ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے ہمارے پیش نظر صرف حج تھا تو جب آپ نے بیت اللہ کا طواف کرلیا اور صفا ومروہ کے درمیان سعی کرلی تو آپ نے فرمایا جس کے پاس ہدی ہو وہ اپنے احرام پر قائم رہے اور جس کے پاس ہدی نہ ہو وہ حلال ہوجائے ۔
It was narrated that Aishah (RA) said: “We went out with the Messenger of Allah ﷺ with no intention but Hajj. When he had circumambulated the House and performed Sa‘i between As-Safa and Al-Marwah, he said: ‘Whoever has a Hadi with him, let him remain in Ihram, and whoever does not have a Hadi with him, let him exit Ihram.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2990
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ہم حجۃ الوداع میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے، تو ہم میں سے بعض نے حج کا احرام باندھا اور بعض نے عمرہ کا، اور ساتھ ہدی بھی لائے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے عمرہ کا تلبیہ پکارا اور ہدی ساتھ نہیں لایا ہے، تو وہ احرام کھول ڈالے، اور جس نے عمرہ کا احرام باندھا ہے، اور ساتھ ہدی لے کر آیا ہے تو وہ احرام نہ کھولے، اور جس نے حج کا تلبیہ پکارا ہے تو وہ اپنا حج پورا کرے ، عائشہ ؓ کہتی ہیں: تو میں ان لوگوں میں سے تھی جن ہوں نے عمرے کا تلبیہ پکارا تھا۔
It was narrated that Aishah (RA) said: “We set out with the Messenger of Allah ﷺ for the Farewell Pilgrimage. Some of us entered Ihram for Hajj and some of us entered Ihram for ‘Umrah and brought along a Hadi. The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Whoever entered Ihram for ‘Umrah and did not bring a Hadi, let him exit Ihram, And whoever entered Ihram for ‘Umrah and did bring a Hadi, let him not exit Ihram. Whoever entered Ihram for Hajj let him complete his Iajj.” Aishah (RA) said: “And I was one of those who had entered Ihram for Umrah.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2991
اسماء بنت ابی بکر رضی الله عنہما کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج کا تلبیہ پکارتے ہوئے آئے، جب مکہ کے قریب ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کے ساتھ ہدی نہ ہو وہ حلال ہوجائے (یعنی احرام کھول دے) اور جس کے ساتھ ہدی ہو وہ اپنے احرام پر باقی رہے ، زبیر ؓ کے ساتھ ہدی تھی تو وہ اپنے احرام پر باقی رہے اور میرے پاس ہدی نہ تھی تو میں نے احرام کھول دیا، اپنے کپڑے پہن لیے اور اپنی خوشبو میں سے، خوشبو لگائی، پھر (جا کر) زبیر کے پاس بیٹھی، تو وہ کہنے لگے: مجھ سے دور ہو کر بیٹھو۔ تو میں نے ان سے کہا: کیا آپ ڈر رہے ہیں کہ میں آپ پر کود پڑوں گی۔
It was narrated from Asma’ bint Abi Bakr who said: “We came with the Messenger of Allah ﷺ reciting the Talbiyah for Hajj. When we drew close to Makkah, the Messenger of Allah ﷺ said: ‘Whoever does not have a Hadi with him, let him exit Ihram. Whoever has a Hadi with him, let him remain in Ihram.’ Az-Zubair had a Hadi with him so he remained in Ihram, but I did not have a Hadi with me so I exited Ihram, put on my ordinary garments, and put on some of my perfume. Then I sat down with Az Zubair and he said: ‘Go away from me.’ I said: ‘Are you afraid that I am going to jump on you?” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2992
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٢٩ (١٢٣٦)، سنن ابن ماجہ/الحج ٤١ (٢٩٨٣)، (تحفة الأشراف: ١٥٧٣٩)، مسند احمد (٦/٣٥٠، ٣٥١) (صحیح )
