اگر محرم شکار کی طرف اشارہ کرے اور غیر محرم شکار کرے
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ الْمُطَّلِبِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: صَيْدُ الْبَرِّ لَكُمْ حَلَالٌ مَا لَمْ تَصِيدُوهُ أَوْ يُصَادَ لَكُمْ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو لَيْسَ بِالْقَوِيِّ فِي الْحَدِيثِ وَإِنْ كَانَ قَدْ رَوَى عَنْهُ مَالِكٌ.
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: خشکی کا شکار تمہارے لیے حلال ہے جب تک کہ تم خود شکار نہ کرو، یا تمہارے لیے شکار نہ کیا جائے ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: اس حدیث میں عمرو بن ابی عمرو قوی نہیں ہیں، گو امام مالک نے ان سے روایت کی ہے۔
It was narrated that Jabir said: “I heard the Messenger of Allah ﷺ say: ‘Land game is permissible for you so long as you do not hunt it, and it is not hunted for you.” (Da’if) Abu ‘Abdur-Rahman (An-Nasa’i) said: ‘Amar bin Abi ‘Amr is not strong in Hadith, even though Malik reported from him.