میقاتوں سے متعلق احادیث

Sunan An Nasai · Chapter 23 · 435 hadiths · Page 19 of 22

3013Sunan An Nasai

عرفات میں نماز ظہر اور نماز عصر ساتھ پڑھنا

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ عَنْ خَالِدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، إِلَّا بِجَمْعٍ وَعَرَفَاتٍرَفْعُ الْيَدَيْنِ فِي الدُّعَاءِ بِعَرَفَةَ.

عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز اس کے وقت پر پڑھتے تھے، سوائے مزدلفہ اور عرفات کے ١ ؎۔

It was narrated that Abdullah said: "The Messenger of Allah used to offer prayers at their proper time except in Jam (Al-Muzdalifah) and Arafat.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3010
Notes · وضاحت
١ ؎: عرفات میں ظہر اور عصر دونوں ظہر کے وقت پڑھتے یعنی جمع تقدیم کرے، اور مزدلفہ میں مغرب اور عشاء دونوں عشاء کے وقت پڑھتے یعنی جمع تاخیر کرتے تھے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٦٠٩ (صحیح )
3014Sunan An Nasai

مقام عرفات میں دعا مانگتے وقت ہاتھ اٹھانا

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هُشَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: قَالَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ: كُنْتُ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَاتٍ فَرَفَعَ يَدَيْهِ، يَدْعُو فَمَالَتْ بِهِ نَاقَتُهُ، فَسَقَطَ خِطَامُهَا، فَتَنَاوَلَ الْخِطَامَ بِإِحْدَى يَدَيْهِ وَهُوَ رَافِعٌ يَدَهُ الْأُخْرَى.

اسامہ بن زید رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں عرفہ میں رسول اللہ ﷺ کے پیچھے اونٹ پر سوار تھا۔ تو آپ نے دعا کے لیے اپنے ہاتھ اٹھائے، اتنے میں آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر مڑی تو اس کی نکیل گرگئی تو آپ نے ایک ہاتھ سے اسے پکڑ لیا، اور دوسرا ہاتھ دعا کے لیے اٹھائے رہے۔

It was narrated that Usamah bin Zaid said: "I was a companion rider with the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) at Arafat. He raised his hands in supplication, so his she-camel began leaning and he dropped her halter, so he took the halter with one of his hands while he was raising the other hand.

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3011
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١١١)، مسند احمد (٥/٢٠٩) (صحیح الإسناد )
3015Sunan An Nasai

مقام عرفات میں دعا مانگتے وقت ہاتھ اٹھانا

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَتْ قُرَيْشٌ تَقِفُ بِالْمُزْدَلِفَةِ وَيُسَمَّوْنَ الْحُمْسَ وَسَائِرُ الْعَرَبِ تَقِفُ بِعَرَفَةَ فَأَمَرَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقِفَ بِعَرَفَةَ ثُمَّ يَدْفَعُ مِنْهَا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ سورة البقرة آية 199.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ قریش مزدلفہ میں ٹھہرتے تھے، اور اپنا نام حمس رکھتے تھے، باقی تمام عرب کے لوگ عرفات میں، تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کو حکم دیا کہ وہ عرفات میں ٹھہریں، پھر وہاں سے لوٹیں، اور اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ: ثم أفيضوا من حيث أفاض الناس جہاں سے لوگ لوٹتے ہیں وہیں سے تم بھی لوٹو نازل فرمائی۔

It was narrated that Aishah said: "The Quraish used to stand in Al-Muzdalifah and they called themselves Al-Hums, and the rest of Arabs stood in Arafat. Then Allah, Blessed and Most High, commanded his Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) to stand in Arafat, and then move on from there. Allah, the Mighty and Sublime, revealed: Then depart from the place whence all the people depart.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3012
Notes · وضاحت
١ ؎: حمس احمس کی جمع ہے چونکہ وہ اپنے دینی معاملات میں جو شیلے اور سخت تھے اس لیے اپنے آپ کو حمس کہتے تھے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ٩١ (١٦٦٥)، تفسیرالبقرة ٣٥ (٤٥٢٠)، صحیح مسلم/الحج ٢١ (١٢١٩)، سنن ابی داود/الحج ٥٨ (١٩١٠)، (تحفة الأشراف: ١٧١٩٥)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج ٥٣ (٨٨٤) (صحیح )
3016Sunan An Nasai

