میقاتوں سے متعلق احادیث

Sunan An Nasai · Chapter 23 · 435 hadiths · Page 17 of 22

2973Sunan An Nasai

صفا اور مروہ کے بارے میں

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا جَابِرٌ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ إِلَى الصَّفَا، وَقَالَ: نَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ، ثُمَّ قَرَأَ: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ سورة البقرة آية 158.

جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ صفا کی طرف نکلے اور آپ نے فرمایا: ہم اسی سے شروع کریں گے جس سے اللہ تعالیٰ نے شروع کیا ہے، پھر آپ نے إن الصفا والمروة من شعائر اللہ کی تلاوت کی ۔

Jabir said: “The Messenger of Allah ﷺ went out to As-Safa and said: We will start with that with which Allah started. Then he recited: ‘Verily, As-Safa and Al Marwah (two mountains in Makkah) are of the Symbols of Allah” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2970
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٩٧٢ (صحیح )
2974Sunan An Nasai

صفا پہاڑ پر کس جگہ کھڑا ہونا چاہیے؟

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَاجَابِرٌ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَقِيَ عَلَى الصَّفَا حَتَّى إِذَا نَظَرَ إِلَى الْبَيْتِ كَبَّرَ.

جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ صفا پر چڑھے یہاں تک کہ جب آپ نے بیت اللہ کو دیکھا، تو آپ نے تکبیر کہی۔

Jabir narrated that the Messenger of Allah ﷺ climbed up As-Safa until he could see the House, then he said the Takbir. (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2971
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٢٦٢٢) (صحیح )
2975Sunan An Nasai

صفا پر تکبیر کہنا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِيمَالِكٌ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا وَقَفَ عَلَى الصَّفَا يُكَبِّرُ ثَلَاثًا، وَيَقُولُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌيَصْنَعُ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَيَدْعُو وَيَصْنَعُ عَلَى الْمَرْوَةِ مِثْلَ ذَلِكَ.

جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب صفا پر کھڑے ہوتے تو تین بار تکبیر کہتے اور لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملک وله الحمد وهو على كل شىء قدير کہتے اور دعا کرتے، اور مروہ پر بھی پہنچ کر ایسا ہی کرتے۔

It was narrated from Jabir that when the Messenger of Allah ﷺ stood on top of As-Safa he recited the Takbir three times and said:(There is none worthy of worship except Allah alone with no partner or associate, His is the dominion and to Him be praise, and He has power over all things).” He did that three times, and supplicated and did the same a top Al-Marwah. (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2972
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٢٦٢٣)، موطا امام مالک/الحج ٤١ (١٢٥)، مسند احمد (٣/٣٨٨)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: ٢٩٨٧، ٢٩٨٨، ٣٠٥٦ (صحیح )
2976Sunan An Nasai

صفا پر لا الہ الا اللہ کہنا

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُيُحَدِّثُ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا، عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّوَقَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الصَّفَا، يُهَلِّلُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَيَدْعُو بَيْنَ ذَلِكَ.

ابو جعفر بن محمد الباقر کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے حج کے سلسلے میں جابر ؓ سے سنا: پھر نبی اکرم ﷺ صفا پر رکتے، آپ اس کے درمیان اللہ عزوجل کی تہلیل کرتے، اور دعا کرتے تھے۔

Ja’far bin Muhammad narrated that he heard his father narrate, that he heard Jabir, speak of the Pilgrimage of the Prophet ﷺ “The Prophet ﷺ stood atop As-Safa proclaiming the Tahlil of Allah (saying La ilaha illallah) and supplicating in between that.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2973
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٩٧٥ (صحیح )
2977Sunan An Nasai