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جس وقت جعرانہ کے عمرہ سے لوٹے تو ابوبکر ؓ کو (امیر مقرر کر کے) حج پر بھیجا تو ہم بھی ان کے ساتھ آئے۔ پھر جب وہ عرج ١ ؎ میں تھے اور صبح کی نماز کی اقامت کہی گئی اور وہ اللہ اکبر کہنے کے لیے کھڑے ہوئے تو اپنی پیٹھ کے پیچھے آپ نے ایک اونٹ کی آواز سنی تو اللہ اکبر کہنے سے رک گئے اور کہنے لگے: یہ تو رسول اللہ ﷺ کی اونٹنی جدعا کی آواز ہے۔ شاید رسول اللہ ﷺ کا خود بھی حج کے لیے آنے کا ارادہ بن گیا ہو تو ہوسکتا ہے رسول اللہ ﷺ آ رہے ہوں (آپ ہوئے) تو ہم آپ کے ساتھ نماز پڑھیں گے۔ تو کیا دیکھتے ہیں کہ اس اونٹنی پر علی ؓ سوار ہیں۔ تو ابوبکر ؓ نے ان سے پوچھا: آپ (امیر بنا کر بھیجے گئے ہیں) یا قاصد بن کے آئے ہیں؟ انہوں نے کہا: نہیں، ہم قاصد بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے مجھے مقامات حج میں سورة برأۃ پڑھ کر لوگوں کو سنانے کے لیے بھیجا ہے۔ پھر ہم مکہ آئے تو ترویہ سے ایک دن پہلے (یعنی ساتویں تاریخ کو) ابوبکر ؓ کھڑے ہوئے اور لوگوں کے سامنے خطبہ دیا۔ اور انہیں ان کے حج کے ارکان بتائے۔ جب وہ (اپنے بیان سے) فارغ ہوئے تو علی ؓ کھڑے ہوئے اور انہوں نے لوگوں کو سورة برأت پڑھ کر سنائی، یہاں تک کہ پوری سورت ختم ہوگئی، پھر ہم ان کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ جب عرفہ کا دن آیا تو ابوبکر ؓ کھڑے ہوئے اور لوگوں کے سامنے انہوں نے خطبہ دیا اور انہیں حج کے احکام سکھائے۔ یہاں تک کہ جب وہ فارغ ہوگئے تو علی ؓ کھڑے ہوئے اور انہوں نے سورة برأت لوگوں کو پڑھ کر سنائی یہاں تک کہ اسے ختم کیا۔ پھر جب یوم النحر یعنی دسویں تاریخ آئی تو ہم نے طواف افاضہ کیا، اور جب ابوبکر ؓ لوٹ کر آئے تو لوگوں سے خطاب کیا، اور انہیں طواف افاضہ کرو، قربانی کرنے اور حج کے دیگر ارکان ادا کرنے کے طریقے سکھائے اور جب وہ فارغ ہوئے تو علی ؓ کھڑے ہوئے اور انہوں نے لوگوں کو سورة برأت پڑھ کر سنائی یہاں تک کہ پوری سورت انہوں نے ختم کی، پھر جب کوچ کا پہلا دن آیا ٢ ؎ تو ابوبکر ؓ کھڑے ہوئے اور انہوں نے لوگوں سے خطاب کیا اور انہیں بتایا کہ وہ کیسے کوچ کریں اور کیسے رمی کریں۔ پھر انہیں حج کے (باقی احکام) سکھلائے جب وہ فارغ ہوئے تو علی ؓ کھڑے ہوئے اور انہوں نے سورة برأت لوگوں کو پڑھ کر سنائی یہاں تک کہ اسے ختم کیا۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: ابن خثیم (یعنی عبداللہ بن عثمان) حدیث میں قوی نہیں ہیں، اور میں نے اس کی تخریج اس لیے کی تاکہ اسے ابن جریج عن ابی الزبیر نہ بنا لیا جائے ٣ ؎ میں نے اسے صرف اسحاق بن راہویہ بن ابراہیم سے لکھا ہے، اور یحییٰ ابن سعید القطان نے ابن خیثم کی حدیث کو نہیں چھوڑا ہے، اور نہ ہی عبدالرحمٰن کی حدیث کو۔ البتہ علی بن مدینی نے کہا ہے کہ ابن خیثم منکر الحدیث ہیں اور گویا علی بن مدینی حدیث ہی کے لیے پیدا کئے گئے ہیں۔
It was narrated from Jabir that when the Prophet ﷺ came back from the ‘Umrah of Al-Ji’rranah, he sent Abu Bakr (RA) to lead the Hajj. We went with him until, when he was in Al-’Urj, the Iqamah for Subh was said, and he stood up to say the Takbir while he heard the grunting of a camel behind him, and he did not say the Takbir. He said: “This is the grunting of the camel of the Messenger of Allah ﷺ perhaps the Messenger of Allah ﷺ has had second thoughts about the Hajj, and may be he is here, and we will pray with him.” But it was ‘Ali (RA) on the camel. Abu Bakr (RA) said to him: “(Have you come) as a leader or as a messenger?” He said: “No, as a messenger, sent by the Messenger of Allah ﷺ with a declaration of Announce to recite it to the people in the stations of Hajj. So we came to Makkah and one day before the day of At-Tam’iyah Abu Bakr (RA) stood up and addressed the people, telling them about their rituals. When he finished, ‘Ali (RA) stood up and recited the declaration