مقام عرفات میں دعا مانگتے وقت ہاتھ اٹھانا

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَضْلَلْتُ بَعِيرًا لِي فَذَهَبْتُ أَطْلُبُهُ بِعَرَفَةَ يَوْمَ عَرَفَةَ، فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقِفًا، فَقُلْتُ: مَا شَأْنُ هَذَا إِنَّمَا هَذَا مِنَ الْحُمْسِ.

جبیر بن مطعم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنا ایک اونٹ کھو دیکھا، تو میں عرفہ کے دن عرفات میں اس کی تلاش میں گیا، تو میں نے وہاں نبی اکرم ﷺ کو وقوف کیے ہوئے دیکھا۔ میں نے کہا: ارے ان کا کیا معاملہ ہے؟ یہ تو حمس میں سے ہیں (پھر یہاں کیسے؟ ) ۔

It was narrated from Muhammad bin Jubir bin Mutim that his father: "I lost a camel of mine, so I went to look for it in Arafat on the day of Arafat. I saw the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) standing there and said: what is he doing here? He is one of the Hums.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3013
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ٩١ (١٦٦٤)، صحیح مسلم/الحج ٢١ (١٢٢٠)، (تحفة الأشراف: ٣١٩٣)، مسند احمد ٤/٨٠، سنن الدارمی/المناسک ٤٩ (١٩٢٠) (صحیح )
3017Sunan An Nasai

مقام عرفات میں دعا مانگتے وقت ہاتھ اٹھانا

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ شَيْبَانَ، قَالَ: كُنَّا وُقُوفًا بِعَرَفَةَ مَكَانًا بَعِيدًا مِنَ الْمَوْقِفِ فَأَتَانَا ابْنُ مِرْبَعٍ الْأَنْصَارِيُّ، فَقَالَ: رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْكُمْ يَقُولُ: كُونُوا عَلَى مَشَاعِرِكُمْ، فَإِنَّكُمْ عَلَى إِرْثٍ مِنْ إِرْثِ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام.

یزید بن شیبان کہتے ہیں کہ ہم عرفہ کے دن عرفات میں موقف (ٹھہرنے کی خاص جگہ) سے دور ٹھہرے ہوئے تھے۔ تو ہمارے پاس ابن مربع انصاری آئے اور کہنے لگے تمہاری طرف میں رسول اللہ ﷺ کا قاصد ہوں، آپ فرماتے ہیں: تم اپنے مشاعر میں رہو کیونکہ تم اپنے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کی میراث کے وارث ہو۔

It was narrated from Amr bin Abdullah bin Safwan that Yazid bin Shaiban said: "We were standing in Arafat in a place far from the place of standing, and Ibn Mirba Al-Ansari came and said: I am the messenger of Messenger of Allah to you; he says: Stay where you are (for it is a place of ritual), for you are following the legacy of you father Ibrahim, peace be upon him.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3014
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحج ٦٣ (١٩١٩)، سنن الترمذی/الحج ٥٣ (٨٨٣)، سنن ابن ماجہ/الحج ٥٥ (٣٠١١)، مسند احمد ٤/١٣٧ (صحیح )
3018Sunan An Nasai

مقام عرفات میں دعا مانگتے وقت ہاتھ اٹھانا

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: أَتَيْنَاجَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، فَسَأَلْنَاهُ عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَدَّثَنَا أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: عَرَفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ.

