میقاتوں سے متعلق احادیث

Sunan An Nasai · Chapter 23 · 435 hadiths · Page 20 of 22

3033Sunan An Nasai

مزدلفہ میں دو نمازیں ملا کر پڑھنا

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِجَمْعٍ بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء دونوں ایک اقامت سے پڑھی۔

It was narrated that Ibn Umar said: "The Messenger of Allah prayed Maghrib and Isha in Jam (Al-Muzdalifah) with one Iqamah.

صحيح بزيادة لکل منهماصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3030
Notes · وضاحت
١ ؎: خود ابن عمر رضی الله عنہما ہی سے ایک دوسری روایت بھی مروی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں نمازیں آپ نے الگ الگ اقامت کے ساتھ جمع کیں۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٨٢ (صحیح )
3034Sunan An Nasai

مزدلفہ میں دو نمازیں ملا کر پڑھنا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حِبَّانُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، أَنَّ كُرَيْبًا، قَالَ: سَأَلْتُأُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، وَكَانَ رِدْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ، فَقُلْتُ: كَيْفَ فَعَلْتُمْ ؟ قَالَ: أَقْبَلْنَا نَسِيرُ، حَتَّى بَلَغْنَا الْمُزْدَلِفَةَ، فَأَنَاخَ، فَصَلَّى الْمَغْرِبَ، ثُمَّ بَعَثَ إِلَى الْقَوْمِ، فَأَنَاخُوا فِي مَنَازِلِهِمْ، فَلَمْ يَحُلُّوا حَتَّى صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ، ثُمَّ حَلَّ النَّاسُ، فَنَزَلُوا، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا، انْطَلَقْتُ عَلَى رِجْلَيَّ فِي سُبَّاقِ قُرَيْشٍ وَرَدِفَهُ الْفَضْلُ.

کریب کہتے ہیں کہ میں نے اسامہ بن زید ؓ سے اور وہ عرفہ کی شام میں رسول اللہ ﷺ کے پیچھے اونٹ پر سوار تھے پوچھا: آپ لوگوں نے کیسے کیا؟ انہوں نے کہا: ہم چلتے رہے یہاں تک کہ مزدلفہ پہنچے، تو آپ ﷺ نے اونٹ کو بٹھایا، پھر مغرب پڑھی، پھر آپ نے لوگوں کو (اترنے کی اطلاع) بھیجی، تو لوگوں نے اپنے اپنے ٹھکانوں پر اپنے اونٹ بٹھا لیے۔ تو ابھی وہ اتر بھی نہ سکے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے دوسری نماز عشاء بھی پڑھ لی۔ پھر لوگ اترے اور قیام کیا، پھر صبح کی تو میں قریش کے پہلے جتھے والوں کے ساتھ پیدل گیا۔ اور فضل بن عباس ؓ رسول اللہ ﷺ کے پیچھے (اونٹ پر) سوار ہوئے۔

It was narrated from Ibrahim bin Uqbah that Kuraib said: "I asked usamah bin Zaid, who rode behind the Messenger of Allah one the evening of Arafat. I said: "What did you do? He said: We started traveling until we reached Al-Muzadalifah, then he stopped and prayed Maghrib. Then he sent word to the people to stay in their camps, and they did not unload their camels until the Messenger of Allah had prayed the later Isah. Then the people unloaded their camels and made camp. When morning came I set out on foot amonth those of the Quraish who got there first, and Al-Fadl rode behind the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3031
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحج ٦٤ (١٩٢١)، سنن ابن ماجہ/الحج ٥٩ (٣٠١٩)، موطا امام مالک/الحج ٦٥ (١٩٧)، (تحفة الأشراف: ١١٦)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضوء ٦ (١٣٩)، ٣٥ (١٨١)، الحج ٩٣، ٩٥ (١٦٦٧، ١٦٦٩، ١٦٧٢)، صحیح مسلم/الحج ٤٥، ٤٧ (١٢٨٠)، مسند احمد (٥/٢٠٠، ٢٠٢، ٢٠٨، ٢١٠)، سنن الدارمی/المناسک ٥١ (١٩٢٢) (صحیح )
3035Sunan An Nasai