of Announce to the people until he finished it. Then we went out with him and on the day of Arafat. Abu Bakr (RA) stood up and addressed the people, telling them about their rituals. When he finished, ‘Ali (RA), stood up and recited the declaration of Announce to the people until he finished it. Then on the day of Sacrifice, we departed (Ifadah) and when Abu Bakr (RA) came back, he addressed the people, telling them about their departure (Ifadah), sacrifice and rituals. When he finished, ‘Ali (RA), stood up and recited declaration of Announce to the people until he finished it. On the first day of An-Nafr (the 12th of Dhul-Hijjah - Abu Bakr (RA) stood up and addressed the people, telling them how to offer their sacrifice and how to stone the Jamarat, and teaching them their rituals. When he had finished, Ali (RA) stood up and recited the declaration of Announce to the people until he finished it. (Da’if) Abu ‘Abdur-Rahman (An-Nasa’i) said: Ibn Khuthaim is not strong in Hadith, and I only narrated this so it would not be considered to be from Ibn Juraij from Abu Az Zubair. And we did not write it except from Ishaq bin Rahuyah bin Ibrahm. And Yahya bin Saeed Al Qattan did not abandon the narrations of Ibn Khuthaim, or did ‘Abdur-Rahman. However, ‘Ali bin Al-Madini said: “lbn Khuthaim is Munkar in Hadith,” and ‘Ali bin Al-Madini is more knowledgeable of Hadith.
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2993
Notes · وضاحت
١ ؎: عرج ایک مقام کا نام ہے۔ ٢ ؎: یعنی بارہویں تاریخ ہوئی جسے نفر اول کہا جاتا ہے اور نفر آخر تیرہویں ذی الحجہ ہے۔ ٣ ؎: یعنی میں نے اس حدیث کی تخریج اس سند کے ساتھ جس میں ابن جریج اور ابوزبیر کے درمیان ابن خیثم ہیں اس سند سے نہیں کی ہے جس میں ابن جریج بن ابی الزبیر جیسا کہ بعض محدثین نے کی ہے تاکہ یہ ابن جریج کے طریق سے منقطع ہو کیونکہ وہ ابوالزبیر سے ارسال کرتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٢٧٧٧)، سنن الدارمی/المناسک ٧١ (١٩٥٦) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ” عبداللہ بن عثمان بن خثیم “ کو علی بن المدینی نے منکر الحدیث قرار دیا ہے، مگر حافظ نے ” صدوق “ کہا ہے )
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (مکہ) آئے تو ذی الحجہ کی چار تاریخیں گزر چکی تھیں، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: احرام کھول ڈالو اور اسے عمرہ بنا لو ، اس سے ہمارے سینے تنگ ہوگئے، اور ہمیں یہ بات شاق گزری۔ اس کی خبر نبی اکرم ﷺ کو ہوئی تو آپ نے فرمایا: لوگو! حلال ہوجاؤ (احرام کھول دو ) اگر میرے ساتھ ہدی نہ ہوتی تو میں بھی وہی کرتا جو تم لوگ کر رہے ہو ، تو ہم نے احرام کھول دئیے، یہاں تک کہ ہم نے اپنی عورتوں سے صحبت کی، اور وہ سارے کام کئے جو غیر محرم کرتا ہے یہاں تک کہ یوم ترویہ یعنی آٹھویں تاریخ آئی، تو ہم مکہ کی طرف پشت کر کے حج کا تلبیہ پکارنے لگے (اور منیٰ کی طرف چل پڑے) ۔
It was narrated that Jabir said: “We came with the Messenger of Allah ﷺ on the fourth day of Dhul-Hijjah. The Prophet ﷺ said: ‘Exit Ihram and make it ‘Umrah.’ We were distressed and upset by that. News of that reached the Messenger of Allah ﷺ and he said: ‘people, exit Ihram. Were it not for the Hadi that I brought with me, I would have done what you are doing.’ So we exitied Ihram, and had intercourse with our wives, and we did everything that the non Muhrim does until the day of At Tarwiyah, when we put Makkah behind us (when we headed for Mina) and entered Ihram for Hajj.” (Hasan)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2994