ابو جعفر بن محمد باقر کہتے ہیں کہ ہم جابر بن عبداللہ ؓ کے پاس آئے تو ہم ان سے نبی اکرم ﷺ کے حج کے متعلق پوچھا تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: عرفات سارا کا سارا موقف (ٹھہرنے کی جگہ) ہے ۔

Ja`far bin Muhammad said: "My father told me: We came to Jabir bin `Abdullah and asked him about the Hajj of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم). He told us that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "All of Arafat is the place of standing.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3015
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٢٠ (١٢١٨)، سنن ابی داود/الحج ٥٧ (١٩٠٧، ١٩٠٨)، ٦٥ (١٩٣٦)، (تحفة الأشراف: ٢٥٩٦)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الحج ٧٣ (٣٠٤٨)، مسند احمد ٣/٣٢١، ٣٢٦، سنن الدارمی/المناسک ٥٠ (١٩٢١)، ویأتی عند المؤلف برقم: ٣٠٤٨ (صحیح )
3019Sunan An Nasai

عرفات میں ٹھہر نے کی فضیلت

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْمَرَ، قَالَ: شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَاهُ نَاسٌ، فَسَأَلُوهُ عَنِ الْحَجِّ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْحَجُّ عَرَفَةُ، فَمَنْ أَدْرَكَ لَيْلَةَ عَرَفَةَ قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ مِنْ لَيْلَةِ جَمْعٍ فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ.

عبدالرحمٰن بن یعمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس موجود تھا کہ اتنے میں کچھ لوگ آپ ﷺ کے پاس آئے، اور انہوں نے حج کے متعلق آپ سے پوچھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: حج عرفات میں ٹھہرنا ہے جس شخص نے عرفہ کی رات مزدلفہ کی رات طلوع فجر سے پہلے پا لی تو اس کا حج پورا ہوگیا ١ ؎۔

It was narrated that Abdur-Rahman bin Yamur said: "I saw the Messenger of Allah when people came to him and asked him about Hajj. The Messenger of Allah said: Hajj is Arafat. Whoever catches up with the night of Arafat before dawn comes on the night of Jam (Al-Muzdalifah), his Hajj is complete.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3016
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس نے عرفہ کا وقوف پا لیا جو حج کا ایک رکن ہے، اور حج کے فوت ہونے سے مامون ہوگیا، یہ مطلب نہیں کہ اس کا حج پورا ہوگیا، اب اسے کچھ اور نہیں کرنا ہے، ابھی تو طواف افاضہ جو حج کا ایک رکن ہے باقی ہے بغیر اس کے حج کیسے پورا ہوسکتا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحج ٦٩ (١٩٤٩)، سنن الترمذی/٥٧ (٨٨٩، ٩٨٠)، سنن ابن ماجہ/الحج ٥٧ (٣٠١٥)، (تحفة الأشراف: ٩٧٣٥)، مسند احمد (٤/٣٠٩، ٣١٠، ٣٣٥)، سنن الدارمی/المناسک ٥٧ (١٩٢٩)، ویأتي عند المؤلف برقم: ٣٠٤٧ (صحیح )
3020Sunan An Nasai

عرفات میں ٹھہر نے کی فضیلت

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَاتٍ وَرِدْفُهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، فَجَالَتْ بِهِ النَّاقَةُ وَهُوَ رَافِعٌ يَدَيْهِ، لَا تُجَاوِزَانِ رَأْسَهُ، فَمَا زَالَ يَسِيرُ عَلَى هِينَتِهِ حَتَّى انْتَهَى إِلَى جَمْعٍ.

فضل بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عرفات سے واپس ہوئے، اور آپ کے پیچھے سواری پر اسامہ بن زید ؓ سوار تھے، تو اونٹنی آپ کو لیے ہوئے گھومی، اور آپ اپنے دونوں ہاتھ (دعا کے لیے) اٹھائے ہوئے تھے لیکن وہ آپ کے سر سے اونچے نہ تھے تو برابر آپ اسی حالت پر چلتے رہے یہاں تک کہ مزدلفہ پہنچے گئے۔