خواتین اور بچوں کو مزدلفہ پہلے بھیج دینے سے متعلق

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: أَنَا مِمَّنْ قَدَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْمُزْدَلِفَةِ فِي ضَعَفَةِ أَهْلِهِ.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں ان لوگوں میں سے ہوں جن کو نبی اکرم ﷺ نے مزدلفہ کی رات مجھے اپنے گھر والوں کے کمزور لوگوں ساتھ پہلے ہی (منیٰ ) بھیج دیا تھا۔

It was narrated that Ubaidullah bin Abu Yazeed said: I heard Ibn Abbas say: I was one of those whom the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) sent ahead amongh the weak ones of his family.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3032
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ٩٨ (١٦٧٨)، جزاء الصید ٢٥ (١٨٥٦)، صحیح مسلم/الحج ٤٩ (١٢٩٣)، سنن ابی داود/الحج ٦٦ (١٩٣٩)، (تحفة الأشراف: ٥٨٦٤)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج ٥٨ (٨٩٢)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٦٢ (٣٠٢٥)، مسند احمد ١/٢٢٢، ٢٤٥، ٢٧٢، ٣٣٤، ٣٤٦ (صحیح )
3036Sunan An Nasai

خواتین اور بچوں کو مزدلفہ پہلے بھیج دینے سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كُنْتُ فِيمَنْ قَدَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْمُزْدَلِفَةِ فِي ضَعَفَةِ أَهْلِهِ.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے اہل خانہ کے ان کمزور لوگوں میں سے تھا جنہیں آپ نے مزدلفہ کی رات پہلے ہی (منیٰ ) بھیج دیا تھا۔

It was narrated Abbas said: "I was one those whom the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) sent ahead on the night of Al-Muzdalifah among the weak ones of his family.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3033
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٤٩ (١٢٩٣)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٦٢ (٣٠٢٦)، (تحفة الأشراف: ٥٩٤٤)، مسند احمد (١/٢٢، ٢٢٧، ویأتي عند المؤلف برقم: ٣٠٥١) (صحیح )
3037Sunan An Nasai

خواتین اور بچوں کو مزدلفہ پہلے بھیج دینے سے متعلق

أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، وَعَفَّانُ، وَسُلَيْمَانُ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُشَاشٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ الْفَضْلِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ ضَعَفَةَ بَنِي هَاشِمٍ أَنْ يَنْفِرُوا مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ.

فضل بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے بنی ہاشم کے کمزور لوگوں (یعنی عورتوں، بچوں اور بوڑھوں) کو حکم دیا کہ وہ مزدلفہ سے منیٰ رات ہی میں چلے جائیں۔

It was narrated from Ibn Abbas, from Al-Fadl, that: the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) commanded the weak ones among Banu Hashim to move on from Jam (Al-Muzadalifah) at night.

حسن صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3034
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١١٠٥٢)، مسند احمد (١/٢١٢) (حسن، صحیح الإسناد )
3038Sunan An Nasai

خواتین اور بچوں کو مزدلفہ پہلے بھیج دینے سے متعلق

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَطَاءٌ، عَنْ سَالِمِ بْنِ شَوَّالٍ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهَا أَنْ تُغَلِّسَ مِنْ جَمْعٍ إِلَى مِنًى.

ام المؤمنین ام حبیبہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے انہیں رات کی تاریکی ہی میں مزدلفہ سے منیٰ چلے جانے کا حکم دیا۔

It was narrated from Salim bin Shawwal that: Umm Habibah told him that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) told her to leave Jam (Al-Muzdalifah) for Mina at the end of the night.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3035
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٤٩ (١٢٩٢)، (تحفة الأشراف: ١٥٨٥٠)، مسند احمد (٦/٤٢٦، ٤٢٧)، سنن الدارمی/المناسک ٥٣ (١٩٢٧) (صحیح )
3039Sunan An Nasai

خواتین اور بچوں کو مزدلفہ پہلے بھیج دینے سے متعلق

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ سَالِمِ بْنِ شَوَّالٍ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، قَالَتْ: كُنَّا نُغَلِّسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْمُزْدَلِفَةِ إِلَى مِنًى.

