Sunan An Nasai 2912

میقاتوں سے متعلق احادیث

2912Sunan An Nasai

خانہ کعبہ میں نماز ادا کرنے کی جگہ

أَخْبَرَنَا حَاجِبُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَنْبِجِيُّ، عَنْ ابْنِ أَبِي رَوَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَعْبَةَ، فَسَبَّحَ فِي نَوَاحِيهَا، وَكَبَّرَ، وَلَمْ يُصَلِّ، ثُمَّ خَرَجَ، فَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: هَذِهِ الْقِبْلَةُ.

اسامہ بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کعبہ میں داخل ہوئے، تو اس کے کناروں میں آپ نے تسبیح پڑھی اور تکبیر کہی اور نماز نہیں پڑھی ١ ؎، پھر آپ باہر نکلے، اور مقام ابراہیم کے پیچھے آپ نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر فرمایا: یہ قبلہ ہے ۔

It was narrated that Usamah bin Zaid said: “The Messenger of Allah ﷺ entered the Ka’bah and recited the Tasbih and the Takbir in its corners, but he did not pray. Then he came out and prayed two Rak’ahs behind the Maqam, then he said: ‘This is the Qiblah.” (Hasan)

منکر بذکر المقامصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2909
Notes · وضاحت
١ ؎: اسامہ کی یہ نفی ان کے اپنے علم کی بنیاد پر ہے، وہ کسی کام میں مشغول رہے ہوں گے جس کی وجہ سے انہیں آپ کے نماز پڑھنے کا علم نہیں ہوسکا ہوگا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١١٠)، مسند احمد (٥/٢٠٩، ٢١٠) (منکر) (اسامہ کی اس روایت میں صرف ” خلف المقام “ کا ذکر منکر ہے (جو کسی کے نزدیک نہیں ہے) باقی باتیں سنداً صحیح ہیں )