It was narrated from Ibn Abbas that Al-Fadl bin Abbas said: "The Messenger of Allah departed from Arafat and Usmah bin Zaid rode behind him. His camel bolted and he was raising his hands (to rein it in) but not above his head. He carried on like that until he reached Jam (Al-Muzdalifah).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3017
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١١٠٥٣)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحج ٤٧ (١٢٨٦)، مسند احمد (١/٢١٢، ٢٢٦) (صحیح )
3021Sunan An Nasai

عرفات میں ٹھہر نے کی فضیلت

أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُونُسَ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَاسٍ، أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، قَالَ: أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ وَأَنَا رَدِيفُهُ فَجَعَلَ يَكْبَحُ رَاحِلَتَهُ حَتَّى أَنَّ ذِفْرَاهَا لَيَكَادُ يُصِيبُ قَادِمَةَ الرَّحْلِ وَهُوَ يَقُولُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ وَالْوَقَارِ، فَإِنَّ الْبِرَّ لَيْسَ فِي إِيضَاعِ الْإِبِلِ.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ اسامہ بن زید ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عرفات سے چلے، اور میں آپ کے پیچھے اونٹ پر سوار تھا، تو آپ اپنی سواری اونٹ کی نکیل (اسے تیز چلنے سے روکنے کے لیے کھینچنے لگے یہاں تک کہ اس کے کان کی جڑیں پالان کے اگلے حصے کو چھونے لگی) اور آپ فرما رہے تھے: لوگو! اپنے اوپر وقار اور سکون کو لازم پکڑو، کیونکہ بھلائی اونٹ دوڑانے میں نہیں (بلکہ لوگوں کو ایذا پہنچانے سے بچنے میں ہے) ۔

It was narrated from Ibn Abbas that Usmah bin Zaid said: "The Messneger of Allah departed from Arafat and I was riding behind him. He started trying to rein in his camel until its ears nearly touched the front of the saddle, and he was saying: O people, you must be tranquil and dignified, for righteousness does not come by making camels hurry.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3018
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٤٧ (١٢٨٦)، (تحفة الأشراف: ٩٥)، مسند احمد (٥/٢٠١، ٢٠٧) (صحیح )
3022Sunan An Nasai

عرفات سے لوٹتے وقت اطمینان و سکون کے ساتھ چلنے کا حکم

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحْرِزُ بْنُ الْوَضَّاحِ، عَنْ إِسْمَاعِيل يَعْنِي ابْنَ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِي غَطَفَانَ بْنِ طَرِيفٍ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: لَمَّا دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، شَنَقَ نَاقَتَهُ حَتَّى أَنَّ رَأْسَهَا لَيَمَسُّ وَاسِطَةَ رَحْلِهِ، وَهُوَ يَقُولُ لِلنَّاسِ: السَّكِينَةَ السَّكِينَةَ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ.

ابوغطفان بن طریف سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن عباس ؓ کو کہتے سنا: جب رسول اللہ ﷺ عرفات سے (مزدلفہ کے لیے چلے، تو آپ نے اپنی اونٹنی کی مہار کھینچی یہاں تک کہ اس کا سر پالان کی لکڑی سے چھونے لگا، آپ عرفہ کی شام میں (مزدلفہ کے لیے چلتے وقت لوگوں سے) فرما رہے تھے: اطمینان و سکون کو لازم پکڑو، اطمینان و سکون کو لازم پکڑو ۔

It was narrated from Abu Ghaftan bin Tarif that he heard Ibn Abbas say: "When the Messenger of Allah departed he reined in his she-camel until its head touched the middle of his saddle, and he was saying to the people: Be tranquil be tranquil, on the evening of Arafat.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3019
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٦٥٦٨)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج ٩٤ (١٦٧١)، صحیح مسلم/الحج ٤٥ (١٢٨٢)، سنن ابی داود/الحج ٦٤ (١٩٢٠)، مسند احمد (١/٢٦٩) (صحیح )
3023Sunan An Nasai

عرفات سے لوٹتے وقت اطمینان و سکون کے ساتھ چلنے کا حکم

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ، وَكَانَ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ فِي عَشِيَّةِ عَرَفَةَ، وَغَدَاةِ جَمْعٍ لِلنَّاسِ حِينَ دَفَعُوا عَلَيْكُمُ السَّكِينَةَ، وَهُوَ كَافٌّ نَاقَتَهُ حَتَّى إِذَا دَخَلَ مُحَسِّرًا وَهُوَ مِنْ مِنًى، قَالَ: عَلَيْكُمْ بِحَصَى الْخَذْفِ الَّذِي يُرْمَى بِهِ، فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ.

