Sunan An Nasai 2829

میقاتوں سے متعلق احادیث

2829Sunan An Nasai

اگر محرم شکار کی طرف اشارہ کرے اور غیر محرم شکار کرے

أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُمْ كَانُوا فِي مَسِيرٍ لَهُمْ بَعْضُهُمْ مُحْرِمٌ وَبَعْضُهُمْ لَيْسَ بِمُحْرِمٍ، قَالَ: فَرَأَيْتُ حِمَارَ وَحْشٍ فَرَكِبْتُ فَرَسِي وَأَخَذْتُ الرُّمْحَ، فَاسْتَعَنْتُهُمْ، فَأَبَوْا أَنْ يُعِينُونِي، فَاخْتَلَسْتُ سَوْطًا مِنْ بَعْضِهِمْ، فَشَدَدْتُ عَلَى الْحِمَارِ فَأَصَبْتُهُ، فَأَكَلُوا مِنْهُ، فَأَشْفَقُوا، قَالَ: فَسُئِلَ عَنْ ذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: هَلْ أَشَرْتُمْ أَوْ أَعَنْتُمْ ؟قَالُوا: لَا، قَالَ: فَكُلُوا.

ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ وہ لوگ سفر میں تھے ان میں سے بعض نے احرام باندھ رکھا تھا اور بعض بغیر احرام کے تھے، میں نے ایک نیل گائے دیکھا تو میں اپنے گھوڑے پر سوار ہوگیا، اور اپنا نیزہ لے لیا، اور ان لوگوں سے مدد چاہی تو ان لوگوں نے مجھے مدد دینے سے انکار کیا تو میں نے ان میں سے ایک کا کوڑا اچک لیا اور تیزی سے نیل گائے پر جھپٹا اور اسے پا لیا (مار گرایا) تو ان لوگوں نے اس کا گوشت کھایا پھر ڈرے (کہ ہمارے لیے کھانا اس کا حلال تھا یا نہیں) تو اس بارے میں نبی اکرم ﷺ سے پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: کیا تم لوگوں نے اشارہ کیا تھا یا کسی طرح کی مدد کی تھی؟ انہوں نے کہا: نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: پھر تو کھاؤ۔

‘Abdullah bin Abi Qatadah narrated from his father that they were on a march, some of them in Ihram and some not in Ihram. He said: “I saw an onager so I mounted my horse and picked up a spear. I asked them to help me but they refused to help me. I snatched a whip from one of them and chased the onager and caught it. They ate of it but they were scared. The Prophet ﷺ was asked about that and he said: ‘Did you point (at it) or help him?’ They said, ‘No.’ He said: ‘Then eat.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2826
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/جزاء الصید ٥ (١٨٢٤) مطولا، صحیح مسلم/الحج ٨ (١١٩٦)، (تحفة الأشراف: ١٢١٠٢)، مسند احمد (٥/٣٠٢)، سنن الدارمی/المناسک ٢٢ (١٨٦٩) (صحیح )