maqam and prayed two Rak’ahs. Then he recited: ‘And take you the Maqam (place) of Ibrahim as a place of prayer,’ raising his voice, so that the people would hear. Then he went (to perform Sa‘i) and said: ‘We will start with that with which Allah started.’ So he started with As Safa, climbing up, until he could see the House, and he said three times: (There is none worthy of worship except Allah alone with no partner or associate, His is the dominion and to Him be praise, He gives life and death, and He has power over all things).’ Then exclaimed Allah’s greatness, then he supplicated as much as was decreed for him. Then he came down walking until he reached level ground at the bottom of the valley. Then he hastened until the ground began to rise. Then he walked until he came to Al-Marwah and climbed up it, and when he could see the House he said: (There is none worthy of worship except Allah alone with no partner or associate, His is the dominion and to Him be praise, and He has power over all things).’ He said that three times, then he remembered Allah and glorified and praised Him, then he supplicated there for as long as Allah willed. And he did that until he finished Sai‘” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2961
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الحروف ١ (٣٩٦٩)، سنن الترمذی/الحج ٣٣ (٨٥٦)، ٣٨ (٨٦٢)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٥٦ (١٠٠٨)، (تحفة الأشراف: ٢٥٩٥)، ویأتي عند المؤلف برقم: ٢٩٧٧ (صحیح )
2965Sunan An Nasai

طواف کی دو رکعات کے بعد کیا پڑھنا چاہیے؟

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ سَبْعًا: رَمَلَ ثَلَاثًا، وَمَشَى أَرْبَعًا، ثُمَّ قَرَأَ: وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى سورة البقرة آية 125، فَصَلَّى سَجْدَتَيْنِ، وَجَعَلَ الْمَقَامَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَعْبَةِ، ثُمَّ اسْتَلَمَ الرُّكْنَ، ثُمَّ خَرَجَ، فَقَالَ: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَابْدَءُوا بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ.

جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے طواف میں کعبہ کے سات پھیرے لگائے، تین پھیروں میں رمل کیا اور چار پھیروں میں عام چال چلے، پھر آیت کریمہ: واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى پڑھی اس کے بعد مقام ابراہیم کو اپنے اور خانہ کعبہ کے درمیان کر کے دو رکعت نماز پڑھی۔ پھر آپ نے حجر اسود کا استلام کیا پھر نکلے اور آیت کریمہ: إن الصفا والمروة من شعائر اللہ صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں پڑھی تو جس سے اللہ تعالیٰ نے شروع کیا، اسی سے تم بھی شروع کرو ۔

It was narrated from Jabir that the Messenger of Allah ﷺ performed Tawaf, walking rapidly (Rami) for three circuits, and walking at a normal pace for four. Then he recited: “And take you the Maqam (place) of Ibrahim as a place of prayer.” And prayed two Rak’ahs with the Maqam between him and the Ka’bah. Then he touched the Corner, then he went out and said: ‘As-Safa and Al Marwah are two of the symbols of Allah. We will start with that with which Allah started.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2962
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
2966Sunan An Nasai

طواف کی دو رکعتوں میں کونسی سورتیں پڑھی جائیں

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ الْوَلِيدِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا انْتَهَى إِلَى مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ قَرَأَ: وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى سورة البقرة آية 125، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فَقَرَأَ: فَاتِحَةَ الْكِتَابِ، وَقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ، وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ، ثُمَّ عَادَ إِلَى الرُّكْنِ، فَاسْتَلَمَهُ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّفَا.

جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب مقام ابراہیم پر پہنچے تو آپ نے آیت کریمہ: واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى پڑھی، پھر دو رکعت نماز پڑھی، تو اس میں آپ نے سورة فاتحہ اور قل يا أيها الکافرون، اور قل هو اللہ أحد پڑھی پھر آپ حجر اسود کے پاس آئے، اور آپ نے اس کا استلام کیا، پھر آپ صفا کی طرف نکلے۔

It was narrated from Jabir bin ‘Abdullah that when the Messenger of Allah ﷺ came to Maqam Ibrahim he recited: “And take you the Maqam (place) of Ibrahim as a place of prayer.” Then he prayed two Rak’ahs reciting the Opening of the Book (Al-Fatihah) and: “Say: you disbelievers.” and “Say: He is Allah, (the) One.” Then he went back to the Corner and touched it, then he went out to As-Safa. (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2963
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٩٦٤ (صحیح )
2967Sunan An Nasai

آب زمزم پینے سے متعلق

أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَاصِمٌ، وَمُغِيرَةُ. ح وَأَنْبَأَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَاهُشَيْمٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَاصِمٌ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرِبَ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ، وَهُوَ قَائِمٌ.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے زمزم کا پانی کھڑے ہو کر پیا۔