فضل بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے اور وہ رسول اللہ ﷺ کے پیچھے اونٹنی پر سوار تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے عرفہ کی شام کو اور مزدلفہ کی صبح کو اپنی اونٹنی روک کر لوگوں سے فرمایا: اطمینان و وقار کو لازم پکڑو یہاں تک کہ جب آپ وادی محسر میں داخل ہوئے، اور وہ منیٰ کا ایک حصہ ہے، تو فرمایا: چھوٹی چھوٹی کنکریاں چن لو جسے انگوٹھے اور شہادت کی انگلی کے درمیان رکھ کر مارا جاسکے تو رسول اللہ ﷺ برابر تلبیہ پکارتے رہے، یہاں تک کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کی۔

It was narrated from Al-Fadl bin Abbas, who rode behind the Messenger of Allah, that: on the eveing of Arafat and on the morning of Jam (Al-Muzdalifah), when they departed, the Messenger of Allah said to the people: "You must be tranquil," and was reining in his she-came. Then, when he was in Muhassir, which is part of Mina, he said: "You have to look for pebbles the size of date stones of fingertips," with which to stone the Jamrat. And the Messenger of Allah continued to recite the Talbiyah until he stoned Jamrat Al-Aqabah.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3020
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٤٥ (١٢٨٢)، (تحفة الأشراف: ١١٠٥٧)، مسند احمد (١/٢١٠، ٢١١، ٣١٣)، سنن الدارمی/المناسک ٥٦ (١٩٣٣)، ویأتی عند المؤلف برقم: ٣٠٦٠ (صحیح )
3024Sunan An Nasai

عرفات سے لوٹتے وقت اطمینان و سکون کے ساتھ چلنے کا حکم

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ السَّكِينَةُ، وَأَمَرَهُمْ بِالسَّكِينَةِ، وَأَوْضَعَ فِي وَادِي مُحَسِّرٍ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَرْمُوا الْجَمْرَةَ بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ.

جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عرفات سے لوٹے، آپ پر سکینت طاری تھی، آپ نے لوگوں کو بھی اطمینان و سکون سے واپس ہونے کا حکم دیا، اور وادی محسر میں اونٹ کو تیزی سے دوڑایا، اور لوگوں کو حکم دیا کہ وہ اتنی چھوٹی کنکریوں سے جمرہ کی رمی کریں جنہیں وہ انگوٹھے اور شہادت کی انگلی کے درمیان رکھ کر مار سکیں۔

It was narrated that Jabir said: "The Messenger of Allah departed (From Arafat) in a tranquil manner, and he enjoined them to be tranquil. He hurried in the valley of Muhassir and told them to stone the Jamrat with (pebbles like date stones or fingertips. (Daif)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3021
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحج ٦٦ (١٩٤٤)، (٨٨٦)، سنن ابن ماجہ/الحج ٦١ (٣٠٢٣)، (تحفة الأشراف: ٢٧٤٧)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج ٥٥ مسند احمد (٣/٣٠١، ٣٣٢، ٣٦٧، ٣٩١)، سنن الدارمی/المناسک ٥٦ (١٩٣٣) (صحیح )
3025Sunan An Nasai

عرفات سے لوٹتے وقت اطمینان و سکون کے ساتھ چلنے کا حکم

أَخْبَرَنِي أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفَاضَ مِنْ عَرَفَةَ، وَجَعَلَ يَقُولُ: السَّكِينَةَ عِبَادَ اللَّهِ، يَقُولُ بِيَدِهِ هَكَذَا وَأَشَارَ أَيُّوبُ بِبَاطِنِ كَفِّهِ إِلَى السَّمَاءِ.

جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ عرفات سے لوٹے اور کہنے لگے: اللہ کے بندو! اطمینان و سکون کو لازم پکڑو ، آپ اس طرح اپنے ہاتھ سے اشارہ کر رہے تھے، اور ایوب نے اپنی ہتھیلی کے باطن سے آسمان کی طرف اشارہ کیا۔

It was narrated from Jabir that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) departed from Arafat and started saying: "Be tranquil, O slaves of Allah!" gesturing with his hand like this - and Ayyub gested with his palm uppermost.

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3022
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٢٦٧٢)، مسند احمد ٣/٣٥٥، ٣٧١) (صحیح )
3026Sunan An Nasai

عرفات سے روانگی کا راستہ

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ مَسِيرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، قَالَ: كَانَ يَسِيرُ الْعَنَقَ، فَإِذَا وَجَدَ فَجْوَةً نَصَّ وَالنَّصُّ فَوْقَ الْعَنَقِ.

اسامہ بن زید رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان سے حجۃ الوداع میں رسول اللہ ﷺ کی چال کے بارے میں پوچھا گیا (کہ آپ کیسے چل رہے تھے) تو انہوں نے کہا: آپ عنق (تیز چال) چل رہے تھے، اور جب خالی جگہ پاتے تو نص کی رفتار چلتے۔

It was narrated from Usmah bin Zaid that he was asked how the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) traveled during the Farewell pilgrimage. He said: "He used to ride at a moderately fast pace, and when he came upon some open space he would gallop.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3023
Notes · وضاحت
١ ؎: نص عنق سے بھی تیز چال کو کہتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ٩٣ (١٦٦٦)، الجہاد ١٣٦ (٢٩٩٩)، المغازي ٧٧ (٤٤١٣)، صحیح مسلم/الحج ٤٧ (١٢٤٦)، سنن ابی داود/الحج ٦٤ (١٩٢٣)، سنن ابن ماجہ/الحج ٥٨ (٣٠١٧)، (تحفة الأشراف: ١٠٤)، موطا امام مالک/الحج ٥٧ (١٧٦)، مسند احمد (٥/٢٠٥، ٢١٠)، سنن الدارمی/المناسک ٥١ (١٩٢٢)، ویأتی عند المؤلف برقم: ٣٠٥٤ (صحیح )
3027Sunan An Nasai

عرفات سے واپسی پر گھاٹی میں قیام سے متعلق

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيْثُ أَفَاضَ مِنْ عَرَفَةَ مَالَ إِلَى الشِّعْبِ، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ أَتُصَلِّي الْمَغْرِبَ ؟ قَالَ: الْمُصَلَّى أَمَامَكَ.

اسامہ بن زید رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب عرفہ سے لوٹے تو پہاڑ کی گھاٹی کی طرف مڑے، وہ کہتے ہیں: تو میں نے عرض کیا: کیا (یہاں) آپ مغرب کی نماز پڑھیں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: نماز پڑھنے کی جگہ آگے ہے ۔

It was narrated from Usmah bin Zaid that when the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) departed from Arafat he turned toward the mountain pass. I said to him: "Are you going to pray Magrib?" He said: "The prayer place is still ahead of you.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3024
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٣٥ (١٨١)، الحج ٩٥ (١٦٧٢)، الحج ٤٧ (١٢٨٠)، سنن ابی داود/المناسک ٦٤ (١٩٢٥)، (تحفة الأشراف: ١١٥)، موطا امام مالک/الحج ٥٧ (١٧٦)، مسند احمد (٥/١٩٩، ٢٠٨، ٢١٠)، سنن الدارمی/المناسک ٥٢ (١٩٢٣، ١٩٢٤) (صحیح )
3028Sunan An Nasai

عرفات سے واپسی پر گھاٹی میں قیام سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ الشِّعْبَ الَّذِي يَنْزِلُهُ الْأُمَرَاءُ، فَبَالَ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءًا خَفِيفًا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ ؟ قَالَ: الصَّلَاةُ أَمَامَكَ، فَلَمَّا أَتَيْنَا الْمُزْدَلِفَةَ، لَمْ يَحُلَّ آخِرُ النَّاسِ حَتَّى صَلَّى.