ام حبیبہ رضی الله عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں رات کی تاریکی ہی میں مزدلفہ سے منیٰ چلے جاتے تھے۔

It was narrated that Umm Habibah said: "We used to leave Jam Al-Muzdalifah for Mina at the end of the night, during the time of the Messenger of Allah.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3036
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
3040Sunan An Nasai

خواتین کے واسطے مقام مزدلفہ سے فجر سے قبل نکلنے کی اجازت

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْعَائِشَةَ، قَالَتْ: إِنَّمَا أَذِنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسَوْدَةَ فِي الْإِفَاضَةِ قَبْلَ الصُّبْحِ مِنْ جَمْعٍ لِأَنَّهَا كَانَتِ امْرَأَةً ثَبِطَةً.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ام المؤمنین سودہ ؓ کو مزدلفہ سے فجر ہونے سے پہلے لوٹ جانے کی اجازت دی، اس لیے کہ وہ ایک بھاری بدن کی سست رفتار عورت تھیں۔

It was narrated that Aishah said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) allowed Sawdah to leave Jam (Al-Muzdalifah) before dawn because she was a heavyset woman.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3037
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٧٥٢٧)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج ٩٨ (١٦٨١)، صحیح مسلم/الحج ٤٩ (١٢٩٠)، سنن ابن ماجہ/الحج ٦٢ (٣٠٢٧)، مسند احمد (٦/٣٠، ٩٤، ٩٩، ١٢٣، ١٦٤، ٢١٤)، سنن الدارمی/المناسک ٥٣ (١٩٢٨) (صحیح )
3041Sunan An Nasai

مزدلفہ میں نماز فجر کب ادا کی جائے؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى صَلَاةً قَطُّ إِلَّا لِمِيقَاتِهَا، إِلَّا صَلَاةَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ صَلَّاهُمَا بِجَمْعٍ وَصَلَاةَ الْفَجْرِ يَوْمَئِذٍ قَبْلَ مِيقَاتِهَا.

عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کبھی بھی کوئی نماز بغیر اس کے وقت کے پڑھتے نہیں دیکھا سوائے مغرب و عشاء کے جنہیں آپ نے مزدلفہ میں پڑھی، اور اسی دن کی فجر جسے آپ نے اس کے مقررہ وقت سے پہلے پڑھی۔

It was narrated that Abdullah said: "I never saw the Messenger of Allah offer any prayer except at the proper time, apart from Maghrib and Isha in Jam (Al-Muzdalifah) and Fajir on that day, which he offered before the usual time.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3038
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٦٠٩ (صحیح )
3042Sunan An Nasai

جو شخص مقام مزدلفہ میں امام کے ساتھ نماز نہ پڑھ سکے

أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيل، وَدَاوُدَ، وَزَكَرِيِّا، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسٍ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقِفًا بِالْمُزْدَلِفَةِ، فَقَالَ: مَنْ صَلَّى مَعَنَا صَلَاتَنَا هَذِهِ هَا هُنَا ثُمَّ أَقَامَ مَعَنَا وَقَدْ وَقَفَ قَبْلَ ذَلِكَ بِعَرَفَةَ لَيْلًا أَوْ نَهَارًا، فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ.

عروہ بن مضرس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو مزدلفہ میں ٹھہرے ہوئے دیکھا، آپ نے فرمایا: جس نے ہمارے ساتھ یہاں یہ نماز (یعنی نماز فجر) پڑھ لی، اور ہمارے ساتھ ٹھہرا رہا، اور اس سے پہلے وہ عرفہ میں رات یا دن میں (کسی وقت بھی) وقوف کرچکا ہے تو اس کا حج پورا ہوگیا ۔