It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Messenger of Allah ﷺ drank from the water of Zamzam while standing. (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2964
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ٧٦ (١٦٣٧)، الأشربة ١٦ (٥٦١٧)، صحیح مسلم/الأشربة ١٥ (٢٠٢٧)، سنن الترمذی/الأشربة ١٢ (١٨٨٢)، والشمائل ٣١ (١٩٧، ١٩٩)، سنن ابن ماجہ/الأشربة ٢١ (٣٤٢٢)، (تحفة الأشراف: ٥٧٦٧)، مسند احمد (١/٢١٤، ٢٢٠، ٢٤٢، ٢٤٩، ٢٨٧، ٣٤٢، ٣٦٩، ٣٧٢) (صحیح )
2968Sunan An Nasai

آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا آب زمزم کھڑے ہو کر پینا۔

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: سَقَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ زَمْزَمَ، فَشَرِبَهُ وَهُوَ قَائِمٌ.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو زمزم (کا پانی) پلایا، تو آپ نے اسے پیا اور آپ کھڑے تھے۔

It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “I gave the Messenger of Allah ﷺ some Zamzam to drink, and he drank it while standing.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2965
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
2969Sunan An Nasai

صفا کی طرف رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اسی دروازے سے جانا جس سے جانے کے لئے نکلا جاتا ہے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ، طَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا، ثُمَّ صَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّفَا مِنَ الْبَاب الَّذِي يُخْرَجُ مِنْهُ، فَطَافَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، قَالَ شُعْبَةُ: وَأَخْبَرَنِي أَيُّوبُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ: سُنَّةٌ.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ مکہ آئے تو آپ نے بیت اللہ کے سات پھیرے کیے، پھر مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نماز پڑھی، پھر آپ صفا کی طرف اس دروازے سے نکلے جس دروازے سے باہر نکلا جاتا ہے، تو صفا ومروہ کی سعی کی۔ اور عبداللہ بن عمر ؓ نے کہا: یہ سنت ہے۔

Ibn ‘Umar said: “When the Messenger of Allah ﷺ arrived in Makkah he circumambulated the House seven times, then he prayed two Rak’ahs behind the Maqam. Then, he went out to As-Safa through the gate that is usually used to exit, and performed Sa‘i between As-Safa and Al-Marwah (One of the narrators Shu’bah said: Ayub informed me from ‘Amr bin Dinar from Ibn ‘Umar that he said: “A Sunnah”. (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2966
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٩٣٣ (صحیح )
2970Sunan An Nasai

صفا اور مروہ کے بارے میں

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى عَائِشَةَ: فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا سورة البقرة آية 158، قُلْتُ: مَا أُبَالِي أَنْ لَا أَطُوفَ بَيْنَهُمَا، فَقَالَتْ: بِئْسَمَا قُلْتَ: إِنَّمَا كَانَ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ لَا يَطُوفُونَ بَيْنَهُمَا، فَلَمَّا كَانَ الْإِسْلَامُ وَنَزَلَ الْقُرْآنُ: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ سورة البقرة آية 158، فَطَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَطُفْنَا مَعَهُ، فَكَانَتْ سُنَّةً.

عروہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ کے سامنے آیت کریمہ: فلا جناح عليه أن يطوف بهما پڑھی اور کہا: میں صفا ومروہ کے درمیان نہ پھروں، تو مجھے کوئی پرواہ نہیں ١ ؎، تو انہوں نے کہا: تم نے کتنی بری بات کہی ہے (صحیح یہ ہے) کہ لوگ ایام جاہلیت میں صفا ومروہ کے درمیان طواف نہیں کرتے تھے (بلکہ اسے گناہ سمجھتے تھے) تو جب اسلام آیا، اور قرآن اترا، اور یہ آیت فلا جناح عليه أن يطوف بهما اتری تو رسول اللہ ﷺ نے سعی کی، اور آپ کے ساتھ ہم نے بھی کی، تو یہی سنت ہے۔

It was narrated that ‘Urwah said: “I recited to Aishah (RA): ‘So it is not a sin on him who performs Hajj or Umrah (pilgrimage) of the House to perform the going (Tawaf) between them (As-Safa and Al-Marwah).’ “I said: ‘I do not care if I do not go between them?’ She said: ‘What a bad thing you have said!’ People at the time of the Jahili used not to go between them, but when Islam came and the Qur’an was revealed: ‘Verily, As-Safa and Al-Marwah are of the symbols of Allah,’ the Messenger of Allah ﷺ went between them, and we did that with him, and thus it became part of Hajj.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2967
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے: فلا جناح عليه أن يطوف بهما۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ٧٩ (١٦٤٣)، العمرة ١٠ (١٧٩٠)، تفسیرالبقرة ٢١ (٤٤٩٥)، تفسیرالنجم ٣ (٤٨٦١) مختصراً، صحیح مسلم/الحج (١٢٧٧)، سنن الترمذی/تفسیرالبقرة (٢٩٦٥)، (تحفة الأشراف: ١٦٤٣٨)، موطا امام مالک/الحج ٤٢ (١٢٩)، مسند احمد (٣/١٤٤، ١٦٢، ٢٢٧) (صحیح )
2971Sunan An Nasai