اسامہ بن زید رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اس گھاٹی میں اترے جہاں امراء اترتے ہیں، تو آپ نے پیشاب کیا، پھر ہلکا وضو کیا، تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا نماز کا ارادہ ہے؟ آپ نے فرمایا: نماز آگے ہوگی (یعنی آگے چل کر پڑھیں گے) تو جب ہم مزدلفہ آئے، تو ابھی (قافلے کے) پیچھے والے لوگ اترے بھی نہ تھے کہ آپ نے نماز شروع کردی۔

It was narrated that Usmah bin Zaid said: "The Messenger of allah stopped in the mountain pass where the rulers stop now, and urinated, then he performed a light Wudu and I said: O Messenger of Allah (isit time for ) prayer? He said: The prayer is still ahead of you. When we came to Al-Muzdalifah the people did not unload their camles until he had prayed.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3025
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٠٢٧ (صحیح )
3029Sunan An Nasai

مزدلفہ میں دو نمازیں ملا کر پڑھنا

أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِجَمْعٍ.

ابوایوب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء دونوں ایک ساتھ پڑھیں۔

It was narrated from Abu Ayyub that: the Messenger of Allah joined Maghrib and Isha in Jam (Al-Muzdalifah).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3026
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٦٠٦ (صحیح )
3030Sunan An Nasai

مزدلفہ میں دو نمازیں ملا کر پڑھنا

أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، قَالَ: حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ،أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِجَمْعٍ.

عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مغرب اور عشاء دونوں مزدلفہ میں ایک ساتھ پڑھیں۔

It was narrated from Ibn Masud that: the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) joined Maghrib and Isha in Jam (Al-Muzdalifah).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3027
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٦٠٩ (صحیح )
3031Sunan An Nasai

مزدلفہ میں دو نمازیں ملا کر پڑھنا

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِجَمْعٍ بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ، لَمْ يُسَبِّحْ بَيْنَهُمَا، وَلَا عَلَى إِثْرِ كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مزدلفہ میں مغرب و عشاء دونوں ایک ساتھ ایک تکبیر سے پڑھیں، نہ ان دونوں کے بیچ میں کوئی نفل پڑھی، اور نہ ہی ان دونوں نمازوں کے بعد۔

It was narrated from Salim, from his father, that: the Messenger of Allah joined Maghrib and Isha; in Jam (Al-Muzdalifah), with one Iqamah, and he did not offer any voluntary prayers in between or after either of them.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3028
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٦٦١ (صحیح )
3032Sunan An Nasai

مزدلفہ میں دو نمازیں ملا کر پڑھنا

أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَاهُ قَالَ: جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ لَيْسَ بَيْنَهُمَا سَجْدَةٌ، صَلَّى الْمَغْرِبَ ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ، وَالْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ، وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَجْمَعُ كَذَلِكَ حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مغرب و عشاء دونوں ایک ساتھ پڑھیں، ان دونوں کے درمیان اور کوئی نماز نہیں پڑھی۔ مغرب کی تین رکعتیں پڑھیں اور عشاء کی دو رکعتیں۔ اور عبداللہ بن عمر اسی طرح دونوں نمازیں جمع کرتے رہے یہاں تک کہ اللہ عزوجل سے جا ملے۔

It was narrated from Ibn Shihab that Ubaidullah bin Abdullah told him that his father said: "The Messenger of Allah joined Maghrib and Isha with no (Voluntary) prayer in between them. He prayed Maghrib with three Rakahs and Isha with two." And Abdullah bin Umar used to join them in like manner until he met Allahm, The Mighty and Sublime.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3029
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٤٧ (١٢٨٨)، (تحفة الأشراف: ٧٣٠٩) (صحیح )