It was narrated that Urwah bin Mudarris said: "I saw the Messenger of Allah stading in Al-Muzdalifah and he said: Whoever offers this prayer whith us here then stands with us and stood before that in Arafat by nightor by day, his Hajj is complete.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3039
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحج ٦٩ (١٩٥٠)، سنن الترمذی/الحج ٥٧ (٨٥١)، سنن ابن ماجہ/الحج ٥٧ (٣٠١٦)، (تحفة الأشراف: ٩٩٠٠)، مسند احمد ٤/١٥، ٢٦١، ٢٦٢، سنن الدارمی/المناسک ٥٤ (١٩٣٠) (صحیح )
3043Sunan An Nasai

جو شخص مقام مزدلفہ میں امام کے ساتھ نماز نہ پڑھ سکے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي جَرِيرٌ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَدْرَكَ جَمْعًا مَعَ الْإِمَامِ وَالنَّاسِ حَتَّى يُفِيضَ مِنْهَا، فَقَدْ أَدْرَكَ الْحَجَّ، وَمَنْ لَمْ يُدْرِكْ مَعَ النَّاسِ وَالْإِمَامِ، فَلَمْ يُدْرِكْ.

عروہ بن مضرس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص مزدلفہ کو امام اور لوگوں کے ساتھ پالے یہاں تک کہ وہ وہاں سے واپس منیٰ کو لوٹے تو اس نے حج پا لیا۔ اور جو امام اور لوگوں کے ساتھ مزدلفہ کو نہ پاسکا تو اس نے حج نہیں پایا ١ ؎۔

It was narrated that Urwah bin Mudarris said: The Messenger of allah said: "Whoever catches up (with Fajir prayer) in Jam (Al-Muzdalifah) with the Imam and the people (and stays there) until they move on, the he has caught up with Hajj. Whoever does not catuch up with the people and the Imam, then has not caught it (Hajj).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3040
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اچھے ڈھنگ سے نہیں پایا، یہ تاویل اس لیے کی گئی ہے کہ مزدلفہ میں رات گزارنا حج کا رکن نہیں ہے کہ اس کے فوت ہوجانے سے حج فوت ہوجائے۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
3044Sunan An Nasai

جو شخص مقام مزدلفہ میں امام کے ساتھ نماز نہ پڑھ سکے

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سَيَّارٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسٍ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَمْعٍ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَقْبَلْتُ مِنْ جَبَلَيْ طَيِّئٍ لَمْ أَدَعْ حَبْلًا إِلَّا وَقَفْتُ عَلَيْهِ، فَهَلْ لِي مِنْ حَجٍّ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ صَلَّى هَذِهِ الصَّلَاةَ مَعَنَا، وَقَدْ وَقَفَ قَبْلَ ذَلِكَ بِعَرَفَةَ لَيْلًا أَوْ نَهَارًا، فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ وَقَضَى تَفَثَهُ.

عروہ بن مضرس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں مزدلفہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں طے کے دونوں پہاڑوں سے ہوتا ہوا آیا ہوں، میں نے ریت کا کوئی ٹیلہ نہیں چھوڑا جس پر میں نے وقوف نہ کیا ہو، تو کیا میرا حج ہوگیا؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے یہ نماز (یعنی نماز فجر) ہمارے ساتھ پڑھی، اور وہ اس سے پہلے عرفہ میں رات یا دن کے کسی حصے میں ٹھہر چکا ہے، تو اس کا حج پورا ہوگیا، اور اس نے اپنا میل و کچیل دور کرلیا ۔

It was narrated that Urwah bin Mudarris said: "I came to the Prohet in Jam (Al-Muzdalifah) and said: O Messenger of Allah, I have come from the two mountains of Tai and I did not leave any mountain but I stood on it; is there Hajj for me? The Messenger of Allah said: Whoever offers this prayer with us, and stood before that in Arafatat by night or by day, his Hajj is complete, and he has completed the prescribed duties.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3041
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٠٤٢ (صحیح )
3045Sunan An Nasai

جو شخص مقام مزدلفہ میں امام کے ساتھ نماز نہ پڑھ سکے

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ مُضَرِّسِ بْنِ أَوْسِ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ لَأْمٍ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَمْعٍ فَقُلْتُ: هَلْ لِي مِنْ حَجٍّ ؟ فَقَالَ: مَنْ صَلَّى هَذِهِ الصَّلَاةَ مَعَنَا، وَوَقَفَ هَذَا الْمَوْقِفَ حَتَّى يُفِيضَ، وَأَفَاضَ قَبْلَ ذَلِكَ مِنْ عَرَفَاتٍ لَيْلًا أَوْ نَهَارًا، فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ وَقَضَى تَفَثَهُ.