صفا پر ذکر کرنا اور دعا مانگنا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: طَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا: رَمَلَ مِنْهَا ثَلَاثًا، وَمَشَى أَرْبَعًا، ثُمَّ قَامَ عِنْدَ الْمَقَامِ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَقَرَأَ: وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى سورة البقرة آية 125، وَرَفَعَ صَوْتَهُ يُسْمِعُ النَّاسَ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَاسْتَلَمَ، ثُمَّ ذَهَبَ، فَقَالَ: نَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ، فَبَدَأَ بِالصَّفَا، فَرَقِيَ عَلَيْهَا، حَتَّى بَدَا لَهُ الْبَيْتُ، وَقَالَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، يُحْيِي وَيُمِيتُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، وَكَبَّرَ اللَّهَ وَحَمِدَهُ، ثُمَّ دَعَا بِمَا قُدِّرَ لَهُ، ثُمَّ نَزَلَ مَاشِيًا، حَتَّى تَصَوَّبَتْ قَدَمَاهُ فِي بَطْنِ الْمَسِيلِ، فَسَعَى حَتَّى صَعِدَتْ قَدَمَاهُ، ثُمَّ مَشَى، حَتَّى أَتَى الْمَرْوَةَ، فَصَعِدَ فِيهَا، ثُمَّ بَدَا لَهُ الْبَيْتُ، فَقَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ قَالَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ ذَكَرَ اللَّهَ، وَسَبَّحَهُ وَحَمِدَهُ، ثُمَّ دَعَا عَلَيْهَا بِمَا شَاءَ اللَّهُ، فَعَلَ هَذَا حَتَّى فَرَغَ مِنَ الطَّوَافِ.

جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے خانہ کعبہ کا سات پھیرا کیا، جس میں سے تین میں رمل کیا، اور چار میں عام چال چلے۔ پھر مقام ابراہیم کے پاس کھڑے ہوئے اور دو رکعت نماز پڑھی، اور آیت: واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى پڑھی اور (پڑھتے وقت) آواز بلند کی، آپ لوگوں کو سنا رہے تھے پھر آپ پلٹے اور حجر اسود کا استلام کیا پھر (صفا کی طرف) گئے اور فرمایا: جس سے اللہ تعالیٰ نے شروع کیا ہے اسی سے ہم بھی (سعی) شروع کریں گے، پھر آپ نے صفا سے شروع کیا تو آپ اس پر چڑھے یہاں تک کہ بیت اللہ دکھائی دینے لگا تو تین بار آپ نے لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملک وله الحمد يحيي ويميت وهو على كل شىء قدير پڑھا اللہ کی بڑائی بیان کی، اور اس کی تعریف کی اور حسب توفیق دعائیں مانگی۔ پھر پیدل ہی نیچے اترے یہاں تک کہ وادی کے بالکل نشیب میں پہنچ گئے تو آپ دوڑے یہاں تک کہ آپ کے قدم بلندی کی طرف بڑھے پھر آپ عام رفتار سے چلے یہاں تک کہ مروہ پہاڑی پر آئے تو اس پر چڑھے یہاں تک کہ بیت اللہ آپ کو دکھائی دینے لگا تو آپ نے تین بار لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملک وله الحمد وهو على كل شىء قدير تین بار پڑھا۔ پھر اللہ کا ذکر کیا، اس کی تسبیح اور تعریف کی اور دعا مانگی جتنی اللہ کو منظور تھیں اسی طرح (ہر بار) کرتے رہے یہاں تک کہ سعی سے فارغ ہوگئے۔

It was narrated that Jabir said: “The Messenger of Allah ﷺ circumambulated the House seven times, walking rapidly in three circuits and walking (at a normal pace) in three. Then he stood at the Maqam and prayed two Rak’ahs, and recited: ‘And take you (people) the Maqam (place) of Ibrahim as a place of prayer,’ raising his voice so that the people could hear. Then, he went and touched the Black Stone and went (to perform Sa’i) and said: ‘We will start with that with which Allah started.’ So he started with As Safa, climbing up until he could see the House, and he said three times:(There is none worthy of worship except Allah alone with no partner or associate, His is the dominion and to Him be praise, He gives life and death, and He has power over all things).’ Then exclaimed Allah’s greatness and praised Him, then he supplicated as much as was decreed for him. Then he came down walking, until he reached level ground at the bottom of the valley. Then he hastened until the ground began to rise. Then he walked until he came to Al-Marwah and climbed up it, and when he could see the house he said: (There is none worthy of worship except Allah alone with no partner or associate, His is the dominion and to Him be praise, and He has power over all things).’ He said that three times, then he remembered Allah, and glorified and praised Him, then he supplicated there for as long as Allah willed. And he did that until he had finished Sa‘i.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2974
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٩٤٢ (صحیح )
2978Sunan An Nasai

صفا اور مروہ کی سعی اونٹ پر سوار ہو کر کرنا

أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: طَافَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ عَلَى رَاحِلَتِهِ بِالْبَيْتِ، وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ لِيَرَاهُ النَّاسُ، وَلِيُشْرِفَ، وَلِيَسْأَلُوهُ إِنَّ النَّاسَ غَشُوهُ.

جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے حجۃ الوداع میں اپنی سواری پر بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا ومروہ کے درمیان سعی کی، (اور ایسا اس لیے کیا) تاکہ لوگ آپ کو دیکھ سکیں اور آپ لوگوں سے اونچائی پر رہیں اور تاکہ لوگ مسئلے مسائل پوچھ سکیں کیونکہ لوگوں نے آپ کو ڈھانپ لیا تھا۔

Abu Az-Zubair narrated that he heard Jabir bin ‘Abdullah say: During the Farewell Pilgrimage the Prophet ﷺ circumambulated the House and went between As-Safa and Al-Manwah on his mount so that the people could see him and he could see them, and they could ask him questions, and the people crowded around him. (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2975
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٤٢ (١٢٧٣)، سنن ابی داود/الحج ٤٩ (١٨٨٠)، (تحفة الأشراف: ٢٨٠٣)، مسند احمد (٣/٣١٧، ٣٣٣) (صحیح )
2979Sunan An Nasai

صفا اور مروہ کے درمیان چلنا

أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ جُمْهَانَ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يَمْشِي بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَقَالَ: إِنْ أَمْشِي فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي، وَإِنْ أَسْعَى فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْعَى.

کثیر بن جمہان کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر ؓ کو صفا ومروہ کے درمیان عام چال چلتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے کہا: اگر میں عام چال چلتا ہوں تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو عام چال چلتے ہوئے دیکھا ہے، اور اگر میں دوڑتا ہوں تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو دوڑتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔

It was narrated that Kathir bin Jumhan said: “I saw Ibn ‘Umar walking between As-Safa and Al-Marwah. He said: ‘I am walking because I saw the Messenger of Allah ﷺ: walking, and I hasten because I saw the Messenger of Allah ﷺ hasten.” (Hasan)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2976
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحج ٥٦ (١٩٠٤)، سنن الترمذی/الحج ٣٩ (٨٦٤)، سنن ابن ماجہ/الحج ٤٣ (٢٩٨٨)، (تحفة الأشراف: ٧٣٧٩)، (١٨٨٠)، مسند احمد (٢/٥٣، ٦٠، ٦١، ١٢٠) (صحیح )
2980Sunan An Nasai

صفا اور مروہ کے درمیان چلنا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ وذَكَرَ نَحْوَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَأَنَا شَيْخٌ كَبِيرٌ.

سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر کو دیکھا … آگے راوی نے اسی طرح ذکر کیا ہے جو اوپر کی حدیث میں گزرا، البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں بہت بوڑھا ہوچکا ہوں (میں عام چال چل لوں یہی میرے لیے بہت ہے) ۔

It was narrated that Saeed bin Jubair said: “I saw Ibn ‘Umar” and he mentioned something similar, except he said: “and I am an old man.” (Hasan)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2977
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٧٠٦٧)، مسند احمد (٢/١٥١) (صحیح )
2981Sunan An Nasai

صفا اور مروہ کے درمیان رمل

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ يَسَارٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: سَأَلُوا ابْنَ عُمَرَ هَلْ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَلَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ؟ فَقَالَ: كَانَ فِي جَمَاعَةٍ مِنَ النَّاسِ، فَرَمَلُوا فَلَا أُرَاهُمْ رَمَلُوا إِلَّا بِرَمَلِهِ.