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٢٤٤٥)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحج ١٧ (١٢١٦)، سنن ابی داود/الحج ٢٣ (١٧٨٨)، و مسند احمد (٣/٢٩٢، ٣٦٤، ٣٠٢) (صحیح )
عمران انصاری کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر ؓ میری طرف مڑے اور میں مکہ کے راستہ میں ایک درخت کے نیچے اترا ہوا تھا، تو انہوں نے پوچھا: تم اس درخت کے نیچے کیوں اترے ہو؟ میں نے کہا: مجھے اس کے سایہ نے (کچھ دیر آرام کرنے کے لیے) اتارا ہے، تو عبداللہ بن عمر ؓ نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: جب تم منیٰ کے دو پہاڑوں کے بیچ ہو، آپ نے مشرق کی طرف ہاتھ سے اشارہ کر کے بتایا تو وہاں ایک وادی ہے جسے سربہ کہا جاتا ہے، اور حارث کی روایت میں ہے اسے سرربہ کہا جاتا ہے تو وہاں ایک درخت ہے جس کے نیچے ستر انبیاء کے نال کاٹے گئے ہیں ۔
It was narrated from Muhammad bn Imran Al-Ansari that his father said: "Abdullah bin Umar came to me when I had stopped beneath a large tree on the way to Makkah. He said: Why did you stop beneath this tree? I said: Because of its shade. Abdullah said: The Messenger of Allah ﷺ said: If you are between the two mountains of Mina - and he pointed with his hand toward the east - there is a valley there called As-Surrabah according to the narration of Al-Harith: Called As-Surar - in which there is large tree beneath which seventy Prophets علیہم السلام were born." (Daif)
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2995
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٧٣٦٧) موطا امام مالک/الحج ٨١ (٢٤٩)، مسند احمد (٢/١٣٨) (ضعیف) (اس کے رواة ” محمد بن عمران “ اور ان کے والد دونوں مجہول ہیں )
عبدالرحمٰن بن معاذ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں منیٰ میں خطبہ دیا، تو اللہ تعالیٰ نے ہمارے کان کھول دیے یہاں تک کہ آپ جو کچھ فرما رہے تھے ہم اپنی قیام گاہوں میں (بیٹھے) سن رہے تھے۔ تو نبی اکرم ﷺ لوگوں کو حج کے طریقے سکھانے لگے یہاں تک کہ آپ جمروں کے پاس پہنچے تو انگلیوں سے چھوٹی چھوٹی کنکریاں ماریں اور مہاجرین کو حکم دیا کہ مسجد کے آگے کے حصے میں ٹھہریں اور انصار کو حکم دیا کہ مسجد کے پچھلے حصہ میں قیام پذیر ہوں۔
It was narrated from Muhammad bin Ibrahim At-Taimi that a man among them who was called ‘Abdur-Rahman bin Muadh said: “The Messenger of Allah ﷺ addressed us in Mina, and Allah enabled us to hear what he said when we were in our encampments. The Prophet ﷺ started to teach them their rituals until he reached the Jimar (stoning the pillars), and he said: look for pebbles the size of date stones or fingertips. And he told the Muhajirin to camp in front of the Masjid and the Ansar to camp behind the Masjid.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2996
عبدالعزیز بن رفیع کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک ؓ سے پوچھا، میں نے کہا: آپ مجھے رسول اللہ ﷺ کی کوئی ایسی چیز بتائیے جو آپ کو یاد ہو، آپ نے ترویہ کے دن ظہر کہاں پڑھی تھی؟ تو انہوں نے کہا: منیٰ میں۔ پھر میں نے پوچھا: کوچ کے دن ١ ؎ عصر کہاں پڑھی تھی؟ انہوں نے کہا: ابطح میں۔
It was narrated that ‘Abdul Aziz bin Rafi (RA) said: “I asked Anas bin Malik (RA): ‘Tell me of something that you learned from the Messenger of Allah ﷺ where did he pray Zuhr on the day of At- Tarwiyah?’ He said: ‘In Mina.’ I said: ‘Where did he pray ‘Asr on the day of An-Nafr?’ He said: ‘In Al-Abtah.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2997
Notes · وضاحت
