Sunan An Nasai 2962

میقاتوں سے متعلق احادیث

2962Sunan An Nasai

طواف کی دو رکعات کس جگہ پڑھنی چاہئیں؟

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ فَرَغَ مِنْ سُبُعِهِ جَاءَ حَاشِيَةَ الْمَطَافِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَلَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الطَّوَّافِينَ أَحَد.

مطلب بن ابی وداعہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا جس وقت آپ طواف کے اپنے سات پھیروں سے فارغ ہوئے، تو مطاف کے کنارے آئے، اور آپ نے دو رکعت نماز پڑھی، اور آپ کے اور طواف کرنے والوں کے درمیان کسی طرح کی آڑ نہ تھی ١ ؎۔

It was narrated that Al Muttalib bin Abi Wada’ah said: “I saw the Prophet ﷺ when he had completed his seven (circuits of Tawaf); he came to the edge of the Mataf and prayed two Rak’ahs, with nothing in between him and the people who were circumambulating.”(Da’if)

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2959
Notes · وضاحت
١ ؎: دیکھئیے حاشیہ حدیث رقم ٧٥٩ ۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٧٥٩ (ضعیف) (اس کے راوی ” کثیر بن المطلب “ لین الحدیث ہیں، اس لیے ان کے بیٹے ” کثیر بن کثیر “ اپنے باپ کو حذف کر کے کبھی ” عن بعض أھلہ “ اور کبھی ” عمن سمع جدہ “ کہا کرتے تھے )