زہری کہتے ہیں کہ لوگوں نے ابن عمر ؓ سے پوچھا: کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کو صفا ومروہ کے درمیان رمل کرتے ہوئے دیکھا ہے؟ تو انہوں نے کہا: آپ ﷺ لوگوں کی ایک جماعت کے درمیان تھے (میں خود تو آپ کو دیکھ نہ سکا) لیکن لوگوں نے رمل کیا تو میں یہی سمجھتا ہوں کہ آپ کے رمل کرنے کی وجہ سے ہی لوگوں نے رمل کیا۔

It was narrated that Az Zuhri said: “They asked Ibn ‘Umar (RA): ‘Did you see the Messenger of Allah ﷺ walk rapidly between As-Safa and Al-Marwah?’ He said: ‘He was among a group of people and they walked rapidly, and I think they went at the same pace as him.” (Da’if)

ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2978
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٧٤٤٦) (ضعیف الإسناد) (زہری کا عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے سماع ثابت نہیں ہے )
2982Sunan An Nasai

صفا اور مروہ کی سعی کرنا

أَخْبَرَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: إِنَّمَا سَعَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ لِيُرِيَ الْمُشْرِكِينَ قُوَّتَهُ.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے صفا ومروہ کے درمیان سعی کی تاکہ مشرکین کو اپنی قوت دکھا سکیں (تاکہ وہ یہ نہ سمجھیں کہ ہم مدینے جا کر کمزور و لاغر ہوگئے ہیں) ۔

It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “The Prophet ﷺ walked rapidly between As-Safa and Al-Marwah to show the idolators that he was strong.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2979
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ٨٠ (١٦٤٩)، المغازي ٤٣ (٤٢٥٧)، صحیح مسلم/الحج ٣٩ (١٢٦٦)، (تحفة الأشراف: ٥٩٤٣)، سنن الترمذی/الحج ٣٩ (٨٦٣)، مسند احمد (١/٢٢١، ٢٥٥، ٣٠٦، ٣١٠، ٣١١، ٣٧٣) (صحیح )
2983Sunan An Nasai

وادی کے درمیان دوڑنا

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ بُدَيْلٍ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ امْرَأَةٍ، قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْعَى فِي بَطْنِ الْمَسِيلِ، وَيَقُولُ: لَا يُقْطَعُ الْوَادِي إِلَّا شَدًّا.

صفیہ بنت شیبہ ایک عورت سے روایت کرتی ہیں، وہ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو وادی کے نشیبی حصہ کو دوڑ کر طے کرتے ہوئے دیکھا ہے، آپ ﷺ فرما رہے تھے: یہ وادی دوڑ کر ہی پار کی جائے گی ١ ؎۔

It was narrated from Safiyyah bint Shaibah that a woman said: I saw the Messenger of Allah ﷺ hastening at the bottom of the valley and he said: “The river bed should not be crossed except with vigor.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2980
Notes · وضاحت
١ ؎: اب اس حصے پر دو سبز پتھر لگا دیئے گئے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الحج ٤٣ (٢٩٨٧)، (تحفة الأشراف: ١٨٣٨٢)، مسند احمد (٦/٤٠٤، ٤٠٥) (صحیح )
2984Sunan An Nasai

عادت کے موافق چلنے کی جگہ

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قراءة عليه وأنا أسمع، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْجَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا نَزَلَ مِنْ الصَّفَا مَشَى، حَتَّى إِذَا انْصَبَّتْ قَدَمَاهُ فِي بَطْنِ الْوَادِي سَعَى حَتَّى يَخْرُجَ مِنْهُ.

جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب صفا سے اتر کر نیچے آتے تو عام رفتار سے چلتے یہاں تک کہ جب آپ کے قدم وادی کے نشیب میں پہنچ جاتے تو آپ دوڑنے لگتے یہاں تک کہ اس (نشیبی جگہ) سے نکل جاتے۔

It was narrated from Jabir bin ‘Abdullah (RA), that when the Messenger of Allah ﷺ came down from As-Safa, he would walk until he reached the bottom of the valley, then he would hasten until he came out of it. (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2981
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٢٦٢٤)، موطا امام مالک/الحج ٤١ (١٢٦) (صحیح )
2985Sunan An Nasai

رمل کس جگہ کرنا چاہیے؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: لَمَّا تَصَوَّبَتْ قَدَمَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَطْنِ الْوَادِي رَمَلَ حَتَّى خَرَجَ مِنْهُ.

جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول ﷺ کے دونوں قدم وادی کے نشیبی حصہ میں پہنچے، تو آپ نے رمل کیا یہاں تک کہ اس نشیبی جگہ سے نکل گئے۔

It was narrated that Jabir said: “When the Messenger of Allah ﷺ reached level ground at the bottom of the valley, he would hasten until he came out of it.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2982
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٩٨٤ (صحیح )
2986Sunan An Nasai

رمل کس جگہ کرنا چاہیے؟

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَاجَابِرٌ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ يَعْنِي عَنْ الصَّفَا حَتَّى إِذَا انْصَبَّتْ قَدَمَاهُ فِي الْوَادِي رَمَلَ حَتَّى إِذَا صَعِدَ مَشَى.

جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ صفا سے نیچے اترے یہاں تک کہ جب آپ کے قدم وادی کے نشیب میں پہنچے تو آپ نے رمل کیا، اور جب چڑھائی پر پہنچے تو عام رفتار سے چلے۔

Jabir narrated that the Messenger of Allah ﷺ came down from As-Safa until he reached level ground in the valley, then he hastened (Rami) until (the ground) rose, then he walked. (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2983
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٩٨٤ (صحیح )
2987Sunan An Nasai

مروہ پہاڑ پر کھڑے ہونے کی جگہ

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَرْوَةَ فَصَعِدَ فِيهَا، ثُمَّ بَدَا لَهُ الْبَيْتُ، فَقَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، قَالَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ ذَكَرَ اللَّهَ، وَسَبَّحَهُ، وَحَمِدَهُ، ثُمَّ دَعَا بِمَا شَاءَ اللَّهُ فَعَلَ هَذَا حَتَّى فَرَغَ مِنَ الطَّوَافِ.

جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مروہ پر آئے تو اس پر چڑھے پھر بیت اللہ دکھائی دینے لگا تو آپ نے تین بار لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملک وله الحمد وهو على كل شىء قدير کہا، پھر اللہ کا ذکر کیا اس کی تسبیح اور تحمید کی اور جو اللہ نے چاہا دعا کی، ہر بار ایسے ہی کرتے رہے یہاں تک کہ آپ طواف سے فارغ ہوئے۔

It was narrated from Jabir bin ‘Abdullah that the Messenger of Allah ﷺ came to Al-Marwah and climbed up until he could see the House, then he said: (There is none worthy of worship except Allah alone with no partner or associate, His is the dominion and to Him be praise, and He has power over all things).” He said that three times, then he remembered Allah, and glorified and praised Him, then he supplicated there for as long as Allah willed. And he did that until he had finished Sa‘i (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2984
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٩٧٥ (صحیح )
2988Sunan An Nasai

مروہ پہاڑ پر کس جگہ کھڑا ہو؟

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، قَالَ: أَنْبَأَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَهَبَ إِلَى الصَّفَا، فَرَقِيَ عَلَيْهَا، حَتَّى بَدَا لَهُ الْبَيْتُ، ثُمَّ وَحَّدَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، وَكَبَّرَ، وَقَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، ثُمَّ مَشَى، حَتَّى إِذَا انْصَبَّتْ قَدَمَاهُ، سَعَى، حَتَّى إِذَا صَعِدَتْ قَدَمَاهُ، مَشَى حَتَّى أَتَى الْمَرْوَةَ، فَفَعَلَ عَلَيْهَا كَمَا فَعَلَ عَلَى الصَّفَا، حَتَّى قَضَى طَوَافَهُ.

جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ صفا کے پاس گئے تو اس پر چڑھے یہاں تک کہ آپ کو بیت اللہ دکھائی دینے لگا پھر آپ نے اللہ عزوجل کی وحدانیت اور اس کی بڑائی بیان کی اور لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملک وله الحمد يحيي ويميت وهو على كل شىء قدير کہا پھر آپ چلے یہاں تک کہ جب آپ کے دونوں قدم نشیب میں پڑے تو آپ نے سعی کی (دوڑے) اور جب آپ کے قدم اونچائی و بلندی کی طرف اٹھے ١ ؎ تو آپ عام چال چلنے یہاں تک کہ آپ مروہ کے پاس آئے تو وہاں بھی آپ نے وہی کیا جو آپ نے صفا پر کر کیا تھا یہاں تک کہ اپنی سعی پوری کی۔

It was narrated from Jabir that the Messenger of Allah ﷺ went to As-Safa and climbed it and said: (There is none worthy of worship except Allah alone with no partner or associate, His is the dominion and to Him be praise, He gives life and death, and He has power over all things).” Then he walked until he reached level ground, then he hastened until the ground began to rise. Then he walked until he came to Al-Marwah, and he did the same there as he did at As-Safa, until he had finished his Sa’i. (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2985
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی چڑھائی شروع ہوئی۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٩٧٥ (صحیح )
2989Sunan An Nasai

قران اور تمتع کرنے والا شخص کتنی مرتبہ سعی کرے؟

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يَقُولُ: لَمْ يَطُفْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ إِلَّا طَوَافًا وَاحِدًا.

جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ اور آپ کے اصحاب نے صفا ومروہ کا طواف (یعنی ان دونوں کی سعی) صرف ایک بار کی ہے۔

Jabir said: “The Prophet ﷺ and his Companions only performed Sa‘i between As-Safa and Al-Marwah once.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2986
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ١٧ (١٢١٣)، سنن ابی داود/الحج ٥٤ (١٨٩٥)، (تحفة الأشراف: ٢٨٠٢)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج ١٠٢ (٩٤٧)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٣٩ (٢٩٧٣) مسند احمد (٣/٣١٧) (صحیح )
2990Sunan An Nasai

عمرہ کرنے والا شخص کس جگہ بال چھوٹے کرائے؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ، أَنَّ طَاوُسًا أَخْبَرَهُ، أَنَّابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ،أَنَّهُ قَصَّرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِشْقَصٍ فِي عُمْرَةٍ عَلَى الْمَرْوَةِ.

معاویہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے مروہ پر ایک عمرہ کے موقع پر نبی اکرم ﷺ کے بال تیر کے لمبے پھل سے کترے۔

It was narrated from Muawiyah that he cut the hair of the Prophet ﷺ with the edge of an arrow during his ‘Umrah at Al Marwah. (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2987
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٧٣٨ (صحیح )
2991Sunan An Nasai

عمرہ کرنے والا شخص کس جگہ بال چھوٹے کرائے؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: قَصَّرْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمَرْوَةِ بِمِشْقَصِ أَعْرَابِيٍّ.

معاویہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے مروہ پر رسول اللہ ﷺ کے بال ایک اعرابی کے تیر کے پھل سے کترے ١ ؎۔

It was narrated that Muawiyah said: I cut the hair of the Messenger of Allah ﷺ at Al Marwah with the edge of a Bedouin arrow. (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2988
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ عمرہ جعرانہ کا واقعہ ہے کیونکہ معاویہ رضی الله عنہ اسی موقع پر اسلام لائے تھے عمرہ قضاء کا واقعہ نہیں ہوسکتا ہے کیونکہ وہ اس وقت کافر تھے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٧٣٨ (صحیح )
2992Sunan An Nasai

بال کس طرح کترے جائیں؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْعَطَاءٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: أَخَذْتُ مِنْ أَطْرَافِ شَعْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِشْقَصٍ كَانَ مَعِي بَعْدَ مَا طَافَ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فِي أَيَّامِ الْعَشْرِ، قَالَ قَيْسٌ: وَالنَّاسُ يُنْكِرُونَ هَذَا عَلَى مُعَاوِيَةَ.

معاویہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ذی الحجہ کے پہلے د ہے میں بیت اللہ کے طواف اور صفا ومروہ کی سعی کر چکنے کے بعد میں نے رسول اللہ ﷺ کے بال کے کناروں کو اپنے پاس موجود ایک تیر کے پھل سے کاٹے۔ قیس بن سعد کہتے ہیں: لوگ معاویہ پر اس حدیث کی وجہ سے نکیر کرتے تھے ١ ؎۔

It was narrated that Muawiyah said: “I cut a little from the ends of the hair of the Messenger of Allah ﷺ with the edge of an arrow that I had with me, after he had circumambulated the House, and performed Sai between As-Safa and Al-Marwah, during the ten days.” Qais said: “The people rebuked Muawiyah for that.” (Sahih)

شاذصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2989
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ معاویہ رضی الله عنہ کا وہم ہے، صحیح بات یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ حجۃ الوداع میں متمتع نہیں تھے، بلکہ قارن تھے، آپ نے مروہ پر نہیں، دسویں ذی الحجہ کو منیٰ میں حلق کروایا تھا معاویہ والا واقعہ غالباً عمرہ جعرانہ ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١١٤٣)، مسند احمد (٤/٩٢) (شاذ )