١ ؎: کوچ کے دن سے مراد یوم نفر آخر یعنی ذی الحجہ کی تیرہویں تاریخ ہے۔ ابطح مکہ کے قریب ایک وادی ہے جسے محصب بھی کہا جاتا ہے۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ منیٰ سے عرفہ کی طرف چلے۔ تو ہم میں سے بعض لوگ تلبیہ پکار رہے تھے، اور بعض تکبیر کہہ رہے تھے۔
It was narrated that Ibn ‘Umar said: “We left Mina with the Messenger of Allah ﷺ for ‘Arafat, and some of us were reciting the Talbiyah and some reciting the Takbir.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2998
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عرفات کی طرف چلے، ہم میں سے کچھ لوگ تلبیہ پکار رہے تھے، اور کچھ تکبیر کہہ رہے تھے۔
It was narrated that Ibn ‘Umar said: “We left for ‘Arafat with the Messenger of Allah ﷺ and some of us were reciting the Talbiyah and some were reciting the Takbir.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2999
محمد بن ابی بکر ثقفی کہتے ہیں کہ میں نے انس ؓ سے پوچھا اور ہم منیٰ سے عرفات جا رہے تھے کہ آج کے دن آپ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (منیٰ سے عرفات جاتے ہوئے) کس طرح تلبیہ پکارتے تھے، تو انہوں نے کہا: تلبیہ پکارنے والا تلبیہ پکارتا تو اس پر کوئی نکیر نہیں کی جاتی تھی، اور تکبیر کہنے والا تکبیر کہتا تھا، تو اس پر بھی کوئی نکیر نہیں کی جاتی تھی۔
Muhammad bin Abi Bakr Ath-Thaqafi narrated: “When we were leaving Mina for ‘Arafat, I said to Anas (RA): ‘What did you do for the Talbiyah with the Messenger of Allah ﷺ on this day?’ He said: ‘Those who recited the Talbiyah did so, and no one criticized them, and those who recited the Takbir did so, and no one criticized them.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3000
محمد بن ابی بکر ثقفی کہتے ہیں کہ میں نے عرفہ کی صبح انس ؓ سے پوچھا: آج کے دن تلبیہ پکارنے کے سلسلے میں آپ کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: میں نے یہ مسافت رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب کے ساتھ طے کی ہے، ان میں سے بعض لوگ تلبیہ پکارتے تھے، اور بعض تکبیر پکارتے تھے تو ان میں سے کوئی اپنے ساتھی پر نکیر نہیں کرتا تھا۔
It was narrated that Muhmmad bin Abi Abkr - Ath-Thaqafi - said: "I said to Anas on the morning of Arafat: What do you say about the Talbiyah on this day? I said: I walked this path with the Messenger of Allah and his Companions. Some of them recited the Talbiyah and some recited the Takbir, and none of them denounced any other.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3001
طارق بن شہاب کہتے ہیں کہ ایک یہودی نے عمر ؓ سے کہا: اگر یہ آیت: اليوم أکملت لکم دينكم ہمارے یہاں اتری ہوتی تو جس دن یہ اتری اس دن کو ہم عید (تہوار) کا دن بنا لیتے۔ عمر ؓ نے کہا: مجھے معلوم ہے کہ یہ آیت کس دن اتری ہے، جس رات ١ ؎ یہ آیت نازل ہوئی وہ جمعہ کی رات تھی، اور ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عرفات میں تھے۔
It was narrated that Tariq bin Shihab said: A Jew said to `Umar: "If this Verse had been revealed to us, we would have taken it as a festival (Eid): This day, I have perfected your religion for you." Umar said: "I know the day when it was revealed and the night on which it was revealed: a Friday night when we were with Messenger of Allah in Arafat.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3002
Notes · وضاحت