عروہ بن مضرس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں مزدلفہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، اور عرض کیا: کیا میرا حج ہوا؟ آپ نے فرمایا: جس نے ہمارے ساتھ ہماری یہ نماز (یعنی نماز فجر) پڑھی، اور اس مقام پر لوٹتے وقت تک ٹھہرا، اور اس سے پہلے عرفات سے رات یا دن میں کسی وقت لوٹ کر آیا، تو اس کا حج مکمل ہوگیا اور اس نے اپنا میل و کچیل دور کرلیا ۔

Urwah bin Mudarris bin Aws bin Harithah bin Lam said: "I came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) in Jam (Al-Muzdalifah) and said: Is there Hajj for me? He said: Whoever offers this prayer with us and observed this standing until he departed, and he departed before that from Arafat by night or by day, then his Hajj is complete. And he has completed the prescribed duties.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3042
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٠٤٢ (صحیح )
3046Sunan An Nasai

جو شخص مقام مزدلفہ میں امام کے ساتھ نماز نہ پڑھ سکے

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيل، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَامِرٌ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ مُضَرِّسٍ الطَّائِيُّ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: أَتَيْتُكَ مِنْ جَبَلَيْ طَيِّئٍ أَكْلَلْتُ مَطِيَّتِي، وَأَتْعَبْتُ نَفْسِي مَا بَقِيَ مِنْ حَبْلٍ إِلَّا وَقَفْتُ عَلَيْهِ فَهَلْ لِي مِنْ حَجٍّ ؟ فَقَالَ: مَنْ صَلَّى صَلَاةَ الْغَدَاةِ هَا هُنَا مَعَنَا وَقَدْ أَتَى عَرَفَةَ قَبْلَ ذَلِكَ، فَقَدْ قَضَى تَفَثَهُ، وَتَمَّ حَجُّهُ.

عروہ بن مضرس طائی کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوا، اور عرض کیا: میں آپ کے پاس طے کے دونوں پہاڑوں سے ہو کر آیا ہوں میں نے اپنی سواری کو تھکا دیا ہے، اور میں خود بھی تھک کر چور چور ہوچکا ہوں۔ ریت کا کوئی ٹیلہ ایسا نہیں رہا جس پر میں نے وقوف نہ کیا ہو، تو کیا میرا حج ہوگیا؟ آپ نے فرمایا: جس نے یہاں ہمارے ساتھ نماز فجر پڑھی، اور اس سے پہلے وہ عرفہ آچکا ہو تو اس نے اپنا میل و کچیل دور کرلیا، اور اس کا حج پورا ہوگیا ۔

Urwah bin Mudarris at-Tai said: "I came to the Messenger of Allah and said: "I have come to you from the two mountains of Tai and I have exhausted my camel, and exhausted myself; is there Hajj for me? He said: Whoever offeres this morning prayer with us here, and came to Arafat before that, then he has completed the prescribed duties and his Hajj is complete.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3043
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٠٤٢ (صحیح )
3047Sunan An Nasai

جو شخص مقام مزدلفہ میں امام کے ساتھ نماز نہ پڑھ سکے

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ عَطَاءٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَعْمَرَ الدِّيلِيَّ، قَالَ: شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ وَأَتَاهُ نَاسٌ مِنْ نَجْدٍ، فَأَمَرُوا رَجُلًا فَسَأَلَهُ عَنِ الْحَجِّ ؟، فَقَالَ: الْحَجُّ عَرَفَةُ، مَنْ جَاءَ لَيْلَةَ جَمْعٍ قَبْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ، فَقَدْ أَدْرَكَ حَجَّهُ أَيَّامُ مِنًى ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ، مَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَرْدَفَ رَجُلًا، فَجَعَلَ يُنَادِي بِهَا فِي النَّاسِ.

