محرم کو نکاح کرنے کی اجازت سے متعلق
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارُ، عَنْ عَمْرٍو وَهُوَ ابْنُ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الشَّعْثَاءِيُحَدِّثُ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے میمونہ ؓ سے نکاح کیا اور آپ محرم تھے ١ ؎۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “The Prophet ﷺ married Maimunah when he was in Ihram.” (Sahih)
شاذصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2837
Notes · وضاحت
١ ؎: سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ اس سلسلہ میں ابن عباس کو وہم ہوا ہے کیونکہ ام المؤمنین میمونہ رضی الله عنہا کا خود بیان ہے کہ رسول اللہ نے مجھ سے شادی کی تو ہم دونوں حلال تھے، نیز ان دونوں کا نکاح کرانے والے ابورافع رضی الله عنہ کا بیان بھی ابن عباس رضی الله عنہما کے برعکس ہے، دراصل ابن عباس رضی الله عنہما نے مکہ نہ جا کر صرف ہدی کا جانور بھیج دینے کو بھی احرام سمجھا، حالانکہ یہ احرام نہیں ہوتا، اور یہ نکاح اسی حالت میں ہوا تھا کہ آپ ﷺ نے اشعار کر کے ہدی بھیج دی اور حج سے رہ گئے، اور بقول عائشہ رضی الله عنہا آپ نے اپنے اوپر احرام کی کوئی بات لاگو نہیں کی، (دیکھئیے سنن ابوداؤد حدیث رقم ١٨٤٢ ) ایک قول یہ بھی ہے کہ آپ نے حالت احرام میں نکاح سے ممانعت حجۃ الوداع میں کی تھی، اور میمونہ رضی الله عنہا سے نکاح اس حرمت سے پہلے کیا تھا۔ واللہ اعلم
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ انکاح ٣٠ (٥١١٥)، صحیح مسلم/انکاح ٥ (١٤١٠)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الحج ٣٩ (١٨٤٤)، سنن الترمذی/ الحج ٢٤ (٨٤٤)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٤٥ (١٩٦٥)، (تحفة الأشراف: ٥٣٧٦)، مسند احمد ١/٢٢١، ٢٢٨، ٢٤٥، ٢٦٦، ٢٧٠، ٢٨٣، ٢٨٥، ٢٨٦، ٣٢٤، ٣٣٠، ٣٣٣، ٣٣٦، ٣٣٧، ٣٤٦، ٣٥١، ٣٥٤، ٣٦٠، ٣٦١ سنن الدارمی/المناسک ٢١ (١٨٦٣)، ویأتی عند المؤلف فیما یأتی برقم: ٣٢٧٤ (صحیح) (ابن عباس کا وہم ہے کہ میمونہ سے شادی حالت احرام میں ہوئی، صحیح اور ثابت یہی ہے کہ احرام سے باہر یہ شادی ہوئی، اسی لیے علماء نے ابن عباس سے ثابت ان احادیث کو شاذ کہا ہے )