بال کس طرح کترے جائیں؟
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْعَطَاءٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: أَخَذْتُ مِنْ أَطْرَافِ شَعْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِشْقَصٍ كَانَ مَعِي بَعْدَ مَا طَافَ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فِي أَيَّامِ الْعَشْرِ، قَالَ قَيْسٌ: وَالنَّاسُ يُنْكِرُونَ هَذَا عَلَى مُعَاوِيَةَ.
معاویہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ذی الحجہ کے پہلے د ہے میں بیت اللہ کے طواف اور صفا ومروہ کی سعی کر چکنے کے بعد میں نے رسول اللہ ﷺ کے بال کے کناروں کو اپنے پاس موجود ایک تیر کے پھل سے کاٹے۔ قیس بن سعد کہتے ہیں: لوگ معاویہ پر اس حدیث کی وجہ سے نکیر کرتے تھے ١ ؎۔
It was narrated that Muawiyah said: “I cut a little from the ends of the hair of the Messenger of Allah ﷺ with the edge of an arrow that I had with me, after he had circumambulated the House, and performed Sai between As-Safa and Al-Marwah, during the ten days.” Qais said: “The people rebuked Muawiyah for that.” (Sahih)