١ ؎: شاید اس سے مراد سنیچر کی رات ہے جمعہ کی طرف اس کی نسبت اس وجہ سے کردی گئی ہے کہ وہ جمعہ سے متصل تھی، مطلب یہ ہے کہ جمعہ کے دن شام کو نازل ہوئی اس طرح اللہ تعالیٰ نے دو عیدیں اس میں ہمارے لیے جمع کردیں ایک جمعہ کی عید دوسری عرفہ کی عید۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ عزوجل عرفہ کے دن جتنے غلام اور لونڈیاں جہنم سے آزاد کرتا ہے اتنا کسی اور دن نہیں کرتا، اس دن وہ اپنے بندوں سے قریب ہوتا ہے، اور ان کے ذریعہ فرشتوں پر فخر کرتا ہے، اور پوچھتا ہے، یہ لوگ کیا چاہتے ہیں؟ ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: ہوسکتا ہے یہ یونس (جن کا اس روایت میں نام آیا ہے) یونس بن یوسف ہوں، جن سے مالک نے روایت کی ہے واللہ تعالیٰ اعلم۔
It was narrated that from Aishah that the Messenger of Allah said: "There is no day on which Allah, the Mighty and Sublime, frees more of his slaves, male and female, from the fire, than the day of Arafah. He comes close, then he boasts to the angels about them and say: What do these people want?" (Sahih) Abdu Abdur-Rhamn (An-Nasai) said: It appears that Yunus bin Yusuf is the one who reported it from Malik and Allah, most High, Knows best.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3003
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٧٩ (١٣٤٨)، سنن ابن ماجہ/الحج ٥٦ (٣٠١٤)، (تحفة الأشراف: ١٦١٣١) (صحیح) (شیخ البانی نے لکھا ہے کہ سیوطی نے الجامع الکبیر میں مسلم، نسائی اور ابن ماجہ سے یہ حدیث نقل کی ہے اور اس میں (عبدا وأمة) کا ذکر کیا ہے، اور أو أمة کی زیادتی ان لوگوں کے یہاں اور دوسرے محدثین (دار قطنی، بیہقی اور ابن عساکر کے یہاں اس کی کوئی اصل نہیں ہے، اور میں نے صحیح الجامع میں اس کا ذکر کیا ہے، تو جس کے پاس یہ کتاب ہو وہ لکھ لے کہ أو أمة کا لفظ بےاصل ہے، سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی ٢٥٥١، وتراجع الالبانی ٢٠٣) اور آپ یہاں دیکھ رہے ہیں کہ نسائی کے یہاں یہ زیادتی موجود ہے ۔
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یوم عرفہ یوم نحر اور ایام تشریق ( ١١ ، ١٢ ، ١٣ ذی الحجہ کے دن) ہم اہل اسلام کی عید ہیں اور یہ کھانے پینے کے دن ہیں ١ ؎۔
It was narrated from Uqbah bin Amir that the Messenger of Allah said: "The day of Arafat and the day of sacrifice and the day of At-Tashriq are our Id, the people of Islam, and they are days of eating and drinking.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3004
Notes · وضاحت
١ ؎: عرفہ کے دن روزہ کی ممانعت اس حج کرنے والے شخص کے لیے خاص ہے جو اس دن میدان عرفات میں ہو۔
سالم بن عبداللہ کہتے ہیں کہ عبدالملک بن مروان نے (مکہ کے گورنر) حجاج بن یوسف کو لکھا وہ انہیں حکم دے رہے تھے کہ وہ حج کے امور میں عبداللہ بن عمر ؓ کی مخالفت نہ کریں، تو جب عرفہ کا دن آیا تو سورج ڈھلتے ہی عبداللہ بن عمر ؓ اس کے پاس آئے اور میں بھی ان کے ساتھ تھا۔ اور اس خیمہ کے پاس انہوں نے آواز دی کہاں ہیں یہ، حجاج نکلے اور ان کے جسم پر کسم میں رنگی ہوئی ایک چادر تھی اس نے ان سے پوچھا: ابوعبدالرحمٰن! کیا بات ہے؟ انہوں نے کہا: اگر سنت کی پیروی چاہتے ہیں تو چلئے۔ اس نے کہا: ابھی سے؟ انہوں نے کہا: ہاں، حجاج نے کہا: (اچھا) ذرا میں نہا لوں، پھر آپ کے پاس آتا ہوں۔ انہوں نے ان کا انتظار کیا، یہاں تک کہ وہ نکلے تو وہ میرے اور میرے والد کے درمیان ہو کر چلے۔ تو میں نے کہا: اگر آپ سنت کی پیروی چاہتے ہیں تو خطبہ مختصر دیں اور عرفات میں ٹھہرنے میں جلدی کریں۔ تو وہ ابن عمر ؓ کی طرف دیکھنے لگے کہ وہ ان سے اس بارے میں سنے۔ تو جب ابن عمر ؓ نے یہ دیکھا تو انہوں نے کہا: اس نے سچ کہا ہے۔