صفا اور مروہ کے بارے میں

أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا سورة البقرة آية 158، فَوَاللَّهِ مَا عَلَى أَحَدٍ جُنَاحٌ أَنْ لَا يَطُوفَ بِالصَفَا وَالْمَرْوَةِ، قَالَتْ عَائِشَةُ: بِئْسَمَا قُلْتَ يَا ابْنَ أُخْتِي، إِنَّ هَذِهِ الْآيَةَ لَوْ كَانَتْ كَمَا أَوَّلْتَهَا، كَانَتْ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا وَلَكِنَّهَا نَزَلَتْ فِي الْأَنْصَارِ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمُوا، كَانُوا يُهِلُّونَ لِمَنَاةَ الطَّاغِيَةِ الَّتِي كَانُوا يَعْبُدُونَ عِنْدَ الْمُشَلَّلِ وَكَانَ مَنْ أَهَلَّ لَهَا يَتَحَرَّجُ أَنْ يَطُوفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَلَمَّا سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا سورة البقرة آية 158، ثُمَّ قَدْسَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطَّوَافَ بَيْنَهُمَا، فَلَيْسَ لِأَحَدٍ أَنْ يَتْرُكَ الطَّوَافَ بِهِمَا.

عروہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے اللہ کے قول فلا جناح عليه أن يطوف بهما کے متعلق پوچھا (میں نے کہا کہ اس سے تو پتا چلتا ہے کہ) کوئی صفا ومروہ کی سعی نہ کرے، تو قسم اللہ کی اس پر کوئی حرج نہیں، اس پر عائشہ ؓ نے کہا: میرے بھانجے! تم نے نامناسب بات کہی ہے۔ اس آیت کا مطلب اگر وہی ہوتا جو تم نے نکالا ہے تو یہ آیت اس طرح اترتی فلا جناح عليه أن لا يطوف بهما اگر کوئی صفا ومروہ کی سعی نہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ۔ لیکن یہ آیت انصار کے بارے میں اتری ہے۔ اسلام لانے سے پہلے وہ مشلل ١ ؎ کے پاس مناۃ بت کے لیے احرام باندھتے تھے جس کی وہ عبادت کرتے تھے، اور جو مناۃ کے نام سے احرام باندھتا تھا وہ صفا ومروہ کے درمیان سعی کرنے میں حرج جانتا تھا تو جب لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے بارے میں پوچھا تو اللہ عزوجل نے یہ آیت کریمہ: إن الصفا والمروة من شعائر اللہ فمن حج البيت أو اعتمر فلا جناح عليه أن يطوف بهما صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں، اس سے بیت اللہ کا حج و عمرہ کرنے والے پر ان کا طواف کرلینے میں کوئی گناہ نہیں اتاری تو رسول اللہ ﷺ نے صفا ومروہ کی سعی کو مسنون قرار دیا۔ تو کسی کے لیے جائز و درست نہیں کہ ان دونوں کی سعی چھوڑ دے۔

It was narrated that ‘Urwah said: “I asked Aishah (RA) about the words of Allah, the Mighty and Sublime: ‘So it is not a sin on him who performs Hajj or ‘Umrah (pilgrimage) of the House (the Ka’bah at Makkah) to perform the going (Tawaf) between them (As Safa and Al-Marwah), and (I said): ‘By Allah, there is no sin on anyone if he does not go between As-Safa and Al-Marwah.’ Aishah (RA) said: ‘What a bad thing you have said, son of my brother! If this Ayah was as you have interpreted it, there would be no sin on a person if he did not go between them. But it was revealed concerning the Ansar. Before they accepted Islam, they used to enter lhram for the false goddess Manat whom they used to worship at Al Mushallal. Whoever entered Ihram for her would refrain from going between As-Safa and Al-Marwah. When they asked the Messenger of Allah ﷺ about that, Allah, the Mighty and Sublime, revealed: ‘Verily, As-Safa and Al-Marwah (two mountains in Makkah) are of the Symbols of Allah. So it is not a sin on him who performs Hajj or ‘Umrah (pilgrimage) of the House (the Ka’bah at Makkah) to perform the going (Tawaf) between them (As-Safa and Al-Marwah).’ Then the Messenger of Allah ﷺ enjoined going between them so no one has the right to refrain from going between them.”(Sahih).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2968
Notes · وضاحت
١ ؎: مشلل ایک بلند گھاٹی کا نام ہے جو قدید پر واقع ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ٧٩ (١٦٤٣)، (تحفة الأشراف: ١٦٤٧١) (صحیح )
2972Sunan An Nasai

صفا اور مروہ کے بارے میں

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ خَرَجَ مِنَ الْمَسْجِدِ وَهُوَ يُرِيدُ الصَّفَا وَهُوَ يَقُولُ: نَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ.

جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو جس وقت آپ مسجد (خانہ کعبہ) سے نکلے اور صفا کا ارادہ کر رہے تھے فرماتے سنا: ہم وہیں سے شروع کریں گے جہاں سے اللہ تعالیٰ نے شروع کیا ہے ۔

It was narrated that Jabir said: “When he went out of the Masjid heading for As-Safa, I heard the Messenger of Allah ﷺ say: ‘We will start with that with which Allah started.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2969
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٢٦٢١، موطا امام مالک/الحج ٤١ (١٢٦) (صحیح )