Sunan An Nasai 2915

میقاتوں سے متعلق احادیث

2915Sunan An Nasai

حطیم میں نماز ادا کرنا

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ أَبِي عَلْقَمَةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْعَائِشَةَ، قَالَتْ: كُنْتُ أُحِبُّ أَنْ أَدْخُلَ الْبَيْتَ، فَأُصَلِّيَ فِيهِ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي، فَأَدْخَلَنِي الْحِجْرَ، فَقَالَ: إِذَا أَرَدْتِ دُخُولَ الْبَيْتِ، فَصَلِّي هَا هُنَا، فَإِنَّمَا هُوَ قِطْعَةٌ مِنْ الْبَيْتِ، وَلَكِنَّ قَوْمَكِ اقْتَصَرُوا حَيْثُ بَنَوْهُ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں چاہتی تھی کہ میں بیت اللہ کے اندر داخل ہوں، اور اس میں نماز پڑھوں، تو رسول اللہ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑ اور مجھے حطیم کے اندر کردیا، پھر فرمایا: جب تم بیت اللہ کے اندر جا کر نماز پڑھنا چاہو تو یہاں آ کر پڑھ لیا کرو، یہ بھی بیت اللہ کا ایک ٹکڑا ہے۔ لیکن تمہاری قوم نے بناتے وقت اتنا کم کر کے بنایا ١ ؎۔

It was narrated that Aishah said: “I wanted to enter the House and pray therein, so the Messenger of Allah ﷺ took me by the hand and took me into the Hijr and said: ‘If you want to enter the House, then pray here, for it is part of the House, but your people made it too small when they built it.” (Sahih)

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2912
Notes · وضاحت
١ ؎: ایسا انہوں نے خرچ کی کمی کے باعث کیا تھا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحج ٩٤ (٢٠٢٨)، سنن الترمذی/الحج ٤٨ (٨٧٦)، (تحفة الأشراف: ١٧٩٦١)، مسند احمد (٦/٦٧، ٩٢- ٩٣)، سنن الدارمی/المناسک ٤٤ (١٩١١) (حسن، صحیح )