کاٹنے والے کتے کو محرم کا قتل کرنا کیسا ہے؟
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: خَمْسٌ لَيْسَ عَلَى الْمُحْرِمِ فِي قَتْلِهِنَّ: جُنَاحٌ الْغُرَابُ، وَالْحِدَأَةُ، وَالْعَقْرَبُ، وَالْفَأْرَةُ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پانچ جانور ایسے ہیں جنہیں محرم کے مارنے میں کوئی حرج (گناہ) نہیں ہے۔ کوا، چیل، بچھو، چوہیا اور کٹ کھنا (کاٹنے والا) کتا ١ ؎۔
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: “There are five (animals) for which there is no sin on the Muhrim if he kills them: Crows, kites, scorpions, mice and vicious dogs.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2828
Notes · وضاحت
١ ؎: کٹ کھنے کتے سے مراد وہ تمام درندے ہیں جو لوگوں پر حملہ کر کے انہیں زخمی کردیتے ہوں، مثلاً شیر، چیتا، بھیڑیا وغیرہ۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/جزاء الصید ٧ (١٨٢٦)، بدء الخلق ١٦ (٣٣١٥)، صحیح مسلم/الحج ٩ (١١٩٩)، (تحفة الأشراف: ٨٣٦٥)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الحج ٤٠ (١٨٤٦)، سنن ابن ماجہ/الحج ٩١ (٣٠٨٨)، موطا امام مالک/الحج ٢٨ (٨٨)، مسند احمد (٢/١٣٨)، سنن الدارمی/المناسک ١٩ (١٨٥٧) (صحیح )