عبدالرحمٰن بن یعمر دیلی کہتے ہیں کہ میں عرفہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھا۔ آپ کے پاس نجد سے کچھ لوگ آئے تو انہوں نے ایک شخص کو حکم دیا، تو اس نے آپ ﷺ سے حج کے بارے میں پوچھا، آپ نے فرمایا: حج عرفہ (میں وقوف) ہے، جو شخص مزدلفہ کی رات میں صبح کی نماز سے پہلے عرفہ آجائے، تو اس نے اپنا حج پا لیا۔ منیٰ کے دن تین دن ہیں، تو جو دو ہی دن قیام کر کے چلا جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے، اور جو تاخیر کرے اور تیرہویں کو بھی رکے تو اس پر بھی کوئی گناہ نہیں ہے ۔ پھر آپ نے ایک شخص کو اپنے پیچھے سواری پر بٹھا لیا، جو لوگوں میں اسے پکار پکار کر کہنے لگا۔

Abdur Rahman bin Yamur Ad-Daili said: "I saw the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) in Arafat when some people from Najd coame to him. They told a man to ask him about Hajj. He said: "Hajj is Arafat. Whoever comes on the night of Jam (Al-Muzdalifah) before Subh prayer, then he has caought up with Hajj. And the days of Mina are three days. But whoever hastens to leave in two days, there is no sion on him, and whoever stays on, there is no sino on him. Then he made a man ride behind him, and he started proclaiming it to the people.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3044
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٠١٩ (صحیح )
3048Sunan An Nasai

جو شخص مقام مزدلفہ میں امام کے ساتھ نماز نہ پڑھ سکے

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: أَتَيْنَاجَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فَحَدَّثَنَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْمُزْدَلِفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ.

ابو جعفر بن محمد باقر کہتے ہیں کہ ہم جابر بن عبداللہ ؓ کے پاس آئے تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پورا مزدلفہ موقف (ٹھہرنے کی جگہ) ہے ۔

Jafar bin Muahammad narrated that his father said: "We came to Jabir bin Abdullah and he told us that the Messenger of Allah said: All of Al Muzdalifah is a place for (the pilgrims) to stand.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3045
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٠١٨ (صحیح )
3049Sunan An Nasai

مزدلفہ میں تلبیہ کہنا

أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ فِي حَدِيثِهِ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ كَثِيرٍ وَهُوَ ابْنُ مُدْرِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ وَنَحْنُ بِجَمْعٍ، سَمِعْتُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ يَقُولُ فِي هَذَا الْمَكَانِ: لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ.

عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم مزدلفہ میں تھے کہ میں نے اس ذات کو جس پر سورة البقرہ نازل ہوئی (یعنی رسول اللہ ﷺ) اس جگہ لبيك اللہم لبيك کہتے سنا۔

It was narrated that Abdur-Rahman bin Yazid said: "When we were in Jam (Al-Muzadalifah), Ibn Masud said: I heard the one to whoem surat Al-Baqarah was revealed say, in this place: Labbaik Allahumma Labbaik.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3046
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٤٥ (١٢٨٣)، (تحفة الأشراف: ٩٣٩١)، مسند احمد (١/٣٧٤، ٤١٩) (صحیح )
3050Sunan An Nasai

مزدلفہ سے واپس آنے کا وقت

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: شَهِدْتُ عُمَرَ بِجَمْعٍ فَقَالَ: إِنَّ أَهْلَ الْجَاهِلِيَّةِ كَانُوا لَا يُفِيضُونَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَيَقُولُونَ أَشْرِقْ ثَبِيرُ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالَفَهُمْ، ثُمَّ أَفَاضَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ.

عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ میں مزدلفہ میں عمر ؓ کے ساتھ تھا، تو وہ کہنے لگے: اہل جاہلیت جب تک سورج نکل نہیں جاتا مزدلفہ سے نہیں لوٹتے تھے، کہتے تھے أشرق ثبیر اے ثبیر روشن ہوجا اور رسول اللہ ﷺ نے ان کی مخالفت کی، پھر وہ سورج نکلنے سے پہلے لوٹے۔

It was narrated that Amr bin Maimun aid: "I head him say I saw Umar in Al-Muzdalifah and he said: The people of the Jahiliyyah would not depart until the sun had risen, and they would say: Shine, O Thabir! The Messenger of Allah differed from them and departed before the sun had risen.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3047
Notes · وضاحت
١ ؎: ثبیر مزدلفہ میں ایک پہاڑ کا نام ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ١٠٠ (١٦٨٤)، ومناقب الأنصار ٢٦ (٣٨٣٨)، سنن ابی داود/الحج ٦٥ (١٩٣٨)، سنن الترمذی/الحج ٦٠ (٨٩٦)، سنن ابن ماجہ/الحج ٦١ (٣٠٢٢)، (تحفة الأشراف: ١٠٦١٦)، مسند احمد (١/١٤، ٢٩، ٣٩، ٤٢، ٥٠، ٥٤)، سنن الدارمی/المناسک ٥٥ (١٩٣٢) (صحیح )
3051Sunan An Nasai

ضعفاء کو مزدلفہ کی رات فجر کی نماز منی ٰ پر پہنچ کر پڑھنے کی اجازت

أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ أَشْهَبَ، أَنَّ دَاوُدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُمْ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ دِينَارٍحَدَّثَهُ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ حَدَّثَهُمْ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ضَعَفَةِ أَهْلِهِ، فَصَلَّيْنَا الصُّبْحَ بِمِنًى وَرَمَيْنَا الْجَمْرَةَ.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے اپنے خاندان کے کمزور لوگوں کے ساتھ (رات ہی میں) بھیج دیا تو ہم نے نماز فجر منیٰ میں پڑھی، اور جمرہ کی رمی کی۔

Ata bin Abi Rabah told them that he heard Ibn Abbas say: "The Messenger of Allah sent me with the weak ones of his family to pray Subh in Mina and stone the Jamrah.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3048
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٠٣٦ (صحیح )
3052Sunan An Nasai

ضعفاء کو مزدلفہ کی رات فجر کی نماز منی ٰ پر پہنچ کر پڑھنے کی اجازت

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ بْنِ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ، قَالَتْ: وَدِدْتُ أَنِّي اسْتَأْذَنْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا اسْتَأْذَنَتْهُ سَوْدَةُ، فَصَلَّيْتُ الْفَجْرَ بِمِنًى، قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَ النَّاسُ وَكَانَتْ سَوْدَةُ امْرَأَةً ثَقِيلَةً ثَبِطَةً، فَاسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَذِنَ لَهَا، فَصَلَّتِ الْفَجْرَ بِمِنًى، وَرَمَتْ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَ النَّاسُ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ مجھے خواہش ہوئی کہ میں بھی رسول اللہ ﷺ سے اجازت طلب کرتی جس طرح سودہ ؓ نے اجازت طلب کی تھی۔ اور لوگوں کے آنے سے پہلے میں بھی منیٰ میں نماز فجر پڑھتی، سودہ ؓ بھاری بدن کی سست رفتار عورت تھیں، انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے (پہلے ہی لوٹ جانے کی) اجازت مانگی۔ تو آپ نے انہیں اجازت دے دی، تو انہوں نے فجر منیٰ میں پڑھی، اور لوگوں کے پہنچنے سے پہلے رمی کرلی۔

It was narrated that the Mother of the Belivers Aishah said: "I wished that I had asked the Messenger of Allah for permission as Sawdha did, so that I could pray Fajr in Mina before the people came. Sawdah was heavyset woman, so she asked the Messenger of Allah for permission, and he gave her permission to pray Fajir in Mina and stone the before the people came.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3049
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٤٩ (١٢٩٠)، (تحفة الأشراف: ١٧٥٠٣)، مسند احمد (٦/٩٨، ١٦٤) (صحیح )