It was narrated that Salim Bin Abdullah said: "Abdul Malik bin Marwan wrote to Al-Hajjaj bin Yusuf telling him not to go against Ibn Umar with regard to the Hajj. On the day of Arafat, Ibn Umar came to him when the sun had passed its zenith, and I was with him, and shouted near his cotton tent: Where is he? Al-Hajjaj came out to him, wearing a wrap dyed with safflower. He said: What is the matter, O Abu Abdur Rahman? He said: We have to move on if you want to follow Sunnah. He said to him: At this hour? He said: Yes. He said: I will pour some water over my self (have a bath) then I will come out to you. So he waited until he came, then he walked between my father and me, I said: If you want to follow the Sunnah, then deliver a short Khutbah and hasten to stand (in Arafat). He started to look at Ibn Umar so that he could hear that, and when Ibn Umar noticed that he said: He is speaking the truth.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3005
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عباس ؓ کے ساتھ عرفات میں تھا تو وہ کہنے لگے: کیا بات ہے، میں لوگوں کو تلبیہ پکارتے ہوئے نہیں سنتا۔ میں نے کہا: لوگ معاویہ ؓ سے ڈر رہے ہیں، (انہوں نے لبیک کہنے سے منع کر رکھا ہے) تو ابن عباس ؓ (یہ سن کر) اپنے خیمے سے باہر نکلے، اور کہا: لبيك اللہم لبيك لبيك (افسوس کی بات ہے) علی ؓ کی عداوت میں لوگوں نے سنت چھوڑ دی ہے۔
It was narrated that Saeed bin Jubair said: "I was with Ibn Abbas in Arafat and he said: Why do I not hear the people reciting Talbiyah? I said: They are afraid of Muawiyah. So Ibn Abbas went out of his tent and said: "Labbaik Allahumma Labbaik, Labbaik! They are only forsaking the Sunnah out of hatred for Ali.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3006
نبی ط رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرفہ کے دن رسول اللہ ﷺ کو نماز سے پہلے ایک سرخ اونٹ پر سوار ہو کر خطبہ دیتے دیکھا۔
It was narrated from Salamah bin Nubait, that his father said: "I saw the Messenger of Allah delivering a Khutab atop a red camel in Arafat, before the Salah." (Daif)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3007
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحج ٦٢ (١٩١٦)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٥٨ (١٢٨٦)، (تحفة الأشراف: ١٥٨٩)، مسند احمد (٤/٣٠٥، ٣٠٦) (صحیح )
نبی ط رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو عرفہ کے دن سرخ اونٹ پر سوار ہو کر خطبہ دیتے دیکھا۔
It was narrated from Salamah bin Nubait that his father said: "I saw the Messenger of Allah delivering a Khutbah on the day of Arafat atop a red camel." (Hasan) Chpater 200. Delivering A Short Khutbah In Arafat.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3008
سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر ؓ عرفہ کے دن جس وقت سورج ڈھل گیا حجاج بن یوسف کے پاس آئے، اور میں ان کے ساتھ تھا۔ اور کہا: اگر سنت کی پیروی چاہتے ہیں تو آؤ چلیں۔ تو حجاج نے کہا: اسی وقت، انہوں نے کہا: ہاں (اسی وقت) ، سالم کہتے ہیں: میں نے حجاج سے کہا: اگر آپ آج سنت کو پانا چاہتے ہیں تو خطبہ مختصر دیں، اور نماز جلدی پڑھیں، اس پر عبداللہ بن عمر ؓ نے کہا: اس نے سچ کہا ہے۔
It was narrated from Salim bin Abdullah that: Abdullah bin Umar came to Al-Hajjaj bin Yusuf on the day of Arafat when the sun has passed its zenith, and I was with him. He said: "We have to move on if you want to follow Sunnah." He said to him: "At this hours?" He said: Yes." Salim said: "I said to Al-Hajjaj: If you want to follow the Sunnah, then deliver a short Khutbah and hasten to pray. Abdullah bin Umar said: He is telling the truth.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3009